مہا اوکھا مفتی

“مہااوکھا مفتی“ یہ نام عکسی مفتی نے تجویز کیاہے۔اس کتاب میں پندرہ مضمون اور ایک انٹرویو ہے۔ پندرہ مضامین عکسی مفتی، بانو قدسیہ، جاوید چودھری اور دیگر ادیبوں کے لکھے ہوئے ہیں۔ عکسی مفتی کہتے ہیں کہ ہر باپ اپنی اولاد کی نظر میں اوکھا ہی ہوتا ہے، مگر عکسی مفتی کو ممتاز مفتی کی وفات سے پہلے اندازہ نہ تھا کہ اُن کا باپ دنیائے ادب کا اوکھا ترین Makha Ukha Muftiشخص ثابت ہوگا۔ یہ بات اُن کے لیے حیرانی کے ساتھ ساتھ دلچسپی کا باعث بنی کہ ایسا کیوں ہے؟ممتاز مفتی کی پانچویں برسی پر پرُہجوم تقریب میں کسی نے ممتاز مفتی پر مضمون پڑھتے ہوئے کہا ، ” یہ پہلا آدمی ہے جسے مرے پانچ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں مگر حیرت ہے اب بھی اُس کی برسی میں اتنے لوگ اکھٹے ہو گئے۔“عکسی مفتی کہتے ہیں کہ وہ ممتاز مفتی کو اُن کی زندگی میں نہ سمجھ سکے۔ اُن کی موت کے بعد سب بدل گیا اور عکسی مفتی اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ شخص جو ”اوکھے لوگ“ اور” اوکھے اولڑے“ لکھ گیا دراصل خود سب سے بڑا اوکھا آدمی تھا۔

2 Responses

  1. Sohail says:

    how to download this book???

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *