گاوں – فاریہ حمید چوہدری

 


گاوں میں میرا گھر تھا یا شاید پورا گاوں ہی میرا گھر تھا__آدھا کچا اور آدھا پکا۔۔۔
بیٹھک کی دہلیز حویلی میں کھلتی تھی اور اونچی دہلیز سے پرے صبح سویرے بھاگتی دوڑتی “وچھیریوں”کو دیکھنا میرا مشغلہ تھا یا پھر پچھلے “پسار” کے اندر مونجی کے ڈھیر میں چھپی چبھن میری سہیلی تھی۔۔
صحن کے ایک کونے میں مٹی کے چولہے کے ارد گرد لپائی اور ستھرائی کے نقش عبارت تھےاور تمام دن لکڑیوں اور اپلوں کا دھواں ۔۔۔۔ فضا میں مرغولے لیتا کبھی نہ ختم ہونے والی اداسی کی طرح
گاوں میں لوگ ننگے پاوں تو پھر لیتے تھے مگر ننگے سر نہیں پھرتے تھے۔۔جذبے، بھی دودھ،دہی اور لسی کی چاٹی پر تیرتےہوئے مکھن کے پیڑے کی طرح اجلے،رویے کھرے__کوئی کڑوا ہے تو نیم چڑھا،میٹھا ہے تو بیل پر پہلے پہل اگنے والے خربوزے کی طرح میٹھا__،چھاوں ہے تو برگد،توجہ اور مہربانی کی حرارت ،کھڈی پر ہاتھ سے بنے کھیس جیسی،رشتے “نواری پلنگ”جیسے مضبوط
!!!محبت ،کالے کیکر کے خوشبو والے میٹھے پھول جیسی
تین برس کی عمر میں گاوں سے ہجرت کی،لمبی ہجرت۔۔۔۔دل کا ایک کونا اب بھی پورا گاوں ہے۔۔”برسیم کے سفید اور جامنی پھول ہاتھوں میں پکڑے ۔۔پہلی عمر کی لڑکی، پرانی اور ادھ گری حویلی کے کالے کیکر پر بیٹھی پینگ جھولتی رہتی ہےاور پیلے پھولوں کی بارش ہوتی رہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *