تلاش — ممتاز مفتی

کتاب : تلاش

باب 13 : انوکھا شہنشاہ

ٹرانسکرپشن : نوشابہ جواد

گھنڈی

ہمیں دیکھ کر وہ رک گیا۔ بالٹی زمین پر رکھ دی۔ کہنے لگا ،” کتنی خوشی کی بات ہے۔ آپ تشریف لائے ہیں۔
السلام علیکم۔”
اسکے بعد اس نے ہم سے مصافحہ کیا۔ حال احوال پوچھا۔ پھر بولا ،” ہم آپ کی کیا خدمت کر سکتے ہیں۔” یہ کہہ کر بالٹی کی طرف بڑھا اور بولا۔ ” دودھ پیجئے۔”
جب اس نے ہمیں دودھ پلانے کی ضد کی تو عملے نے کہا۔ ” یہ لوگ ذرا راؤنڈ کر لیں۔ پھر آپ سے دودھ پیئیں گے۔ جب تک آپ انتظار کیجیے۔”
یہ سن کر وہ مطمئن ہو گیا۔ ہم چل دیے۔ جب ہمارا آخری ساتھی اسکے پاس سے گزرا۔ تو اس نے ایک جست بھری اور ہمارے ساتھی کی ٹوپی اتار کر بھاگ گیا۔
اس پر ہم بہت حیران ہوئے۔ ہم سمجھے تھے کہ وہ سٹاف کا آدمی ہے۔
سپرنٹنڈنٹ صاحب مسکرا کر بولے ،” نہیں یہ شخص پیشنٹ ہے۔”
لیکن اس کا برتاؤ؟ ہم نے پوچھا
انہوں نے بات کاٹ کر کہا ،” اس کا برتاؤ بالکل نارمل ہے۔ ذہن میں صرف ایک گھنڈی ہے۔ جب بھی یہ شخص کسی کے سر پہ ٹوپی دیکھتا ہے۔ تو اس پر دیوانگی طاری ہو جاتی ہے۔ اور یہ لپک کر اسکی ٹوپی اتار کر بھاگ جاتا ہے۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button