گاوں – محمد بلال

گو ہوا میں خنکی پھیل چکی تھی اور خنک ہوا کی زد پہ ناچتے سرسوں کے بوٹے بھلے لگ رہے تھے مگر امتداد زمانہ نے وہ رعنائیاں چھین لی تھیں جو کبھی یاں کی رونق ہوا کرتی تھیں. . . کیا کیا عجوبہ ء روزگار ہستیاں گاؤں کو رونق بخش کر عدم کی راہ پہ گامزن ہو چکی تھیں
دادا جی اب کی بار پھر گاؤں سے واپس آتے ہی مجھ سے گویا ہوئے

دادا جی ہر چند ماہ بعد گاؤں ضرور جاتے ہیں بقول ان کے انہیں گاؤں سے محبت ہے

اس چکا چوند سے بےزار ہوں بلال.
مجھے دادا جی کی باتوں کی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی میں نے کہا مجھے کوئی آسان سی بات یا کہانی سنائیے
دادا جی پھر مسکرائے اور بولے کہ گاؤں میں ہمیں جب ہم بچے تھے تو الہ دین کا چراغ غریب لکڑ ہارا نیک دل بادشاہ اور اتفاق میں برکت جیسی کہانیاں سننے کو ملتی تھیں اب جبکہ یہاں سائنس کا دور ہے شعور اور دانش کی گرہیں کھولی جا رہی ہیں تو یہ کہانیاں اس دور کے مزاج سے میل نہیں کھاتیں
ایسی دانش جو پتھر سے شروع ہو کے دیوانے کے سر پہ ٹکرا کے ختم ہوجائے اور ایسا شعور جو اپنے لمحے سنوارنے کی خاطر دوسروں کی صدیاں اجاڑ دے اس سے مجھے بہت خوف آتا ہے مجھے تو گاؤں والوں کی کم فہمی و کج روی ہی ان سے بہتر دکھائی دیتی ہے
دادا جی روانی میں بولے جارہے تھے
یہ شہری لوگ نزاع کے گرداب میں پھنس چکے ہیں وقت کے ٹکسال نے سب کو دکھوں کے سکوں(coins) میں ڈھال دیا ہے اور المیہ تو یہ ہے کہ گاؤں بھی اس تبدیلی کی زد سے محفوظ نہیں رہے
وہ گاؤں جو میں نے بچپن سے جواں ہوتے دیکھا کہ جب ماں یہ تسلی کرنے آتی کہ میں رضائی میں لپٹا سو رہا ہوں یا رضائی کے بغیر.اور دیا جلاتی
دیا جلانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ روشنی اور تاریکی کو بیک وقت دیکھا جا سکتا ہے برقی قمقمے رات اور اندھیرے کو دیکھ ہی نہیں پاتے
دادا جی کی آنکھیں آنسووں سے تر ہو چکی تھیں میں نے جھجکتے ہوئے دادا جی سے پوچھا.دادا جی یہ آنسو کیوں؟اور مجھے آپ کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی اور کبھی کبھی لگتا ہے کہ شاید سمجھ آگئی ہے
دادا جی کے آنسووں کی لڑی چہرے کی جھریوں میں گم ہو گئی مجھے سینے سے لگایا پیار کیا اور بولے
یہی محبت ہے مجھے اپنے گاؤں سے جو لفظوں کے بغیر ہے اور شکوہ ہے اس تغیر سے جو لفظوں کا روپ دھار نہ سکے اور آنکھوں سے بہہ گئے

اور ہاں بلال
محبت کی کوئی بھی داستاں آنسووں کے بغیر مکمل نہیں
خواہ
وہ میری محبت میرے
“گاؤں”
سے ہی کیوں نہ ہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *