علی پور کا مفتی

عکسی مفتی ، احمد عقل روبی کے پاس پہنچے اور کہنے لگے ممتاز مفتی نوے سال کے ہونے جا رہے ہیں اور ہم ان کی سالگرہ کا اہتمام کر رہے ہیں۔ یار روبی میں پارڑی کا بندوبست کروں گا ، ممتاز مفتی کے دوستوں اور ادیبوں کو بلواؤں گا، تم کیا کرو گے؟ احمد عقیل روبی نے کہا میں ممتاز مفتی پر کتاب لکھوں گا۔ چنانچہ علی پور کا مفتی لکali pur ka muftiھی گئی اور ممتاز مفتی کو ان کی سالگرہ پر پیش کی گئی۔ ممتاز مفتی کافی علیل تھے، اپنی زندگی میں خود پر لکھی کتاب دیکھ کر کافی مسرور ہوئے۔

احمد عقیل روبی کہتے ہیں:۔

ممتاز مفتی کے ایک پرانے جاننے والے نے میری ہمت کی کمر کو ڈھیلا کرتے ہوئے کہا۔

“جمعہ جمعہ آتھ دن کی شناسائی ۔ تم کیا لکھو گے مفتی پر۔ اس کے لیے برسوں کی واقفیت چاہیے۔”

مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور کہا۔

“کچھ لوگ برسوں ساتھ وہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے دیوار کو تکتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ پہلی ہی ملاقات میں دیوار میں چہرہ دیکھ کر سب کچھ جان جاتے ہیں۔”

میں قلم اٹھایا۔

اور مفتی صاحب پر یہ کتاب لکھ دی۔

پتہ نہیں کیسی ہے۔

مفتی صاحب پر کتاب لکھنا میری خواہش تھی۔

میں نے یہ خواہش پوری کر لی ہے۔

ایک دیا جلانا تھا۔ سو وہ جلا دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *