گاوں – عبداللہ

Songs from the Village

شرم نہیں آندی ظالم نوں
ودا دینداں اے غلط صفائیاں
وت وت تقدیر دا ناں کر کے
اس جھوٹیاں قسماں کھائیاں
میڈا خون موجود ہے دامن تے
کیہا دیسن غیر گواہیئاں
جے جُرمی نہیں او آ ڈھے دا
کیوں اکھیاں یار چُرائیاں۔۔۔۔۔

شرم نہیں آتی ظالم ماہی کو ، دیکھو کیسی کیسی اپنی غلط صفائیاں دیتا پھر رہا ہے جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہیں، بار بار تقدیر کو ہی دوشی ٹھہراتا ہے اور جھوٹی قسمیں کھاتا پھرتا ہے کہ تقدیر میں یہی لکھا تھا اس میں میری کوئی غلطی نہیں ۔۔کوئی اور کیا میرے حق میں گواہی دے گا جبکہ میرے اپنے دامن پر ہی تیرے ہجر کاخون موجود ہے جو کہ میرے حق میں بڑی گواہی ہے۔۔اگر میرے ماہی تو نے کوئی جرم ہی نہیں کیا تو پھر کیوں مجھ سے نظریں چرائے پھرتا ہے۔۔۔اگر مجھے چھوڑنے میں تو دوشی ہی نہیں تو پھر کیوں مجھ سے نظریں چراتا ہے۔۔۔۔

ترٹے بخت دا سنگ تے سنگ ترٹ گئے
تنہائی مجبور دے سنگ رہ گئی
غربت دی پتلی وینڑی وچ
مضبوط ارمان دی ونگ رہ گئی

میرے نصیب اور بخت نے جیسے ہی میرا ساتھ چھوڑا میرے سارے سنگتی سارے دوست ہی ساتھ چھوڑ گئے۔ جیسے ہی بخت کا سورج غروب ہوا سارے سنگی ساتھ چھوڑ گئے اور اب تنہائی ہی میرے ساتھ ہے اب یہی میرا سنگ ہے۔۔۔وینڑی کلائی کو کہتے ہیں اور ونگ کہتے ہیں چوڑی کو۔۔ غربت کی کمزور وینڑی میں بس ایک مظبوط تیرے ارمان کی ونگ باقی ہے۔۔۔۔

کدی وطن تے آوے ہا
تے بھار جدائیاں دے میرے سر تو لہویں ہا

کبھی اپنے وطن واپس آؤ میرے ساجن۔۔۔اور جدائیوں کے یہ بھار میرے سر سے آ کر اتار دو۔۔۔۔
دیہاتی عورتیں جب جانوروں کا شٹالہ (کاشت شدہ چارہ) کاٹنے جاتیں ہیں پھر اسکی ایک گٹھڑی بناتی ہیں چادر کے چاروں سروں میں وہ شٹالہ باندھتی ہیں یا جب لکڑیاں کاٹتی ہیں اسکو بھی مظبوط رسی سے باندھ کر ایک گٹھڑی بناتی ہیں۔ لکڑیوں کی گٹھڑی سر پر رکھنے سے پہلے ایک کپڑے کو فولڈ کر کے سر پر رکھتی ہیں۔۔ ہاں اگر گھڑا رکھنا ہو تو چھوٹے سے کپڑے کو سرکل میں فولڈ کیا جاتا ہے اسے ‘اونو’ کہتے ہیں۔۔ ان تمام چیزوں کا شمار سر پر رکھے ‘بھار’ میں ہوتا ہے اس بھار کو سر پر اکیلے رکھنا ممکن نہیں ہوتا تو پاس سے گزرتے کسی مرد یا عورت کو کہا جاتا ہے یہ ذرا میرے سر پر رکھوا دینا۔۔۔ ہم اکثر جب کھیلنے جھیل سے منسلک گراؤنڈ میں جاتے تو کبھی کبھار کھیتوں میں چارا شٹالہ کاٹتی خواتین آواز دے کر بلاتیں کہ بیٹا یہ بھار ذرا سر پر رکھوانا۔۔۔۔پھر یہ بھار اتارتے وقت بھی گھر میں موجود کسی فرد کو کہا جاتا کہ یہ بھار اتروانا ذرا۔۔۔۔۔

گاؤں کے رومانس کو وہاں کے مقامی شاعر جو مقامی زباں میں، جس احسن طریقے سے اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔۔۔ گاؤں کے رومانس کو سمجھنے سے پہلے وہاں کی زباں اور شاعری سے شناسائی ضروری ہے۔۔
لوک گیتوں کے لکھاری اپنے گیتوں میں نہ صرف ہجر و فراق بیان کرتے ہیں بلکہ اپنے کلچر سے بھی آگہی فراہم کرتے ہیں ۔ آڈھا خان، مجبور، بے وس، حیات، فاروق، خورشید اور ان کے علاوہ بھی۔۔۔یہ وہ پنجابی زباں کے شعراء ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کی بدولت کئی نامور گلوکاروں بشمول عطااللہ خان عیسی خیلوی کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچایا۔۔۔۔ان شاعروں میں سے زیادہ تر کا تعلق میانوالی یا اسی کے نواحی علاقہ جات سے ہے۔۔
جانتا ہوں ترجمہ میں وہ چاشنی نہیں ہوتی جو حُسن اصل زبان کی شاعری میں ہوتا ہے۔۔ لیکن اس چاشنی کی دو بوند بھی اگر سمجھا پایا تو کافی ہے۔۔

میڈے وقت زوال تے مار کے تاڑی
پئی ظالم دنیا ہسدی
پھراں وانگ سودائیاں گل ہار غماں دے
جند رل گئی میں بے کس دی
ہر ویلے اکھیان ڈکھیاں چوں
ودی خون دی بارش وسدی
تیڈے در تے رب چا موت دیندا
مک آس ونجے ہا “بے وس” دی۔۔۔

میرے وقت زوال پر ظالم دنیا تالیاں بجاتی ہے اور ہنستی ہے ۔۔ میں بھی گلے میں غموں کے ہار پہنے سودائیوں کی طرح پھرتا رہتا ہوں اور میری بے کس کی زندہ گانی رل گئی تباہ ہو گئی۔۔۔ ہر وقت میری دکھ بھری آنکھوں سے خون کی بارش برستی رہتی ہے۔۔ کاش کہ تیرے در پہ رب موت ہی دے دے تاکہ میری آخری آس بھی ختم ہو جائے۔۔۔

چن نت جھڑکینائے بے کس نوں
میرے بھانڑیں وقت دا شاہ اے
مظلوم نے نال ہن روز وعدے
جیویں غیراں دی منشاء اے
دکھ سہہ ویندائے تے ڈھول پچھے
دس اے کوئی پیار دا راہ اے
میدان وفا نہیں چھٹ سکدی
مُک ویسن آخری ساہ اے۔۔۔

میدے سجن مجھ بےکس کو روز ہی جھڑک دیتے ہو میرے لیے تو اب وقت کے شاہ سردار بن گئے ہو۔۔مجھ مظلوم کے ساتھ روز جھوٹے وعدے کرتے ہو جیسے غیر چاہتے ہیں۔۔۔میں تو تمھاری خاطر ہی یہ دُکھ سہتی ہوں لیکن ذرا بتاؤ خود انصاف سے یہ کوئی پیار کی راہ تو نہیں نا۔۔یہ کوئی طریقہ تو نہیں نا۔۔لیکن میں بھی تیرے ساتھ وفا کا میدان نہیں چھوڑ سکتی چاہے میری آخری سانس ہی کیوں نہ نکل جائے۔۔۔

ان شعراء میں سے اکثر اس جہان فانی سے کُوچ کر گئے ہیں۔ لیکن ان کی شاعری زندہ ہے جیسے سانس لیتی ہو اور روز گاؤں کی اجلی صبح میں انگڑائی لیتی ہو۔۔اپنے گاؤں اپنے کلچر کی ترجمان ہے یہ شاعری۔۔میرا یقین ہے کہ ان شعراء نے جو میعار رکھ دیا ہے پنجابی شاعری میں، نئے آنے والے شعراء کے لیے اس کو برقرار رکھنا کافی مشکل ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *