Talash by Mumtaz Mufti

کتاب : تلاش

باب 2 : عالمِ دین

ٹرانسکرپشن : رضوانہ راۓ

جان انجان


ہمارے علماۓ کرام جس سے بھی مخاطب ہوتے ہیں، ایسی امتیازی شان سے مخاطب ہوتے ہیں کہ سننے والے پہ واضح ہو جائے کہ کوئی عام آدمی اس سے مخاطب نہیں ہے۔ ان کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جانتے ہیں۔ جس کے ذہن میں یہ گمان ہو کہ “میں جانتا ہوں “وہ لازماً سننے والے کو “انجان” سمجھے گا۔ یہ ایک قدرتی امر ہے۔ اگر آپ دوسرے کو انجان سمجھیں گے تو آپ میں احساس برتری جاگے گا۔ آپ کرسی پہ بیٹھ جائیں گے، دوسرے کو اپنے سامنے کھڑا کر لیں گے۔
صاحبو! جان لو کہ اگر بات کرنے والا کرسی پہ بیٹھا ہو اور سننے والا کھڑا ہو تو بات نہیں ہو سکتی۔
کہنے والا بات کہہ دے گا لیکن بات سننے والے تک نہیں پہنچے گی۔ کان بے شک سن لیں لیکن بات دل پر اثر نہیں کرے گی۔
سیانے کہتے ہیں کہ بات کہہ دینا ہی کافی نہیں۔ جب تک بات پہنجے گی نہیں بات نہیں بنے گی۔
صاحبو! آجکل لوگ باتیں کیے جا رہے ہیں ، کیے جا رہے ہیں۔کوئی ممبر پر کھڑا کیے جا رہا ہے، کوئی مائیک سے منہ لگائے کئے جا رہا ہے، کوئی سٹیج پر کھڑا کیے جا رہا ہے، کوئی عہدے کے زور پر بات کرتا ہے، کوئی لیڈری کے زور پر،کوئی عمر رسیدگی کے زور پر،کوئی دین کے زور پر۔ سب بولے جارہے ہیں ، اپنی اپنی ڈفلی بجائے جا رہے ہیں ۔ کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ بات پہنچ بھی رہی ہے کہ نہیں۔ سب بچوں کی طرح بولے جا رہے ہیں ، بولے جا رہے ہیں۔ بچے بڑے ،بوڑھے بچے۔
ہاں تو علمائے کرام عوام سے بات نہیں کر سکتے۔ بے شک تقریر جھاڑ سکتے ہیں ۔ نصیحتیں کر سکتے ہیں۔” من نہ کر دم شما حذر بکنید” قسم کی نصیحتیں۔ خود گڑ کھاتے ہیں ،دوسروں کو گڑ کھانے سے منع کرتے ہیں۔ وہ حکم چلا سکتے ہیں، دھونس دے سکتے ہیں لیکن بات نہیں کر سکتے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button