شگن – عائشہ چوہدری

میں آٹھویں جماعت میں تھی
جب جہلم عباس پورہ میں میں ہم دونوں بہنیں امی کیساتھ ایک مہندی کی تقریب میں شریکِ ہوئیں۔۔۔
باجی نگینہ امی کی پھپھو زاد کی بیٹی تھیں۔مجھے بننے سنورنے کا تو ویسے ہی شوق رہتا تھا
پر مایوں مہندی اور شادیوں پہ دلہن دیکھنے کے لئے میں بہت متجسس رہتی تھی۔
دلہن کو پیلا سوٹ پہنایا گیا پیلے رنگ کی کانچ کی چوڑیاں۔۔۔
اور اسکی مہندی کی رسمیں اور شگن شروع کر دئے گئے۔
دلہن کی بہنیں ،بھابھیاں،چچیاں،ممانیاں سب شادی شدہ خواتین ایک کے بعد ایک آتیں
اور دلہن کو مہندی لگاتی۔۔لڈو کھلاتیں۔۔۔
میں نے دیکھا دلہن کی کرسی کے پیچھے کھڑی دلہن کی سب سے پکی سہیلی کھسکتی ہوئ اب بیرونی دروازے پہ پہنچ گئ۔
پھر کچھ دیر بعد وہ تقریب سے غائب ہو گئ۔۔اسی طرح شگن کے اس مخصوص وقت پہ امی بہت دور پرے ہٹ کر بیٹھ گئیں۔۔
میں سامنے بیٹھ کے تقریب سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی پر امی ایسے موقع پہ ہمیشہ بہت پیچھے کی طرف جا بیٹھتی تھیں
تقریب ختم ہوئ ہم گھر لوٹ رہے تھے جب میں نے امی سے پوچھا۔۔کہ دلہن کی سہیلی نے مہندی کیوں نہیں لگائ۔۔وہ چلی کیوں گئیں؟؟
امی نے بولا اسی کی غلطی ہے۔۔۔
وہ شگن کے وقت وہاں کیوں کھڑی تھی جبکہ وہ بیوہ ہے؟؟؟اب کسی نے روک ٹوک دیا ہو گا کہ کوئ مطلقہ یا بیوہ دلہن کا شگن نہیں کر سکتی۔۔دکھ ہوا ہوگا تو چلی گئ
میرے لئے یہ بہت تکلیف دہ بات تھی پھر اچانک لمحے کے ہزارویں حصے میں مجھ پہ کھلا۔۔۔کہ امی کیوں ان تقریبات میں شامل نہیں ہوتیں
میں نے امی کے پرسکون چہرے کی طرف دیکھا۔
میری امی پینتیس برس کی جوان عورت تھیں خوبصورت تھیں
لیکن اب دو سالوں کی بیوگی کے بعد وہ مجھے پچاس سالہ بڑھیا لگتی تھیں۔
وہ ہمیشہ سفید لباس اور سفید چادر پہنتی تھیں۔
مجھے اس لمحے اس پوری دنیا سے نفرت ہو گئ۔
مجھے ان دنیا والوں سے نفرت ہو گئ جو میری امی کو مہندی رچانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
جنہیں انکا کسی شگن میں موجود ہونا نحس لگتا تھا۔
میں نے سوچا میں جب بڑی ہو جاؤں گی تو چن چن کے ان سے بدلہ لوں گی 
میں نے انجانے میں بہت بہت برا سوچا۔۔۔میں نے سوچا ایسی سب سہاگنیں اجڑ جائیں جنہیں ابھاگنوں سے ڈر لگتا ہے
پھر اس واقعے کے تقریبا پندرہ برس بعد۔۔۔
میری سب سے بہترین واحد سہیلی زیبیہ کی مہندی تھی۔۔۔
اسکی مہندی کی تقریب ہمارے گھر کے چھت پہ ہی منعقد ہوئ تھی۔
ہمارے گھروں کی دیواریں سالوں سے آپس میں ملتی تھیں۔۔۔
ہمارے دل ان دیواروں سے بھی زیادہ مظبوطی سے آپس میں ملے ہوئے تھے۔۔۔
وہ میرے ہی پارلر سے تیار ہو کے میرے ساتھ ہی گھر پہنچی تھی۔
میں نے اسے تازہ موتییے اور بیلے کے پھولوں میں سجایا تھا۔
اسکے سسرال سے آئ چوڑیاں اسے پہنائی تھیں۔اسکی چوٹی پراندے میں میں نے ہی گوندھی تھی
پھر اسے اسٹیج پہ بٹھایا گیا۔
اسکے شگن شروع ہوئے۔۔۔
میں غیر محسوسانہ انداز میں اسکی کرسی سے کٹتی باہر نکل گئ۔۔
اچانک عبداللہ رو پڑا۔۔۔
اور وہ بہت زوروں سے رویا۔۔۔
اسکی ضد تھی کہ زیبیہ آنٹی کیساتھ بیٹھنا ہے۔۔۔مٹھائ کھانی ہے۔میں گھبرا گئ۔
میں نے اسے لپک کے دبوچا اور بہلانے کی کوشش میں سیڑھیاں اتر گئی۔۔وہ نیچے آ کر بھی روتا رہا۔۔۔
اوپر تقریب چلتی رہی
جب مجھے لگا اب مہندی کی تقریب مکمل ہو چکی ہے تب میں واپس چھت پہ ائ۔۔
میرے ہاتھ میں وہ ” گانھا” تھا جو میں نے زیبی کے لئے خریدا تھا۔۔
سفید نگوں سے بنا ہوا بہت روشن بہت پیارا۔۔۔
میں نے اسکی پیکنگ سے نکالے بغیر وہ زیبی کی امی کو پکڑایا۔۔۔
آنٹی یہ زیبی کو پہنا دیجئے گا۔۔
آنٹی نے میری طرف دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کے مجھے اسٹیج پہ لے گئیں۔۔۔
میں نے سخت گھبراہٹ میں مسلسل انہیں روکا۔۔۔اسٹیج کے پاس کھڑی ہماری مشترکہ سہیلیوں نائلہ،چندہ اور زنیرہ نے مجھے اسٹیج پہ دھکیل دیا۔۔۔
میں نے وہ گانھا اسکی گود میں رکھ دیا۔
زیبی بولی
عائشہ پہناؤ
میں رو دی۔۔۔
میں نہیں پہنا سکتی۔۔۔یہ بد شگنی ہے۔۔۔تمہارے نصیب جل جائینگے۔۔۔
وہ بھی رو دی۔۔
مجھے سب کچھ تم نے پہنایا ہے
مجھے دلہن بھی تم نے ہی بنانا ہے
کچھ نہیں ہو گا
پہناؤ
میں نے دیکھا عبداللہ میری گود میں بیٹھا بہت خوش اور معزز دکھ رہا ہے
وہ مطمئن ہے کہ اسے اسٹیج پہ بلایا گیا اسے عزت دی گئ اسے دلہن نے خود گودی چڑھا کر مٹھائ کھلائ
میں نے دیکھا
دور چھت کی آخری دیوار سے لگی میری ماں آج بھی خوفزدہ ہے
وہ نہیں چاہتی کسی کی بیٹی کے کرم جلنے کا الزام آئے
میں نے” گانھا ” نکالا اور زیبی کو پہنا دیا
اسے مہندی لگائ۔۔۔اسے لڈو کھلایا۔۔۔ان لمحات کی بہت خوبصورت تصاویر بنیں۔۔۔
زیبی میری سب سہیلیوں میں سب سے زیادہ خوش گوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہے۔۔اسکی شادی کو آٹھ برس ہو چکے ہیں۔۔
اب جب اکثر مجھے مہندی اور شادی کی تقریبات میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے
میرے اندر ایک بارہ برس کی بچی۔۔۔ایک پینتیس سالہ بیوہ ماں
چھپ چھپ کے روتی ہے
جانے کتنی ہی سہیلیاں کتنی مہندیوں پہ شگن کے وقت دوپٹوں میں من چھپا کے دیواروں میں سر دے کر روتی ہیں
کہ کہیں انکے کالے کرموں کا سایہ انکی پیاری سہیلی پہ نہ پڑ جائے
میں سوچتی ہوں
میں اس پوری دنیا کو ان ساری سوچوں کو آگ لگا دوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *