ممتاز مفتی یادیں اور باتیں

اُردو کے منفرد کہانی کارمنشا یاد کے قلم سے افسانہ نگار اور ناول نگار ممتاز مفتی کی زندگی سے چند پہلوئوں کا دلچسپ بیان ممتاز مفتی کی یادوں اور باتوں کا سلسلہ نہایت طویل ہے اور میرا سرمایہ حیات ۔میں انہیں ایک بہت بڑا ادیب مانتا ہوں ،ان کی تکریم کرتا اور ان کی ذات سے محبت کرتا اور وہ بھی مجھے بہت عزیز جانتے ہیں بلکہ اپنے گھر کا ایک فرد سمجھتے ہیںmansha yad ۔بعض اوقات علالت کی وجہ سے ڈاکٹروں اور گھروالوں نے کہیں آنے جانے پر پابند ی لگا رکھی ہوتی مگروہ مجھے ٹیلی فون پر کہہ دیتے کہ تم فلاں وقت آجانا میں تیار رہوں گا چپکے سے نکل چلیں گے ۔بعض اوقات طبیعت زیادہ خراب ہوتی ،درد ہو رہا ہوتا ،جسمانی رطوبات کے اخراج کی نلکیاں اور تھیلیاں لگی ہوتیں مگروہ تھیلیاں ہا تھ میں لٹکائے میرے ساتھ کسی ادبی جلسے میں شرکت کرنے چل پڑتے ۔مگر محفل میں کسی کو اپنی تکلیف کا احساس نہ ہونے دیتے ۔اپنی دلچسپ باتوں کی پھلجڑیاں چھوڑتے اور داد وصول کرتے رہتے ۔تنقیدی محفلوں میں اچھی بری ہر قسم کی شاعر ی پرخوب داد دیتے مگر افسانوں پر نپی تلی اور معقول رائے دیتے ۔نقاد حضرات پر فوری فقرے بازی۔تعارفی تقریبات میں عموماً اپنا مضمون اس جملے سے شروع کرتے ’’صاحبو !میں نقاد نہیں ہو ں الحمداللہ کہ نہیں ہوں‘‘تنقید اور تحقیق کو عملی کام ضرور سمجھتے مگر تخلیق کے مقابلے میں کم تر درجہ دیتے اور بڑے بڑے نامور دانشوروں اور نقادوں کو کوئی تخلیقی کام کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ۔مجھے ان کی مابعدالطبیعاتی باتوں ،اعتقادات اور روحانیت سے ہمیشہ اختلاف رہا مجھے قائل کرنے کے لئے خوب بحثیں کرتے ایک بار انہوں نے مجھے جن بھوت دکھانے کا وعدہ بھی کیا مگر پھر ٹال گئے میں نے اصرار کیا تو کہا کہ یہ بڑا تکلیف دہ راستہ ہے اور میں تجھے تکلیف اور مصیبت میں ڈالنا نہیں چا ہتا ۔ ممتاز مفتی نے بھر پور زندگی گزاری اور علالت اور سن رسیدگی کے باوجود آخری دم تک ذہنی طور پر بیدا ر اور تخلیقی اعتبار سے سرگرم اور توانا رہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس ذہنی اور تخلیقی توانائی کا ایک سبب ان کا زندگی گزارنے کا سا دہ انداز تھا ۔ہر طرح کے حالات میں خوش طبعی اختیا ر کئے رکھتے دوستوں،مداحوں اور ملنے والوں سے محبت اور بے تکلفی سے پیش آتے ۔ملنے والوں کو اکثر چا ئے پانی کا نہیں پوچھتے تھے ۔ملاقاتیوں کی اتنی تعداد ہوتی کہ یہ ممکن ہی نہ ہوتا کہ ہر ایک کی تو اضع کی جائے پانی مانگو تو صرف پانی ہی ملتا ۔لیکن اگر کبھی گھر والے ازخود چا ئے بھجوادیتے تو خوش ہوتے البتہ ہومیو پیتھی کی دائیں خود تجویز کرتے،بنا کر مفت دیتے بعض اوقات احباب کو خود گھر جا کر دے آتے ۔ ایک روز مجھ سے جدید افسانے پر بحث کر رہے تھے ،وہ مجھے جدید ماننے کے لئے کبھی تیار نہ ہوئے کہتے تمہارے افسانے تو میری سمجھ میں بھی آجاتے ہیں پھر تم کہاں سے جدیدئیے ہو ۔لیکن آپ جانتے ہیں کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی پیوست زدہ اور روایت پسند ہو پرانا اور قدامت پسند کہلوانا پسند نہیں کرتا مگر وہ میری ایک نہ سنتے ۔میں اپنے اور جدیدیت کے حق میں دلائل دیتا اور زیادہ زچ کرتا تو کہتے ’’اچھا جا اپنا سر کھا‘‘۔ ایک رو ز کہنے لگے مجھے آٹھ جدید افسانے چن کر دو میں پڑھ کر دیکھوں ۔میں نے ان کی خواہش پوری کردی ۔کچھ دنوں بعد انہوں نے اطلاع دی کہ جدیدافسانے پڑھ کر بہت متاثر ہوا ہوں اور میں نے بھی ایک جدید افسانہ لکھا ہے ۔اسے حلقہ ارباب ِ ذوق میںپڑھوانے کا انتظام کرواور سا رے جدید افسانہ نگاروں اور ناقدوں کو بلائو تاکہ مجھے اندازہ ہو میرایہ تجربہ کیسا ہے۔میں نے ان کی یہ خواہش بھی پوری کردی ۔اور انہوں نے حلقہ کی ایک پر ہجوم محفل میں اپنا پہلا اور آخری جدید افسانہ پڑھ کر سنا یا ۔حاضرین نے دل کھول کر دا د دی ۔اہل نقد و نظر نے علائم و رموز کی مختلف پرتیں دریافت کیں اور ایسی ایسی انوکھی تو جیہات اور مطالب بیان کئے کہ ممتا زمفتی کی باچھیں کھل گئیں ۔مگر جب اہل حلقہ ان کے فنی ارتقااور نئے اسلوب افسانہ نگاری کی تعریف کر چکے تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔میں نے بتایا کہ مفتی صاحب جدید افسانے سے ہاتھ کر گئے ہیں اور یہ افسانہ جس کی آب سب اس قدر تعریف کر رہے ہیں آٹھ دس افسانوں کے مختلف ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا ہے ۔مگر اس سلیقے اور طریقے سے کہ معلوم پڑے یہ ایک ہی شخص کا لکھا ہوا افسانہ ہے ۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دور دور کی کوڑی لانے اور انوکھے انوکھے علامتی مفاہم و مطالب دریافت کرنے والے نقادوں اور ایک ہی طرح کے ڈکشن میں ایک ہی جیسے افسانے لکھتے چلے جانے والے جدید افسانہ نگاروں کا کیا حال ہوا ہو گا ۔کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنابڑا اور سینئر افسانہ نگار اس قسم کا عملی مذاق کرے گا ۔مگر ایسی ہی شوخیاں ،خوش طبیعاںانہیں اندر سے جوان اور تا زہ رکھتی تھیں اور ہم جیسے لوگوں کو بھی حوصلہ دیتی تھیں۔ افسانے کے فن میں کئی طرح کی تبدیلیاں ،تحریکیں اور رحجانات در آئے مگر ان کا فن کہیں رکا یا جامد نہیں ہوا ۔وقت کے ساتھ ان کے فن میں ارتقاء کا عمل برابر جاری رہا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر عہد کی نوجوان نسل سے نہ صرف ذاتی رابطہ سے تعلق رکھتے تھے بلکہ ان کی تحریریں پڑھتے تھے اور پسند کریں نہ کریں ہر قسم کے اسلوب اور طرز اظہارسے واقفیت رکھتے تھے۔وہ محفل پسند ،ملنساراور کثیرالاحباب تھے۔نئے پرانے لکھنے والوں اور والیوں کی بھیڑ لگی رہتی۔کسی کی کتاب کا فلیپ یا دیباچہ لکھ رہے ہیں کسی کو کم لکھنے پر ڈانٹ رہے ہیں کوئی ان کا انٹرویو کرنے آیا ہے کسی کو خاکہ لکھنے کی خاطر بٹھا کر سوال جواب کر رہے ہیں ۔کوئی اپنی یا کتاب کی تعریف سن کر پھولے نہیں سماتاکسی کو فضول تحریر یا کتاب لکھنے پر پیا ر بھری گالیوں سے نواز رہے ہیں ۔خواتین کی وہ بہت اچھی اور ہم راز سہیلی ثابت ہوتے نہ صرف دکھ سکھ بانٹتے اور مشورے دیتے بلکہ کئی ایک لڑکیوں کی شادیوں کا اہتمام اور انتظام کیا ۔کئی گھر اجڑنے سے بچائے۔ان کی زندگی کی اپنی اتنی کہانیاں ہیں کہ انہیں بیان کرنے کے لئے دفتر چاہئے۔ عام طور پر ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں قالین پربیٹھ کر لکھتے ۔اگلے پر لکھتے پچھلے پر میل ملاقاتیں کرتے ۔چھاپہ خانوں اور کمپیوٹر کے ردی کئے ہوئے بڑے بڑے صفحات کی پشت پر موٹے موٹے حروف میں لکھتے ۔نوے سال کے لگ بھگ عمر میں بھی نظر کا چشمہ نہیں لگا تے تھے اور اسے کسی بزرگ کے سُرمے کی کرامت اور برکت بتاتے اور ایک لمبی کہانی سناتے تھے ۔پڑھنے کے لئے عبارت موٹے لفظوں میں لکھتے اور مناسب روشنی کی ضرورت محسوس کرتے۔کاغذ کے حاشیوں پر بھی تیروں کے نشانات دے کر بہت کچھ لکھا ہوتا ۔صاف اور خوشخط لکھتے اور نہایت بلند آواز میں لفظوں پر زور دے دے کر پڑھتے اور ایک ایک جملے پر داد وصول کرتے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ آخری عمر میں بھی گھر کا خرچ پورا کرنے کے لئے انہیں ریڈیو کے سکرپٹس اور بعض رسائل کے لئے مضامین وغیرہ لکھنا پڑھتے تھے۔کیونکہ پنشن اور کتابوں کی رائلٹی ناکافی تھی۔گھر کے اندر دو گھر تھے ۔ان کے بیٹے ،بہو اور پوتوں کا اور دوسرا ان کا جس میں ان کی بیوی،ملازمہ اور شادی سے پہلے بیٹیاں شامل تھیں۔وہ اپنے گھر کا خرچ خود اٹھاتے تھے ۔مکان ان کے نام اور اس کا کرایہ بیٹے کے دفتر کی طرف سے ان کو ملتا تھا۔مگر سفید پوشی کا بھر م رکھنے کے لئے قلم کی مزدوری کرنا ضروری تھا ۔ مفتی صاحب سے میری پہلی ملاقات حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی کے کسی اجلاس میں ہوئی وہ مزے لے لے کر اپنا کوئی طویل افسانہ سنا رہے تھے اور شعروں کی طرح جملوں پر داد تحسین وصول کر رہے تھے ۔پھر جب میں نے اسلام آباد میں حلقہ اربابِ ذوق قائم کیا تو ان سے رابطہ اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔وہ نہ صرف خود حلقے میں افسانے پڑھتے بلکہ قدرت اللہ شہاب بھی اپنے مضامین پڑھنے کے لئے ان کے ہمراہ حلقہ میں آنے لگے لیکن ان سے ایک تفصیلی ملاقات 1975ء میں ان کے گھر پرہو ئی جب میں مظہرالاسلام کے ساتھ پہلی بار ان کے گھر گیا ۔وہ احمد بشیر کے ساتھ لان میں بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے ۔بڑی محبت سے ملے اور ملتے رہنے کی تا کید کی ۔اور بالآخر ان سے دوستی اور محبت کا رشتہ گہرا ہوتا گیا ۔اس وقت تک ان کے پانچ افسانوی مجموعے چھپ چکے تھے مگر 1965ء کے بعد کوئی افسانوی مجموعہ شائع نہیں ہوا تھا۔بے شمار چھپے ہوئے افسانے ادھر ادھر پڑے تھے ۔میں نے ان سے کئی بار اصرار کے ساتھ تقاضا کیا کہ وہ اپنے افسانوں کا مجموعہ مرتب کریں مگروہ ان دنوں لبیکّ کی مقبولیت کے ایسے نشے میں تھے کہ افسانوں کے مجموعے مرتب کرنے کی طرف تو جہ نہیں دیتے تھے ۔ڈاک سے انہیں عام قارئین کی طرف سے لبیکّ کی پسندیدگی کے بہت سے خطوط ملتے رہتے تھے ۔بہرحال میں ان سے ایک مجموعہ’’روغنی پتلے‘‘مرتب کرانے اور چھپوانے میں کامیاب ہو گیا ۔کتاب کے کنٹریکٹ کے بارے میں خاصے فکر مند رہتے ۔انہوں نے کنٹریکٹ بنا کر اور دستخط کر کے مجھے دے دیا اور سارا کام مجھ پر چھوڑ دیا ۔ان دنوں میری کتابیں زاہد ملک کے مکتبہ حرمت سے شائع ہو رہی تھیںمیں نے یہ کتاب بھی ان کو دے دی اور ایک رو ز چھپی ہوئی کتاب کا پیکٹ لے کر حاضر ہوا یہ 1984ء کی بات ہے ۔کتاب دیکھ کر بہت خوش ہوئے میں نے ایک جلد اپنے لئے مانگی مگر انہوں نے کہا ابھی نہیں۔میں ذرا دیکھ پڑھ لوں۔مگرجب میں گھر پہنچا تو تھوڑی دیر بعد ان کا ٹیلی فون آیا کہ میں تمہارے گھر آرہا ہوں ۔میں سمجھا کہ کتاب کی چھپائی میں کوئی بڑی کوتا ہی ہو گئی ہے تھوڑی دیر بعد وہ سکو ٹر پر میرے گھر آگئے ۔پتہ چلا کہ مجھے کتاب دینے آئے ہیں میں نے پوچھا کہ جب تھوڑی دیر پہلے میں نے خود مانگی تھی تب کیوں نہ دی ۔کہنے لگے یا ر یہ بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے کتاب دینے کا ۔ ایک دلچسپ واقعہ ہوا حلقہ اربابِ ذوق کے سالانہ الیکشن تھے اکبر حمیدی بلامقابلہ سیکرٹری ہونے والے تھے کہ ادب اور ادبی انجمنوں کا کاروبار کرنے والے ہمارے دوست غضنفر مہدی نے ایک چال چلی اور الیکشن افسر انو ر بیگ اعوان کو اعتماد میں لیکر اختر امان کو بھی سیکرٹری کے عہدہ کے لئے کھڑا کر دیا۔کاغذات نامزدگی کی تاریخ گز ر چکی تھی مگر الیکشن افسر نے ازخود تو سیع کر دی اور اختر امان کے کاغذات شامل کر لئے۔ہم لوگوں نے احتجاج کیا کہ یہ ضوابط کی خلاف ورزی ہے مگر اس کی مختلف تا ویلیں کر کے اکبر حمیدی اور اختر امان کو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑا کر دیا گیا ۔بڑا سخت مقابلہ ہوا ۔ممتاز مفتی اور پروین عاطف نے کھلم کھلا اعلان کیا کہ وہ اکبر حمیدی کو ووٹ دیں گے ۔اختر امان کے پولنگ ایجنٹ بھی غضنفر مہدی تھے جب ممتاز مفتی ووٹ ڈالنے آئے تو انہوں نے اکبر حمیدی کے نام پر مہر لگا تے ہوئے اعلان کیا کہ میں اکبر حمیدی کو ووٹ دے رہا ہوں۔اس پر غضنفر مہدی کی سازشی رگ پھڑکی اس نے الیکشن افسر سے کہہ کر مفتی صاحب کا ووٹ کینسل کرادیا انہوں نے اپنا کا سٹنگ ووٹ بھی اختر امان کے حق میں ڈالا اور اس طرح اس ادبی حلقے کے الیکشن میں پہلی بار دھونس دھاندلی سے کام لیا گیا اور اس پر قبضہ کر لیا گیا ۔مفتی صاحب کو اعلانیہ ووٹ ڈالنے کی پاداش میں مخالف گروپ کی طرف سے برا بھلا بھی کہا گیا اور جس کوانہوں نے دھڑلے سے ووٹ ڈالا تھا وہ بھی ناخوش تھا کہ اس طرح ووٹ ڈالنے کا کیا فائدہ ؟ کچھ عرصہ بعد اختر امان کی دفتر کی طرف سے لاہو ر تبدیلی ہوگئی وہ بانی رکن کی حیثیت سے چا رج مجھے دے گیا میں نے نوے دن میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا اور واقعی نوے دن میں الیکشن کرا بھی دئیے ۔اور اکبر حمیدی سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ممتاز مفتی صاحب نے اکبر حمیدی کو حلقہ کے پروگراموں کے بارے میں ایک خط لکھا مگر اکبر حمیدی نے ان کے خط کا جواب نہ دیا ۔اس پر وہ مشتعل ہوگئے۔وہ کسی کو خط لکھیں اور جواب میں خط یا ٹیلی فون نہ آئے یہ وہ کبھی برداشت نہ کرتے انہوں نے مجھ سے سخت گلہ کیا اور اکبر حمیدی کے خلاف اخبار میں کالم یا مضمون لکھنے کی دھمکی دی ۔میں نے بیچ بچائو کرایا ۔مگر اس کے بعد اکبر حمیدی بھی ان سے خفا رہنے لگے ۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں سلسلہ نام کی ایک گھریلو ادبی تنظیم تھی جس کی کرتا دھرتا ادا جعفری تھیں اس کے اجلاس باری باری ہر رکن کے ہاں ہرمہینے ہوتے تھے اور بیگمات بھی ایک ایک ڈش کے سا تھ شامل ہوتی تھیں۔اسے بیورو کریٹس کی تنظیم سمجھا جاتا تھا۔جب ادا جعفری کراچی منتقل ہوگئیں تو ممتاز مفتی،پروین عاطف،اور میں نے ایک ایسی ہی ادبی تنظیم کی ضرورت محسوس کی جو بیورو کریٹس تک محدود نہ ہو اس میں اچھے ادیب شا عر ہر مہینے شامل ہو اکریں۔میں نے اس کا نام رابطہ تجویز کیا مفتی صاحب نے اس کا آئین لکھا اور مجھے اس کا انچا رج بنایا ۔رابطہ کے حوالے سے بعد میں ہمارے درمیان کئی بار اختلافات اور ناراضیاں ہوئیں۔کبھی کسی کو ممبر بنانے یا ممبر نہ بنانے پر ۔کبھی اجلاس میں تاخیر ہو جانے پر اور کبھی آئندہ اجلاس کا میزبان مقرر کرنے پر۔جب زیادہ ناراض ہو جاتے تو مجلس عاملہ یا جنرل باڈی کی میٹنگ بلو الیتے اور میرے کسی اقدام کو رد کرنے کی کوشش کرتے ۔میں بھی ڈٹ جاتا ۔کبھی وہ مستعفی ہونے کی دھمکی دیتے کبھی میں استعفیٰ دے دیتا ۔مگر ہم ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکتے جلد ہی صلح صفائی ہو جاتی جب کبھی ناراض ہوتے مجھے مخاطب کرتے ہوئے میرے نام کے ساتھ صاحب یا جناب کا اضافہ کر دیتے ۔کبھی مجھے معلوم ہوتا کہ ناراض ہیں اور کبھی ان کے رویے سے اندازہ ہو جاتا ۔ناراض ہوتے تب بھی نئی کتاب چھپ کر آتی تو ضرور بھجواتے مگر اس پر لکھی تحریر سے پتہ چل جا تا کہ ناراض ہیں۔ ایک بار ایک معرو ف افسانہ نگار نے میری معرفت انہیں اپنی کتاب بھجوائی دوسرے تیسرے روز ٹیلی فون آیا کہنے لگے یار یہ خاتون کیا لکھتی ہے ۔بڑے واہیا ت افسانے ہیں ۔ کیا کہنا چا ہتی ہے ۔مجھے تو بالکل پسند نہیں آئی کتاب بڑی خشک اور بور تحریر ہے ۔ چند روز بعد ایک تقریب کے آخر میں چائے پی جا رہی تھی میں نے اس خاتون کا مفتی صاحب سے تعارف کرایا ۔خاتون نے عقیدت اور احترام کااظہار کیا میں انہیں باتیں کرتے چھوڑ کر ادھر اُدھر چلا گیا جب میں دوبارہ مفتی صاحب کے پاس آیا تو وہ اس خاتون افسانہ نگار سے کہہ رہے تھے ’’بڑی باکمال افسانہ نگار ہو۔ایسی اچھوتی اور خوبصورت باتیں تمہیں سوجھتی کیسے ہیں۔کیا اندا زبیان ہے واہ وا۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘خاتون جھینپ رہی تھی اور انکساری کااظہار کر رہی تھی اور مفتی صاحب تعریفوں کے پل باند ھ رہے تھے ۔میں نے کان میں کہا ’’اس روز تو آپ کچھ اور فرما رہے تھے بتا دوں‘‘بو لے ’’ تو بکواس نہ کر ،جا کر چاٹ سموسے کھا ،میرا سر نہ کھا‘‘۔ انہیں واپس میرے ساتھ ہی آناتھا ۔راستے میں کہنے لگے ’’تجھے پتہ نہیں ہے عورتوں سے کیسے پیش آنا چاہئے۔ تو پینڈو اور گنوار ہے، پتہ نہیں اتنے اچھے افسانے کیسے لکھ لیتا ہے ؟‘‘ گھریلو کاموں ،ضرورتوں اور ادبی مسائل میں مجھ سے مشورہ کرتے رہتے ۔گھر کا گٹر بند ہوتا ،پانی کی سپلائی کم آرہی ہوتی یا تعمیر ومرمت میں مشورہ درکا ر ہوتا تو مجھے فون کرتے ۔کسی کو کتاب بھجواناہوتی یا کسی تقریب میں شامل ہونا ہوتا تو مجھے یاد کرتے ۔ سردیوں میں گھر کے ملحقہ لان میں دھوپ میں بیٹھتے تھے اور جب تک دھوپ رہتی بیٹھے رہتے ۔کبھی تھوڑا بہت کچھ لکھنے پڑھنے کاکام کرتے ورنہ صرف بیٹھے رہتے یا کوئی ملاقاتی آجا تا تو گپ شپ کر لیتے ۔بیمار ہو تے تب بھی پتہ نہ چلنے دیتے کہ تکلیف میں ہیں۔ وہ ایک عرصہ سے سانس اور پیشاب کی تکلیف میں مبتلا تھے کئی آپریشن ہو چکے تھے ۔مگر وہ ذہنی طور پر موت کو گلے لگا نے کو تیار رہتے ۔کہتے میں تو مرنا نہیں چاہتا مگر یہ اعضاء جواب دے گئے ہیں۔انتقال کے وقت ہنس بول رہے تھے کہ اچانک عکسی مفتی سے کہا ’’عکسی میں جا رہا ہوں‘‘اور چلے گئے ۔ انالِلہ وَاِناا لیہِ راجِعُون۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *