Masood Mufti on Allah Mawara ka Tayun

ٹرانسکرپشن : مریم عباسی

عکسی مفتی کی کتاب اللّه
یہ چند سطور اس لیے لکھ کر لایا ہوں کہ اس حساس موزوں پر زبانی بولا ہوا ہر لفظ بلاثفمی FB_IMG_1489170195198لاء کی زد میں لایا جا سکتا ھے. اور من مانی کرنے والے کلمہ شکرکہنے پر یہ که کرایف.ای.آر کٹوا سکتے ہیں کہ یہ کلمہ کفر ہے.پھر و ہ فیصلے کےلیے عدالت کی بجانے ہجو م کا سامنا کروا سکتے ہیں.اس لیے میرا تحریری بیان میری بقا کا ضامن ھے.
اپنی بات کا آغاز میں عمر بھرکے تجربے سے کروں گا.بچپن سے لے کر بڑھا پے تک دیکھتا آیا ہوں کہ مسلمانوں نے جب بھی اللّه کو سمجھنے کی کوشیش کی ہے چا ھے وہ علامہ اقبال کی و سا طت سے ہو یا علامہ مشرقی کی وساطت سے-وہ خدا فہمی میں ناکام رہے ہیں.کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان مولوی ایک دیوا ر بن کر کھڑا ہو جاتا ہے.اتنی موٹی دیوا ر کہ نہ تو بندے کا سوال وہا ں تک پہنچ سکتا ہے.اور نہ ہی خدا کا جواب بندے تک پہنچ سکتا ہے.بلکہ صرف مولوی کی آواذ گونجتی رہتی ہے. اس اصرار کے ساتھ کہ جو کچھ وہ که رہا ہے وہی فرمان خدا ہے. جس کے مطابق علامہ اقبال اور علامہ مشرقی کافر ٹھراہے گۓ تھے.
عکسی مفتی کی اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس میں مولوی کہیں نهیں ہے. نہ مولوی کی سوچ- نہ ہٹدھرمی-نہ ضعیف روا یتوں کی ترسیل.مولوی کے بجاے یہاں دلیل ہے- علمی اور سا ہنسی حوا لے ھیں. اور مسلسل ترغیب ہے کہ”افلا تتفکر ون” یعنی کہ تم سوچتے کیوں نھیں. اس کے علاوہ یہاں مولوی جیسی جارحانہ مذہبی تبلیع بھی نہیں.لیکن اس کے باؤجود یہ کتاب بندے کو خدا سے اس قدر آشنا کر دیتی ہے جتنا مولوی اس کو خدا سے دور کرتا رہتا ہے.
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ کتاب ھمیں صرف اللّه کی اشنائ تک لے جاتی ہے.خدا فہمی تک نہیں لے جاتی.اس کی وجہ آگے چل کر بیان کروں گا. اس کتاب کی دوسری وجہ اس کے عام فہم اسلوب کی روانی ہے.جو قاری کو اپنے ساتھ بہا یے لے جاتی ہے. اس اسلوب کی لطافت ھمیں علم و دانش کی اونچی لھروں پر آسان سوار ی لیتی سرفنگ کراتی ہے.اور سائنسی ریسرچ کے گہر ے بھنور کو پابوس لہر بنا دیتی ہے. لیکن کہی ا صطلاحات اتنی بھاری بھرگم ہیں کہ کبھی کبھا ر ہا ضمے کی گولیوں کی ضرورت پڑجاتی ہے.
اس کتاب کی تیسری خصوصیت مصنف کی محنت اور عرق ریزی ہے.انٹرنیٹ کا بڑی چابکدستی سے استعمال ہوا ہے.اور معلومات کے اس وسیع سمندر میں سے صحیح قسم کے موتی نکالے گۓ ھیں. علم اور سائنس کے
صد یو ں پرانے خزانے سے بڑی زہانت سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے.پھر ہم سب کو اس میں شریک کرتے ہوے عرش کے سامنے فرش پر ایسے کھڑا کیا گیا ہے.کہ ہم عرشی سیڑھیا ں چڑھتے جائیں.ھمارے سامنے اللّه کے اسما ہے حسنہ کی 99 سیڑھیا ں ھیں.ہم ہر سیڑھی پر قیام کرتے ہیں.پھر طویل غور و فکر کے بعد اگلی سیڑھی پر نیا قدم رکھتے ہیں.اور اس طرح بالاخر وہی پہنچ جاتے ہیں جہاں مصنف ھمیں لے جانا چاہتا ہے.قاری اور لکھاری کا یہ ذہنی وصال ہی اس کتاب کی کامیابی ہے.اور یہ سفر اس لیے بھی بحیر و خوبی مکمل ہو جاتا ہے کہ اس میں کسی سیڑھی پر بھی ملاہیت کی پھسلن نہیں ہے.کہ قاری 99سیڑھیوں سے نیچے 72 فرقوں میں اٹک جائے.اس پھسلن کی بجا ہے ان سیڑھیوں پر متوازی جنگلے ھیں.ایک طرف کے جنگلے کے ساتھ ساتھ همیں سہارا دینے کے لیے جو اکابرین کھڑے ہیں ان میں
ا لہامی کتابوں کے مفسر- مذہبی فقہاہ – صوفیاہے اکرام- انا الحق کے داعی- روحانی مجزوب – یونان اور روم کے پرانے مسفی-اور ماڈرن یورپین صاحبان نظر شامل ھیں.دوسری طرف کے جنگلے کے ساتھ ساتھ جو لوگ همیں سہارا دیتے ھیں-ان میں نیوٹن-البرٹ اہین سٹا ہین- سٹیفن ہا کنز اور دوسرے عظیم سائنس دان شامل ہیں.
علم اور سائنس کی دو طرفہ spot لائٹس کی چکاچوند روشنی میں ہم اسما ہے حسنہ کے 99 سیڑھیا ں بڑی خوش اسلوبی سے چڑھ جاتے ہیں.لیکن اوپر پہنچ کر احساس ہوتا ہے کہ ابھی تو ہم خدا شناسی کی منزل تک پہنچے ہیں-خدا فهمی کی منزل ابھی دور ہے- کیونکہ اللّه کو سمجھنے کے دو مراحل میں سے یہ کتاب صرف پہلا مرحلہ طے کرتی ہے. یہ مرحلہ خدا کی صفات کا مرحلہ ہے- اور اسی ضمن میں یہ کتاب ان صفات کے ورد، درود، زکر اللّه عبادت اور تسبح و مناجات پر روشنی ڈالتی ہے- اور حقوق اللّه کو وا ضح کرتی ہے- لیکن اس سے آگے جو مرحلہ ہے اگر میں نے اس کی نشان دہی کر دی تو بات طویل ھو جائے گی- اس لیے ایک شعرکا سہارا لیتا ہوں جو براہ راست ہمیں اس مرحلے کی طرف لے جاتا ہے-

مندرڈھا د ے مسجد ڈھا دے
ڈ ھا دے جو کچھ ڈھندہ
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں
رب دلا ں وچ رھندا
میرے خیال میں بندے کے دل میں بسنے والے خدا کے جائز ے کے بغیر خدا فہمی ممکن ہی نہیں.اسکے لیے ٹوٹے ہوے دلوں میں جھانکنا ضروری ہے.یہ حقوق العبادکا مر حلہ ہے.اسے طے کرنے کے لیے عکسی مفتی کو اس کتاب کاضمیمہ لکھنا ہو گا.لیکن اس کے لیے انٹرنیٹ پر معلومات کے سمندر میں عوطے لگانے کی ضرورت نھی-وہ آج کے اسلام آباد میں ا یدھی ہوم کو دیکھ لیں- گز شتہ کل کے لاہور میں اور پورے برٹش انڈیا میں علامہ مشرقی کی خدمت خلق کے تاریحی کھنڈرات دیکھ لیں.تو وہ اللّه کو اپنے رو برو ہی پاہیں گے-اور کوئی بھی مرحلہ باقی نہ رہے گا- ھمیں ان کے ضمیمے کا انتظار رہے گا-

مسحود مفتی
اسلام آباد 20، فروری 2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *