شگن – رفعت شیخ


یہ میرے ہاتھ کی لکیریں کھل رہی تھیں یا کہ پھر 
شگن کی رات خوشبو یے حنا ہی اور ہو گئ 
شگن کے لفظ میں گلاب کا رنگ ہے, مہندی کی خوشبو, ابٹن کی زردی, گہنوں کی چھنک, چندن کی مہک, 
ارمانو ں کی دھوپ اور سپنوں کی چاندنی…. 
اور شگن کا حفاظتی حصار,,,, ایک ماں کی زات 
کتنی بھولی ہوتی ہے نا ماں ……
شگن کے ہر دھاگے میں خواب بنتی ہے. 
اور ان کی یوں نگرانی کرتی ہے 
جیسے اپنی نازوں کی پالی کی سب خوشیا ں اس کے حلقہ اختیار میں آ تی ہیں 
نہیں جانتی کہ گرسنہ نگاہو ں کے غول سے جس نسبتاً “کم ضرر بھیڑیئے “کا انتخاب اس نے کیا ہے 
اب خوشیو ں کی چابی بظاہر اس کے ہاتھ ہے … دینے والا وہی ہے جو… ہر سانس کا مالک ہے… رنگریز ہے 
ساجن ہے ..قادر مطلق ہے 
کبھی دیکھی ہیں ؟کسی ایسی ماں کی آ نکھیں. 
جس نے سارے شگن نبھایے….. لیکن چنری پھیکی کی پھیکی ہی رہی سوا ل ہی سوال …..دھوپ کڑی تھی….. یا پھر رنگ ہی کچے تھے ؟
میں نے تو شگن نبھایے تھے ؟
شگن کب …بد شگونی میں بدل جائیں…. ماییں کہاں جانتی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *