تلاش — ممتاز مفتی
کتاب : تلاش
باب 13 : انوکھا شہنشاہ
ٹرانسکرپشن : نوشابہ جواد
نیچرل، سپر نیچرل
ایک روز قدرت اللہ شہاب سے میں نے کہا
” جناب جب سے روحانیت کا تجربہ ہوا ہے۔ میری تو مت ماری گئی ہے۔ جناب والا، اس سے پہلے تو میں بہت عقل مند آدمی تھا۔ عقل پر بھروسہ کرتا تھا، حقائق پسند تھا۔ زندگی سکون سے گزر رہی تھی۔”
شہاب صاحب بولے ،
یہ جو ہم نے نیچرل اور سپر نیچرل کے خانے بنا رکھے ہیں۔ ہماری بے سمجھی کی وجہ سے ہیں۔ جس بات کو ہماری عقل سمجھ لیتی ہے۔ اسے ہم نیچرل کا نام دے دیتے ہیں۔
جس بات کا ہماری عقل احاطہ نہیں کر سکتی۔ اسے ہم سپر نیچرل سمجھتے ہیں۔ سارا قصور ہماری عقل کا ہے ورنہ سپر نیچرل کا کوئی وجود نہیں۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہماری عقل پر بھید کھل جائیں گے۔ ہر چیز نیچرل نظر آئے گی۔”

