شگن – نواز احمد

شگن کا مطلب سلامی دینا ہوتا ہے
To pay homage 
Salute in recognition 
اس کو شگون سے منسلک نہ کیا جائے جس کا مطلب ہوتا ہے متوقع واقعہ
جو شادیوں میں شگن ہوتا ہے وہ پہلے گیارہ روپے تھا پھر اکاون ہو گیا پھر ایک سو ایک ہو گیا اوپر والا ایک شہ بالے کا ہوتا تھا اور دوسرا نظریہ یہ تھا کہ جو مروجہ رقم ہے ہم ایک اس سے بھی زیادہ دے رہے ہیں،آجکل ایک ہزار ہے،قریبی رشتہ دار پانچ دس ہزار، پہلی شادی اگر لڑکی کی ہوتی تو فرنیچر نانکہ دیتا تھا یعنی نانا اور ماموں مل کر،اگر لڑکے کی تو لڑکے کی ساری چیزیں،سوٹ بوٹ گھڑی وغیرہ،اب کون سا نانکہ اور کون سا دادکا،نفسا نفسی کا عالم ہے،
دولہا دلہن کے شگن ڈالے جاتے ہیں،مایوں بٹھانا جس میں منہ بھی نہیں دھویا جاتا،گھر سے باہر نہیں جانے دیا جاتا،مہندی ابٹن سہرا منہ میٹھا کرانا سر پر تیل لگانا ،اب اس میں سر پر انڈے توڑنے اور کپڑے پھاڑنے کا اضافہ ہو گیا ہے،مطلب یہ ہوتا تھا کہ دلہا دلہن شادی سے پہلے جتنے میلے ہوں گے اتنا ہی نظر بد سے محفوظ رہیں گے،اس کا فائدہ یہ تھا کہ کم خوبصورت بھی شادی کے دن نہا دھو کر نکھر کے خوبصورت نکل آتے تھے،ان تمام رسموں سے بیوہ اور مطعلقہ کو دور رکھا جاتا تھا،پہلے جوڑے آسمانوں پر بنتے تھے اب شادی دفتروں میں بنتے ہیں،رشتے کرانے والے خود ہی حساب لگا لیتے ہیں کہ فلاں لڑکی فلاں لڑکے کے ساتھ ٹھیک رہے گی،پہلے یہ رسمیں گھر میں ہوتی تھیں اب بیوٹی پارلر والے آٹھ دن پہلے سے ہی پہلے بیس بناتے ہیں پھر ٹوئے ٹبے بھرتے ہیں اور جلد کے حساب سے شادی کے دن تک نوکیا 3310 کو ایپل آئی فون بنا دیتے ہیں،اب ان رسموں کے پیچھے جو دلہا دلہن کے لئیے نیک تمنائیں تھیں وہ اخراجات کی شکل اختیار کر گئی ہیں،جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا،سستے پارلر سے دلہا تیار ہو تو میرے جیسا بنتا ہے اور مہنگے پارلر سے تیار ہو تو سلمان محمد جیسا،باقی عثمان جیسے دلہا تو جگہ جگہ تیار ہوتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *