دسمبر – در عدن

دسمبر
دھند کہر یخ بستہ ہواییں برف
برفلیے پہاڑ
برف پوش پہاڑوں کا دیومالائ حسن
ہر سو چٹکتی برفیلی چاندنی موسم کو محسوس کرنے کے بہانے سورج کی بادلوں سے چھپن چھپائ ایسے جان فزا لمحے کہ جنت کا گماں ہو
جب سبز درخت چاندنی اوڑھیں پتو ں کی سرسراہٹ چاروں جانب خوش گلو سی موسیقی کی طرح لگے
ایسے لگے کہ طلسم ہوشربا ہے
اور ہر سو نور کی پریاں اپنے پر پھیلاے
ہر ذی روح کو جینے کا مژدہ سناتی پھر رہی ہوں جیسے یخ بستہ ہواییں زندگی کا پیغام لائ ہوں
کہ کہی برف مین دبے تعلق
پہ جمی صدیوں پرانی برف کے پگھلاو کا وقت آن پہنچا ہے
کہ برف کے مقدر مین پگھلنا لکھا ہے

اب لاتعلقی کے جمود کو ٹوٹ جانا چاہیے اب جزبوں کی آنچ سے یخ بستہ وجود کو زندگی کی پر رونق حرارت ملنی چاہیے برف مین ڈھلے ساکت وجود کی سفید چاندنی پہ سرخ گلاب کھلنے چاہیے
برف سی زندگی کو سنہری سورج کی ردا ملنی چاہیے
پیاس کے صحرا کو دو بوند عشق ملنا چاہیے
جب لہو رنگ آنکھیں بجھنے کو ہوں پھر اچانک سے
کوی آکے نینوں کے دیپ جلا دے سارے منجمد خوابوں کو ایک جھلک دکھلا کے پھر سے جینے کا شعور دان کر دے کہ اگر خوابون کے دھاگے الجھ جایین ان الجھے ریشم کو سلجھانے کے لیے جزیرہ دل پہ جمی برف کو پگھلانے کے لیے نیم وادریچوں سے جھانکتی پر حدت چاندنی کو مسکراتے دل سے خوش آمدید کہیں سارے غم کسی برفیلے گلیشییر کے نیچے
دفن کر کے خوبصورت حسرتوں کے روپہلے چاند اپنی جھولیوں میں بھر لیںنا چاہیے کہ
جو ہے آج ہے ابھی اس پل مین ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *