Joker by Adil Maqbool

اقتباس:جوکر تحریر

عادلْ مقبول

یہ وہ وقت تھا جب میرے پاس دو ہی راستے تھے یا تو گھر والوں کو چھوڑ دیتا یا اپنے آپ 1کو…. بڑی مشکل سے اپنے آپ سے ٹاکرا ہوا تھا لہٰذا میں نے گھر والوں کو چھوڑ دیا. لیکن تم کوئی درمیانی راہ بھی تو نکال سکتے تھے کہ گھر بھی بچ جاتا اور ذات بھی. . میں نے قدرے لاپرواہی سے جواب دیا چاہتے نہ چاہتے ہوئے اسد کی باتیں مجھے اس مسخرے دور لے جا چکی تھیں. تمہیں ایک مشورہ دوں؟ اپنے مخصوص انداز میں وہ گردن ٹیڑھی کرکے بولا. ہاں کیوں نہیں. .. روز محشر اگر جنت نصیب نہ ہوئی تو بخوشی دوزخ کو گلے لگا لینا کسی صورت درمیانی راہ کا نہ کہنا.. کیوں اس میں کیا راز ہے اب؟ میں اسکی پہیلیوں سے اکتا چکا تھا کبھی کسی کو مرتے دیکھا ہے؟ ہاں اپنی نانی کو دیکھا تھا. . تو سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ کونسا تھا؟ ظاہری بات ہے روح نکلنے کا. . نہیں. . سب سے تکلیف دہ مرحلہ وہ تھا جب تمہاری نانی کی زندگی ختم ہو چکی تھی اور موت شروع ہونے والی تھی. . یہ درمیانی کیفیت تھی موت اور زندگی کے درمیان میں. . اس سے زیادہ اذیت ناک مرحلہ کوئی نہیں. . تم لوگ سمجھتے ہو کہ درمیانی میں راحت ہے. . یاد رکھنا سب سے زیادہ اذیت درمیانی حالت دیتی ہے. . بندہ نہ زمین کا رہائشی رہتا ہے نہ آسمان کا باشندہ. . وہ تو کہیں درمیان میں بکھر جاتا ہے. . خلش اور خوشی کے درمیان اذیت ہے دردناک اذیت. . نہ خوشی کی پیاس ہوتی ہے نہ غم کی شراب. .. مسلمان اور کافر کی درمیانی حالت منافق ہے نہ مسلمان نہ کافر.. . تم جانتے ہو حشر کے بعد سب سے زیادہ اذیت کن لوگوں کو ملے گی؟ کافروں کو. . میں نے سوچ کر کہا. . نہیں سب سے زیادہ کشمکش کی اذیت انہیں ملے گی جو درمیانی راہ اختیار کریں گے. . جانتے ہو درمیانی راہ والے کون ہوں گے،؟ جن لوگوں کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے. . انہیں جنت اور دوزخ کی درمیانی جگہ ملے گی. . نہ وہ جنتی ہوں گے نہ دوزخی. . نہ جنت کا لطف عطا ہوگا نہ دوزخ کا مزہ. . وہ کشمکش کے عذاب میں مبتلا ہوں گے درمیانی حالت کا عذابِ کشمکش. . اس لیے اگر وہاں ایسا معاملہ آیا تو دوزخ میں خود چھلانگ لگا دینا. . درمیانی حالت نہ مانگنا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *