ممتاز مفتی کے بارےمیں رشید نثار کی تحریر

  برصغیر پاک و ہند میں ممتاز مفتی کامیو، ساتر، جوئیس اور کافکا کی ٹکر کا آدمی تھا۔ اس کے دونوں ناول ، علی پور کا ایلی، اور الکھ نگری کے مطالعے کے لیئے ایک عمر کی ضرورت ھے۔ پاکستان میں ادب کو سیاست کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ھے۔ ابھی ادب کے دور کی برآمدگی کا پتہ نہیں چل رھا۔ لہذا کسی گرانڈیل ناول کو پڑھنے کے لئے پوری عمر کا تقاضا ہمیشہ تشنہ تکمیل رھے گا۔ میں یہ کہتے ھوئے تسکین محسوس کر رھا ھوں کہ ہمارا یہ عہد ناول کا ھے افسانے کانہیں ۔۔۔۔ ممتاز مفتی ناول کا آدمی تھا۔ ممتاز مفتی اپنا آغاز خود تھا۔ وہ خود ہی اپنا آغاز اپنے ساتھ لےگیا اور اس طرح ایک عہد ہمارے دیکھتے دیکھتے منہدم ھو گیا۔ ممتاز مفتی اپنی ذات کی جھگی میں بیٹھ کر انسان کی سچی تصویر بناتا تھا۔ اس کے سیکچ تیار کرتا تھا ۔ زندگی کے ٹھوس تجربات کو قبول کرتا تھا۔ کسی بات کو چھپا کر نہیں رکھتا تھا۔ ممتاز مفتی کے لئے سب سے اہم حکمران طبقہ تھا جس میں قدرت الله شہاب اور الطاف گوہر نمایاں تھے۔ ان دو حضرات کے ساتھ اس کی دوستی اپنے اصولوں کے تحت تھی۔ ایک قدرت الله شہاب کی طرز زندگی کی بنا پر، دوسرے پروفیسر اشفاق اور منظور قادر کی ( سیاسی فقہ ) کی بنا پر۔ کہ اس زمانے میں بنیادی جمہوریت کا پھندا تیار کیا جا رھا تھا اور ( فرینڈز ناٹ ماسٹر) جیسی کتاب لکھی جا رہی تھی۔ مجھے معلوم نہیں ممتاز مفتی نے اس کتاب کی تحریر میں کیا کردار ادا کیا تھا مگر اتنا پتہ ھے کہ قدرت الله شہاب نے ممتاز مفتی کو ایوب خان کی (انوکھی گاڑی) میں بٹھا دیا تھا۔ یہ گاڑی جہاں جاتی ویاں ممتاز مفتی کی آنکھیں کیمرہ بن کر گھومتیں اور ایک رپورتاژ ڈرامائی عناصر کے ساتھ مرتب کر لیتیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ کے لیے ایوب خان سے بہتر کوئی آدمی نہ تھا۔ اس بہتر آدمی کو بہتر دانشور مل گئے تھے۔ مگر ممتاز مفتی بہتر دانشوروں میں میں بہ ہمہ وجوہ شامل نہیں تھا کہ وہ خطرناک حد تک ڈرامہ نگار تھا۔اس نے براہ راست سرکاری ادیب بننے سےگریز کیا اور ایسے ادب کا لکھاری بن گیا جو انسانی فطرت کی تفتیش میں سچا اور کھرا کردار ادا کر سکتا ھے۔ اسی سوتے جاگتے عہد میں ممتاز مفتی نے سرکاری درباری اور جمہوری ادب نہیں لکھا۔ اس نے حکمرانوں کی عقل کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ وہ تو منہ پھٹ ادیب اور خود اپنی دانش کا اسیر تھا۔ اس نےکسی کا لحاظ کیے بغیر منہ پر بات کر کے عزت کمائی۔ اس کی تلخی اس کے طنز کو اس کی بزرگانہ شرارت آمیز مسکرھٹ چھپا لیتی تھی۔ . اقتباس۔ خلیق۔ (مضمون۔ ممتاز مفتی۔ از رشید نثار۔ اوراق۔ 1996)  کیا آج کا اردو ادب روبہ زوال ھے ؟؟ کیا اردو ادب روبہ زوال ھے؟ سب جانتے ھیں یہ سوال نیا نہیں ھے۔ جب بھی ادب کا ایک دور اختتام پذیر ھوتا ھے اور دوسرا دور نئے اسلوب اور امیجری سے لیس ھو کر وقت کے غرفے سے جھانکتا ھے۔ یہ سوال ضرور سر اٹھاتاھے۔ دراصل اس سوال میں ایک گہرا احساس زیاں مضمر ھے، سوال کرنے والا محسوس کرتا ھے کہ ایک جہان ختم ھو گیا مگر دوسرا جہان ابھی طلوع نہیں ھوا۔ 1947 کے بعد جب ایسی ہی صورت حال پیدا ھوئی تو محمد حسن عسکری نے سوال اٹھایا کہ کیا اردو ادب پر جمود طاری ھو گیا ؟ جب کہ مولانا صلاح الدین احمد نے یہ بات زیادہ لطیف پیرائے میں کہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بے شک آج کا اردو افسانے اندھیری رات میں جگنووں کی طرح فروزاں ہیں۔ مگر اردو افسانے کے سنہری دور کی راتیں، چاندنی راتیں ہوا کرتی ھیں اور چاندنی راتوں میں جگنو نظر نہیں آتے۔ حقیقت یہ ھے کہ محمد حسن عسکری کا لگایا ھوا جمعود کا نعرہ تبدیلی کا فوری ادراک نہ کرنے کے باعث تھا۔ چنانچہ جیسے جیسے وقت گزرا، ادب کے نئے دور نے اپنے پر پُرزے نکالے تو لوگوں کو محسوس ھوا کہ ادب پر ایک نئی بہار آ گئی ھے۔ مثلاْ اردو افسانہ اپنی ڈکشن مواد اور دو طرفہ بہاو کے باعث بالکل ایک نئے انداز میں جلوہ گر ھوا۔ اس میں تاریخ تہذیب اور اساطیر کا شعور پیدا ھوا اور کہانی اس کے کردار نئے علامتی مفاھیم کا انعکاس کرنے لگے۔ نئی غزل نے 1947 کے بعد محدود سیاسی موضوعات سے اوپر اٹھ کر کائنات اور زندگی کو نہایت وسیع تناظر میں دیکھنے کا آغاز کیا۔ اردو نظم نے غزل کی ڈکشن سے خود کو رھائی دلانے میں کامیابی حاصل کی بالخصوص طویل نظم نےاس سلسلے میں ایک اہم کارنامہ انجام دیا۔ اور تنقید نے تاثراتی رویے سے دست کش ھو کر ایک محدود طبقاتی صورت حال سے اوپر اٹھ کر فن پارے میں موجود بے پناہ پرتوں کا تجزیہ کیا۔ سو جب ہم گذشتہ حہت سے برسوں کا تجزیہ کرتے ھیں تو اردو ادب کو معیار اور مقدار دونوں اعتبارسے اعلی و ارفع پاتے ھیں۔ محمد حسن عسکری کا اٹھایا ھوا سوال کہ کیا ادب پرجمعود طاری ھو گیا ھے ایک گہرے اعصابی خوف سے مملو نظر آتا ھے۔ انسان کی سرشت میں یہ بات موجود ھے کہ وہ ہر نئی صورت حال میں خوف زدہ ھوتا ھے کیونکہ ہر نیا زمانہ اْس کے سابقہ جہان کو منہدم کر دیتا ھے اور وہ نہیں چاھتا کہ ایسا ھو۔ بیسویں صدی اور اب ( اکیسویں صدی کے پھیلتے علوم اور ٹکنالوجی) نے معلوم کی سرحدوں کو عبور کر کے اور کائنات کے تناظر کو کئی گنا وسیع کر کے ایک ایسے گہرے اور کشادہ بحر بے آسا کو جنم دیا ھے جسے گرفت میں لینے میں ادب کے سب قدیم پیمانے تڑخنے لگے ھیں۔ مگر جب یہ سوال کہ تڑخنے کا یہ عمل بیج کے چھلکے کے ٹوٹنے سےمشابہ ھے جس کے بعد شگفتن ذات کا ایک نیا دور شروع ھو گا تو محسوس ہوتا ھے کہ ادب روبہ زوال نہیں ھو رھا بلکہ حد بندیوں کو توڑ کر احساس و ادراک کے ایک نئے عالم کو چھو رھاچھے۔ (ڈاکٹر وزیر آغا۔ اوراق 1986۔ اقتباس خلیق سیکرٹری حلقہ

Halqa Arbab e Zauq Islamabad:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *