پروین شاکر کا خاکہ شہزادی – پیاز کے چھلکے

اردو ٹیکسٹ: عائشہ چوہدری

ناقد کہتے ہیں باہر کرو بھتیر کی مت کرو-صرف خاکہ لکھو ہم نے خاکہ نویسی کے اصول جو متعین کر دیے ہیں. صرف آوٹ لائن اب اگر میں پروین کی آوٹ لائن کی بات کروں تو وہاں آوٹ لائن ہی آوٹ لائن ہے ایسی آوٹ لائن کہ جس کے چکر میں ہڑھ جاو تو باہر نکلنے کا راستہ نہ ملے. ملے بھی تو باہر نکلنے کو جی نہ چاہے.
اس آوٹ لائن کے چکر میں صرف میں آپ ہی نہیں پھنسے ہوئے. خود پروین شاکر بھی پھنسی ہوئی ہے باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا عجیب کشمکش میں گرفتار ہے. اس سے پناہ بھی چاہتی ہے. اس کا لشکارہ مارے بغیر رہا بھی نہیں جاتا.
اللہ نہ کرے کسی خاتون کی آوٹ لائن جاذب نظر ہو.ہو تو وہ نظروں پر چڑھ جاتی ہے اس کی زندگی اپنی نہیں رہتی لاکھ پھونک پھونک کر قدم رکھے. خود کو احتیاط کی زنجیر میں جھکڑ لے. امان نہیں ملتی.
اور پروین کی بدقسمتی تو وہ آتشہ ہے. آوٹ لائن کے ساتھ ان لائن بھی ہے. معمولی نہیں بڑی گھمبیر ان لائن ہے.
میرا مصور دوست آزر ذوبی کہتا ہے کہ مفتی لفظ کوئی چیز نہیں زندگی تو لکیروں سے عبارت ہے.
کچھ باہر کی کچھ اندر کی کچھ اوپر کی.
یعنی کچھ خدوخال کی کچھ ذہنی رجحانات کی کچھ تقدیر کی.
عام طور سے افراد کی زندگی میں ان تینوں میں سے کوئی ایک لکیر حاوی ہوتی ہے. پروین میں تینوں حاوی ہیں.
باہر سے دیکھو تو وہ نازک اندام دھان پان لڑکی نظر آتی ہے قریب جاو تو منظر یکسر بدل جاتا ہے آپ کے روبرو ایک بالغ العقل ہوش مند زیرک منفردخیالات اور مضبوط کردار کی خاتون بیٹھی ہو گی.
وہ سہارے سے بے نیاز ہے. ہر بات میں منفرد رائے رکھتی ہے. مگر سہارا مل جائے تو کفران نعمت نہیں کرتی .
تکلیف دہ دکھ بھرے ماضی کے باوجود اس کے اندر امید کا دیا روشن ہے. زندگی گزارنے کا عزم موجود ہے.
پروین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے مراد کے لیے جیتی ہے.
سچ کہتی ہے لیکن کبھی کبھی اس کے اندر کو دیکھ کر شک پڑتا ہے کہ اس میں خود اکیلے جینے کی شکتی بھی موجود ہے.
گھریلو خوشی کے متعلق قدرت کا اصول سمجھ نہیں آتا.دانشور سوچ سوچ کر ہار گئے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے. اٹ از ناٹ ان دی فٹنس آف تھنگز. لیکن ایسا ہوتا ہے کہ زندگی میں “کوجھیاں ” گھر میں پیڑھے پر بیٹھی چوڑے چھنکاتی ہیں اور سوہنیاں ہوکے بھرتی ہیں.
                             گھر کوجھیاں دے پکن پرونٹھے
                                          تے سوہنیاں دی اگ نہ بلے
حکما کہتے ہیں ٹھیک تو ہے سارا کھیل تو آگ کا ہے حسن تو مفت میں بدنام ہے. بے شک حسن میں مرد کھینچ لانے کی شکتی موجود ہے لیکن اپنا بنائے رکھنے کی قوت موجود نہیں.
نیٹشے کہتا ہے ;
verily man loveth danger and play so loveth he women :
The most dangerous of all the playthings.
پروین کی شحصیت کے تین پرت ہیں .
پہلا پرت دیکھو تو لطافت ہے. لے ہیں معصومیت ہے اور حیا کے جال ہی جال.
دوسرا پرت دیکھو تو منظر ہی بدل جاتا ہے “لولی ” وینس دی مائیلو spinexبن کر بیٹھ  جاتی ہے  ذہنی پختگی, مردانہ جرات اور  cruel Realis8
جبھی سیانے سمجھدار پہلے پرت پر ہی گزارا کر لیتے ہیں. ذاتی تحفظ یا در کے مارے فاصلے قائم رکھتے ہیں.
تیسرا پرت پیش منظر نہیں پس منظر ہے. دکھ کی ایک بے نام بھیگ جو ساری شحصیت میں لہریں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے.
پروین شاکر بھی پرنم شحصیت دیکھ کر لگتا ہے جیسے دکھ کے پانیوں میں گھرا ہوا ایک سبز جزیرہ ہو. لیکن اس کی آنکھ میں ایک ایسی نگاہ بھی ہے جو چلتی اندھی کوباندھ سکتی ہے دریا کا رخ موڑ سکتی ہے.
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے اس کی پرنم شحصیت جاذب کیفیت کے علاوہ ایک ہتھیار بھی ہو.
پھول پر شبنم کے قطرے دیکھ کر کبھی کبھی شک پڑتا ہے کہ دکھ ایک سنگار بھی ہے ایک انوکھا مگر زود اثر کاسمیٹک.
پروین کی کہانی بہت ہی سادہ ہے.
وہ بہارن ہے بارمیں جسمی طور پر دھان پان ہوتی ہیں لیکن اتنی تیکھی کہ سوئی کی طرح چبھ جاتی ہیں.
کٹر شعیہ خاندان سے تعلق رکھتی ہے.
شعیہ خاندان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہاں آنکھ کھلتے ہی روایت ہوتی ہے کلام ہوتا ہے, ردھم ہوتا ہے لے ہوتی ہے, جذبہ ہوتا ہے, دکھ ہوتا ہے, میرانیس ہوتا ہے.
پروین اس ماحول میں پل کر جوان ہوئی.
پھر قدرت نے اس میں تخلیقی کلی ٹانک دی. تخلیقی صلاحیت ہوتی تو خوب ہے لیکن المیہ اثرات کی حامل ہوتی ہے..نارمل زندگی بسر کرنا ممکن نہیں رہتا.
دانشور اس سامنے دھری حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ وہ کیفیت جسے “ہیپی نس” کہا جاتا ہے صرف میڈیا کو نصیب ہے.
لگتا ہے کہ قدرت نے شعرا کو سکھی زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا وہ جو زندگی کےانڈربیٹ کو سننے کی حس سے نوازے جاتے ہیں. انہیں ذاتی زندگی بسر کرنے سے محروم کر دیا جاتا ہے.
بانسری میں چھید اس لئے ڈالے جاتے ہیں کہ اس میں سر پیدا ہو.
پروین شاکر کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ نوازی گئی ہے.
جو نوازے جاتے ہیں ان پر اکلاپا مسلط کر دیا جاتا ہے. ذاتی خوشی چھین لی جاتی ہے.
دکھ درد کی ایسی سرتیاں سمرتیاں لگا دی جاتی ہیں کہ وہ ہر لحظہ جھن جھن کرتی ہیں.
بیچاری قدر!!!!!!
پروین شاکر کو سر کرنے میں اسے کیا کیا جتن کرنے پرے خانہ آبادی کی عمومیت سے بچانے کے لیے. میاں کے ساتھ ان بن کا کانٹاا لگا دیا. پروین کی طبعیت میں زودحسی کی پخ لگا دی ایسی کہ نارمل ازدواجی تعلقات کی متحرک نہ رہے یہ سب اس لئے کہ علیحدگی کے سوا چارہ نہ رہے.
پھر محبوب کو پروین کے انگ انگ میں رچا کر دونوں میں دیوار کھڑی کر دی.
اور اب…………..اب جب کہ وہ سماجی آزادی, ذہنی پختگی, کرداری, استحکام کی سرتیوں سمرتیوں سے آراستہ ہے اور اس بات کا خطرہ لاحق ہے کہ پھر سے خانہ آبادی پر مائل ہو جائے قدرت نے اس کے دل میں غیر عقلی اندیشے پیدا کر دیئے ہیں.
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے.
قدرت نے اس کے ذہن کو اس حد تک مسخر کر رکھا ہے کہ وہ اپنی تازہ تصانیف کا نام انکا رکھنے پر مجبور ہے .
صاحبو شعراء نے ہمیں کنفیوز کر رکھا ہے.
آج تک ہم پر یہ بھید نہیں کھلا کہ عاشق کون ہے محبوب کون ہے.
شاعر کہتے ہیں کہ عاشق ہم مرد لوگ ہے عشق کرنا کوئی آسان کام نہیں. یہ نازک اندام خواتین عشق کے کٹھن مطالبات سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتیں.
خواتین کہتی ہیں. مردوں کی بات نہ سنو انہیں بڑ مارنے کی پرانی عادت ہے انہوں نے زبردستی, غنڈہ بازی کے زور پر  عشق کے رول پر قبضہ کر رکھا ہے. عشق ایک کیفیت ہے جسے کرنے سے نہیں بلکہ سہنے سے تعلق ہے.
مجنوں بن کر دشت پیمائی کرنا یا رانجھا بن کر مجھیاں چرانا عشق نہیں ہوتا. عشق کرنا تو صرف عورت جانتی ہے.
نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ مرد تو ہارمونیم کی مصداق ہوتا ہے انگلی رکھ دو تو سر بجتی ہے اٹھا لو تو ختم ہوجاتی ہے ہے اور عشق ایک تسلسل ہے. مسلسل جذبہ,  آتا جاتا نہیں ,  قائم.
اس کے برعکس عورت تو تاریں ہی تاریں ہیں ایک بار چھڑ جائے تو پھر چھڑی ہی رہتی ہے.
مجھے شاعرات سے شکایت ہے کہ انہوں نے انہوں نے اپنی تخلیقات میں صرف انسانی جذبات کا ذکر کیا ہے. نسائی جذبات کا نہیں.
پروین نےاپنے کلام میں نسائی جذبات پر بات کی ہے.کھل کر نہیں ,یہاں وہاں کہیں کہیں اشارات میں.
کہتی ہے عورت بیک وقت عاشق بھی ہے اور محبوب بھی ہے مرد تو صرف مضراب ہے. جو چھیڑ کر الگ ہو جاتا ہے.
اشفاق احمد ورک نے جو پائے کا مزاح نگار ہے خوشبو والی شاعرہ کے عنوان سے پروین شاکر کا خوبصورت خاکہ لکھا ہے.
نسائی جذبات اور شاعرات کے متعلق ورک لکھتا ہے.
اس دنیا میں غزل کی وجہ آغاز عورت اور عورت کی وجہ آغاز مرد ہے اور اب یہ تینوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں. اردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو مردوں کے ساتھ خواتین شاعرات کی بھی کمی نہیں.
مگر ان میں اکثر کے ہاں شاعرہ بولتی ہے تو عورت غائب ہو جاتی ہے اور عورت کی آواز سنائی دیتی ہے تو شاعرہ پس منظر میں چلی جاتی ہے.
پروین شاکر پہلی خاتون شاعرہ ہے جس کے ہاں عورت اور شاعرہ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے.
پروین شاکر کے کے کلام کے متعلق ورک لکھتا ہے..
پروین شاکر کو زبان پر پوری گرفت ہے. اردو زبان پر اور اپنی زبان پر بھی.  یہی وجہ ہے کہ الفاظ اور ارشادات اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں. جو چاہتی ہیں لکھ دیتی ہیں. لوگ بھی وہی چاہتے ہیں جو لکھ دیتی ہیں .
اتنی سی عمر میں اس نے اتنے کام کر لیے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ آگے چل کر کیا کرے گی کیا نہیں کرے گی,  جبکہ میرے فلسفی دوست مسٹر الو کا کہنا ہے کہ ایسے کام صرف اسی عمر میں ہی ہو سکتے ہیں.
        -*-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *