Result of Letter Competition

1

“میرا خط اس سر زمین کے نام
جس کی خوشبو میری سانسوں میں بسی ہے ۔۔۔۔۔”
اے میرے وجود کی مٹی تجھے اس دیار وطن کا سلام ۔۔۔۔۔
وہ ہجرت زدہ جس کی تقدیر کا پہلا سکہ تیری لوح سنہری پر اچھالا گیا ۔۔۔۔۔
جس کی پہلی قلقاری تیری نم فضاؤں میں گونجنے والی اذن الہی سے پھوٹی ۔۔۔۔۔
جس نے پاؤں پاؤں تیرے وسیع ، واشگاف سینے پر ماں کی انگلی تھامے چلنا سیکھا ۔۔۔۔۔
جس نے ممتا کی طرح تیری سلونی ، پرکیف اور شہد آگہیں گود کا رس چکھا _ مگر وقت کا پہیہ گھوما کہ اس کی فطرت ہی یہی ہے ۔۔۔۔۔
میرا پہلا عشق ۔۔۔۔۔!!! میرا جنوں
تیری گلیوں ، تیری سرمگیں ہواؤں میں سانس لینا تھا ۔۔۔ مگر آہ ۔۔۔۔۔ !!!
حالات کی بھٹی میں تپتے ، قطرہ قطرہ زمہ داریوں کی آنچ سے پگھلتے انسان کو کب خبر تھی کہ اسے تیرے ہجرو فراق کی کڑی طویل قید سہنی پڑ جائے گی ۔۔۔۔۔
تیرے ہجرت زدہ کو خوابوں کی دہلیز پر اترنے سے پہلے ہی دور دیس کی مسافتوں کا شکار ہونا پڑے گا ۔۔۔۔۔
وہ محروم وفا جس کے ریگزار دل پر تیری چاہت کا آکٹوپس اپنے پنجے گاڑھے بیٹھا تھا انجان ہی رہا کہ اسے من میں تیری فرقت کے لمحے شمار کرنے میں تل تل مرنا ہو گا ۔۔۔ یا اسے تیرے کانوں میں رس گھولتی کوئلوں کی کوکو سننے کے لیے لحظہ لحظہ تڑپنا ہو گا ۔۔۔۔۔
یہ در بدر اپنوں کا سکون خریدتے خریدتے کب تیری آغوش سے جفا کر بیٹھا جان ہی نہ پایا ۔۔۔۔۔
میری دھرتی ۔۔۔۔۔!!!
تیری ندیوں کی لہریں میرے قلب و نظر میں جوار بھاٹے کی مانند بپھرتی آس کی مانند موجزن رہتی ہیں ۔۔۔۔۔
کاش کہ میں تجھے بتا پاؤں کہ تیرے قدموں میں جلد آ لپٹنے کی خواہش مجھ تشنہ کام کو کیسے اس دیار غیر کے صحراؤں میں شاد رکھتی ہے ۔۔۔۔۔
ان جلتے بلتے بگولوں میں تیری آبشاریں ، تیرے ماتھے کی جھومر میرے تخیل کو نخلستان کا سا سرور دیتی ہیں ۔۔۔۔۔
میرا وعدہ ہے ۔۔۔۔۔!!! میرا یقین رکھنا ۔۔۔۔۔!!! میں اپنی ہجرت کی ساری زنجیریں توڑ کر اپنے ادھورے وجود کو تکمیل بخشوں گا ۔۔۔۔۔ کیونکہ تجھ سے ہی تو میرا وجود ہے ۔۔۔۔۔ تجھ سے ہی تو میرا کربناک ہجر وصل کی خوش کن ساعتوں سے ہمکنار ہو گا ۔۔۔۔۔
میں جلد آؤں گا __!!!
میرے لفظ میری گواہی ہیں __!!!
میری محبت میری ضامن ہے __!!!
میرا پور پور تیری خاک کو اپنے خاکی بدن پر محسوس کرنے کو بےقرار ہے ۔۔۔۔۔
میرا انتظار کرنا ۔۔۔۔۔
والسلام ۔۔۔۔۔
فقط تیرا ہجرت زدہ ۔۔۔۔۔

ملک_سلیم_اعوان

2

پیاری طاہرہ
یہ خط نہیں ،وجود ہے__!وہ وجود جو کئی عمریں گزار چکا،اسے ،لکھ رہی ہوں اس گماں کے تحت کہ جو بات تحریر ہو جائے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔
سنو! اس وجود کی پہلی عمر جوق در جوق خیالوں کے چمن آباد کرنے میں گزری،سرد راتوں میں خواب لکھے،گرم دوپہروں میں احساس کے جلتے صحن میں سوچ کی پنیریاں اگائیں،یہ __اور خواب کے پرند ساتھ ساتھ جئے،آدرش سبھی ساتھ مل کے جواں ہوئے۔
دوسری عمر کی پہلی سیڑھی پر چاند کھڑا تھا،کیف آرزو کا دھواں لئے۔۔۔۔ایک ھاتھ زمیں سے باندھا اور ایک میں دعا تھمائی،یہی تھی اس دوسری عمر کی کمائی__!
اور اب یہ عالم ہے کہ در سے باہر بھی اک دہلیز ہے،دہلیز کے آخری کونے پر بنا چھت کے چار دیواریں،پھر زمیں آغاز ہوتی ہے،جس پر پیر دھرنے کی کوئی جا نہیں،
جانتی ہو،
روشنی کے ساتھ سفر کریں تو روشنی ہونا پڑتا ہے،ادق لہجوں کے درمیاں اپنی ہنسی خود کو سنانی پڑتی ہے،پشت کے گھاو اپنے ھاتھوں بھرنے پڑتے ہیں۔۔
پھر روشنی اور خاک کے سمبندھ میں نہ ترکہ ملتا ہے نہ ورثہ نہ مہر، بس نقرئ اوڑھنی کے ہالے میں دل کی مٹی بھر بھر گرتی رہتی ہے ۔۔۔

کبھی رات کو سیاہ آسماں کی جانب دیکھو اور کوئی کوندا لپکے پل بھر کو زمیں کی اور ،تو سمجھ لینا کہ وہ کسی وجود کی اپنے مدار میں جھانک لینے کی ایک جہد ناتواں تھی __!
فقط
خاک زادی

Farya hameed ch


3

17/3/2019

محترم جناب اجنبی آداب بعد تسلیمات کے عرض ہے کہ آپ کا خط ملا جسے پڑھ کر کچھ اچھا محسوس نہیں ہوا شاید آپ کے من کی جھیل پر سے میرے طرف جھکاؤ کے سارے پرندے اڑ چکے ہیں ہاں یوں بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو بے حسی کی لہروں نے نگل لیا ہو اب شاید جو اجنبیت تھی ہم دونوں کے درمیان وہ دور ہوگئ ہے آپ کی سوچوں کے گھوڑے سر پٹ دوڑتے دکھائی دیئے مجھے کسی اور نگر کو فتح کرنے کے لئے کچھ یہی محسوس ہوا ہے مجھے کہ اب آپ کی خواہشوں کے سفینے کسی نوخیز دلکش ہوا کے دوش پر اپنا رخ موڑ چکے ہیں اک نئے جزیرے کی تلاش میں اپنے بادبان گرا چکے ہیں اور دھیرے دھیرے دور ہورہے محترم اجنبی مجھے اس دفعہ ایسا کیوں لگا کہ کاغذ کی قرطاس پر آپ نے جن الفاظ کے موتیوں کو بکھیرہ ہے وہ الفاظ نہیں دہکتے انگارے تھے۔ جنہوں نے میرے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ میرے آنکھیں تک جلا ڈالیں میری بینائی سے ہوتی ہوئی اس تپش نے میری روح تک کو جھلسا دیا ہے کبھی جلے ہوئے انسان کی آہ زاری سنی ہے؟ نہیں؟ جلا ہوا انسان کس اذیت سے اللہ سے موت مانگتا ہے۔ میری روح بھی اسی طرح تڑپ رہی ہے پر خیر رہنے دیں میں بھی کیا اپنا من کھول کر بیٹھ گئی آخر میں بس اتنی التجا کہ خط کا جواب ضرور دیجئے گا جب کہ میں جانتی بھی ہوں کہ میرے اس خط کا آپ اب کبھی بھی جواب نہیں دیں گے پر میں پھر بھی ہمیشہ منتظر رہوں گی محترم اجنبی آپ کے لئے بہت ساری دعائیں وسلام

بنت عبدالغفار جب ساتھی اجنبی ہوں جب راستے انجان ہوں تو آشنا کب منزلیں ہوتی ہیں

4
ھواوں کے دوش پرلفظوں کا دامن جھاڑ کر بےاختیار جذبوں کو اس آسرے روانہ کرنے کی سعی شاید اس خوش فہمی کی پیداوار ھے کہ ھواٸیں کبھی نامہ بر بھی ھوا کرتی تھیں۔۔۔۔ شاید تمھیں یہ لگتا ھو کہ گزرے زمانو ں کی گرد نے محبت کے جذبوں کو تہہ در تہہ دفن کر دیا ھو گا۔۔۔ مگر سنو ایسا کچھ نھیں ھے۔۔ کاش کہ ایسا ھو جاتا۔۔۔ ھاں یہ ھے کہ اب تجھ سے بچھڑنے کی کسک تکلیف دہ نھیں رھی ھے۔۔۔۔ درد کی ھیٸت اب مٹھاس کے روپ میں ڈھل گٸ ھے اور یقین کرو کہ میٹھا درد بھی ایک نشے کی مانند ھوتا ھے اور نشہ کسی قسم کا بھی ھو اسکا چھوڑنا آسان نھیں ھوتا۔۔۔۔ سنو بچھڑنے کا فیصلہ چونکہ تمھارا اپنا تھا تو ھم بول نہ سکے ۔۔۔۔روک نہ سکے ۔۔۔۔تمھاری کسی بات کو رد کب کیا تھا جو اسے کر دیتے۔۔۔۔۔ یہ سوچ کر خود کو سمجھا لیا کہ۔۔۔ کچھ تو مجبوریاں رھی ھوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یونھی کوٸ بے وفا نھیں ھوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھاری مان لی نا۔۔۔۔ جیسا تم نے چاھا ویسا ھی کر لیا نا۔۔۔۔ ایک میری مان لو۔۔۔۔آخری بات ۔۔۔۔۔ ایک بار ۔۔ بس ایک بار مجھ سے ملنا ضرور۔۔۔۔ میں نے کچھ لوٹانا ھے تمھیں۔۔۔۔۔۔۔تمھاری کچھ امانتیں ھیں میرے پاس۔۔۔۔۔ کچھ کاڈز ھیں جو تم نے اپنے ھاتوں سے بناۓ تھے۔۔ کچھ تحریریں ھیں جن میں ابھی بھی تمھاری پرچھاٸیاں تیرتی ھیں۔۔۔۔۔ کچھ کتابیں ھیں جن پر تمھارے ھاتھوں کا لمس ابھی تک پیوست ھے۔۔۔۔۔۔ سب کچھ تو ابھی تک ویسے کا ویسا ھی ھے ۔۔۔۔۔تمھارے قلم ۔۔چاکلیٹس کے ریپرز ۔۔۔تمھاری نوٹ بکس۔۔۔تمھارا بیگ ۔۔۔۔وہ سب کچھ جو تم نے مجھے دیا تھا۔۔۔۔ اپنا ماضی میرے حوالے کر کے تم تو مستقبل کی جانب کب سے قدم بڑھا چکی ھو ۔۔۔۔مگر میں ابھی تک اسی میں جی رھا ھوں شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ محبت شاید ایک دفعہ ھی ھوتی ھے ۔۔۔۔۔ اور اسکی کسک آخری سانس تک پیچھا نھیں چھوڑتی۔۔۔ باقی بندوبست زندگی گزارنے کے بہانوں کے سوا کچھ بھی نھیں۔۔۔۔۔۔ منزلوں کی بات چھوڑو کس نے پاٸیں منزلیں۔۔۔ اک سفر اچھا لگا ۔۔۔۔۔۔اک ھمسفر اچھا لگا۔۔۔۔۔ فرحان مدثر

5
میرے پاس آج بھی یہی خط ہے

#خط

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

امی جان آپ ٹھیک اور خوش ہیں اس کا مجھے پورا یقین ہے۔ میں ٹھیک نہیں ہوں پر کسی کو بتاتی نہیں کیونکہ احساس میں گندھی تو ماں ہی ہوتی ہیں نا۔شکر ہے آپ نے مجھے رب جی سے باتیں کرنا سکھا دیا تھا اگر وہ بھی نہ ہوتا کیا بنتا میرا۔ میں آپ کو بے انتہا یاد کرتی ہوں۔ کبھی کبھی راتوں میں تو آپ میرے بازو بن جاتی ہیں اور مجھے اپنے ساتھ لگا کر بہت سا پیار کرتی ہیں پر بولتی کیوں نہیں ہیں باتیں کرنا چاہتی ہوں میں آپ سے۔ جانتی ہیں مجھے آپ کے جانے کے بعد اندازہ ہوا کہ میں کتنی لا پرواہ اور بدتمیز ہوں آپ ماں تھیں نا اسی لئے آپ کو مجھ سے اتنی محبت تھی ورنہ مجھ جیسی بدتمیز اور سڑیل سے کوئی محبت کر ہی نہیں سکتا۔ ٹھیک ہے الله جی اچھے لوگوں کو جلدی بلا لیتا ہے پر ماں اتنی جلدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس آج بھی وہ سارے خطوط موجود ہیں جو آپ نے بابا جانی کو لکھے تھے منگنی سے شادی کے دوران بہت معصوم اور بے انتہا خیال رکھنے والی تھیں آپ۔ پتا ہے جب آپ بے حد بیمار تھیں اور میرے کبھی کسی کام سے انکار کرنے پر مجھے بہت سارا ڈانٹتے ڈانٹتے خود ہی وہ کام کرنے لگتی تھیں تو مجھے اس وقت صرف ڈانٹ سنائی دیتی تھی اور بہت بری لگتی تھی پر آپ کے جانے کے بہت دیر بعد اس ڈانٹ کے پردے میں چھپا خیال سمجھ میں آیا کہ ماں ڈانٹتی تو اچھی تربیت کے لئے ہے پر کام بھی تو کر دیتی ہے بیٹی کے حصے کا۔ اسکول سے واپسی پر ماں بے حد بیماری میں بھی اور کچھ نہیں تو سادی روٹی کے ساتھ کوئی نہ کوئی چٹنی تو بنا کے رکھتی تھیں آپ ہمیں پھر بھی گلہ ہوتا تھا پر آپ کے بعد سمجھ میں آیا کچھ بھی ہونے نہ ہونے کا فرق۔آپ کے ہاتھ آپ کے بال آپ کی سادگی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی قدر نہیں کر سکا آپ کی ۔ آپ صرف ساتھ دینے آئی تھیں لیکن ایسے تھوڑی ساتھ دیتے ہیں ۔۔۔ دنیا جہان کے کام آتے تھے آپ کو ۔۔۔۔ ساتھ دینا نہیں آیا ۔۔۔ آپ کو پتا تھا شاید کہ آپ نے بے وفائی کر جانی ہم سے ۔ نہ کبھی خود ماؤں کی طرح کھل کے لاڈ کیا نہ کبھی ہمیں اپنے ساتھ سلایا ۔۔۔ آپ نہیں جانتی مجھے آپ کا کمرہ اس لمحے جنت لگتا تھا جب کبھی آپ سو رہی ہوتی تھیں تو آپ کے ساتھ لیٹ کر آپکے ہاتھ کو اپنے گال پر رکھتی لاڈ کے صرف وہی چند لمحے تھے ۔۔ اور اب جب بھی خواب میں آتی ہو لاڈ کرتی ہو پر بات نہیں کرتی ہو مجھ سے کیوں ماں یہ کان ترس گئے آپکی ڈانٹ کو ۔۔۔۔ اور نہیں لکھ سکتی۔۔ لوٹ آؤ نہ ۔۔۔۔ میں تو اتنی اچھی بھی نہیں کہ وہاں جلدی آ سکوں آپ سفارش کرو ناں ماں۔۔۔ تیرے مگروں میرئیے مائیں۔۔۔ ایس دنیاں دے تلکن ویہڑے۔۔ آپ ای ڈگی آپ ای اٹھی۔ بسم اللہ دی واج نہ آئی۔ نہ کیڑی دا آٹا ڈلیا خدا حافظ ماں جان ماوی سلطان

6

ناجانے کہاں ہو کیسی ہو میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتا اور اس میں میرا کوئی کمال بھی نہیں مجھے یاد ہے وہ سرد رات جب پہلی بار تمہیں سڑک کنارے کھڑا دیکھا تھا خوب سجی دھج کر میرا نظر انداز کرنا مگر پتا نہیں کیا ہوا میں نے خلاف توقع تم تک واپس جانے کا فیصلہ کیا ایک لمبے یوٹرن کیبعد جتنی تیزی سے ممکن ہوا تم تک پہنچا اور ڈرتے گھبراتے بس اتنا ہی کہا بیٹھ جائیں تب میری کیا حالت تھی اسکے لیئے الفاظ ہی نہیں میرے پاس یہ لفاظی کا مسئلہ ہمیشہ ہی آڑے آجاتا ہے کمبخت۔ آپ کتنے پیسے دینگے بیٹھتے ہی پہلا سوال۔ مجھے نہیں معلوم کتنے پیسے ہوتے ہیں میں پہلی بار ایسا کررہا ہوں اور یہ سن کر تم نے کیسے ایک زوردار قہقہہ لگایا مجھے لگا مجھ سا بیوقوف شاید کوئی نا ہوگا۔اور اس شرمندگی سے بچنے کیلئے ہی میں نے کہا تھا آئسکریم کھاوگی؟ تمہارے لیئے شاید غیرمتوقع تھا ارے نہیں معلوم ہے تم نے یہ نہیں بتایا مگر تمہاری آنکھوں نے۔کسی نے بتایا نہیں کبھی تمہاری آنکھیں تم سے زیادہ بولتی ہیں ہمیشہ کچھ نا کچھ کہتی ہونگی۔ آئسکریم کیبعد یاد ہے جب ہم سینما گئے تھے میں فلم سے زیادہ تمہارے متعلق سوچتا رہا سوچتا رہا کیا تم بہادر ہو جو روز ہر رات کسی اجنبی کیساتھ ایسے ہی نکل پڑتی ہو کیونکہ میں تمہیں مجبور ماننے پر تیار ہی نا تھا اب بھی نہیں ہو یہ بےعزتی ہوگی تمہاری تم بہادر ہو اور فلم ختم ہوگئی۔ پارکنگ کیجانب جاتے ہوئے سوچ رہا تھا اب کہاں جاوں کیا کروں لوگ تمہیں دیکھ رہے تھے اور مجھے غصہ آرہا تھا کیوں تمہیں یہاں لایا پھر تم نے جب کہا ایسے گھماتے رہوگے تو پیسے بھی ضائع کروگے اور رات بھی! تب پہلی بار تمہارے چہرے پر فکر دیکھی اور فکر بھی اپنی میرے پیسے میری رات کا ضیاع تب دل کیا تمہیں گلے سے لگا لوں ہمیشہ کیلئے مگر ہمت نہیں پڑی جھجک کمبخت۔ پھر میں تمہیں ہائی وے لا آیا تم نے پوچھا یہ ہم کہاں جارہے ہیں یہ سڑک تو کراچی تک جاتی ہے ملتان بہت پیچھے رہ چکا ہے آپ کا نام کیا ہے؟ تیمور ہے واپس کہاں چھوڑو تمہیں؟ کیا بس یہ سب کیلئے مجھے لائے تھے؟ہاں نہیں اس سب کیلئے نہیں مگر میرا ارادہ بدل گیا ہے میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا بس وقتی جوش تھا جو اب نہیں رہا۔ یہ لو پیسے کہاں اتاروں؟ مجھے کچہری چوک پر اتار دو۔ اچھا سنو اچھا وقت گزرا تمہارے ساتھ نمبر دے دو اپنا اور تم نے نہیں دیا صرف میرا نمبر لیا اور کال کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر جب واپس پہنچا تو ایک میسج تھا سیٹ کے پیچھے سے پیسے اٹھا لینا میں ایسے پیسے نہیں لیتی۔ تب سے اب تک تمہارا نمبر آف جارہا ہے بہت چکر لگائے اس سڑک کے اتنا ملتان تو میں دوسالوں میں نہیں گھوما تھا جتنا تمہاری تلاش میں میں نے چھان مارا اب بھی جب جاتا ہوں تو روز رات کو ایک بار کچہری چوک پر ضرور آتا ہوں پیسوں کے علاوہ بہت مقروض ہوں تمہارا اس چھوٹی ملاقات میں تم سے بہت کچھ سیکھا خاص کر اپنے پیشے سے وفاداری۔ جہاں ہو جیسی ہو سلامت رہو قائم رہو۔ تیمور یوسف

7

بنام……….

کافی دن ہوئے کوئی خیر نا خبر نا کوئی اتا پتا. شاید بے چینی بڑھتی جا رہی ہے شاید روگ دل میں اتر چکا ہے. حال یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے. دن تو خیر گزر جاتا ہے راتیں گزارنی پڑتی ہیں بھلا ہجر و وصل کی راتیں بھی کسی پر آسان گزری ہیں محبت میں کسے سکون ملا ہے. ہمیشہ سنتے آئے کہ محبت انسان کو کمزور کر دیتی ہے اور میں یہ تم. میں محسوس کرتا تھا جب تم. مجھ میں کسی کو ڈھونڈتی اور کسی چیز کی کمی محسوس کر کے مایوس ہو جاتی یا میری ذات کی دھجیاں بکھیر دیتی.تمہارا اتنی شدت سے چاہنا اور پھر انجان بن جانا مجھے بیچین کیئے رکھتا تھا کچھ عرصہ اسی ادھیڑ بن میں رہا تب کہیں جا کر یہ احساس ہوا کہ تم. مجھ میں کیا ڈھونڈتی ہو. “پہلی محبت” ہاں تمہاری پہلی محبت میری باتوں میں میری آنکھوں میں میرے ساتھ گزارے ہر لمحے میں تم کہیں نا کہیں اسے ہی ڈھونڈتی ہو میں ساتھ ہوں پھر بھی تمہیں اسکی کمی محسوس ہوتی ہے. دوسری محبت ہوں نا یا شاید نہیں بھی………… پہلی محبت سے بہتر تو ہر گز نہیں جو دوسری محبت کرتے ہیں وہ دکھاوا کرتے ہیں ڈھونگ رچاتے ہیں انتقام. لیتے ہیں پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال کر. محبت تو نہیں مرتی دل کےنہاں خانوں میں زندہ رہتی ہیں ہا‌ں دوسری محبت ہمیشہ استعمال ہوتی ہے کبھی پہلی محبت کو دکھانے کیلیئے آگ لگانے کیلیئے تو کبھی پہلی محبت کی بیوفائی کا کفارہ ادا کرنے کیلیئے میں تم. بن رہ تو لوں گا لیکن تم. یوں بس گئ ہو مجھ میں کہ مجھ کو مجھ میں جگہ نہیں ملتی تو ہے موجود اسقدر مجھ میں خود کو خود سے خدا کیسے کروں میرا جینا نہیں ممکن میرا مرنا بھی نا ممکن عجب دہری اذیت ہے کہ اس سے رہائی میرے بس میں نہیں لیکن میری محبت سب کھونے کے ڈر سے آزاد ہے سچی محبت روح سے ہوتی ہے اور مجھے تمہاری روح سے محبت ہے میرے سینے میں پتھر ہے تم. ہی کہا کرتی تھی نا تو پتھر ٹوٹنے نا پائے گا کبھی… فقط جس نے تمہیں سب سے زیادہ چاہا

#ساحل انصاری

8

سلام… میں آج تک یہ سمجھ نہیں پاٸی یہ کیسی نفرت ھے جو میں کرتی ھوں تو تہہ در تہہ محبت نکلتی چلی آتی ھے ۔کیوں میری آنکھیں آج بھی بھیگ گٸیں ھیں ۔کیوں میرے دل کی دھڑکن اب بھی رک رک جا رھی ھے ۔میرےہاتھ کانپ رھے ھیں ۔میں نے تو سب کچھ بھلا دینے کا عہد کیا تھا نا ۔تقدیر ایک بار پھر تمھیں میرے سامنے لاکے کھڑا ک رھی ھے ۔ ایک طرف دماغ ھے جو رہ رہ کے دھاٸیا ں دے رھا ھے مجھے روک رھا ھے ۔قدم آگے مت بڑھانا یہاں سے سواۓ دکھ کے کچھ نہیں ملنا ۔دوسری طرف دل ھے ۔جو یہی تکرار کیے جارھا ھے تم اس بن ادھوری ھو ۔تمھاری ذات اس کی ذات سے مکمل ھوتی ھے ۔ کچھ سمجھ نہیں آ رھا میں کس کی سنوں ۔ کیا تمھیں یہ درد محسوس نہیں ھوتا ۔کیا میرے ھونے کا ثبوت تمھارے دل کو جکڑتا نہیں ھے ۔کیسے یہ سب یکطرفہ ھو سکتا ھے ۔کیسے ھو سکتا ھے جس اگن میں جل جل کے میں خاک ھو گٸی ھوں اس کی آنچ نے تمھارے دامن تک اس کی حدت تک نہ پہنچاٸی ھو ۔ بس کر دو اب بس کر دو۔وقت نے یہ ثابت کر دیا ھے کہ مجھ بن تم بیابان صحرا ھو اور تم بن میں اجڑا ھوا شہر ۔ھم دونوں تکمیل ایک دوسرے سے جڑ کے ھی پا سکتے ھیں ۔ھمیں سکون ایک دوسرے کی آغوش میں ھی میسر ھو سکتا ھے ۔سات سمندر پار پل پل تم مرتے ھو اور یہاں میں ۔بہت ھمت دکھاٸی ھے میں نے ۔ایک بار پھر ہاتھ بڑھایا ھے میں نے ۔تمھیں کھوج نکالا ھے ۔میری لگن میں سچاٸی ھے ۔میرے درد میں تڑپ ھے ۔میرے پاٶں گواھی دیتے ھیں میری آبلہ پاٸی کی ۔میرا تار تار دامن پکار رھا ھے ۔لوٹ آٶ کہ اس خود اذیتی میں کچھ نہیں رکھا ۔ جب مرنا ھی ھے تو ایک ساتھ کیوں نہ مر جاٸیں ۔ میں ایک بار پھر تمھارے سامنے کھڑی ھوں زندگی کی ایک نٸ حقیقت بن کے ۔اور تم مجھے جھٹلا نہیں پاٶ گے۔میرا صبر رنگ لانے کو ھے ۔میری فریاد عرش ھلانے کو ھے۔ میں جانتی ھوں میں پاگل ھوں ۔میں جانتی ھوں کہ میں زمانے بھر کے تجربے کر کے بھی اپنا دل بدل نہیں پاٸی۔یہ رشتہ میری نس نس میں بستا ھے ۔آج ایک دیوار ھے پتھر کی نہیں محض ایک ایپ کی ۔جس کے اس پار کھڑے تم مجھے دیکھ سکتے ھو ۔محسوس کر سکتے ھو ۔دوسری جانب میں ھوں جسکو تمھارے ھونے کا احساس نے ھی پھر زندہ کر دیا ھے ۔بس آج کی رات ھے صرف آج کی رات ۔کل کا سورج یا تو ھم دونوں کے لیے ایک نیا سویرا لیے طلوع ھو گا ۔یا گھپ اندھیرا چھا جاۓ گا ۔اور اب کی بار اندھیرا چھایا نہ تو سایا بھی ڈھونڈتے رہ جاٶ گے ۔میں انتظار میں ھوں ایک روشن سویرے کی ۔دعاگو ھو آج ایک لمبے وقت کے بعد ۔سجدے میں سر جھکا ھے اور لبوں پہ ایک پرانی دعا رواں ھے ۔اے خدا وہ شخص جو میرا ھے اسے میرا کر دے ۔ ۔‏تیری قِسمت کِہ تِرے سنگ چَلی ہے دنیا میری قِسمت کِہ مِرے سنگ فَقط راستہ ہے! دُکھ تو یہ ہے کہ تِرے بعد کِسی سَمت چلوں کوئی کہتا ہِی نہیں ہے، یہ غَلط راستہ ہے.. صاعقہ چوہدری

9

اک آہ بھری ھوگی . . . ہم نے نا سنی ھوگی . . . جاتے جاتے تُم نے. . . آواز تو دی ھوگی . . . بس اک یہی ہے غم . . . اُس وقت کہاں تھے ہم . . کہان تُم چلے گئے . . . نا چھٹی نا سندییس . . . جانے وہ کونسا دیس . . پیارے پاپا . . . پتہ نہیں آپ کیسے ہوں گے . . . امید اور دعا تو یہی ہے کے ٹھیک ہی ہوں گے . . مگر میں ٹھیک نہیں ہوں . . آپکی بہت یاد آتی ہے . . . ہر پل ہر لمحہ ہر بات پے آپ یاد آتی ہے. . . یہ موت کیوں بنائی گئی ہے پاپا . . . کیا ملتا ہے خدا کو لوگوں کو مار کے ؟ ؟ آپ تو خدا کے پاس ہیں تو پوچھ کے بتائیں مجھے کے کیوں کرتے ہےں وہ ایسا ؟ ؟ ؟ پتہ ہے پاپا . . سب کہتے ہیں میں سدھر گئی ہوں . . میں سمجھدار ہوگئی ہوں . . . مگر کوئی یہ نہیں جانتا کے میں سدھر نہیں بَدَل گئی ہوں . . وہ پاگَل اور لا ابالی لڑکی تو شاید آپ کے ساتھ ہی دفن ہوگئی تھی . . اب جو ہے وہ تو کوئی اور ہی ہے . . جسے نا آپ جانتے نا میں . . . آپکی ہر بات ہر خواب پورا کر رہی ہوں . . . فکر نہی کرنا مایوس نہیں ہونے دونگی آپکو . . . کسی کو انگلی نہی اٹھانے دونگی آپکی تربیت پے . . . کیوں کے اب مجھے آپکی وہ بات سمجھ آگئی ہے کۂ . . . زندگی میں خود کو ہر چیز کے لئے تیار رکھو وقت کب کروٹ بَدَل لے آپکو نہیں پتہ . . . اب مجھے ڈَر بھی نہی لگتا پاپا . . کچھ کھونے سے . . کیوں کہ اب میں وقت کی کروٹ سے آشنا ہو چکی ہوں . . . بہت کچھ اور کہنا ہے پاپا . . مگر آپ جہاں گئےہیں . . وہاں میں یہ خط کیسے بھیجوں . . . ؟؟؟ مجھے اب ڈر نہیں لگتا…. کسی کے آنے سے۔۔۔ کسی کے جانے سے۔۔ مجھے اب ڈر نہیں لگتا… کسی کو پانے سے…. کسی کو پا کے کھو دینے سے… مجھے اب ڈر نہیں لگتا…. اس دنیا سے… اس دنیا کے رواجوں سے… مجھے اب ڈر نہیں لگتا… لوگوں سے… ان کے بدلتے رویوں سے… مجھے اب ڈر نہیں لگتا…. جھوٹ سے…. منافقتوں سے… مجھے اب ڈر نہیں لگتا…. رونے سے…. نہ ہنسنے سے…. مجھے اب ڈر نہیں لگتا… نہ زندگی سے…. نہ ہی موت سے… مگر پھر بھی…. کبھی کبھی جھوٹ سا لگتا ہے…. کہ مجھے اب ڈر نہیں لگتا…. امید ہے آپ نے سب پڑھ لیا ہو گا . . . فقط آپکی بیٹی . . حیات ملک….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *