صفحہ اول

خوش آمدید
ہم ممتاز مفتی ادبی ٹرسٹ کی جانب سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ایک عرصہ سے پلان ترتیب دیئے جا رہے تھے کہ ممتاز مفتی کے خیالات اور فکر کو فروغ دینے کے لیے باقائدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے ۔ زیر نظر ویب سائٹ اسی کاوش کی ایک کڑی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ممتاز مفتی کی زندگی، ادبی کام ،اندرون و بیرون ملک ممتاز مفتی پر کی جانے والی تحقیق ، تصاویر اور دیگر معلومات کو اس ویب سائٹ کا حصہ بنائیں۔ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ اس ویب سائٹ کو زیادہ سے زیادہinteractive بنایا جائے اور ویب پر آنے والے وزٹرز کی رائے اور مشوروں سے مستفید ہوا جا ئے۔
ہماری کوشش اور خواہش ہے کہ ممتاز مفتی کی تمام غیر مطبوعہ تحریریں، اُن کی ذاتی ڈائریاں، اہم خطوط اور غیر مطبوعہ ڈرامے جلد از جلد ترتیب دے کر شائع کر دیئے جائیں۔ اُن کا یہ ادبی خزانہ علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں اور ادب کے طالب علموں کی امانت ہے جسے جلد از جلد ان تک پہنچنا چاہیے۔
ممتاز مفتی ٹرسٹ
ممتاز مفتی ادبی ٹرسٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہےجسے باقائدہ غیر سرکاری اور غیر منافع بخش ادارے کے طور پر رجسڑڈ کروایاجا رہا ہے۔ ادبی ٹرسٹ کی تمام تر ذمہ داریاں عمران مفتی نبھائیں گے۔ ممتاز مفتی ادبی ٹرسٹ کے قیام کا بنیادی مقصد ممتاز مفتی کے ادبی فکر کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرسٹ کے اغراض و مقاصد یہ ہوں گے۔
مزید پڑھیں / بند کریں
٭ ممتاز مفتی ادبی ٹرسٹ سال میں ایک بار ممتاز مفتی کی برسی پر ادبی محفل کا انعقاد کرے گا۔ اس محفل میں ممتاز مفتی کی کُتب کا مکمل سیٹ ایوارڈ کی صورت میں دیا جائے گا۔
٭ ٹرسٹ ممتاز مفتی پر تحقیق کرنے والوں کو معلومات اور مواد فراہم کرے گا۔
٭ ٹرسٹ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ان کے کام کی اصلاح، طباعت ، اشاعت وغیرہ میں ممکنہ معاونت فراہم کرے گا۔
٭ ٹرسٹ کے زیر اہتمام گیٹ ٹو گیدر محفلیں منعقد کی جائیں گی اور ممتاز مفتی کے چاہنے والوں کو اُن کی زندگی کے حالات و واقعات سے آگاہ کیا جائے گا۔ (اس سلسلے کی ایک محفل لاہور میں 23 مارچ کو منعقد کی جا چکی ہے جبکہ دوسری محفل 17 مئی 2015 کو ہوئی)۔
٭ فیس بُک گروپ کے ممبران کو قابلیت کی بنیاد پر ٹرسٹ کی جانب سے ایک کتاب تحفے میں دی جائے گی۔
ممتاز مفتی کی دنیا
افسانے، خودنوشت، سفرنامے اور وہ تحریریں جو انسان کی باطنی دنیا کے در وا کرتی ہیں۔ ممتاز مفتی کی زندگی اور ادبی ورثے سے ایک ملاقات۔
ممتاز مفتی کی کتابوں، یادوں، تصاویر اور ان پر ہونے والی تحقیق کا ایک مشترکہ حوالہ۔
ادبی ورثے تک رسائی
اپنی دلچسپی کا گوشہ منتخب کریں۔
زندگی کے رنگ

قدرت اللہ شہاب
قدرت اللہ شہاب سے ممتاز مفتی کی پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی۔اس وقت مفتی صاحب ولیج ایڈ کے دفتر میں احمد بشیر اور ابن انشاء کی معیت میں حفیظ جالندهری کے پی ۔اے کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تهے۔ قدرت اللہ شہاب صدر کے سیکریٹری کی حیثیت سےصدر گهر میں تعینات تهے۔ ممتاز مفتی قدرت اللہ شہاب کو اشفاق احمد کے دوست کی حیثیت سے جانتے تهے۔ شہاب صاحب نے اشفاق احمد کے کہنے پر ان کی گزشتہ ملازمت میں انکوائری کے دوران ان کی مدد کرنے کی کوشش بهی کی تھی مگر مفتی صاحب کی غیر حاضردماغی کے باعث یہ مدد فریقین کے لیے ندامت کا باعث بن گئ۔
الکهه نگری میں اس واقعے کی تفصیل درج ہے۔
ممتاز مفتی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑهانے میں شہاب صاحب نے خود پہل کی تهی ۔شہاب نے اپنے ایک مضمون میں لکها ہے
مزید پڑھیں / بند کریں
“سچ تو یہ هے کہ جب میں پہلے پہل ممتاز مفتی سے ملا تو میں نے فورا”فیصلہ کرلیا کہ بس یہ آدمی ضرور میرے ڈهب کا هے۔ گرمجوشی وه جیسے گندهک کا ابلتا چشمہ ،سرد مہری ایسی گویا جما هوا گلیشیر ،نرمی میں روئ کی بتی جو مدت سےمٹی کے دیئے میں سرسوں کے تیل میں گری پڑی هو۔ سختی میں نائی کا استرا، مٹهاس کا موڈ هو تو رس کا گهڑا ،ورنہ نرا پرا روکها پهیکا کهدر سا لا تعلق انسان جو اپنے دل کی کڑوی سے کڑوی لیکن سچی بات یوں کر گزرتاهے جیسے موسم کا حال بیان کر رہا ہو “یوں معلوم هوتا ہے قدرت اللہ شہاب نے ممتاز مفتی سے ملنے سے پہلے ہی انہیں اپنے لیے ڈهب کا آدمی پا کر انہیں منتخب کرلیا تها ۔وه نفسیات کی کتابیں خریدنے میں مدد لینے کے بہانے انہیں اپنے ساتھ ادهر ادهر گُهماتے رہتے۔آہستہ آہستہ ممتاز مفتی نے محسوس کیا کہ شہاب صاحب کی شخصیت میں ایک ایسی پوشیده سمت هے جو ان کےعام ملنے والوں کو دکهائی نہیں دیتی ۔اور جسےوه التزاماً چهپاے رکهتے ہیں۔ کراچی جانے سے پہلے ہی ممتاز مفتی بهی بهائی جان اور سایئں اللہ بخش کی وساطت سے اس پراسرار باطنی دنیا کے دروازے پر آن کهڑے ہوے تهے جسے انہوں نے بعد میں الکھ نگری کا نام دیا۔
راولپنڈی میں ان کے حلقہ احباب میں خاصی تعداد ایسے اصحاب کی تهی جو تصوف سے دلچسپی رکهتے تهے اور ان سے تبا دلہء خیالات ممکن تها لیکن کراچی میں ان کے ساتهی احمد بشیر اور ان کا بهانجها اور دوست قیصر نہ صرف اس میدان سے کوسوں دور تهے بلکہ اس کے سرے سے منکر تهے وه عقلیہ دانشور تهے اور وجدان والہام اور کشف و کرامات کے نا تو قائل تهے اور نہ اس بارے میں کچھ جاننے کے مشتاق ۔ ان حالات میں یقیناً ممتاز مفتی کو شہاب کی صورت میں ایک ایسا سہارا میسر آگیا ہوگا جو نہ صرف ان کے خیالات کا احترام کرتا تها بلکہ انہیں اہمیت بهی دیتا تها۔ شہاب صاحب میں ممتاز مفتی کی دلچسپی اس وقت اور بهی بڑھ گئ جب ان کے روحانی رہنما بهائی جان، جان محمد بٹ نے شہاب کو ستاره کا لقب عطا کرکے انہیں شدید اہمیت دینا شروع کردی۔ ممتاز مفتی کے نام بهای جان کے خطوط کا سلسلہ جاری تها ان خطوط سے معلوم هوتا تها کہ پاکستان کی بقا اور ترقی کے متعلق مرد قلندر سایئں اللہ بخش کا ایک خصوصی منصوبہ تها ۔ جسے پایۃ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ستارہ یعنی قدرت اللہ شہاب کی خدمات بہت اہمیت رکھتیں تھیں۔
اس عظیم مقصد کے لیے انہیں بہت سی روحانی شخصیات کی استعانت بھی حاصل تھی۔ سائیں اللہ بخش بھی انہی میں سے ایک تھے جو بھائی جان کی وساطت سے اور شاید براہ راست بھی شہاب کے لیے روحانی استعانت بہم پہنچاتے۔ خطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھائی جان اور سرکار قبلہ سائیں اللہ بخش کا خیال تھا کہ شہاب کی صدر گھر میں تعیناتی کا اصل مقصد، حکومتِ پاکستان کے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور انہیں اسلامی رنگ میں ڈھالنا تھا۔ اس لیۓ صدر گھر میں ان کا موجود رہنا ازحد ضروی تھا۔ واضح ہو کہ اس وقت تک شہاب بھائی جان یا سائیں اللہ بخش سے واقف نہ تھے اور نہ ان کی آپس میں کوئی ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن جب ممتاز مفتی کو یہ معلوم ہوا کہ انہیں کراچی صرف اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ شہاب سے راہ و رسم پیدا
کریں اور انہیں سائیں اللہ بخش تک پہنچانے کا وسیلہ بنیں تو ان کی حیرت دو چند ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں کراچی میں چند ایسے واقعات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا جنہوں نے شہاب کی شخصیت کے گرد عظمت اور اسرار کا ہالہ سا قائم کر دیا۔ مثال کے طور پر جنوبی ہند ائم سے ایک شخص کا خط موصول ہوا جو پچیس سال سے فالج کا مریض ہونے کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھا اور اس کا واحد شغل اللہ کا نام لینا تھا۔ وہ مالی طور پر محتاج نہ تھا اور اپنی بیماری کو بھی درپردہ اللہ کی رحمت قرار دیتا تھا جس نے اسے اللہ سے رابطہ عطا کر رکھا تھا اس نے لکھا:
“میں آپ کو قطعی طور پر نہیں جانتا لیکن دو ایک سال سے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ آپ کو خط لکھوں ۔۔۔۔۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ آپ ایک عظیم خدمت پر معمور ہیں۔ اس لیۓ میں روز بلا ناغہ آپ کے لیۓ دعا کرتا ہوں۔ اللہ کرے آپ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوں اور وہ دور جس کا ہم سب کو انتظار ہے جلدی آئے۔”
اس خط کے مندرجات کسی بھی شخص کے لیے جو روحانی دنیا کے قواعد و طریق کار سے واقف نہ ہو، حیرت کا باعث بن سکتے ہیں۔ لیکن ممتاز مفتی تو ان دنوں اس دنیا کی دہلیز پر کھڑے تھے لہذا ان کی حیرت جلد ہی یقینِ کامل اور عقیدت میں بدل گئی۔ پھر ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ حیدرآباد دکن سے ایک دبلے پتلے آبنوسی رنگت کے مالک صاحب تشریف لائے اور انہوں نے قدرت اللہ شہاب کو انگریزی زبان اور تیکھی آواز میں سخت جھاڑ پلائی:
“—Flay you alive, put bran on you and put you in the sun.
We don’t give warnings, we just cut the rame out the list
You are a lucky chap”
شہاب صاحب نے اپنی خوش بختی کی تصدیق کے لیے انکا نام پتہ جاننا چاہا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں محض ایک پیامبر ہوں۔ تہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
ایک روز شہاب صدر ایوب کے ہمراہ جیل کے معائنے کے لیے گئے تو جیل کے وارڈر نے انہیں بتایا کہ پھانسی کی کوٹھری میں قید ایک شخص انہیں ملنا چاہتا ہے۔ شہاب اس قیدی سے ملنے پہنچے تو ایک ہیجڑے سے ملاقات ہوئی جس نے شہاب کو کھری کھری سنائیں اور کہا کہ ہم تجھے یہ بتانے آئے ہیں کہ تو ٹھیک کام نہیں کر رہا۔ تو سمجھتا ہے تجھے یہاں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ تو اس کے حکم بجا لائے۔ یہ غلط ہے تجھے اس کے فیصلوں کی تعمیل کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ اس لیۓ بھیجا گیا ہے کہ تو خود فیصلے کرے۔ اس کی فکر نہ کر، وہ رکاوٹ نہیں بنے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تجھ سے بات کرنے کے لیے ہمیں قید ہونا پڑا ہمیں پتہ تھا تو آج یہاں معائنے کے لیے آئے گا۔ شہاب نے مفتی کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ پھانسی کی سزا پانے والے مجرم ذہنی توازن قائم نہیں رکھ سکتے۔ لیکن ان کی بیوی عفت شہاب نے کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ پھانسی کی سزا پانے والا مجرم نہیں تھا بلکہ قریب کے بازار میں دنگا فساد کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور ڈراوے کے لیے اس خالی کوٹھری میں قید کر دیا گیا تھا لیکن اگلے روز کوٹھری خالی ملی۔
غالبًا اسے کسی نے رہا کر دیا تھا۔
ممتاز مفتی ابھی کراچی کی فضا سے مانوس ہوئے ہی تھے کہ پاکستان کا صدر مقام کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گیا اور انہیں ایوانِ صدر میں شہاب صاحب کے ماتحت او۔ایس۔ڈی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ یہاں انہیں شہاب کی روحانی حیثیت کے متعلق مزید جاننے کا موقع ملا۔ سائیں اللہ بخش کے مزار پر ان کی باقاعدہ دستار بندی ہوئی مگر شہاب کی باتوں اور انداز سے ممتاز مفتی نے یہ اندازہ قائم کیا کہ اس دستار بندی کو شہاب اپنےلیے باعثِ فخر نہیں سمجھتے بلکہ بھائی جان اور ان کے معتقدین اس بات پر بہت مسرت اور فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ممتاز مفتی کہ یہ بھی معلوم ہوا کہ شہاب کو مسلسل عالمِ غیب سے ہدایات موصول ہوتی ہیں اور ان کی نوعیت ذاتی یا شخصی ہی نہیں بلکہ امورِ مملکت اور فرائضِ منصبی سے
متعلق رہنمائی بھی اس میں شامل ہے۔ مثلاً ایک بار ایک دہقان ایوانِ صدر میں ان سے ملنے آیا۔ شہاب نے مصروفیت کے باعث ممتاز مفتی کو اس سے ملاقات کے لیۓ بھیجا۔ اس نے بتایا کہ اسے قریب ہی سڑک پر ایک سانڈنی سوار ملا تھا جس نے قدرت اللہ شہاب کو ایک پیغام بھیجا ہے۔ پیغام یہ تھا کہ جو کاغذ وہ لکھ رہے ہیں وہ غلط ہے اور جو وہ لکھ کر پھاڑ چکے ہیں وہ صحیح تھا۔ ممتاز مفتی نے اسے ایک مجہول آدمی خیال کیا لیکن شہاب یہ پیغام سنتے ہی بے چینی سے اٹھے اور ویسٹ پیپر باسکٹ سے پھاڑے ہوئے کاغذ کے پرزے چن کر ممتاز مفتی سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جوڑ دیجیۓ۔ جب وہ جوڑے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ پاکستان کے مجوزہ آئین کی ایک اہم شق تھی جس کا اسلام سے تعلق تھا۔
ان دنوں ممتاز مفتی کی ڈائریوں کے اندراجات کے زیادہ تر موضوعات روحانی واقعات، بزرگوں سے ملاقاتوں اور بشارت بھرے خوابوں سے متعلق ہیں۔ ان میں سے بہت سے واقعات انہوں نے اپنی مختلف کتابوں میں بیان کیے۔
ممتاز مفتی نے اپنی تحریروں میں خوشاب کے ایک ایڈوکیٹ عبدالغفور کا بہت ذکر کیا ہے۔ عبد الغفور صاحب صدر ایوب اور شہاب صاحب کو باقائدگی سے خط لکھا کرتے تھے اور انہیں مختلف امور پر مشورے بھی دیتے رہتے تھے۔ وہ ایک عبادت گزار شخص تھے۔ انہوں نے شہاب کے ہاں اولاد کے لیے نماز تہجد میں دعا مانگنے کا معمول اپنا رکھا تھا۔ آخر انہی نے شہاب کو بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سنائی تھی۔ ممتاز مفتی کے روزنامچوں میں غفور صاحب کے خطوط اور ان کی طرف سے ملنے والی ہدایات کا باقائدگی سے تذکرہ ملتا ہے۔
وہ کیا مقصد تھا جس کے لیے شہاب صاحب ہالینڈ، مصر اور بلآخر جدہ روانہ کیے جانے والے تھے اور جو ملک کے مفاد سے بالا تر اور عظیم تر مقصد تھا؟ قدرت اللہ شہاب کو اس سلسلہ میں کیا تیاریاں کرنا تھیں؟ یہ سوالات لامحالہ ممتاز مفتی کے ذہن میں بھی اٹھے ہوں گے اور انہوں نے ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی کی ہو گی لیکن اس معاملے میں وہ خاموش رہے۔ الکھ نگری میں انہوں نے صرف اتنا لکھا ہے کہ شہاب نے ہالینڈ کی سفارت کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ وہ مجاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ اور اس لیے بھی کہ وہاں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی لائبریری ہے جس میں قلمی نسخے بہتات سے ہیں۔
آہستہ آہستہ انہوں نے محسوس کیا کہ شہاب کی شخصیت میں جو وسعت ، عظمت اور بلندی کردار ہے وہ اور کسی کی شخصیت میں نظر نہیں آتی۔ شہاب کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف ان کا عجز و انکسار تھا۔ وہ اپنی روحانی طاقتوں کے اخفا کی بھرپور کوشش کرتے اور ان کا اظہار صرف اس وقت ممکن ہوتا جب ان پر چھلکن کا عالم طاری ہوتا۔ یعنی وہ بے خودی کے اس مقام پر ہوتے جہاں انہیں اپنے راز کے طشت ازبام ہونے کا احساس تک باقی نہ رہتا۔ وہ دوسروں کو ان کی خطاؤں، غلطیوں یا کوتاہیوں کا احساس دلا کر ندامت میں مبتلا کرنے سے گریز کرتے۔ انہیں مخلوق خدا کی خدمت کا شوق تھا مگر وہ اس پر اصرار نہ کرتے۔ اگر وہ خواہش کے باوجود کسی کے کام نہ آسکتے تو اس پر آزردہ نہ ہوتے بلکہ اسے اللہ کی رضا سمجھ کر راضی ہو جاتے۔ ذاتی معاملات میں بھی ان کا دستور یہ تھا کہ تین بار سے زیادہ کسی کام کے لیے کوشش نہ کرتے۔ اگر تنیوں بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تو دوبارہ کوشش نہ کرتے۔ وہ اپنی نیکی، راست روی ایمانداری اور حق پرستی کا ڈھنڈورا پیٹ کردوسروں کو کمتر یا گناہگار سمجھنے کے شغل میں مبتلا نہ ہوتے۔ اس کے برعکس انہیں لہو و لعب میں مبتلا، راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں میں خصوصی دلچسپی تھی۔ وہ ان کے قریب جاتے، ان کا اعتماد حاصل کرتے اوران کے طرز عمل پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی فکر کی سمت تبدیل کرنے کی غیر محسوس کوشش کرتے۔ان کے کردار کی بنیاد حضور اکرمﷺ کی کامل تقلیداور پیروی پر قائم تھی۔وہ ہر قسم کی صورت حال میں فیصلہ کرنے
سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ایسی صور تحال میں حضور اکرم ﷺ کا طرز عمل کیسا ہوتا۔عبادت گزار اور کثرت سے مجاہدہ و ریاضت کر نے والے انسان تھے مگر اسے پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کرتے۔
ممتاز مفتی نے شہاب کی جن خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے وہ واقعی انہیں ایک قابل تقلید انسان ثابت کرتی ہیں۔قدرت اللہ شہاب کی وفات کے بعد ان کے بارے میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں اردو سائنس بورڈ لاہور سے شائع ہونے والی ”ذکر شہاب“ اور بانو قدسیہ کی ”مراد بریشم“خاص طور پر مقبول ہوئیں۔ان کے علاوہ ان کے خطوط کے مجموعے بھی چھاپے گئے۔مراد بریشم نجی تاثرات پر مبنی تحریر ہے جس میں بانو نے اپنے اور اپنے خاندان کے حوالے سے شہاب کی ذات کے مختلف گوشوں کی ایک جھلک دکھائی ہے۔”ذکر شہاب“مختلف الفکراور مختلف الخیال لوگوں کے مضامین اور آرا کا مجموعہ ہے۔ان میں شہاب کے قریبی دوستوں ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے علاوہ”ایوان صدرمیں سولہ سال“ کے مصنف اور شہاب کے دفتری عملے میں شامل م۔ب۔خالد،مختار زمن،اے ۔حمید،ذوالفقاراحمد تابش،محمد اجمل نیازی ،مرزا ادیب ،مسعود قریشی ،نذیر احمد ،احسان اکبر ،منشا یاد،رشید امجد ،جلیل عالی اور ڈاکٹر نوازش علی کے تاثرات مضامین یا گفتگو کی صورت میں شامل ہیں۔ان تمام مضامین کے مطالعے سے قدرت اللہ شہاب کی شخصیت کا جو خاکہ تیار ہوتا ہے وہ ممتاز مفتی کی پیش کردہ تصویر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔
گویا ممتاز مفتی اپنی تمام تر عقیدت اور محبت کے باوجود، قدرت اللہ شہاب کو مافوق الفطرت شخصیت نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا اور گوشت پوست سے بنا ہوا انسان خیال کرتے تھے جس سے غلطیاں اور کوتاہیاں بھی سرزد ہو سکتی ہیں، اور جو زندگی کے مسائل سے اپنے طریقے سے نبرد آزما ہونا چاہتا ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ممتاز مفتی نے شہاب کی شخصیت کو ایک مختلف انداز سے اسی مقصد کے لئے جدو جہد کرتے ہوئے پایا جو خود اُن کے لئے بے حد اہمیت رکھتا تھا، اس کے ساتھ ساتھ انہو ں نے شہاب کے ذاتی زندگی میں نہ صرف اُن کے غیر معمولی اوصاف کا مطالعہ کیا بلکہ اُن کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے کئی خلافِ معمول واقعات کا مشاہدہ بھی کیا۔

چھڈ یار
چھڈ یار ایک چوکڑی تھی جو اتفاقا وجود میں آئی۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک روز ان جانے میں ممتاز مفتی اور ان کے دوستوں پر ایک دیانت بھرا لمحہ نازل ہو گیا۔ اس کے تحت انہوں نے محسوس کیا کہ سیانف اور معتبری کا بوجھ جملہ بوجھوں سے زیادہ بوجھل ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ وہ ہر سال آٹھ دس دن کے لیے تمام بوجھوں اور بندھنوں پر”چھڈ یار” کہہ کر باہر نکل جایا کریں
مزید پڑھیں / بند کریں
اور چھڈ یار منائیں۔ چھڈ یار کے بنیادی قوانین بظاہر بڑے آسان تھے پر دراصل بے حد مشکل تھے۔
1 ) کہ ہر سال دس بارہ دنوں کے لیے چھڈ یار منانا لازم ہو گا۔
2 ) کہ باہر جاتے وقت اپنے اپنے سیانے معزز عہدے دار کو گھر چھوڑ کر جانا ضروری ہے۔
3 ) کہ باہر جانے سے پہلے ہر کوئی اپنے اندر کے دم پخت مظلوم بچے کو باہر نکالے گا۔
اس کا منہ دھوئے گا، چومے گا، پچکارے گا،پھر کندھے پر بٹھا کر ساتھ لے جائے گا۔ 4 )
5) کہ اس آوٹنگ کے دوران کوئی رکن عقل کی بات کرنے کی کوشیش نہیں کرے گا
،اور نہ دوسروں کو عقل سکھانے کی عیاشی کا سزاوار ہوگا. البتہ بحث پر کوئی پابندی نہیں.کیونکہ بحث ایک معصوم اور بے ضرر وقت کٹی ہے، بحث سے کبھی کوئی قائل نہیں ہوا.بحث نے کبھی کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔.
چھڈ یار کے سات بنیادی رکن تھے۔ سب سے پہلے لیڈر تھا۔ جس کی جملہ خوبیوں کی وجہ سے اسے متفقہ طور پر لائف لیڈر منتخب کیا گیاتھا۔ پہلی خوبی یہ تھی کہ وہ سیانف اور معتبری کے بوجھ سے ہمیشہ کے لیے از لی طور پر آزاد تھا۔اس کے اندر کا بچہ ہمہ وقت اس کے کندھے پر سوار رہتا تھا۔ پہاڑوں پر پہنچ کر اس کے اندر کا شرپا بیدار ہو جاتا تھا۔ پھر اس کا جی چاہتا تھا کہ کسی ہلیری کو کندھوں پر اٹھا کر چوٹی پر گاڑ سکے. جس طرح ہمارے تمام شرپے کیا کرتے تھے۔ لیڈر کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ اسے چودھری کہہ کر بلایا جائے۔ مطالبہ صرف کہہ کر بلانے کا ہے، سمجھنے کا نہیں۔ پکارنے کے بعد چاہے آپ اسے اپنے کام میں لگائے رکھیں۔ وہ سودا لائے گا،آپ کے لیے کھانا پکائے گا، برتن دھوئے گا، چائے پکائے گا. اور ضرورت پڑے تو آپ کے پاؤں دبائے گا۔ لیکن خبردار اسے مسلسل چودھری جی
کہنا ضروری ہو گا۔ ورنہ تنائج کی زمےداری خود آپ پر ہوگی۔ اس لحاظ سے لیڈر کی حثیت خالص مرد جیسی تھی۔
چھڈ یار کا دوسرا رکن شاعر تھا۔ شاعر کا زاویہ نگاہ سائنسی تھا۔ نثرنگار کی طرح سوچتا تھا۔ غیر شاعرانہ طبیعت کا مالک تھا، لیکن شعر کہتا تھا. اچھے اور پر معنی شعر. شاعر کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اس نے دفتر کو مندر کا رتبہ دے رکھا تھا۔ شاعر کے اندر کا بچہ طویل دفتر تپسیا کے باوجود ابھی تک زندہ تھا۔ اس کی ذمے داری شاعر پر نہیں، بچے پرتھی. وہ اس قدر جاندار تھا کہ کوشش کے باوجود نہیں مر سکاتھا۔
ہمارا تیسرا رکن وٹ ہے. اللہ نہ کرے کہ آپ کو اس کے ماتحت کام کرنا پڑے. اگر وہ آپ کا ماتحت بن جائے تو یہ آپ کی خوش قسمتی ہوگی. حاکم کی حیثیت سے وہ مسلسل تیوری ہے. خاوند کی حیثیت سے چون وچرا ہے. لیکن ساتھی کی حیثیت سے باغ و بہار شخصیت ہے. مسلسل مغرح مسکراہٹ. خدمت گار، مٹھاس کا ایسا مرتبان جس سے پھوار اڑتی رہتی ہے. مزاح اور حاضر جوابی کی بنا پر اسے اعلی درجے کا مزاح نگار ہونا چاہیے تھا. کیوں منہ زبانی رہ گیا؟ یہ بھید آج تک نہیں کھلا. بہر طور اس کی خصوصیت کی وجہ سے ہم نے اس کا نام وٹ رکھ دیا ہے۔
ہمارا چوتھا رکن داستان گو ہے. داستان گو بڑا گنی آدمی ہے. بڑا معروف، جانا پہچانا، مگر طبیعت کا براہمن ہے. ذات پات
کا بڑا قائل اونچا بیٹھ کر بات کرتا ہے. لیکن بات کا دھنی ہے. باتوں کا ایسا جال پھیلاتا ہے کی سننے والوں میں خوداسیر ہونے کی خواہش چٹکیاں لینے لگتی ہے. ذات کا پٹھان ہے. اندر سے خالص اور اوپر سے “کاٹھا”۔
چھڈ یار کا پانچواں رکن انجنیئر تھا۔ انجنیئر تضادات کی کھچڑی تھا۔ ایک پلو میں ایمان بندھا تھا، دوسرے میں کفر۔ ایک جیب میں فنون کا شوق، دوسری میں مشینوں کی پرستاری، اعمال کٹر مسلمان کے، خیالات کٹر مادہ پرست کے، کندھے پر تصوف کا چولا، ماتھے پر حجت کا ٹیکا تھا۔
چھڈ یار کا چھٹا رکن فوک لوریا تھا۔ جو اعزازی طور پر ڈرائیور کا کام کرتا تھا۔ اسے مناظر میں دلچسپی نہیں تھی، لوگوں سےتھی۔ لوگوں سے بھی نہیں ان کی رہت بہت سے۔۔ وہ ایک ایسا بادام تھا جس میں دو مغزتھے۔ ایک صوفی فلاسفرتھا، دوسرا شدھ انگریز۔ جب وہ ایوولیوشن(ارتقا ) کی بات چھیڑ دے تو پھر اللہ حافظ۔ اور وہ ہمیشہ تاک میں بیٹھا رہتا تھا کہ کب موقع ملے اور ایوولیوشن کی بات چھڑے۔
آخر میں ممتاز مفتی تھے ۔ وہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ
آخر میں میں ہوں….. میں جو”میں میں”کے سوا کچھ بھی نہیں۔.
ممتاز مفتی کی یاد میں یادگاری ٹکٹ
پاکستان پوسٹ نے 13 جون 2013 کو ممتاز مفتی کی یاد میں 8 روپے مالیت کے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ ڈاک ٹکٹوں کے اجراءکی تقریب کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ سید غلام پنجتن رضوی اور ممتاز مفتی کے صاحبزادے عکسی مفتی صدر نشین محفل تھے



















