اظہار کے حوالے سے شخصیتیں تین قسم کی ہوتی ہیں۔ کچھ بند بند کچھ کھلی کھلی اور کچھ کھلی بند۔
بند ہوتی ہے۔ سامنے کچھ دھر خالی ۔ بند شخصیت آڑھتی کی دکان کی طرح ہوتی ہے۔ سامنے کچھ دھرا نہیں ہوتا دکان خالی پڑتی ہوتی ہے۔ مال بوریوں میں بند اندر
گودام میں دھرا ہوتا ہے۔ بوریوں کو دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ ان میں چنے بھرے ہوئے ہیں یا بادام ۔
کھلی شخصیت حلوائی کی دکان کی طرح ہوتی ہے۔ سارا مال باہر تھالوں میں لگا ہوتا ہے۔
کھلی بند حکیم کی دکان جیسی ہوتی ہے۔ شربت باہر دھرے ہوتے ہیں، عرق اندر۔
شبنم کی شخصیت کچھ زیادہ ہی کھلی کھلی ہے۔ دیوان خاص کی طرح محرا میں ہی محرا میں ہیں۔ دروازے ہی دروازے ہیں، کوٹھری کا وجود نہیں ہے۔
شبنم کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بارہ دری ہے۔
شبنم کی شخصیت میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ اس میں کوئی کوٹھڑی نہیں ہے۔
پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے لیکن ایسا ہوتا ہے کہ جس کی شخصیت میں کوٹھڑی نہ ہوا سے بڑے صائب جھیلنے پڑتے ہیں۔
شاید ان مصائب کی وجہ سے شبنم کی شخصیت میں ایک واضح اور نمایاں ٹوٹ ہے جو سرسری نگاہ سے نظر نہیں آتی۔ چونکہ کو ملتا نے اسے ڈھانپ رکھا ہے۔
در حقیقت شبنم کی شخصیت کی بنیادی خصوصیت کو ملتا ہے۔ وہ کومل ہے۔ نازک ہے۔ فریجائل ہے۔ لگتا ہے کہ تیز ہوا چلی تو پتی پتی ہو کر بکھر جائے گی۔ پنجابی میں اسے کیچ دے گلاس ورگی کہتے ہیں۔
موسیقی کی اصطلاح میں کومل کا مطلب ہے آدھی سر یعنی ٹوٹی ہوئی سر۔
موسیقی میں دو قسم کی سریں ہوتی ہیں اٹوٹ اور ٹوٹی ہوئی۔ تیور اور کوئل۔ پتہ نہیں آدھی سرکیوں میٹھی ہوتی ہے کیوں دل کی دھڑکنوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہے۔ تیور شور مچاتی ہے چیختی ہے چلاتی ہے۔ آج کی میوزک کی طرح جو دل کو نہیں ٹانگوں کو جھلاتی راج گنی کہتے ہیں راگ و دھایا میں سارا در دٹوٹی ہوئی آدھی سروں کی وجہ سے ہے۔
شبنم ٹوٹی ہوئی آدھی سر ہے۔ جبھی درد تو جان بنا بیٹھا ہے۔
صاحبو! میں بڑا قلم کار نہیں ہوں کہ ایک آنسو میں غم درد کہہ سکوں۔ اختصار کی صلاحیت سے محروم ہوں۔ پھر بھی مختصر یہ ہے کہ شبنم میں بڑا قلم میں وہ تمام خصوصیات ازل سے موجود تھیں جو بظاہر لائق تحسین سمجھی جاتی ہیں لیکن در حقیقت زندگی کو المیہ بنانے میں کوئی کسر نہیں
چھوڑتیں۔
ا۔ کہ وہ عورت تھی۔
۲۔ کہ وہ حسین تھی۔
کہ وہ کومل تھی۔
کہ وہ شاعر تھی۔
کہ اس کی شخصیت ساری کی ساری باہر دھری تھی۔
شبنم کو حس اور حسن والدہ نے عطا کئے۔ شاعری باپ سے ورثہ میں ملی علم و ادب ماحول نے دیا۔
باپ شہرت زدہ تھا۔ شاعر تھا، عالم تھا، نقاد تھا، محقق تھا استاد تھا، خوش شکل تھا، خوش گفتار تھا۔ شاگردوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔
مداحوں میں طالبات پیش پیش تھیں۔ چاروں طرف سے تحسین بھری نگاہیں گھیرے رکھتیں ۔ سیانے کہتے ہیں اگر حالات اس حد تک سازگار ہو جا ئیں تو ماسٹر زمانسٹر ز بن جاتے ہیں۔ علم وادب کی وینیٹی بت بنا دیتی ہے۔
علم و ادب کا دولہا بن جاؤ تو گھر کوسوں دور ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی اگر درس و تدریس کی محفل آرائی بھی ہو تو سونے پر سہاگہ ہو گیا۔
شاہ جہاں نے جب بیتے سے استدعا کی تھی کہ مجھے بچوں کو پڑھانے کی اجازت بخشی جائے تو اور نگزیب عالمگیر نے سچ کہا تھا۔ ”ابا جان ! ابھی طبیعت سے حکومت کی بو نہیں گئی ۔ بو
جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں ان دنوں پنجاب کے علمی ادبی حلقوں پر چند نیاز مندان پنجاب حکمران تھے۔ ان میں تمام تر صلاحیتیں اور قابلیتیں موجود تھیں ۔ صرف نیاز مندی سے محروم تھے۔ التزاما بے نیاز تھے۔ ان کا سکہ چلتا تھا۔ گردنیں اکڑی ہوتیں۔
کلاہ کج انداز کلف زدہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات فیشن بن جاتی تھی۔ ان کی ذاتی رائے حتمی حقیقت سمجھی جاتی تھی۔
ان میں تخلیقی صلاحیتیں تو تھیں لیکن تخلیق کے عمل کی طرف خصوصی توجہ نہ تھی۔ جو شہرت کے جھولے میں براجمان ہو وہ تخلیق کی مشقت میں کیوں پڑے۔ ان کے علمی ادبی اور درسی تفاخر کا یہ عالم تھا کہ خدا بنے بیٹھے تھے۔
صاحب یہ سنی سنائی نہیں آنکھوں دیکھی بات ہے۔ شبنم کے والد اس خدائی ٹولے کے ایک معتمد رکن تھے۔
شبنم کی ماں گجرات کی گجری تھی۔ تعلیم یافتہ تھی، کلچر تھی، سوہنی تھی، کچے گھڑے کی روایت سے واقف تھی۔ جانتی تھی کہ حسین ہے۔ اسے حسن کا مان تھا۔ اس حقیقت سے واقف نہ تھی کہ بیوی کے حسن کا مانوسیت کی دیمک چاٹ لیتی ہے۔ گمان غالب ہے کہ وہ
سمجھتی تھی کہ خاوند بیوی کا رشتہ محبت کا رشتہ ہے۔
صاحبو! عورت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ بجھتی ہے کہ خاوند بیوی کا رشتہ محبت کا رشتہ ہے۔ عورت نے آج تک اس حقیقت کو نہیں سمجھا کہ خاوند بیوی کا تعلق ڈپلو میٹک تعلق ہے۔ خاوند جیت لینا بہت آسان ہے اسے کیپ کرنا سدھائے رکھنا بہت مشک ہے بلکہ نا ممکن ۔
پتہ نہیں شبنم کی والدہ نے میاں کے گرد نسائی فینز کا جمگھٹا کیسے برداشت کر لیا۔ لیکن جب اسے پتہ چلا کہ میاں نے چوری چوری ایک مداح سے نکاح پڑھوا لیا ہے تو وہ زخمی چیتے کی طرح تن کر کھڑی ہو گئی ۔
پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ مرد عورت کا تعلق چاہے لاکھ پردوں میں ہو پھر بھی چھپائے نہیں چھپتا۔ اور کوئی کھولے نہ کھولے خود میاں کی آنکھ کھول دیتی ہے۔
شبنم کی والدہ کا مان ٹوٹ گیا۔ ریزہ ریزہ ہو گیا۔
وہ اسے برداشت نہ کر سکی۔ احتجا جا بچوں کو لے کر گجرات چلی گئی۔
میاں تو علمی ادبی دنیا کے دولہا تھے وہ اپنی ٹئیں میں رہے۔ بیوی وقار کی ماری ہوئی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مصالحت کی کوئی کوشش نہ ہوئی ۔ تین سال بچوں کو ایسی معاشی مشکلات میں گزر بسر کرنا پڑا جس کے وہ عادی نہ تھے۔
یہ علیحدگی بچوں کے لیے شاک کی حیثیت رکھتی تھی۔
ادھر تین سال میں سوتیلی کو پتہ چل گیا کہ وہ تو شاعر اور عالم کی مداح تھی لیکن شادی ادیب سے نہیں بندے سے ہوتی ہے۔ و چل کہ وہ اور علم لیکن ادیب اور ہوتا ہے بندہ اور ۔ اس انکشاف پر اس نے میاں سے علیحدگی اختیار کرلی اور شبنم کی والدہ اور بچے اپنے گھر واپس آگئے۔
شبنم کے والد پھر سے گھر تو آگئے لیکن ان کی توجہ باہر ہی بھٹکتی رہی۔ سیانے کہتے ہیں گھر کی آبادی کا انحصار گھر والے کی توجہ پر مبنی ہوتا ہے۔ شبنم کے والد کی توجہ اس قدر بکھر چکی تھی کہ گھر واپس نہ آسکے۔ اس بے توجہی کو محسوس کر کے کئی ایک بچے الگ ہو گئے۔ لڑکیوں کی شادیاں ہو گئیں ۔ لڑکا گھر چھوڑ گیا۔ باپ نے تیسری شادی رچائی تو ماں پھر سے گجرات چلی گئی۔ لیکن بیٹیوں کو ساتھ نہ لے گئی ۔ اس وقت شبنم کی عمر میں سال تھی ۔
چھوٹی کا بیاہ ہو گیا تو شبنم سوتیلی ماں کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔ سوتیلی کی ساری گھن گرج شبنم پر بری اور وہ بری طرح سے دکھ سے بھیگ گئی زخمی ہو گئی۔
صاحبو! قدرت بڑی شاعرہ بنانے کے لیے کیا کیا جتن کرتی ہے۔ درد کی بھیگ نے شاعرہ کو جگا دیا۔ ایک کیل تو ٹھیک گیا۔ دیر کی بات ہے میں نے ایک فلم دیکھا تھا۔ اس فلم میں جب بھی ہیروئین کسی تلخ تجربے سے گزرتی جو اس کی روح کو جھلا دیتا تو فلم ڈائر یکٹر موچی کی دکان دکھاتا۔ موچی جتے کے سول میں ایک کیل ٹھونک دیتا۔
درد کا ایک کیل تو شبنم کی روح میں ٹھک گیا۔
دوسرا کیل ٹیڑھا تھا۔ تکلیف دہ تھا۔ لیکن لازم تھا۔ اندر کی شاعرہ کو پھل پتیاں لگانے کے بغیر چارہ نہ تھا۔
اندر کا خوابیدہ تخلیق کار ایک حبشی محنت کش کے مترادف ہوتا ہے جو شدت کے تازیانوں سے لہولہان ہوئے بغیر نہیں جاگتا۔
تو کی حیرت جگانے کے لیے ”میں“ کو تیاگ دینا لازم ہوتا ہے۔ مشکل کام تھا۔ شبنم کی ” میں بڑی طرح دار تھی، جس تھی لازم ہوتا ہے۔ مستقل کام تھا۔ حسن تھا، کو ملتا تھی۔ ایسی رنگیلی میں سے کون باہر نکلتا ہے۔ لیکن قدرت بڑی بے رحم ہوتی ہے۔
شبنم پر ایسے تازیانے چلائے کہ وہ لہو لہان ہوگئی ۔ خود کی سدھ بدھ نہ رہی۔ حوالگی اور سپردگی کا ایسا طوفان چلا کہ ”میں“ کی کنچلی اتر گئی ۔ شبنم کی سدھ ایسے بسرائی کہ اس نے از خود اپنی ”میں“ کی ساری بتیاں بجھا دیں۔
ایک جذباتی گھٹن نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس گھٹن میں سے نکلنے کا ایک ہی رستہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اظہار !
اظہار نے شہرت کو ہوا دی۔ ابھی کھل کر چمکی نہ تھی کہ گھر والوں نے اس کی شادی کر دی۔ میاں روشن خیال تھے ان میں انڈر
اسٹینڈنگ تھی، سبھی کچھ تھا لیکن شہرت سے الرجک تھے مجبور تھے۔ انہوں نے اظہار پر پابندی لگا دی۔ بیچاری دم پخت ہو کر رہ گئی ۔ یہ بہت بڑی اذیت تھی۔ شبنم نے احتجاج کیا۔ یہ انوکھا احتجاج تھا۔ اس نے خودکشی کر لی ۔ گھر والوں نے اسے باورچی خانے میں دفتا
دیا۔ دس سال اس کی لاش آلو گوشت اور ماش کی دال میں کفنائی پڑی رہی ۔ ۱۹۸۰ء میں اظہار پر پابندی اٹھالی گئی۔ لیکن وہ کہتی ہے اب کیا ہے۔ جب پھول کھلے ہوئے تھے بہار آئی ہوئی تھی، تب باڑ لگا دی۔ جب نغمے بے تاب تھے تب بانسری کے چھید بند کر دیئے ۔ اڑان کے پر کاٹ دیئے ۔ اب کیا ہے؟ اب تو کانٹے ہی کانٹے ہیں۔ خود کو لہولہان کر چکی ۔ آپ کو کر دوں گی۔
شبنم کی شخصیت بہت ہٹ کر ہے۔ تخلیق کار ہونے کے باوجود اوکھی کی نسبت دکھی زیادہ ہے۔ اور دکھی بھی اک ذرا چھیڑیئے پھر دیکھئے۔
شبنم عام عورت نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ اس میں تاریں لگی ہوئی ہیں۔ وہ آپ ہی آپ بیٹھی بھن بھن کرتی رہتی ہے۔ اسے عام لوگ رہتی پسند نہیں آتے ۔ سیدھے چلنے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ٹیڑھی چال والے فنکار اور دانشور اچھے لگتے ہیں۔ ۔ راوردانشور لگتے ہیں۔۔شبنم ملنسار خاتون ہے۔ تخلیق کاروں سے رابطہ رکھتی ہے۔ تنہائی پسند نہیں۔ ہاں تخلیق کے وقت تنہائی چاہتی ہے۔
شبنم کو خوشی راس نہیں آتی ۔ ہر خوشی کسی بیتے ہوئے دکھ کی یاد دلاتی ہے۔ دل میں دکھ کا کانٹالگا ہوا ہے۔
جانے یا ان جانے میں شبنم کو ساری دنیا سے شکایت ہے کہ اس کے ساتھ ویسا سلوک نہیں کیا گیا جس کی وہ مستحق تھی۔ بے شک شبنم کی یہ شکایت سچی ہے لیکن یہ ان کہی شکایت تخلیق کے حوالے سے اس کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے۔
پہلے دنیا نے اس کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیں۔ اب احتجاجا وہ خود اپنے پاؤں میں زنجیر ڈالے بیٹھی ہے۔ لیکن جب تک وہ لاگ لگاؤ کی دلدل کو نہیں پائے گی۔
جب تک وہ پاؤں کی اس زنجیر سے جو اس نے خود ڈال رکھی ہے آزاد نہیں ہو گی۔ اس کا فن ان بلندیوں کو نہیں چھو پائے گا جو اس کا مقدر نظر آتی ہیں۔
