عکسی مفتی کا دنیا نیوز کو انٹرویو

بلھے شاہ ،خواجہ فرید جیسے بابوں کے سامنے یورپ کا فلسفہ بہت پیچھے رہ گیا

interview dunyaجو چیز آپ کو اپنے پائوں پر کھڑا رکھے گی ،وہ آپ کی مٹی سے پھوٹی ہو گی محقق،دانشور ،بیوروکریٹ اور پاکستانی ثقافت کے نبض شناس عکسی مفتی سے مکالمہ

انٹرویو: احمد اعجاز

عکسی مفتی کی ذات کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ بہت معتبر حیثیت کا حامل ہے ۔ وہ ممتاز مفتی کے فرزند ہیں ، خود منجھے ہوئے لکھاری ہیں ۔پاکستانی معاشرے کے لیے عکسی مفتی کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔پاکستانی ثقافت کی ترویج کے ضمن میں اُن کی جدوجہد قابلِ ستائش ہی نہیں قابلِ تقلید بھی ہے ۔وہ لوک ورثہ کے معمار ہیں ۔پاکستانی کلچر،ثقافت ،تمدن اورمعاشرت پر اُس وقت تک کوئی بات مکمل نہیں ہو سکتی جب تک عکسی مفتی کا حوالہ نہ دیا جائے۔اُنہیں اپنی دھرتی اور اُس کی ثقافت سے عشق ہے ۔اگر کوئی پاکستان اور اُس کی ثقافت کو اپنے ہاتھ کی اُنگلیوں کی مانند جانتا اور پہچانتا ہے تو وہ عکسی مفتی ہیں۔اُن سے طویل نشست ہوئی جس میں اُن کی ذاتی کہانی سے لے کر پاکستانی کہانی تک ،پر بات کی گئی۔پاکستانی ثقافت سمیت مختلف مسائل پر ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر:

دنیا:آپ سکول سے پہلے کی زندگی کی جھلک اور کچھ یادداشتیں شیئر کریں۔

عکسی مفتی :ابتدائی زندگی جتنی کسی کی ابنارمل ہو سکتی ہے ،اُتنی ہے ۔ علی پور کا ایلی ممتاز مفتی صاحب کی ہی نہیں میری بھی سوانح عمری ہے ۔میری پیدائش کے فوری بعد والد صاحب نوکری پر چلے گئے،مَیں دادی کے پاس اکیلا رہ گیا،دادی سکول ٹیچر تھی۔وہ مجھے سکول لے جاتی۔اسی اثناء میں 1947ء میں تقسیم ہوگئی ،والد صاحب بمبئی سے مجھے لینے آگئے ،وہاں سے ہم ایک فوجی ٹرک کی چھت پر بیٹھ کر پاکستان آگئے ۔بچپن میںانتہائیunsmartسا تھا۔جب چار پانچ برس کاتھا ماں چل بسی تھی ،در بدر ہوگیا تھا۔کبھی دادی کے پاس ،کبھی کہیںتو کبھی کہیں ،کبھی باپ اُنگلی پکڑ کرگھومتاپھرتارہتا۔نہ ڈھنگ سے کپڑے پہننے آتے نہ بات چیت کاسلیقہ آتا تھا ۔ ایسے ماحول میں بچپن کاٹا۔پھرہوا یہ کہ والدصاحب نے ریڈیو پاکستان لاہورمیںنوکر ی کر لی، سوال یہ تھا کہ میرا کیاکریں، ماں تھی نہیں ،صبح انگلی پکڑے اپنے ساتھ ریڈیو لے جاتے۔ والد صاحب وہاں اپنا کام کرتے رہتے اورمَیںکبھی کسی سٹوڈیو تو کبھی کسی سٹوڈیو جگہ جگہ بیٹھانظر آتا ۔ یوں بچپن کا ایک حصہ ریڈیو اسٹیشن کے مختلف سٹوڈیوز میں گزرا۔لاہور سے والد صاحب کا ٹرانسفر مری ہوگیا ،دو سال ہم مری میں رہے ۔وہاں ایک ٹرک تھا جس میں ریڈیو آزاد کشمیر تراڑ کھل located تھا۔والد صاحب کی ڈیوٹی وہاں لگ گئی ،وہ لکھا کرتے تھے ڈھول کا پول۔اس پروگرام میں مجھے وہ ساتھ لے جاتے یوں اُس ٹرک میں رہا ۔ریڈیوکی کینٹین اور اِدھر اُدھر گھومتا رہتا، ایسے ہی بے مصرف۔والد صاحب نے مجھے ایک رول دے دیا۔ڈھول کے پول میں ایک پنڈت تھا ،اُس کے کچھ بالک تھے تو بالکوںکو وہ سکھاتا تھا۔مجھے ایک بالک کا رول دے دیا گیا ۔ یوں ریڈیو آزاد کشمیرتراڑکھل میں چھ سات سال کی عمر میں بالک ہوگیا ،بالک کی آواز نکالتااور کہتاکہو بالکو!آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔وہاںسے کچھ عرصہ بعد راولپنڈی ٹرانسفر ہوگیا۔یہ وہ دَور تھاجب والد صاحب نے بابوں کی تلاش شروع کی۔راولپنڈی میں آکر اُنہوں نے دوسری شادی کی ،اس خیال سے کہ میرا خیال رکھے گی،دوسری ماںآگئی تو مجھے اُن کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑ گئی ،مجھ سے زیادہ اُن کو میرے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑ گئی ،دوسری والدہ طبیعت کی بہت اچھی تھیں،یوں وہ میرے ساتھ نباہ کر گئیں۔

دنیا:سکول کب جاناشروع کیا؟

عکسی مفتی :راولپنڈی میںآکر والد صاحب نے میرے بارے سوچاکہ یہ تو بہت ہی نالائق ہے ،کوئی گھر میں ملنے آئے تو چھپ جاتا ہے ، اُنہوں نے مجھے انگریزی سکول میںداخل کروادیا۔دراصل اُنہیں کسی نے مشورہ دیا کہ عکسی کو بندہ بنانا ہے تو بہترین سکول میںداخل کروا دو۔اُس وقت کا بہترین سکو ل، سینٹ میری کیمبرج تھا۔اُس میںگورے پڑھاتے تھے ۔ مَیںپاکستان کے بہترین سکول میںتو داخل ہوگیامگر عادات و اطور وہی رہے ۔اُس سکول میں اُردو بولناسخت منع تھی ۔ کوئی اُردو بولتے ہوئے پکڑ ا جاتا تو فادر مکین اُس کو کالر سے پکڑکرلے جاتا،وہ ایک اُونچی ناک والاانگریزتھا ۔ آفس میںلے جاکر نیکر اُترواکرایسے بید لگاتا کہ گھرمیںبھی اُردو بولنابھول جاتی تھی۔ وہاں انگریزی جغرافیہ،انگریزی ہسٹری، انگریزی لٹریچر پڑھتے ،گویا کچھ بھی ایسا نہیںتھا جو پاکستان کے بارے میںہوتا۔سکو ل اور گھر میںمیرے الگ الگ باپ تھے۔

دنیا: ’’باپوں‘‘میں سے کسی نے پٹائی بھی کی کبھی؟

عکسی مفتی :جب سکول سے نکالاگیا تو ڈرانے والوں نے ڈرایا کہ دسویںکی تو اُردوبھی بڑی اوکھی ہے ،ریاضی تو تمہاری سمجھ میں آئے گی نہیں،یہ سب سُن کر گھبرا گیا کہ اب کیا ہو گا؟ باپ کی محبت جاگ گئی ،کہا عکسی !گھبرائو مت، مَیںتم کو پڑھائوں گا۔پھر پڑھانا شروع کردیا ،پہلے ہی ہفتے اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، کہ حساب اُن کی سمجھ میںبھی نہیںآیا،جب اُن کی سمجھ میںنہیںآیا تو مجھے کیاسمجھ آتا ،تو ممتاز مفتی نے زندگی میں پہلی بار مجھے دوجھانپڑ مارے۔تڑاخ تڑاخ۔اس سے پہلے کبھی مار نہیںکھائی تھی ۔

دنیا:میٹرک کے بعد تعلیم کا سلسلہ کیسے چلا؟

عکسی مفتی:میٹرک کر چکا تھا ،والد صاحب منسٹری آف انفارمیشن میں تھے،وہاں ایک سی ایس پی افسر تھے ضیاء السلام،وہ ادیبوں ،شاعروںکوسمجھتا تھا کہ یہ وقت ضائع کرنے والے لوگ ہیں،ایسے لوگوں کو سرکاری دفتروں میں ہوناہی نہیں چاہیے ۔اُس دفتر میں ایک شاعرہ تھیں رابعہ فخری اور ایک ادیب تھے ممتاز مفتی۔یہ دونوں اُسے ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے ۔ایک دن ضیاء السلام نے رابعہ فخری کوبہت تنگ کیا ،اُن کی اس قدر بے عزتی کی کہ والد صاحب نے ایک جھانپڑ دے مارامنہ پر۔زناٹے دار۔سب نے دیکھا۔ضیاء السلام کیسے برداشت کرسکتے تھے ۔اس پاداش میں والد صاحب معطل ہو گئے اور کراچی ٹرانسفر ہوگیا ۔وہاںرہنے کوجگہ ،کھانے کو روٹی نہ تھی۔ہم نے کراچی پاک کالونی ، جہاں مزدور رہتے تھے، وہاں ایک کوارٹر کرائے پر لیا۔ پیسے تھے نہیں،تنخواہ بند تھی ،وہاں مجھے ایک انتہائی عجیب و غریب کالج میںداخل کیا گیا ،وہ بندر روڈ پر واقع تھا۔ سوموار سے لے کر ہفتہ کے دن تک ،جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی ،بڑے سے کلاس روم میں ،ایک مَیں موجود ہوتا تھا دوسری ایک لڑکی تھی،بڑی بڑی عینکیںلگائے ہوئے،باقی کلاس خالی ہوتی ۔لیکن اتوار والے دن یہ عالم ہوتا تھا کہ نہ صرف کلاس روم ساری بھر جاتی ،بلکہ بنچوں کے پیچھے بھی سٹوڈنٹ کھڑے ہوتے تھے ،حتیٰ کہ روشن دانوںسے بھی چہرے جھانک رہے ہوتے ۔دراصل وہ کالج اُن لوگوںکے لیے تھا جو ملازمت پیشہ تھے، پورا ہفتہ نوکری کرتے اور اتوار والے دن کالج آجاتے تاکہ نوکری کے ساتھ ڈگری بھی لے سکیں ۔میرا دل اُس کالج سے اُچاٹ ہو گیا،جانا ہی چھوڑ دیا۔

دنیا:تعلیمی سلسلہ میٹرک کے بعد کیسے جڑا؟

عکسی مفتی:جب ہم کراچی سے راولپنڈی آگئے اور والد صاحب صدرِ پاکستان کے ساتھ اٹییج ہو گئے ۔اُسی دوران ممتاز مفتی صاحب نے مجھے گارڈن کالج راولپنڈی، بی اے میں داخل کر وا دیا ۔وہاں سے میرے دن پلٹنے شروع ہو گئے۔کالج میں سب سے پہلے فانوس آرٹ اکیڈمی بنائی ،فانوس آرٹ اکیڈمی پلیٹ فارم سے پہلا جو ڈرامہ سٹیج کروایا وہ بانو قدسیہ سے لکھوایا تھا۔اُسی زمانے ٹیلی ویژن آگیا ،اُنہوں نے میرا ڈرامہ دیکھا ،نتیجہ یہ نکلا کہ میرے سارے آرٹسٹ وہ لے گئے ۔

دنیا:عملی زندگی کی طرف کیسے آئے؟

عکسی مفتی:والد صاحب نے کہا کہ تم سی ایس ایس کرو ،مَیں نے تیاری شروع کر دی ۔والدصاحب اُس وقت انفارمیشن منسٹری میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ایک دن پرنسپل وائس پرنسپل کے ساتھ گھر آگئے اور مجھے لے کر کالج چلے آئے ۔وہاں سے کلاس روم لے آئے ،یہ وہ کلاس تھی جو مجھ سے ایک برس جونیئر تھی ،پرنسپل نے اُنہیں کہا کہ یہ تمہارے نئے پروفیسر ہیں ،اور آج سے نفسیات کامضمون پڑھایا کریں گے۔ یوں مَیں پروفیسر ہو گیا۔سٹوڈنٹس مجھ سے لاڈ کرتی تھیں ،اُسی لاڈ نے مروا دیا ،سردی کے دنوں میںجب کلاس لینے جاتا تو لڑکیاں کہتی کہ باہر لان میں بیٹھ کر پڑھنا ہے تو مَیںاُن سب کو لے کر لان میں آجا تا،اُسی دوران باہر پاپڑ بیچنے والا آجاتا۔ اب کلاس کیا ہورہی ہوتی پاپڑ کھائے جارہے ہوتے۔ایک دن پرنسپل وہاں سے جو گزرے تو مَیںباہر سبزہ زار میں کلاس لے رہاہوں ،سٹوڈنٹس پاپڑ کھا رہے ہیں،میرے ہاتھ میں بھی پاپڑ تھا، ہم نے پرنسپل صاحب کو بھی پاپڑ کھانے کے پیشکش کردی ۔ بس پھر کالج کی نوکری چھوٹ گئی ۔

دنیا:آپ سکالر شپ پر چیکوسلواکیہ گئے،وہاں کیا پڑھا؟کیسا تجربہ رہا؟

عکسی مفتی:کالج کی نوکری چھوڑنے کے بعد،مَیں قدرت اللہ شہاب کے پاس چلا گیا،اس وقت وہ سیکرٹری ایجوکیشن تھے۔میری کتاب تھی کیمونزم اور کیپٹل از م کے موازنہ پر،وہ ایک اچھی خاصی کتاب تھی،وہ اُن کی خدمت میں پیش کی اور کہا یہ مَیں نے لکھی ہے ،اُنہوں نے ایک نظر تک نہ ڈالی ۔کہا اُدھررکھ دو فی الحال، ابھی نہیں ،ابھی یہ رکھیں ۔جب یہ کہا کہ ابھی نہیں ۔میرا تو دل ٹوٹ گیا ۔مَیں نے وہ کتاب ٹھپ کررکھ دی ،آج تک جوں کی توں پڑی ہوئی ہے ۔ مجھے کہاکہ تم سکالر شپ لو اور جائو،یہ جوتم موازنہ کرناچاہتے ہو پھر کرنا۔ چیکو سلوا کیہ اُس وقت روس کا ایک حصہ تھا ۔قدرت اللہ شہاب نے مجھے دو سال کے لیے وہاں بھیج دیا ۔ چیکوسلواکیہ ،کوئی شخص انگریزی نہیں جانتا تھااور مجھے چیک نہیں آتی تھی ۔ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے پہلے چیک زبان سیکھناضروری تھا،مَیں نے صاف انکار کردیاکہ نہیںسیکھوںگا، یہ پتا چل گیا تھا کہ جس پاکستانی نے یہاں آکر چیک زبان سیکھی تھی وہ واپس وطن نہیں گیاتھا،وہ اُدھرچیک خواتین کے ساتھ رہنے لگ گیا۔ مَیں نے اُنہیں کہا کہ فلسفہ پڑھوںگا،اُنہوںنے کہا کہ پڑھیں ،اُن کافلسفہ مارکسزم سے آگے کچھ تھا ہی نہیں ۔لو جی! مَیں نے فلسفہ چھوڑ دیا۔ پھر کہا سوشیالوجی پڑھوںگا،اُنہوں نے کہا پڑھیں،جب سوشیالوجی دیکھی تو وہ بھی مارکسز پر مشتمل تھی ۔پھر اُن کو ماردینے کے لیے کہا کہ صوفی ازم پر کام کروں گااور اسی پر تھیسز کر وں گا۔اُنہوں نے کہا پروفیسر کون ہو گا؟سپروائزر چاہیے ، مَیں نے کہا کہ وہ آپ مجھے دیں ۔اُنہوں نے کہا کہ ایک پروفیسر ہیں مگر اُن کو انگریز ی نہیں آتی ۔مَیں نے کہا ایک بار ملوادو،پھر مجھے اُس کے پاس بھیج دیا گیا ۔ہم دونوں کوایک دوسرے کی بات سمجھ نہیں آئی ،کچھ مَیںنے سر ہلایا ،کچھ اُس نے سر ہلایا،آخر میں اُس نے بھی سر ہلایا ،میں نے بھی سر ہلایا ، یوں وہ میرا پروفیسر ہو گیا ۔پھر اُس کے بعد اُس سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔بڑی مشکل سے ایک لائبریری کا سراغ ملا جس میں انگریزی کتب دستیاب تھیں۔جیسے ہی مَیںلائبریری میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کشف المعجوب،نکلسن کی ٹرانسلیشن ، خواجہ فرید،بابا بلھے شاہ،شاہ لطیف،مجھے تو اس بارے تو پتا ہی نہیں تھا ۔پہلی بار پاکستان سے دُور جا کر پاکستان سے واقفیت ہوئی ۔ جیسے جیسے وہ سار الٹریچر پڑھتا گیا تو حالت عجیب ہوتی گئی ۔وہاں یورپ کے سارے فلسفی پڑھے ،نطشے ، کانٹ ،ولیم جیمز کو بہت پڑھا،فلسفے کے ساتھ نفسیات پڑھی، فرائیڈ،یونگ ،ایڈلر سب کوپڑھا۔پھر اس کے بعد جو مَیں نے بلھے شاہ ،خواجہ فرید پڑھا،تو یہ احساس ہوا کہ یہ بابے تو بہت آگے ہیں ،یورپ کا فلسفہ تو ان کے سامنے بہت پیچھے رہ گیا۔یہ لوگ تو چھوٹے سے شعر میںوہ بات کہہ جاتے ہیں جو اُن کے فلسفی کی ساری کتاب میں نہیں ہوتی ہے۔ ۔میرے دل میں اُس وقت ایک زبردست جذبہ پیدا ہو اکہ واپس جائوںاور پاکستان کے صوفیاکرام اور فوک لور پر کام کروں ۔اگلے دن اُٹھااور کھڑکی سے دیکھا تو نیچے ٹینک ہی ٹینک کھڑے تھے ۔ رُوس نے چیکوسلواکیہ پر حملہ کردیاتھا ۔ چیک صدر گرفتار ہو چکے تھے ۔میرا پروفیسر بھی گرفتا ر ہو گیا،فلسفہ کا پورا شعبہ جوتھا ، اُس کے سارے اُستاد قید کر لیے گئے ۔ہم سٹوڈنٹس کوحکم جاری ہو گیا کہ وہ اس ملک سے نکل جائیں بالخصوص وہ جو فلسفے کے طالبِ علم ہیں ۔ دنیا:چیک و سلواکیہ میں پیدا ہونے والے جذبے نے کیسے عملی صورت اختیار کی؟ عکسی مفتی:مَیں یہ آئیڈیا لے کر کہ پاکستان کے صوفیا ء کرام اور فوک لور پر کام بہت ضروری ہے ،بہت جگہوںپر گیا ، کوئی نہیں سنتا تھا،اسی اثنا ء میں یہ ہوا کہ ایک یونیسکوایکسپرٹ سمیرنگیرملا۔یونیسکو کا ایک پراجیکٹ تھا کہ وہ پاکستانی فوک لور اور فوک ہیریٹیج کا ایک نمونہ جمع کرنا چاہتا تھا، پھر اگر حکومت پاکستان تیار ہوتی ہے تو وہ یہاں فوک آرٹ اکیڈمی کے قیام میں معاونت بھی کرتا ۔ تنویر احمد خان ،بعد وہ ہمارے فارن سیکرٹری ہو گئے تھے ،اُس وقت وہ ڈپٹی سیکرٹری تھے ،اُنہوں نے اُسے میرے حوالے کر دیا کیونکہ میرے منہ سے وہ اس طرح کی باتیں سن چکے تھے۔ تنویر احمد خان نے مجھے کہا کہ یہ تمہارے لیے موقع ہے ،تم جائو چھ ماہ کے لیے پاکستان میں گھومو پھرو اور لوک گیت،مراثی اور بھانڈ وغیرہ اکٹھے کرو۔مَیں اور سمیر نگیر نے ایک ٹیپ ریکارڈر اُٹھایا،جیپ لی اور چل پڑے۔چھ مہینے گھومتے رہے، ہم نے کوئی دو سو گھنٹے کی ریکارڈنگ کی ،عجیب وہ غریب گانے اکٹھے کیے ۔وہ گانے اکٹھے کر کے جو واپس آئے تو تنویر احمد خان تبدیل ہو چکے تھے وہاں جوصاحب بیٹھے تھے وہ کوئی سائنسدان تھے،اُنہوں نے کہا کہ کلچر وغیر ہ فضول چیز ہے ،یہ تم لوگوں نے کیا کام کیا ہے؟ بند کرو یہ سب۔جوائنٹ سیکرٹری نے سیکشن افسر کو کہا کہ ان سے پوچھو یہ پانچ ہزار روپیہ لے کرکہاں غائب ہوگئے تھے ۔سیکشن افسر نے کہا کہ آپ تو بلیک لسٹڈ ہو گئے ہیں پانچ ہزار واپس کرو ۔وہ پراجیکٹ اُدھر ہی ختم ہو گیا۔ دنیا:پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اور فوک لور ریسرچ سنٹر کے مابین کیا مسائل تھے؟ عکسی مفتی: فیض احمد فیض پی این سی اے میں تھے ۔مَیں فیض صاحب کے پاس چلا گیا اپنا منصوبہ بتایا، اُنہوں نے کہا فوک لور ریسرچ سنٹر بنالو (اس سے پہلے مَیں گیا تھا پاکستان نیشنل سینٹر فار انٹر گیشن والوں کے پاس۔ اُن کواپنے پراجیکٹ کے بارے بتایا اور کہاکہ کرلیں ،چونکہ آپ یہ کام کرنے کے لیے سب سے بہترین ادارہ ہیں ،اُنہوں نے مجھے نوکری دے دی۔وہاں سال گزرا پھر دوسرا سال گزرا،مَیں بیٹھا رہا وہاںفارغ ،کسی نے فوک لور کا نام تک نہ لیا۔بس وہ مجھے ٹالتے رہے ،اتنی دیر میں وہاں ہاشم خان آگیا،وہ بنگالی تھا،اور وہ بنگلہ دیشیوں کے ساتھ ملا ہوا تھا۔وہ اُس وقت بنگلہ دیش کا قومی ترانہ بنوا رہا تھا۔ڈی جی ریڈیو کے ساتھ ملکر ،بنگلہ دیش کا ترانہ یہاں بنا ہے۔علیحدگی کی موومنٹ کوئی فوری نہیں ہوئی تھی ،بنگالی اس پرکام کر رہے تھے،ایک عرصہ سے ۔اتنی دیر میں ایسٹ پاکستان علیحدہ ہو گیا ،پی پی پی برسرِ اقتدار آگئی ،مولانا کوثر نیازی اُس جگہ آگئے ۔مولانا کوثر نیازی نے آتے ہی دھواں دھار تقریر کی اور کہا کہ آئندہ اس ادارے کا کام انٹیرگریشن نہیں ہے ،اس ادارے کا کام حکومتِ وقت کا پرچار کرنا ہے ۔مَیں نے استعفیٰ دے دیااور فیض صاحب کے پاس آگیا)مَیں نے کہاکہ میرا دفتر الگ ہو گا اور اس کا نام ہو گا فوک لور ریسرچ سنٹر،یہ پی این سی اے کے اندر نہیں ہو گا ،علیحدہ عمارت میں ہو گا۔وہ مان گئے میں نے پی این سی اے کے پیچھے والی بلڈنگ لی اور باہر بورڈ لگایا،فوک لور ریسرچ سنٹر۔اوراندر جا کر بیٹھ گیا ،اندر نہ کوئی سٹوڈیو، نہ اور کچھ ، بہت ساری رضائیاں خرید لیں،اُن کو دیواروں پر لٹکا دیا،پھول بوٹے والی رضائیاں تھیں بہت خوب صورت لگنے لگیں ۔یوں سٹوڈیوبن گیا۔اُدھر ٹی وی کے ساتھ لوک تماشہ بھی کر رہا تھا ،اُدھر جتنے آرٹسٹ ہر ہفتے تماشے کے لیے آتے ،اُن کو کہتا ریہرسل اِدھرہو گی۔ریکارڈنگ ادھر مفت کرتا تھا،تماشہ اُدھر ٹی وی پر لگتا تھا۔کچھ ہی عرصے میں میرے پاس بے تحاشہ کولیکشن ہو گئی ،پی این سی اے والے بڑے پریشان تھے کہ اس کابجٹ بھی بند کیا ہوا ہے تودانہ پانی کہاں سے آرہا ہے ،پی این سی اے میں ہوتے تھے اس وقت خالد بٹ وہ جل بھن گئے۔اُنہوںنے فنانس سیکرٹری کو حکم جاری کردیا،اُس نے بجٹ بند کردیا ۔لیکن اس سب کے باوجود ،میرے اپنے ذاتی ریکارڈر تھے ،ٹیپس تھیں،یونیسکو کی ٹیپس تھیں وہ سب سٹوڈیولے گیا ۔ہر ہفتے ریکارڈنگ شروع کر دی۔سال کے اندر اندر فوک اور صوفی میوزک کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ۔ اس دوران فیض صاحب کونکال دیا گیا تھا،میرا افسر خالد سعید بٹ بن چکا تھا۔اُس نے سارے محکمے اپنے نیچے کر دیے ۔مَیں نے کہا تمہارے نیچے نہیں ہوں ،میرا تو محکمہ ہی الگ ہے ،اس کا تو نام ہی فوک لور ریسرچ سنٹر ہے ۔اُس نے کہا قانونی کاغذات دکھائو ،وہ میرے پاس تھے نہیں ۔قانونی طور پرتو بنا ہی نہیں تھاوہ تو فیض صاحب نے کہا تھا کہ بنالواور مَیںنے بنا لیا۔

دنیا:پاکستانی ثقافت کے رنگوںکی پہچان کیسے کی جاسکتی ہے،آپ کے نزدیک ثقافت ہے کیا؟

عکسی مفتی:دیکھیں!ثقافت وہ ہے جو عوام برتتے ہیں ۔جو ہمارےFolkways ہیں ،جو لوک ریت ہے ، جو Common Shade ہیں ،میرا ثقافت کا Perspective کسی اور کے ثقافت کے Perspective میں ایک ہی فرق ہے ۔ایک چیز ہے آرٹ،آرٹ ثقافت نہیں ہے ۔ثقافت کا حصہ ہو سکتی ہے ِ،لیکن ثقافت نہیں ۔اسے آپ پاکستانی ثقافت نہیں کہہ سکتے۔آرٹ انفرادی Creativity پر قائم ہے۔ ایک فرد کی پیداوار ہے ۔لیکن ثقافت اس کے برعکس اجتماعی ہے ۔وہ تمام لوگ جو ایک خطے میں رہتے ہیں اور سالہا سال ایک طریقہ کار رہن سہن کا وضع کرتے ہیں وہ ثقافت ہے ۔جیسے چپل کباب ایک بندے نے نہیں بنایا،وہ تمام پشتونوں کا ایکExpression ہے ۔وہ اُن کی ثقافت کا حصہ ہے ۔ دنیا:ثقافت کو تمدن او ر معاشرت کے خانوںمیں رکھا جاسکتا ہے ؟

عکسی مفتی:جو چیز ایک پورے معاشرے کو یا معاشرے میںایک پورے گروپ کو Represent کرتی ہے ،وہ ثقافت ہے ، کیونکہ وہ اکٹھے رہ کر کئی صدیوںسے مشترکہ طور پر کشید کی گئی ہے۔مثلاًاجرک ایک ثقافت ہے ،وہ سندھیوںکے لیے مشترکہ چیز ہے ۔سندھیوں نے یہ ثقافت موہنجو داڑو سے کشیدکی ہے ۔اجرک کسی ایک فرد کی اختراع نہیں،وہ سندھیوں کی ثقافت اور اس کے استعمال میںشامل ہے ۔ کسی کو عزت دینے کے لیے سندھی اجر ک کا تحفہ دیتے ہیں ۔اجرک کا بننا،اجرک کا پہننا اور اجرک کااستعمال سندھی ثقافت کا حصہ ہے ۔جن دنوں سندھی اجرک پہننا چھوڑ دیں گے ،اجرک ثقافت کا حصہ نہیں رہے گی۔میرے نزدیک پاکستانی ثقافت وہ ہے جوCommonly Shade ہے جومشترکہ اجراء ہے اور ایک خطے میں جو لوگ اکٹھے رہتے ہیںوہ صدیوں سے اُس چیز کو پریکٹس کرتے آئے ہیں ،اور ثقافت سینہ بہ سینہ یا کسی اور طور پر منتقل ہوتی ہے ۔اس کے برعکس آرٹسٹ کی اپنی ایک اختراع ہے ،ایک شاعر غزل کہتا ہے ،غزل ثقافت ہے اور شاعر نے جو کہا ہے وہ ثقافت نہیں ہے ۔وہ اُس کی اپنی کاوش ہے ۔ثقافت انفرادی عمل نہیں یہ اجتماعی عمل ہے ۔پکاسو ثقافت نہیںوہ آرٹ ہے ۔مثلاًایک جدید گھر کو آرکیٹیکٹ نے بنایا ہے وہ گھر ثقافت نہیں بلکہ جدید آرکیٹیکٹ کی اختراع ہے ۔ لیکن جو مٹی کابنا گھروندا ہے ،وہ جولکڑی کے بالے گھاس پھوس کی چھت والا گھر، وہ ثقافت ہے ۔وہ کسی نے ڈیزائن نہیں کیا ، اُسے بناتے وقت کسی سے اجازت نامہ نہیں لیاگیا ، وہ باپ دادا کو آتا تھا بنانا،اُسی طرز پرلوگ آج بھی بناتے ہیں ۔ دنیا: جس ثقافت اور اُس کے نمونوں کے آپ نے حوالے دیے ،وہ کہیں موجود ہے ،یا مر گئی ہے ؟ عکسی مفتی:اگر آپ شہر میں رہیںگے تو ثقافت مرچکی ہے ، گائوں میں رہیں گے تو زندہ ہے ۔ثقافت بدل رہی ہے ،مر نہیں رہی ،اگرچہ لوگ اپنے کچے گھروں کو گرا کر پختہ بنارہے ہیں ۔ وہ اپنے کچے گھروں سے شرما رہے ہیں ،البتہ جو قوم اپنی ثقافت سے شرمائے اور اُسے کمتر سمجھے اُس کی ثقافت کتنی دیرزندہ رہ سکتی ہے؟ہم وہ قوم ہیں جوبدقسمتی سے اپنی ثقافت سے شرماتے ہیں ۔

دنیا:ہم پاکستانی اپنی ثقافت کو دیگر اقوام کی ثقافتوںکی نسبت کمتر کیوںسمجھتے ہیں ؟کیاہماری ثقافت واقعی کمتر ہے؟

عکسی مفتی:اس کی کئی ایک وجوہات ہیں ،پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایک ہمارا Colonial Past رہا ہے۔دو سو سال سے بھی زائد کا۔جو ہمارے انگریز آقاتھے بہت دور رس اور چالاک تھے ،اُنہوںنے ہماری مقامی زبانیں بدل دیں۔اُنہوں نے فارسی ،اُردو اور عربی کی جڑ اکھیڑ کررکھ دی۔مقامی زبانوں کی ترویج روک دی، ہمارے اُوپر انگریزی زبان عائدکر دی۔ ہم نے ایک ظلم یہ کیا کہ اُردو جو رابطے کی زبان تھی ،کوقومی زبان بنا ڈالااور اُس کو بلوچیوں او ر سندھیوں اور دیگر پر نافذ کردیا ۔اس کے کچھ فائدے بھی ہوئے مگر نقصانات بھی بہت ہوئے ۔نقصان یہ ہواکہ ہماری ریجنل ثقافت جو کہ اوریجنل ثقافت ہے مرنی شروع ہو گئی ۔ ہماری مقامی زبانیں مر رہی ہیں،بے شمار زبانیں لکھی نہیں گئیں۔مقامی زبانوں میںکیا لکھا جارہا ہے؟ پشتو، بلوچی ، سندھی،پنجابی اور سرائیکی میںکیا لکھاجارہاہے؟ہم نے اپنی زبانوں کاگلہ گھونٹ کررکھ دیا ۔مقامی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے کسی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ جیسے ہی انگریز آقا چلے گئے ، تو ہم نے پولیٹیکل نیشنل ازم کومسلط کر دیا ایک ایسے جغرافیہ پر جہاں کلچرل نیشنل ازم صدیوں سے موجود تھا ،اُس کلچرل نیشنل ازم کو نظر انداز کر دیا اور پولیٹیکل نیشنلزم کو فروغ دئیے دیا۔سامراجیت ہمارے رویوں میں ہے ،ہم اپنی زمین سے پھوٹی چیزوں کو پروموٹ نہیں کرتے۔جو چیزیں باہرسے آتی ہیں انہیں اپنانے میں جلدی کرتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں ۔یہاں اسلام آباد میںاردو میڈیم ایک گالی ہے،یہاں کی مائیں اپنے بچوں سے انگریزی میںبات کرتی ہیں ۔پھر کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی ثقافت مرنہ رہی ہو۔

دنیا: کیا زبانوں کی ترقی اب معاشی پہلو سے وابستہ نہیں ہو چکی؟

عکسی مفتی:معاشی ضرورت کس زبان کے ساتھ جوڑنی ہے ،یہ پالیسی کون بنائے گا؟حکومتوںکاہی کام ہے نا یہ؟سمت غلط ہو تو منزل پر کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟ہم نے تو راستہ ہی ٹھیک نہیں پکڑا ہوا، خود کو قوم بنانے کا راستہ نہیں پکڑا ہوا۔

دنیا:قوم کے اجزائے ترکیبی کے عناصر کون سے ہیں

عکسی مفتی:میرا خیال ہے کہ قوم بنانے کا جو اس وقت طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم بلوچی کو یہ نہ کہیں کہ تم ایک اچھے بلوچی ہو،ہم تمہارے بلوچی ہونے پر خوش ہیں ،ہم تمہاری بلوچی شناخت کو قبول کرتے ہیں بلکہ اسے سراہتے ہیں ۔اُس وقت تک ہم اچھے پاکستانی نہیں بنیں گے ۔اگر ہم اُسے یہ کہیںکہ تم نے کس قسم کا پگڑ سر پر باندھ رکھا ہے ،اور یہ کیا تم نے بٹنوںوالا کوٹ پہنا ہوا ہے اور یہ تمہاری جوتی تو مضحکہ خیز ہے ۔تم ہماری محفل کے قابل نہیں ہو،کسی ہائی لیول کی میٹنگ میں تم کو نہیں بلا یا جاسکتا ۔ پہلے جائو سوٹ اور ٹائی لگاکے آئو یا کم ازکم اچکن پہن کے آئو،اُردو میں بات کرو بلکہ بہتر ہے کہ انگریزی میں بات کرو۔یہ بات ہم بغیر کہے ہر علاقائی ثقافت سے وابستہ شخص کو کہتے ہیں،کیونکہ یہ بات ہمارے اعمال،ہمارے رویے میں موجودہ ہے ۔

دنیا:قوم کے اجتماعی مزاج کے لیے علاقائی ثقافتیں کیا اہمیت رکھتی ہیں ؟

عکسی مفتی:دنیا میںثقافتی تنوع پر بہت کام ہو چکا ہے ۔نامور سوشیالوجسٹ حضرات نے اس پر بہت لکھا۔تنوع ایک اثاثہہے ۔جو قوم اور جو Ecology،Diversityکھونا شروع کرے وہ زوال پذیر ہے۔مثلاًموسیقی میں آپ کے پاس کتنے ساز تھے،آپ کے پاس تاشہ ،تمکناری،نقارہ ،ڈھمکو،ڈھول تھا اورطبلہ وغیرہ ۔معلوم نہیںکتنی قسم کی ستاریں تھیں ، سر بہار تھی۔اگر وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے پا س آخر میں طبلہ اور ڈھول رہ جائیں۔۔۔تو کیا آپ نے ثقافتی طور پر ترقی کی ؟

دنیا:یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی ثقافت کو شعور ی سطح پر کیسے بچایا جاسکتا ہے ؟نہ ہی شعوری طورپروان چڑھایا جاسکتا ہے؟

عکسی مفتی:بالکل بالکل!یہ بڑا اہم سوال ہے۔ہمارے لیے یہ بہت اہم سوال ہے ۔اگر ہم شعوری طور پر ایسا نہیں کریں گے ،جوہماری چیز ہے اُس کو نہیں سنبھالیں گے،اور جوباہرسے آرہی ہے اُس کوتقویت دیتے جائیں گے ،تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم اپنی ذات کومار ڈالیں گے۔ہم اپنی شناخت ختم کر دیں گے۔ایک دن آپ کے بچے اُٹھیںگے اور آپ سے انتقام لیں گے ۔اُن کو کھوج ہوگی کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں ؟ہمارے ساز کون سے تھے؟ کھانے کون سے تھے ؟ لباس کون سے تھے،ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے ؟وہ جواُن کے اندر بے چینی پیدا ہو گی اور معاشرے میں جو خلا پیدا ہو گی۔وہ اس قدر غیرصحتمندانہ ہوگی کہ صلاحیت ختم ہو جائے گی ۔ دوسری جنگِ عظیم نے جرمنی میں سب کچھ ختم کردیا تھا۔جرمن قوم برباد ہوگئی ۔ جب وہ پھر سے کھڑی ہوئی تو معلوم ہے اُنہوں نے کیا کیا؟اُنہوں نے اپنا پچھتر فیصد بجٹ جرمن ثقافت کے احیا ء کے لیے لگایا۔کیونکہ ثقافت ہی آپ کی شناخت ہے ۔نتیجہ اُس کایہ نکلاکہ آج بھی جرمن شناخت امریکن سے مختلف ہے۔امریکہ بہت ملکو ں کو پیچھے چھوڑ گیا جرمنی کو نہیں کر سکا،فرانس کونہیںکر سکا۔جو سمجھ دار ملک ہیں اُنہوں نے ترجیح بنیادوں پر اپنی Indigenous Institutionاور اپنیمقامی ثقافت کو تقویت دی۔وجہ یہ ہے کہ صرف اور صرف مقامیثقافت میںیہ طاقت ہے کہ باہر سے کوئی طوفان بھی آجائے، کوئی Hurricane آجائے تو جو چیز آپ کو اپنے پائوں پر کھڑا رکھے گی ،وہ آپ کی مٹی سے پھوٹی ہو گی۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر آپ اپنی زمین سے پھوٹنے والی چیزوں کوتقویت دیں گے تو ایسا نہیں ہو گاکہ باہر سے آنے والی چیزیں بندہو جائیں گی۔ہو گایہ جب آپ مقامی ثقافتکوتقویت دیںگے تو جو باہر سے چیز آئے گی وہ اس کو اُکھیڑ کر پھینکے گی نہیں ،اس کے اندر سما کے ایک نئی شکل اختیار کر ے گی۔آپ کے قدم بھی زمین پر رہیں گے اور نئی چیزیں بھی اپناتے رہیں گے ۔یہ صحت مندانہ ہے مگر ہمارے ہاں صحت مندانہنہیں ہو رہی ۔

دنیا:نائیجرین ناول نگار چنوا اچیبے کا خیال ہے کہ کلچر کو بچانے کی کوشش میں آپ خودکشی تو کر سکتے ہیں، اُسے بچا نہیں سکتے؟

عکسی مفتی: دیکھیں! کلچر کوئی مجرد چیز نہیں آپ اس کو روک نہیںسکتے۔اس وقت بات ہورہی ہے روایت اور جدت پر۔جو کچھ مَیںنے علم حاصل کیا ، سمجھتا ہوں کہ ہمیں ترقی ضرور کرنی ہے،باہر سے آنے والی چیز کو قبول کرنا ہے۔لیکن اپنی شناخت کوساتھ لے کر جانا ہے ۔اس کے اندررہ کر باہر سے آنے والی چیز کو قبول کر نا ہے ۔باہر سے آنے والی چیزوںکوفریم ورک میں قبول کیا جائے، مگر ہم نے گذشتہ اَڑسٹھ برسوں سے اپنے فریم ورک کو تگڑا ہی نہیں کیا۔ہم تو اب کھڑے ہونے کے قابل نہیںرہے، چہرہ مسخ ہو چکا ہے ،مستزاد دہشت گردوں نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے ۔اب بھی اگرثقافتی پہچان ہو جائے تو پھر سے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔

دنیا: آج کی معاشرت میں کس قدیم ثقافت کے رنگ دیکھے جاسکتے ہیں ؟

عکسی مفتی: بہت ثقافتیں ہیں جن کی مختلف علاقوں میں شکلیںنظر آئیں گی۔مثلاً ہنزہ میںغیر مذہب کی قدیم ثقافتوںکی جھلک آج بھی نظر آئے گی۔وہاںآج بھی رسم و رواج کچھ ایسے ہیں جواسلام سے قبل کے ہیں ۔ہمارا ایک بڑا غلط خیا ل ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہیں جوپہلے بدھ مذہب کے تھے، پھر اسلام آگیا تو وہ مکمل مسلمان ہو گئے۔ تو ایسا نہیں ہوتا۔وہ لوگ وہی رہتے ہیں جووہ تھے۔مثلاًفرض کیجیے مَیں دہریہ ہوں ،پر میں ہوںتو عکسی مفتی نا؟میرا ایک میک اپ ہے ، سوچ ہے ، رویے ہیں ،میرا سب کچھ ہے ،اگر ایک دن میں ایمان لے آتا ہوں تو میںکلی طور پر سارا تو نہیں بدل جائوں گا۔دیکھیں!ماضی کبھی نہیں مرتا۔ماضی منتقل ہوتا ہے ۔مَیں مکہ میںتھا ۔ایک جگہ بیٹھا تھا۔ایک افریقی خاتون کودیکھا، وہ ایک ماڈرن سٹور میں داخل ہوئی ہے او رپھر وہاں سے منرل واٹر کی بوتل لے کر باہر آئی ،منرل واٹر ایک بہت جدید چیز ہے ،اُس نے وہ بوتل اپنے سرپر رکھی اورچل دی،وہ بوتل گری نہیں۔مجھے اس بات نے حیران کر دیا۔مَیں سوچ میں پڑ گیاکہ جو پاکیزہ پانی ہے، اسلام ہے اور افریقن مائی جو ہے یہ ہم لو گ ہیں۔ہم جو کچھ بھی ہیں جہاں کہیں بھی رہتے ہیں ،یہ ہم ہیں۔ ہم کوپانی لے جانے کایہی طریقہ آتا ہے ۔ دنیا:پاکستانی معاشرے نے اچھے شاعر ادیب پیدا کیے ،کیا اچھے سوشل سائنٹسٹ بھی پیدا کیے؟ عکسی مفتی: نہیں ۔کیونکہ سوشل سائنس کو ترجیح ہی نہیں دی گئی ۔ہم نے کوئینامورسوشل سائنٹسٹ پیدانہیںکیا۔

دنیا:آپ کی ایک دو کتابوں میں داستان گوئی کا احساس ہوتا ہے؟

عکسی مفتی: جب تلاش کتاب لکھی تو میری بہنوں نے کہا کہ تم نے باپ کے نام پر بٹہ لگایا ہے وہ تو ایسی خوبصورت زبان لکھتے تھے ،داستان گوئی کا طرز اپناتے تھے اور آپ نے یہ کیا لکھ دیا۔ہم سے تو آپ کا لکھا پڑھا ہی نہیں گیا ، سر کے اُوپر سے گزر گیا۔پھر مَیں نے ’’ایک دن کی بات‘‘کتاب لکھی اور جان بوجھ کر اُس پر داستان گوئی کا رنگ چڑھایا۔کسی حد تک ممتاز مفتی کی طرح لکھنے کی کوشش کی۔اسی طرح ’’کاغذ کا گھوڑا‘‘بھی عام قاری کوسامنے رکھ کر لکھی۔لیکن اپنی کتاب’’پاکستان کی ثقافت‘‘ سکالرز کے لیے لکھی ،پاکستانی لوگ ثقافت کے تصور کے حوالے سے بہت کنفیوزڈ ہیں ۔

دنیا:’’کاغذ کا گھوڑا‘‘کے واقعات پر افسانے کا گماں ہوتاہے۔

عکسی مفتی: وہ سب واقعات عین حق ہیں ،اس میںکوئی افسانہ طرازی نہیں کی گئی ،اُس میںسو فیصد سچ ہے ،اسی وجہ سے بیوروکریسی ناراض ہے مجھ سے۔لیکن کچھ بیوروکریٹ ایسے بھی ہیں جو فون کر کے کہتے ہیںکہ تم نے سچ بول دیا۔

دنیا:ممتاز مفتی نے اپنے آخری لمحوں میں یہ کہاتھا کہ عکسی بس اب میں جارہا ہوں؟

عکسی مفتی: ہاںبالکل۔اُنہیںاپنے جانے کااحساس ہو گیا تھا،وہ تو مجھے کب سے کہتے تھے کہ گاڑی کے انتظار میں بیٹھا ہوں لیکن گاڑی لیٹ ہے ۔پھر وہ کہنے لگے کہ اب سمجھ میں آیاکہ گاڑی ابھی کیوں نہیں آئی ، ابھی ایک اور کتاب لکھنی ہے ۔مَیں نے کہا جی لکھیں ۔اُنہوں نے کہا یہ کتاب اسلام پر لکھنی ہے، لیکن جب لکھنے بیٹھے تو تلاش کتاب لکھ دی۔جوبالکل بھی مذہبی کتاب نہیں ہے ۔اور وہ کتاب لکھتے ہی مفتی صاحب گزر گئے ۔اُس کتاب کو بعد میں ،مَیں نے چھاپا۔

دنیا:نیاکام کیا سامنے آرہا ہے؟

عکسی مفتی: پاکستان کی ثقافت کو انگریز ی میںٹیکسٹ بک کے طور پرلکھنا چاہتا ہوں ۔ہمارے ہاںبدقسمتی یہ ہے کہ جو عزت انگریزی میںلکھی کتاب کوملتی ہے وہ اُردو میںلکھی کتاب کونہیں ملتی۔تو مجھے انگریزی میںلکھ کرتھوڑی سی عزت بھی کما لینی چاہیے۔ ٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *