Anxiety by Tahira Shams

 تحریر: طاہرہ شمس

کیا خوب کہا ہے کسی نے ۔۔۔۔ ” یہ بے چینی نہیں جاتی ” کبھی تو ان گنت لفظ بے چین کر دیتے ہیں تو کبھی کسی کی خاموشی۔۔۔۔۔۔ کبھی بے پناہ محبت بے چین Anxiety 2کر دیتی ہے تو کبھی کسی کی نفرت۔۔۔۔۔ کبھی تو ساتھ چلنے والے بےچین کر دیتے ہیں تو کبھی کسی کے دوری۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ چین اور بے چینی من چاہ اور جگ چاہ کی جنگ تو نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟ اگر یوں کہیں کہ یہ بے چینی ہی تو ہے جو انسان کھوج میں لگا ہے ، یہ گردش ایام اور محو سفر رکھنے والی بے چینی ہی تو ہے۔۔۔۔۔۔ یہ بے چینی ہی صدیوں کی مسافت طے کرواتی ہے ۔۔۔۔ کسی نے بے چین ہو کے قلم اٹھایا ،،،، تو کوئی صدیوں کی مسافت پہ نکل پڑا ، پہاڑوں اور جنگلوں کو اپنا مسکن بنانے والی بے چینی ہی تو ہے۔۔۔۔۔ فقط یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ” بے چینی اک ایسی نا ختم ہونے والی کیفیت ہے جو ہمیں، ہمارے زندہ ہونے کی وعید دیتی ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *