لکھ یار

“حیات ” قسط 4 “عظمیٰ خرم “

#پری_اپرووڈ 

#حیات_پارٹ_4

#حیات

پارٹ 4

از قلم ،”عظمیٰ خرم”

ساری عمر ماں باپ اور بھائی کی لاٹھی بننے والی بختاور اب شیرنی تھی جسے اپنے بچوں کی اور خود کی حفاظت کرنی تھی ۔

ایک مہینے بعد بختاور کا ہسپتال میں نوکری کا پہلا دن تھا ۔اب یہاں ایک اور امتحان اس کا منتظر تھا اگر تینوں بچوں کو اسکول بھیجتی تو سب سے چھوٹے احد سلطان کو کس کے آسرے پر چھوڑتی ؟لہٰذا اس نے گیارہ سالہ بڑی بیٹی کو اسکول سے اٹھوا لیا ۔کیا کیا خواب نہیں دیکھے تھے اس نے کہ وہ کم از کم دس جماعتیں تو پڑھا ہی لے گی اپنی بیٹی کو ۔پر شائد غریب کے خواب بھی کانچ کے ہوتے ہیں ۔بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں ۔بارہ سالہ شازیہ عرف شازی چھوٹی سی عمر میں ڈھائی سالہ بچے کی ماں بن گئی تھی ۔سارا دن احد کو گود میں لیے کھلاتی رہتی ۔بختاور کے لئے یہ نوکری بہت بھاری تھی سارا دن ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کرنی ،کبھی چادریں تبدیل کرو کبھی مریضوں کو کپڑے تبدیل کرواؤ ۔کبھی کھانا بانٹنے کی ڈیوٹی ۔غرض صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک سانس لینے کا موقع بھی نہ ملتا اس پر آتے جاتے لوگوں کی ترسی اور للچائی ہوئی نظریں ،زو معنی مسکراہٹیں ہر لمحہ ہر گھڑی وہ خود کو ایک نئے محاذ پر کھڑا پاتی ۔اس کا دل اس کے جسم کا رواں رواں بین کرتا ۔کاش اس کا حشمت زندہ ہوتا تو آنکھیں نکال لیتا ان لوگوں کی ۔زندگی بھی عجیب شے ہے کسی کی محبّت آپ کو مہارانی بنا دیتی ہے اور کسی کی محبّت نوکرانی ۔جیسے اب وہ اپنی اولاد کو حق حلال کھلانے کے لیے بنی ہوئی تھی ۔دن رات کیسے گزرنے لگے کچھ پتا نہ چلا.

دو بجے ہانپتی کانپتی گھر کو بھاگتی آتے ہی کھانا پکاتی بچوں کے آگے رکھتی ۔اور پھر اگلے دن کی جنگ کے لئے اپنے ریزہ ریزہ ہوتے وجود کو جوڑنے لگتی ۔

سب لوگ ایک جیسے نہیں تھے ۔کچھ ایسے بھی تھے جن کی نظر میں ديد لحاظ تھا ۔پر کیا کریں کے اکثریت تماشبینوں کی تھی ۔دوسرے کے گھر کو لگی آگ پر ہاتھ تاپنا شیوا تھا جن کا ۔محلے کی بہت سی عورتوں نے اس پر تھو تھو کی کہ دیکھو جی ابھی شوہر کی قبر کی مٹی بھی نہ سوکھی تھی اور اس نے باہر نکلنے کا بہانہ ڈھونڈ لیا ۔پر بختو کو ان سب سے کوئی سرو کار نہ تھا ۔کہ کتوں کا کام ہی ہے بھونکنا ۔اسے اچھے سے پتا تھا یہ سب تماشا دیکھنے والے ہیں انہیں کیا مطلب کسی کی روٹی روزی پوری ہو نہ ہو ۔

عدت تو وہ تب کرتی نا جب کوئی اسے اور اس کے بچوں کو بیٹھا کے کھلانے والا ہوتا ۔اچھا ہوا جو اس کے ماں باپ عرصہ پہلے ہی داغ مفارقت دے گئے تھے زندہ بھی ہوتے تو کیا کر لیتے ۔بس ایک نابینا بھائی بچا تھا جو دور جا بسا تھا ۔شہر سے دور کسی گاؤں میں بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا اور بدلے میں لوگ حافظ جی کو کھانا دے جاتے ۔

بختاور کے لئے زندگی بڑی سخت تھی ایک دن وہ گھر جلدی آ گئی آتے ہی بچوں کے لئے کھانا چڑھانا تھا اس لیے سبزی کاٹنے بیٹھ گئی ۔اس نے بیٹی کو تاکید کر رکھی تھی کہ اس کے آنے سے پہلے سب سے سستی والی سبزی خرید لیا کرے تا کہ وہ آتے ہی فٹافٹ چڑھا دیا کرے ۔شازی بھی آج اس کے جلدی گھر آنے سے خوش ہو گئی تھی ،”اماں تجھے پتا ہے یہ سبزی مفت میں آئی ہے،سبزی والے بھائی نے آج بھی مجھ سے پیسے نہیں لئے،اس لیے پورے تین دن کے پیسے جمع ہیں میرے پاس”۔شازی نے خوشی سے اماں کو بتایا کیوں کہ اتنا تو وہ جانتی تھی کہ جب سے ابا فوت ہوا ہے اماں پیسے بہت دھیان سے خرچ کرتی تھی ۔بختاور نے چھری ہاتھ میں لیے حیرانی اور پریشانی سے شازی کی بات سنی ،”کیوں ؟کیوں نہیں لئے اس نے پیسے ؟”شازی بولی ،”پتا نہیں اماں !میں تو روز دیتی ہوں پر وہ کہتا تم پیسے نہ دیا کرو بس سبزی لے لیا کرو جو مرضی جتنی مرضی ،بس وہ مجھے سب سے آخر میں سبزی دیتے ہیں تا کہ کسی کو پتا نہ چلے کہ میں نے سبزی مفت لی ہے “۔بسس یہ بات سننے کی دیر تھی بختاور کا منہ غصے سے لال سرخ ہو گیا اس نے غصے میں اٹھ کر شازی کو زور کا تھپڑ رسيد کیا ،”ارے عقل کی اندھی وہ تین دن سے پیسے نہیں لے رہا اور تو مجھے اب بتا رہی ہے،چل! ابھی چل میرے ساتھ آج اس کا ادھار تو میں چکاؤں گی۔بڑا آیا حاطم طائی کا پتر “۔

بختاور نے شازی کو ساتھ لیا اور سبزی والے کے ٹھیلے پر پہنچ گئی ۔بختاور ذرا فاصلے پر تھی جب کہ شازی آگے آگے تھی ۔جیسے ہی شازی سبزی والے کے ٹھیلے کے قریب پہنچی سبزی والا چہک کر بولا ،”ارے واہ آج تم دوبارہ آ گئی، کوئی چیز بھول گئی تھی کیا ؟”شازی کا رنگ سفید پڑ چکا تھا تبھی بختاور چیل کی طرح سبزی والے پر جھپٹی اور شازی کو اپنے پیچھے کر لیا ،”کیوں بے !کیا لگتا ہے تو ہمارا ؟بچی سے پیسے کیوں نہیں لئے تو نے ؟” بختاور کی آواز اتنی بلند اور سخت تھی کہ سبزی والا اپنے ہی ٹھیلے کی آڑ لینے پر مجبور ہو گیا ،”نن نن ۔۔۔نہیں باجی میں تو ویسے ہی یتیم بچی کر کے نہیں لئے پیسے “۔بختاور کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں ،”بے غیرت انسان تو نے کیا سمجھا میری بچی کوئی تر نوالہ ہے جسے تو نگل جائے گا ،حرام خور جان نکال لوں گی میں تیری اگر آئیندہ تو نے میری بچی کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی دیکھا”،سبزی کاٹنے والی چھری اب تک اس کے ہاتھ میں تھی ،سبزی والے نے قربانی کے بکرے کی طرح اس کے لہراتے چھری والے ہاتھ کو دیکھا ۔ بختاور نے غصے میں اسے اس کے ٹھیلے پر دھکا مارا اور پچھلے تین دن کے سارے پیسے اس کے منہ پر دے مارے ۔کتنے ہی آنے اور پیسے اس کی آنکھوں منہ اور جسم پر پتھروں کی طرح آن لگے۔سارے محلے کے لوگوں نے تماشا دیکھا ۔پر اس ایک واقعے نے بہت سے لوگوں کی ،”بد نیتوں”، کو لگام ڈال دی وہ جان چکے تھے کہ ان کا پالا ایک غیرت مند عورت سے پڑا تھا۔

بعد میں بختاور کو احساس ہوا کہ اسے شازی کو خود یہ بات سمجھانی چاہیے تھی کہ کوئی بھی چیز ،”مفت “،نہیں ملتی اب ان کے سر پر ،”سايبان”،نہیں رہا تھا اور اس لیے انہیں سخت طبیعت بننا تھا ورنہ یہ لوگ ایسے اژدھے تھے جو اگلے کو سالم نگل جاتے تھے اور ڈکار بھی نہ لیتے تھے ۔

بختاور کے لئے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق تھا اسے اپنی بیٹی کو خود سے زیادہ مضبوط بنانا تھا ۔

زاہد اور حامد اکٹھے اسکول جاتے اور اکٹھے واپس آتے تھے پر اب آہستہ آہستہ زاہد اور حامد نے پر پرزے نکالنے شروع کر دیے تھے ۔اکثر اسکول سے ان کی شکایتیں آتیں کہ وہ دونوں اسکول میں لڑائی جھگڑا کرتے اور پھر کئی کئی دن اسکول سے غایب رہتے ۔بختاور سے آے دن دونوں پٹتے پر دونوں میں سے کوئی بھی سدھرنے کو تیار نہ تھا ۔بختاور اچھے سے جان چکی تھی کہ وہ کچھ بھی کر لے وہ اپنے بچوں کا باپ نہیں بن سکتی تھی ۔ ایک ہی کام ہو سکتا تھا یا تو وہ ان کی نگرانی کر لے اور یا انہیں کما کر کھلا دے ۔تین مہینے ہونے کو آے تھے پر بختاور کی تنخواہ اور حشمت کی پینشن چار بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے نا کافی تھی ۔اب تو وہ نوراں سے بھی شرمندہ ہوتی کہ پچھلے دو مہینے سے وہ اس کا قرض نہیں لوٹا پائی تھی ۔بیچاری بختاور ایک ہی وقت میں کتنے محاذوں پر بقا کی جنگ لڑ رہی تھی ۔محض چند مہینوں میں ہی اس نے یہ سبق سیکھ لیا تھا کہ بچوں کی صرف روٹی روزی ہی نہیں تربیت بھی نا کافی تھی ۔

ایسے میں اس کے ساتھ کام کرنے والی برکت بی بی نے اسے ،”دارلشفقت”، کے بارے میں بتایا ۔یہ حکومت پاکستان کی طرف سے بنایا گیا ایک ایسا ادارہ تھا جہاں یتیم ،مسكين اور لاوارث بچوں اور بچیوں کی پرورش کی جاتی تھی انہیں حکومت کے خرچے پر تین وقت اچھا کھانا اور کپڑے بھی دیے جاتے تھے ۔بچوں کو وہیں پر موجود اسکول میں مفت میعاری تعلیم و تربيت دی جاتی تھی ۔اسی طرح وہاں علاج معالجے کی سہولت بھی ميسر تھی ۔بختاور اسی شش ؤ پنج میں مبتلا تھی کہ کیا کرے ۔اسے جلد از جلد کسی نہ کسے فیصلے پر پہنچنا تھا ۔

تبھی اسے اسکول سے بلاوا آ گیا زاہد نے اپنے سے بڑی جماعت کے بچے کا سر پھوڑ دیا تھا ۔ماسٹر صاحب نے بختاور کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ زاہد کو وہ مزید اسکول میں برداشت نہیں کر سکتے ۔صدمے سے چور بختاور گھر پہنچی اور آتے ہی زاہد پر پل پڑی ،”کیوں مارا تو نے اس بچے کو ؟بہت شوق ہے تجھے بد معاشی کرنے کا ؟ارے بولتا کیوں نہیں “۔ زاہد روتے ہوے بولا ،”اماں اس نے لڑائی شروع کی تھی اس نے سارے بچوں کو بتایا کہ زاہد کی اماں ہسپتال میں،” ماسی “،ہے ۔کچرا صاف کرتی ہے ۔” بختاور نے دو تھپڑ لگاے زاہد کو اور چیخ کر بولی ،”تو ؟ تو کیا ہوا اگر اس نے ایسا کہا تو ؟تیری کون سی شان میں کمی آ گئی اس کے ایسا کہنا سے کہ تو نے اس کا سر ہی پھوڑ دیا ۔ارے ہزار بار سمجھایا ہے باپ نہیں ہے تم لوگوں کا سر پہ اب کوئی عزت نہیں ہے ہماری ۔خود کو جتنا کم تر سمجھو گے زندگی آسان ہو جائے گی تمہارے لئے ۔کچھ کرنا ہی ہے تو خود کو کسی قابل بناؤ اس طرح مار کٹائی سے کس کس کی زبان بندی کرواؤ گے ؟”

اس واقعہ کے بعد بختاور کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا تھا ۔

اگلے دن وہ دونوں بچوں کو لے کر ،”دارلشفقت”،پہنچ گئی۔کچھ ضروری کاروائی کے بعد اس کے دونوں بیٹوں دس سالہ زاہد اور آٹھ سالہ حامد دونوں کو ادارہ میں بھرتی کر لیا گیا ۔زاہد اور حامد پہلے تو بہت خوش تھے کہ پہلی دفعہ اماں انہیں سیر کروانے اتنی دور لے کر جا رہی تھی ۔انہیں بس کی سیر میں اور چنے پھلیاں کھانے میں بہت مزہ آیا تھا۔پر جانے اماں کو کیا دکھ تھا شائد ابا کی یاد آ رہی تھی وہ بار بار رو پڑتی تھی پھر اپنے آنسو صاف کرتی کبھی زاہد کو بغل میں دباتی تو کبھی اسے چومتی ،حامد پر سوچ نظروں سے اماں کو دیکھتا پر تبھی بس سے باہر کے کسی نظارے کو اس کی نظر مچل جاتی اور دھیان بھٹک جاتا۔پر یہ کیا ؟اصل جھٹکا تو ان دونوں کو تب لگا جب انہیں پتا چلا کہ یہ صرف اسکول نہیں ہے اب انہیں دن رات یہاں ہی رہنا تھا ۔تبھی زاہد بے چینی سے اماں سے لپٹ گیا ،”نہیں اماں نہیں !مجھے معاف کر دے اماں میں وعدہ کرتا ہوں اب کبھی لڑائی نہیں کروں گا کبھی تجھے تنگ نہیں کروں گا ۔جو تو کہے گی ویسا ہی کروں گا ۔ہمیں یہاں نہ چھوڑ کے جا اماں !ہمیں ساتھ لے جا اپنے “۔ زاہد کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ ماں کی منت کر رہا تھا ۔تبھی حامد کو معاملے کی نزاکت کا احساس ہوا ،زاہد کو روتا دیکھ کر وہ بھی رونے لگا ،”اماں اسے نہ چھوڑ یہاں ۔بھائی کو معاف کر دے اب یہ کسی سے لڑائی نہیں کرے گا “۔ حامد کو لگ رہا تھا کہ زاہد کو اس کی شرارت کی سزا مل رہی ہے اور اماں صرف اسے چھوڑنے یہاں آئی ہے ۔اور حامد کو وہ گھر واپس لے جائے گی ۔بختاور چپ تھی خاموش ،برف کی طرح سرد ۔زاہد اور حامد حیران تھے کہ ابھی تو اماں کے آنسو نہیں تھم رہے تھے اور اب وہ ایک دم سے پتھر کیسے بن گئی تھی ۔بختاور نے روتے بلکتے بچوں کو خود سے الگ کیا اور اگلے ہی لمحے دفتر سے باہر نکل گئی ۔زاہد اور حامد نے اماں کو جاتے دیکھ کر اور زور زور سے چیخ پکار شروع کر دی تھی پر عملے کے افراد انہیں قابو کر چکے تھے ۔

بختاور نے کانپتے دل اور جسم کے ساتھ دفتر سے بڑے پھاٹک تک قدم بڑھا دیے اس کا دل اپنے جگر کے ٹکڑوں کی آہ ؤ بکا پر پھٹا جا رہا تھا ۔حامد چیخ رہا تھا،” اماں! میں روٹی نہیں مانگوں گا مجھے چھوڑ کے نہ جا کچھ نہیں مانگوں گا ،تجھے کبھی تنگ نہیں کروں گا”۔ یتیم خانے کے بڑے پھاٹک سے باہر نکل کر تو گویا اس کے قدموں سے جان ہی نکل گئی تھی ۔وہ وہیں دیوار کے ساتھ زمین پر بیٹھتی چلی گئی ،وہ رو رہی تھی با آواز بلند ۔۔۔۔۔اسے لگا حشمت کے ساتھ ساتھ آج وہ بھی مر گئی ہے ۔کوئی ماں اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہے کہ جیتے جی اپنے جگر گوشوں کو خود سے الگ کر دے ؟اس کا دل ڈانواں ڈول ہوا ۔تبھی ایک ہمدرد ہاتھ نے اس کی جانب پانی کا گلاس بڑھایا ۔

وہ پھاٹک کا چوکیدار تھا اس نے بختاور کو بچوں کے ساتھ اندر جاتے اور پھر اکیلے باہر آتے دیکھا تھا ۔”دیکھ بہنا ! تو کچھ فکر نہ کر یہاں تیرے بچے محفوظ ہیں ۔دل ہولا نہ کر تو جب چاہے ان کو آ کر مل سکتی ہے ورنہ یہاں تو ان بچوں کی بھی کوئی کمی نہیں، جن کا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ۔تو اور تیرے بچے خوش قسمت ہیں تمہارے پاس رشتے ہیں ان کا سوچو جن کو کبھی کوئی ملنے نہیں آیا جن کا کوئی رشتہ سلامت نہیں ۔

جاری ہے……….

از قلم ،”عظمیٰ خرم “

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button