Okhay Olray

کھیر پکائی جتن سے

کھیر پکائی جتن سے

ممتاز مفتی دنیائے ادب کا نو گز ا ہے جو آج بھی اپنے گز گز بھر کے نقش قدم چھوڑ تا محو خرام ہے۔ اس کی یہی حرکت ہم پانچ چھ فٹوں کو نہیں بھاتی۔ نوگزوں کو تو قبروں میں ہونا چاہیے پھر ہم ان کا احترام کریں گے۔ ان کی قبروں پر پھول چڑھائیں گے۔ خیر چلو اگر زندہ بھی ہے تو گوشہ نشیں ہو جائے یا کم از کم نئے سے نئے شہ کار لکھنا ہی چھوڑ دے ۔ لیکن اس عمر میں جب بھی اس کے ہم عمر بیشتر ادیب اپنی سابقہ تخلیقات کی جگالی کرتے ہیں یہ نہ صرف انداز بلکہ موضوعات کے لحاظ سے بھی تازہ کار اور بو قلموں ہے۔
اگر چہ ممتاز حسین نوے برس کا ہو چلا ہے لیکن افسانہ نگار ممتاز مفتی بابوں سے عقیدت کے باوجود شوخ و شنگ فنکار ہے۔ وہ پھبتیاں کرتا ہے چٹکیاں لیتا ہے چٹکیاں بجاتا ہے۔ جن جوانوں کی حرکتوں پر بزرگ لاحول پڑھتے ہیں ان کی ہمدردی سے عکاسی کرتا ہے۔ وہ آج بھی So What قسم کے نوجوانوں کی داستان معاشقہ پوری حقیقت پسندانہ جزئیات کے ساتھ لکھتا ہے۔ اسے بغیر سائیلنسر موٹر سائیکل چلانے والوں اور جین اور جیکٹ پہننے والوں میں بھی نازک جذبات اور خالص گہرے انسانی جذبات رکھنے والے انسان نظر آتے ہیں۔ خود بھی جانیوں سے سچ سچ کا عشق کر لیتا ہے تا کہ بیان میں محض مشاہدے کی تماش بینی کی بجائے تجربے کی سچائی شامل ہو۔ پھر اپنی عمر دیکھ کر اس حرکت پر حکم کا پردہ ڈال دیتا ہے۔
ممتاز مفتی کی ادبی تخلیقات کی بنیادی خصوصیت سچ ہے۔ لیکن یہ الہامی سچ کی طرح از لی وابدی اور ہمیشہ کے لیے ایک ہی نہیں۔
یہ انسانی سچ ہے۔ متغیر مختلف حالات میں مختلف ۔ ایک دن ایک سادہ دل دوست نے ایک مقبول ( ہر طرح سے مقبول ) شاعر سے پوچھا کہ تمہارے نت نئے عشق مشہور ہیں، پھر عشق کی استواری اور خلوص وفا کا کیا ہوا جس کا دعوئی تمہاری شاعری میں ہے۔ شاعر نے جواب دیا کہ میں نے بیک وقت ہمیشہ ایک ہی عشق کیا ہے اور اس عشق کے دورانیہ میں پوری طرح مخلص اور وفا شعار رہا ہوں ۔ مفتی صاحب کے بیچ کی بھی یہی کیفیت ہے۔ عمر کے ہر دور میں جس سچ پر وہ یقین رکھتا ہے اس کے اظہار میں اس نے کبھی ریا کاری مصلحت یا مصالحت سے کام نہیں لیا۔ اسے صدق ہنر کا اتنا احترام ہے کہ شروع شروع میں جب اس کا عریاں ادبی سچ روایتی معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں تھا تو اس نے سچ میں ملاوٹ کرنے کی بجائے اپنے نام ممتاز حسین پر ممتاز مفتی کا پردہ ڈال دیا۔ طویل عرصے تک اس کے ساتھی اساتذہ اور شاگردوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا استاد ممتاز حسین ممتاز مفتی کے نام سے کشت ادب میں کیا گل کھلا رہا ہے۔ ادبی زندگی کے آغاز میں شہرت کتنی عزیز ہوتی ہے یہ ادیب ہی جانتے ہیں لیکن مفتی نے اپنی شہرت اور ادبی عزت بیچ پر قربان کر دی۔
ممتاز مفتی انسان کے شعوری اور لاشعوری جذبات کے تضادات کا مصور ہے۔ وہ ان تضادات سے اپنے افسانوں کا تانا بانا بنتا ہے۔ اس کے ہاں جہیز دینے کی توفیق نہ رکھنے والا باپ آدھی رات کو سیڑھی کے ذریعے گھر سے فرار ہونے والی بیٹی کی سیڑھی کو مضبوطی سے پکڑے رہتا ہے تا کہ کہیں سیڑھی کے کھڑکنے سے گھر میں کسی کی آنکھ نہ کھل جائے اور صبح کو اپنی بیوی کے ہمراہ اپنی نافرمان بیٹی کے فرار ہونے کی قبیح حرکت پر زار و قطار روتا ہے۔ شادی شدہ زندگی کی یکسانیت سے تنگ آیا ہوا خاوند نیم شب کھڑکی کے راستے سے اپنے ہی بیڈ روم میں دزدانہ داخل ہو کر زندگی کے رومان کی تجدید کرتا ہے۔ عقل پرست حاجی حج کے روایاتی پہلوؤں کا مذاق اڑا رہا ہے کہ بارش شروع ہو جاتی ہے اور عقل مجسم حاجی چھلانگ لگا کر میزاب رحمت (خانہ کعبہ کا پرنالہ ) کے نیچے جا کر چھینٹے اڑاتا ہے۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ ان کمزوریوں اور ان تضادات کا شعور مفتی کو ایسے لوگوں سے نفرت یا حقارت پر مائل نہیں کرتا بلکہ اس کی بنا پر وہ اسے زیادہ عزیز ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس کے حلقہ احباب میں رنگین مزاج لوگوں کا جھمگٹا لگا رہتا ہے۔
ممتاز مفتی نے علم کے زور پر افسانے لکھنے شروع کئے ۔ نہ اسے زبان دانی کا دعوی تھا نہ تخلیق ادب کا۔ اس کا سرمایہ انسانوں کا علم تھا۔ ان کے شعور کا علم ۔ تحت الشعور کا علم ۔ اس علم کے بل بوتے پر اس نے افسانوں میں ایسے زندہ کردار تخلیق کئے جو افسانوں کے ہے فریم سے نکل کر جیتے جاگتے لوگوں کی دنیا میں دھما چوکڑی مچانے لگے ۔ اگر آپ کے ڈرائنگ روم کی تصویر فریم کی چوکھٹ سے باہر نکل کر آپ کی محفل میں شریک ہو جائے تو آپ پر کیا بیتے گی ؟ یہی کیفیت ممتاز مفتی کے قاریوں کی ہوتی ہے۔ رسالے یا کتاب میں اس کا افسانہ پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی آپا کوئی اسمارا ” الفاظ کے حلقے سے نکل کر ان کی محفل میں شریک ہو جاتی ہے۔
افسانوں کے علاوہ مفتی نے رپورتاژ لکھے۔ ”لبیک ہند یا ترا ان میں مفتی کے مشاہدے کی گہرائی اور انداز بیاں کی دلکشی اپنے عروج پر تھی۔ حقیقی دنیا کے حقیقی واقعات، مقامات اور کرداروں کی مصوری خیالی افسانوں سے مختلف اور مشکل ہوتی ہے۔ یہ کام کامیابی سے ہو جائے تو اس کا تاثر زیادہ شدید زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ لبیک کا تو ایک ایک فقرہ لازوال علامتوں کا مظہر ہے۔

حج کے ارکان کی طرح جو اشاریت اور رمزیت سے بھر پور ہیں۔ اس میں قدرت اللہ شہاب بھی ایک علامت بن گیا ہے۔
ممتاز مفتی نے خاکے اور شخصیتیں بھی لکھی ہیں ۔ پیاز کے چھلکئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اوکھے لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اوکھے لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے ملنے والوں اپنے دوستوں اور اپنے واقفوں کے خاکے لکھ رہا ہے۔ اس کے خاکوں میں یکسانیت کا عنصر ہے۔
شاید اسی یکسانیت کا نام انفرادیت یا انفرادی اسلوب ہے۔ لیکن ہر صورت میں ایک ہی یار دیکھنا صوفی کا معراج ہو تو ہو ادیب کا نہیں ۔ سبھی کردار پیاز کے چھلکتے ہیں۔ سبھی اتھاہ گہرے سبھوں کی شرافت کے غلاف میں سے سور تھوتھنی نکال لیتا ہے۔ انہیں منفرد بنانے کے شوق میں وہ سبھی کو ایک جیسے اوکھے بنا دیتا ہے۔ مفتی کہتا ہے کہ ان خاکوں میں یکسانیت کی وجہ یہی ہے کہ بنیادی فطرت بہت حد تک ایک سی ہوتی ہے۔
شخصیت نگاری میں مفتی کے کیمرے میں تصویر کشی کے لینز کی بجائے ایکسرے کا آلہ لگا ہے۔ لوگ رنگ برنگ کپڑے پہن کر اور میک اپ کر کے اس کے سامنے آتے ہیں لیکن اس کا کیمرہ ان کے جسم کی نہیں فطرت کی تصویر کھینچ لیتا ہے۔ چند کو یہ اپنے ظاہر سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتی ہے۔ بہت سوں کو اپنی بگڑی صورت معلوم ہوتی ہے۔ مطمئن دونوں ہی نہیں ہوتے۔
ممتاز مفتی ایک کثیر الجہت ادیب ہے۔ افسانہ نگار تو خیر وہ ہے ہی اور اس نصف صدی کا اہم ترین افسانہ نگار لیکن اس نے ڈرامے بھی لکھے۔ ناول لکھے رپورتاژ لکھنے خاکے لکھے اور آج کل وہ سچے سادہ مسلمان کی تلاش میں ہے۔ ان تمام اصناف ادب میں وہ ان کے فنی تقاضے پورے کر رہا ہے کہ نہیں یہ تو ناقدین بتاتے رہیں گے لیکن سچے ادب کے بنیادی تقاضے احسن طور سے پورے کر رہا ہے۔ اس کی وجہ اس کا فنکارانہ عجز ہے۔ وہ خالق ہوتے ہوئے بھی اپنی مخلوق پر اپنی رضا نہیں ٹھونستا ۔ ان کی فطرت کے تقاضے سمجھ کر ہے۔ اس کی ان کے کردار کشی کرتا ہے۔ اسی لیے اس کے کردار جیتے جاگتے لوگ ہوتے ہیں۔ نیکی بدی کے تضادات سے بھر پور ۔ اس لیے منفرد اور دلچسپ۔
ممتاز مفتی کی زندگی اور فن میں قدرت اللہ شہاب سے ملاقات ایک اہم موڑ ہے۔ مفتی ہمیشہ سے پوجنے کے لیے مافوق الفطرت شخصیتوں کی تلاش میں رہا۔ عقیدت کے نذرانے کبھی ایک بابے کی چوکھٹ پر ڈھیر کرتا کبھی دوسرے بابے کے آستانے پر۔ کچھ عرصہ کوئی اور نہ ملا تو اپنے بیٹے عکسی کو ہی طاق عقیدت میں سجالیا۔ پھر اس کی ملاقات قدرت اللہ شہاب سے ہو گئی اور وہ در بدر کی تلاش سے نجات پا گیا اور اسی در کاہور ہا۔ اس نے اپنی تازہ ترین اہم کتاب الکھ نگری شہاب کی بزرگی سے پردہ اٹھانے کے لیے وقف کر دی ہے۔ نہ جانے وہ کون سا قرض ادا کر رہا ہے۔
زبان و بیان کے سلسلے میں مفتی نہ گرامر کا غلام ہے نہ لغت کا۔ الفاظ اس کے لیے صرف اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان کا بالذات کوئی تقدس نہیں ۔ وہ مطلوبہ تاثر پیدا کرنے کے لیے الفاظ اور تراکیب کو توڑنے مروڑ نے سے نہیں جھجکتا۔ اس عمل میں روزمرہ یا محاورہ کی صورت بگڑ جائے تو اسے کوئی تشویش نہیں ہوتی۔
لفظ ٹکسالی اردو کا نہ ہو تو وہ اسے کھوٹا سکہ نہیں سمجھتا۔ اس سلسلے میں اس نے اپنی ٹکسال لگا رکھی ہے جو اب قبول عام کا درجہ حاصل میں اس۔ کر کے سکہ رائج الوقت بن چکی ہے۔ اسی لیے اس کے بیان میں ندرت ہے انفرادیت ہے زندگی ہے۔
زبان کے سلسلے میں مفتی کو الفاظ کی صوتی اہمیت کا شدید احساس ہے جس طرح حفیظ جالندھری شعر میں صوتی تاثر کا سب سے بڑا شاعر ہے اسی طرح ممتاز مفتی نثر میں صوتی تاثر کا ادیب ہے۔
ممتاز مفتی کی ایک نادر خصوصیت یہ ہے کہ جس کسی میں بھی وہ کچھ تخلیقی اہلیت دیکھتا ہے اسے لکھنے پر اکساتا ہے۔ ہمت افزائی کرتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ اس نے پچاس کی دہائی میں لکھ یار کے نام سے ایک انجمن بنائی جس کا مقصد خوابیدہ ادیبوں اور نئے لکھنے والوں کو لکھنے پر مائل کرنا تھا۔ دنیائے ادب میں آج کئی معتبر نام ہیں جنہوں نے مفتی کی تحریک پر لکھنا شروع کیا۔ اس سے ادب سے مفتی کے بے لوٹ لگن کا اظہار ہوتا ہے۔

ہم نے ایک ٹولی بنا رکھی ہے جس کا نام ہے چھڈ یار یہ ٹولی ہر سال پاکستان کے خوبصورت علاقوں کی سیر کو جاتی ہے اور ہفتے دس دن تک ذاتی الجھنوں اور معاشرتی تفکرات سے آزادانہ زندگی گزارتی ہے۔ اپنی سالانہ پاکستان گردی میں ایک دفعہ ہم لیپاویلی گئے جہاں ہم فوج کے مہمان تھے۔ وہاں مفتی کی تحریک پر ادبی رجحان رکھنے والے چند نو جوان لیفٹینوں کپتانوں نے افسانے لکھنے شروع کر دیئے ۔ جب کمانڈنگ آفیسر کو پتہ چلا تو اس نے ایک تقریب میں کہا کہ ابھی تو میں ممتاز مفتی کے ادب سے خاموش ہوں ان کے جانے کے بعد آپ لوگوں سے نبٹوں گا۔
ممتاز مفتی کی تمام تحریروں کی بنیادی خصوصیت بیان کی دلچسپی ہے۔ ذکر عشق و عاشقی کا ہو نفسیاتی بھول بھلیاں ہوں یا صوفیانہ مشاہدات و واردات ان کا بیان دلچسپ ہوتا ہے۔ پڑھتے رہنے کو جی چاہتا ہے۔ مفتی کے جملوں میں ڈرامائی کیفیت انوکھا پن، صوفی تاثر اور بصری Image ہوتے ہیں۔ قاری اس کے نظریے سے اتفاق کرے نہ کرئے اس کے بیان کی دلچسپی کے طلسم میں کھو جاتا ہے۔ اس کے پیرا یہ بیان سے لطف اندوز ہوتا ہے اور پڑھتے رہنے پر مجبور ۔ مفتی کی ہر دور کی تحریروں میں یہ قدر مشترک ہے۔ وہ کل بھی قابل مطالعہ تھا آج بھی Readable ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button