شگن – رابعہ احسن

دن بھر کی تھکان کےبعد بھولےبسرے دن اور دور بیٹھے اپنے پیارے جب یاد آتے ہیں تو تھکاوٹوں میں دوڑتا ہوا دن اور گراں بار ہونے لگتا ہے ۔ الماری سے تصویروں کے البم نکال کے بیٹھ گئی۔۔ کتنے کھلتے ہوئےچہرے تھےمیرےاپنوں کے۔۔ امیدوں بھری نظریں۔۔ صفحہ در صفحہ کچھ چہرے تو تاریکیوں کی نظر ہوگئے۔۔ آہ۔۔زندگی سے بھری آنکھیں لئے ۔۔جو آج ہم میں نہیں۔ پر میں تو ان سب میں ویسے بھی نہیں ہوں۔۔ دور سے آتےہوئی ایک ٹیس نے مجھےچند لمحوں میں بیس پچیس سال آگے لاپھینکا۔۔’مجھےبڑھاپے سےبئت ڈرلگتا ہے جب زوروشور سےبھاگتے دوڑتےاس بدن میں سکت نہ رہے گی۔۔۔ جانے کتنی دیر تک بیٹھی روتی رہی ۔ کھڑکی سے جھانکتی ہوئی تنہا اداس شام دل دہلانے لگی توبستر سےاٹھ کر البم الماری میں رکھا ۔ چوڑیوں کا ڈبہ میرے ہاتھوں میں آگیا۔ اور چوڑیوں سے جڑی ساری یادیں کمرے میں ہیولے کیطرح پھیلنے لگیں اور میں کارپٹ پہ بیٹھی سارے جہان سے جان چھڑاکے جانے کدھر نکل گئی
“ابھی اٹھو ریڈ اوربلیک کلر کی نیل پالش لگاؤ۔ کل آتھ بجے میری کلاس ہے ۔ سب سے پہلے بس تمھارےہاتھ دیکھنے مجھے اجلے ہوئےشفاف”رات کے ساڑھےگیارہ بجے اس کا میسیج دیکھ کے غصہ بھی آیااور ہنسی بھی۔ “میری کل دس بجے کلاس ہے سو دو گھنٹوں میں تم آدھی یونیورسٹی کی شکلیں دیکھ چکے ہوگےاس لئے اتنی رات کوشدیدٹھنڈ میں اٹھ کر یہ واہیاد فرمائش پوری کرنے کا میرا کوئی موڈ نہیں” اس کی فرمائیشیں ایسی ہی ہوتی تھیں۔ جن دنوں پڑھائی عروج پہ ہوتی اسے میرے پاؤں کی پازیبیں یاد آجاتیں۔مجھے ایک لمحہ تو شدید جھنجھلاہٹ ہوتی لیکن جانتی تھی اس کی فرمائش ٹلنی مجھ سے بھی نہیں۔ “گھوٹکی جانا ہوگا ایٹمی پلانٹ جو ادھر ہے میڈم” آج اس کوسلور کلر کی جیولری جانے کدھر سے یادآگئی تھی “سارہ کی مہندی پہ تم چنری کا پیلا دوپٹہ اوڑھ کے آنا اور سلور جیولری۔ ایٹمی پلانٹ کی شکل دیکھنے سے پہلے تمھیں پیلے جوڑے میں دیکھنا چاہتا ہوں” میں خاموش تھی اور دل سلگتے ہوئے بین مچائے چپ چاپ دھڑکتا رہا۔ “مجھے پیلا رنگ پسند نہیں”میں نے غصے سے فون پٹخ دیا
اور پھر پیلے رنگ کی چنری اوڑھے چلتے ہوئے مجھے لگا ساری دنیا اس کے دل کی سرزمین ہے اور میں سرمست اس میں جھوم رہی ہوں وہ آکے آسمان کے سارے رنگ میری چنری میں بھردے گا “سرمد تو کل رات ہی کو نکل گیا تھا اس کے ہیڈ آفس سے کال آگئی تھی” تمھارے لئے یہ چوڑیاں چھوڑ گیا ہے ۔ سارہ نے باکس میرے ہاتھ میں دیا۔
“دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی! مجھے معلوم ہے تم میرے رنگ میں رنگ کے سجی سنوری میری راہ دیکھ رہی ہوگی۔ مجھے جانا پڑگیا ہے پر تمھارے شگن کی پیلی چوڑیاں چھوڑ کے جارہا ہوں ان کو پہن کے اپنی تصویربھیج دینا۔ مجھے محاز پر جانے سے پہلے فوجیوں کے تنے ہوئے سینے دیکھنے سے پہلے اک نرم گداز سی لڑکی کی آنکھوں میں انتظار دیکھنا ہے ، کسمسایا ہوا رنگ اور تمھارا شدید غصہ۔۔ اس کا عادی ہوں۔۔ خیر ۔۔ خوش رہنا میرے آنے تک”
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہواکے پروں پر پیررکھ کےاڑتی ہوئی خوبصورت لڑکی زمین پر رہ گئی ۔ پتہ نہیں کیوں اس لمحے پیلے رنگ سے اتنی عجیب سی انسیت ہوگئی ۔ اور نرم ، گداز لڑکی کی آنکھوں میں کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار ٹھہر گیا ۔ محاز ختم ہوگیاکتنے فوجی جوان اور افسر شہید ہوگئے ۔ کتنے سہاگ اجڑے اور بچے یتیم ہوگئے ۔اسکی کوئی خیر خبر نہ تھی وہ لاپتہ تھا۔جہاں تک زندگی کا امکان جا سکتا تھاوہاں تک پتہ کروایا گیامگر اس کا کوئی پتہ نہ مل سکا۔۔کتنے سال یونہی بیت گئے ۔میں نے اسکی شگن کی چوڑیوں کو دل سے لگا کے رکھا مگر میرے اپنوں پر میں بوجھ بنتی جارہی تھی ان کا خیال تھا کہ وہ کہیں شہید ہوچکا مگر اس کی ڈیڈ باڈی لا پتہ ہے اور مجھےوہ ساری عمراس کے انتظار میں نہیں بٹھا سکتے۔ 
اور دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی پھیکی رنگت پہ عروسی جوڑا سجائے ایک ایسے شخص کی زندگی میں چلی آئی جس کیلئے اس کا وجود محض گھر کے فرنیچر میں اضافے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ ایک خالی وجود کو پتھر کے گھر سے سر ٹکرانے لندن بھیج دیا گیا۔ خالی پن جب برداشت سےباہر ہوگیا تو پتھر نے اس کے وجود کے ریزے ریزے کر دئیے ۔ اتنی غیر ضروری ہوں میں؟؟؟ 
کالے رنگ نے میرے سر کا احاطہ کررکھا تھا ۔ میں نے پتھروں کے آگے سر کردیا اور وجود کو باہر نکال لیا۔ اور ساری دنیا سے کٹ گئی۔ گھر والے فون بھی کرتے تو نہیں اٹھاتی اب۔۔ 
کیا کہوں کیاہوا۔۔۔۔میرے رنگوں کے ساتھ۔ سہاگن وہی جو پیا من بھائے 
دس سالوں سے اکیلے پن کےاس بن باس کو کاٹ رہی ہوں ۔ پتہ نہیں کیوں دل کو یقین ہےوہ یہیں کہیں ہے میرے آس پاس ۔۔۔اک آس دل میں ہوکتی ہے کہ کوئی ایکدم سے آئے گا اور ضد کر کے کہہ دے گا” آج لال جوڑا پہننا اس سے پہلے تم اپنی اذیتوں میں گھٹ کے مرجاؤ ۔۔۔۔۔میں تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *