گاوں – ایگل ایمرجڈ

میں نے کہا تھا، کتنی بار کہا تھا کہ نہیں جانا آپکے استاد جی ناراض ہوں گے کچے آم خراب کرنے سے پھر کیوں لے کے گئے مجھے بتاٶ ؟ دانیہ نے استاد جی کے پیچھے چلتے ہوئے زارو قطار روتے ہوئے کچی سڑک پر تیسری بار بھائی کو زور کا دھکا دیا جو گرتے گرتے بچا اور پھر پہلے جیسی آہستہ آواز میں کہ استاد جی نہ سن لیں کزن سے کہنے لگی، آپ دونوں نے کہا تھا کہ استاد جی کی زمینوں پہ آم کے درخت ہیں وہ کچھ نہیں کہیں گے اتنی بڑی سزا دی انہوں نے اور ناک کے اوپر ہاتھ رکھ کے پھر رونے لگی، اب زرا کبھی کہنا مجھے کہ آٶ ہمارے ساتھ کھیلنے فیر میں دساں گی تُسی دوناں نُوں ۔ کزن جو خود ناک کی رگڑوں پہ ہاتھ رکھے درد برداشت کر رھا تھا غصے سے بولا رونا سیاپا ایسے ڈالا ہوا ہے جیسے بس ایک تم کو ہی سزا ملی ہے ہمیں نہیں ملی ہمیں نہیں درد ہورھا؟
اور تم رونی صورت کو اب لے کے بھی کون جائے گا ویسے بھی ہمارے دوست کہتے ہیں اکثر کہ یار تُسی اینوں نہ لیایا کرو نال بوت لڑاکا ہے یہ سارا کھیل خراب کر دیتی ہمارا اور مارتی بھی ہے لڑکوں کو! (ڈر بس اسے گاٶں کے ایک لڑکے سے لگتا تھا کاشی نام تھا اس کا کیونکہ اسے بہت غصہ آیا کرتا تھا دانیہ پہ ایک بار کُٹ لگا بھی چکا تھا اسکی بدلے میں)

عصر کا ٹائم تھا دانیہ کے دو کزن سامنے
استاد جی کے کھیتوں میں لگے آم کے درختوں سے کیریاں توڑنے نکلے تو ساتھ اسے بھی لے لیا بہلا کر کہ آٶ تھوڑی دور تے ہے قار (گھر) سے مزہ آئے گا نمک لگا کے آم کی کیریاں کھائیں گے ۔ بہت پوچھا اس نے کہ استاد جی سے پوچھ لیا ہے؟ آپکے استاد جی کا گھر بھی سامنے ہے وہ دیکھ لیں گے پھر سزا دیں گے مگر بھائی کزن کو تو سو فیصد یقین تھا کہ استاد جی ہیں ہمارے کچھ نہیں کہیں گے۔
وہی ہوا کہ بھائی ، کزن اور دانیہ جب سامنے کھیتوں میں کیریاں توڑنے میں مصروف تھے ، استاد جی گھر کے دروازے کے سامنے سے حملہ ہوتے ہوئے دیکھ چکے تھے اور پھر کھیتوں میں پہنچ چکے تھے، تینوں کو دبوچ چکے تھے، کچے آم تھوک کے حساب سے توڑنے کے جرم میں۔
اور دانیہ کے لاکھ صفائیاں دینے پہ استاد جی تینوں کو اسی کھیت کی پکی مٹی سے بنی وَٹ (کھیتوں میں گزرنے کے لیے جو رستہ بنا ہوتا ہے) پہ لے گئے تھے اور حکم دیا تھا کہ تینوں سجدے میں پڑ کے دس دس لکیریں نکالو ناک سے ۔
جب تینوں سیدھے ہوئے تھے وہ لکیریں ناک کے اوپر ثبت ہوچکی تھیں رگڑوں کی صورت اور دانیہ کی آنکھیں آنسوٶں اور غصے کی شِدت سے لال و لال ہوئی پڑی تھیں جیسے بس آج بھائی اور کزن انکے غضب سے بھسم ہی ہوجائیں گے۔
اماں جن کے حوالے استاد جی تینوں کو کر کے اور سارا احوال بتا کے گئے تھے ( غصہ تو اماں کو بہت آیا تھا تینوں پہ مگر سزا پہلے ہی کافی مل چکی تھی تو اماں نے اپنی چھترول پینڈنگ رکھ کے فلحال ناک کی مرہم پٹی پہ ہی اکتفا کرنا مناسب سمجھا تھا) کے پاس بیٹھے ہوئے پکا ارادہ کیا تھا کہ اب کبھی بھائیوں اور کزن ساتھ نہیں جائے گی کھیلنے باہر، نہ بات کرے گی مگر دوسرے ہی دن وہ زخمی ناک کے ساتھ گُلی ڈنڈا کھیل رہی تھی گھر کے سامنے گلی میں بھائیوں اور کزنز ساتھ کیونکہ اسے کشش جو بس کرکٹ، بیڈمنٹن، گلی ڈنڈا، چور سپاہی، درختوں پر اچھلنے کُودنے ، بنٹے ، پِٹھُو گرم ، ریڈی گو وغیرہ کھیلنے میں محسوس ہوتی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *