ابن انشاء کا خاکہ – پیاز کے چھلکے

ابنِ  انشاء

اردو ٹیکسٹ:آصف منشا

پاکستانی فلموں میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہیرو کسی حادثہ کی وجہ سے اپنی یاداشت کھو بیٹھا ہے۔ اسے یاد   ہی نہیں رہتا کہ وہ کون ہے اور اس پر کیا  بپتا  پڑی تھی۔ چہرہ ڈھلک جاتا ہے۔ اظہارِ جذبات کی قوت مفقود ہو جاتی ہے۔ شخصیت پر بے نام دھندلکا  چھا جاتا ہے۔

دسمبر 1957 میں جب میں نے پہلی بار ابنِ انشاء کو دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ پاکستانی فلم کا شاک زدہ ہیرو ہو۔

اس وقت  دفتر میں  وہ اپنے ڈیسک پر بیٹھا تھا ۔ چہرے پر بے تعلقی اور اکتاہٹ کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ سامنے پاک سر زمین کی فائل کھلی پڑی تھی۔ جیسے فائل میں سے کچھ تلاش کر رہا ہو۔ لیکن ظاہر تھا کہ وہ  کھویا ہوا ہے۔ فائل سے دور ۔۔۔۔   ڈیسک سے دور۔۔۔ ۔ دفتر سے دورکسی ایسے مقام پر پہنچا ہوا ہےجہاں ابھی اندھیرے اجالوں سے جدا نہیں ہوئے۔

“ان سے ملو یہ ابنِ انشاء ہیں”۔  احمد بشیر نے ہمارا تعارف کراتے ہوئے کہا۔  دفعتا ً ایک کایا پلٹ عمل میں آئی۔۔۔۔   منیالے اندھیرے میں نین لائٹ جل گئی۔ زمین پر رینگتی ہوئی سُنڈی تیتری بن کر فضا میں اڑنے لگی۔ انشاء کا چہرہ مسکراہٹ سے چمکنے لگا۔ اس مسکراہٹ میں مسرت کم تھی۔ خلوص زیادہ تھا۔ چپچپا خلوص۔ بے بسی بھرا خلوص۔ عجز بھرا خلوص۔ پرنم خلوص

یا اللہ ان دونوں میں ابنِ انشاء کون ہے؟ وہ شاک زدہ  ہیرو  یا  یہ ابلتی ہوئی شہد کی بوتل۔ وہ مٹیا لا اندھیرا  یا  یہ مدھم دودھیا نین لائٹ۔  وہ رینگتی ہوئی سُنڈی یا یہ اڑتی ہوئی رنگین تتلی؟

آج تک میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکا۔ ممکن ہے وہ دونوں مل کر ابنِ انشاء بن جاتے ہوں۔ جس طرح دن اور رات مل کر یوم بنتا ہے۔ جس طرح آزاد کشمیر میں مظفر آباد کے قریب دو دریا نیلم اور جہلم، ایک نیلا اور شفاف، دوسرا  مٹیالا اور گدلا، آپس میں ملتے ہیں اور مل کر ایک ہو جانے کے باوجود دور تلک ساتھ ساتھ الگ الگ بہتے ہیں۔

بہر طور ابنِ انشاء کی شخصیت اس نین لائٹ کی مصداق ہے جو جلتی بجھتی رہتی ہے، جس کے متعلق یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ آیا  وہ اس لیے جلتی ہے کہ بجھ سکے یا اس لیے  بجھتی ہے کہ پھر سے جل اٹھے۔

اس اولین ملاقات کے بعد ہم  آپس میں روز ملنے لگے۔ چونکہ دونوں ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے۔

اس دفتر میں ہم اکٹھے کام ہی نہیں کرتے تھے بلکہ رہتے سہتے تھے۔ وہ ہمارا مشترکہ لاج تھا۔۔۔۔ ہماری سیرگاہ تھی۔۔۔۔۔ جہاں ہم اکٹھے شامیں بسر کرتے تھے۔    ہمارا کلب تھا۔۔۔۔۔  کافی ہاؤس تھا۔۔۔۔جہاں احمد بشیر، ابنِ انشاء اور میں گپیں مارتے تھے۔ تبصرے کرتے تھے۔ جائزے لیتے تھے۔

اس دفتر میں صرف چار افسر تھے۔ دفتری نقطہ نظر سے ان کی سب سے بڑی خصوصیت تھی کہ انہیں علم  ہی نہ تھا کہ ہم افسر ہیں اور اگر تھا بھی تو وہ افسر بن کر رہنے کی صلاحیت سے عاری تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ چاروں ادیب تھے۔

اس دفتر کے افسر اعلی ایک عظیم شاعر تھے۔ ان کی شخصیت میں سیال عنصر غالب تھا۔ یہ سیال عنصر پارے کی خصوصیت کا حامل تھا۔ اس کی لہروں میں دریا کا بہاؤ نہ تھا بلکہ سمندری لہروں کی سی روانی تھی جو گھڑی کے پنڈولم کی طرح چلتی ہیں۔ سمندر کا سا تلاطم تھا۔ چھینٹے اڑتے تھے۔ جھاگ اٹھتا ٹھا۔ گھمن گھیریاں گھومتی تھیں۔ گرداب پڑتے تھے۔ دفتر کے اعلی افسر ہونے کے باوجود وہ اپنی نظموں میں افسران ِ پاکستان کو منہ زبانی درس دیا کرتے  تھے کہ کرسی نشینی چھوڑو میدانِ عمل میں آؤ۔

دفتر   ان کے نزدیک بذاتِ خود ایک پرابلم تھا۔ انہوں نے اس کا  یہ حل سوچا تھا کہ سرد مہری اور بے تعلقی سے اس کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ لہذا وہ دفتر کے وجود سے ہی منکر تھے۔ نتیجہ یہ تھا کہ کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ چاروں طرف بیگانگی چھائی تھی جس کی وجہ سے اہلِ دفتر محسوس کرتے تھے کہ جیسے وہ دفتر  رابنسن کروزو     کا  خود کفیل جزیرہ ہو۔ انہوں نے  انتقاما ً اسے گھر بنا لیا تھا اور  ایک دوسرے کے قریب تر آ گئے تھے۔ ابنِ انشاء کے ساتھ اس دفتر میں  میں نے دو سال بسر کیے۔

دو سال یہ دودھیا نین لائٹ جلتی بجھتی رہی۔ کبھی میں محسوس کرتا کہ ابنِ انشاء ایک کھلاڑی عورت ہے جو ایک ساعت میں مسکرا کر آپ کی گود میں آ بیٹھتی ہے۔ دوسری ساعت میں آپ کی طرف یوں بیگانہ وار دیکھتی ہے جیسے آشنا  ہی  نہ  ہو۔ کبھی محسوس کرتا کہ وہ بیکار خویش ہوشیار دیوانہ ہے جو ہوشیاری اور دیوانگی دونوں کو کام میں لانا جانتا ہے۔کبھی میں محسوس کرتا کہ وہ ایک قلندر  ہے جو “لا”  اور “الا للہ” کی منزل طے کر رہا ہے۔ کبھی محسوس ہوتا کہ وہ حادثے کا  مارا  ہوا  مریض ہے جو اپنے دکھ میں ڈوبا رہتا ہے لیکن نرس کو دیکھ کر جی اٹھتا ہے۔

بہر صورت دو سال نین لائٹ جلتی بجھتی رہی۔

جب وہ جل اٹھتی تو ابنِ انشاء کے خلوص ، محبت، سادگی اور عجز کی روشنی سے فضا منور ہو جاتی۔ گُل ہو جاتی تو اندھیرا چھا جاتا۔ ایک بے نام دکھ چاروں طرف سے گھیر لیتا۔ ہوا سسکیاں بھرتی۔ اس اندھیرے اور خوفناک خلا سے ابو لہول کا مجسمہ ابھرتا اور اپنی کھوکھ میں مدفون تابوت کی طرف اشارے کرتا۔ اُس وقت ابنِ انشاء کا المیہ چاروں طرف مسلط اور محیط ہو جاتا۔

ابنِ انشاء بنیادی طور پر ایک شاعر ہے۔ ایک منفرد شاعر، ایسا شاعر  جو واردات ِ عشق میں اس قدر کھو گیا ہے کہ اسے  یاد بھی نہیں رہا کہ وہ شاعر ہے اور اُسے حسنِ یار، زلف اور رخسار کی باتیں کرنی چاہیں۔ ورنہ شعروں میں  وہ  شوخی  نہ رہے گی نہ بانک پن۔ لیکن یہ حال مست شاعر  محبوب کو بھی بھول چکا ہے۔ اس کی شاعری خالص بیراگ ہے جس میں خلوص ہے۔۔۔۔ سادگی ہے۔۔۔۔ دکھ ہے۔۔۔۔ محبوب تو اک بہانہ ہے۔۔۔۔۔ ایک جواز ہے۔۔۔ ۔ ایک موہوم سر چشمہ کیفیت۔

شاعری ہی نہیں ابنِ انشاء کے عشق کی تفصیلات بھی منفرد ہیں۔ عام طور سے عاشق بڑے بڑے جرنیلوں کی طرح واپسی کی کشتیوں کو آگ لگا دیتے ہیں تا کہ عشق کے میدان میں پیٹھ دکھانے کا خطرہ نہ رہے۔ ابنِ انشاء واپسی کی کشتیوں کو آگ نہیں لگاتا۔  جب واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو کشتیوں کو جلانے سے کیا فائدہ؟   اس کے برعکس ابن انشاء آگے بڑھنے کی کشتیوں کو آگ لگا دیتا ہے تا کہ کہیں عشق میں کامیابی کی صورت پیدا نہ ہو جائے۔ کہیں وہ بیراگ کو چھوڑ کر محبوب کی طرف مائل نہ ہو جائے۔ کہیں وصال کی قیامت نہ ٹوٹ پڑے۔

ابنِ انشاء کے قریبی حلقے اس سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آگے بڑھنے والی کشتیوں کو جلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چونکہ وہ پہلے ہی سوچ سمجھ کر عشق کے کوائف کچھ اس انداز سے ترتیب دیتا ہے کہ کامیابی کا خفیف سے خفیف امکان نہ رہے۔ ایسے محبوب کا چناؤ کرتا ہے جو پہلے ہی  کسی اور کا ہو چکا ہو۔ جس کے دل میں انشاء کے لیے کوئی جذبہ نہ ہو۔ ۔۔۔جو پہنچ سے بہت دور ہو۔۔۔  بہت دور۔۔۔۔۔  اور جسے ملنے کے تمام راستے قطعی طور پر مفقود ہوں ۔ اپنے آپ کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد وہ عشق کے ساز پر بیراگ کا راگ الاپنے لگتا ہے۔

بہر صورت حیرت کی بات  یہ ہے کہ ابنِ انشاء کی شخصیت میں نہ تو شاعر کا رنگ ہے اور نہ عاشق کا۔

چاہے آپ سارا دن ابنِ انشاء کے پاس بیٹھے رہیں اس کی کسی حرکت یا بات سے آپ پر یہ ظاہر نہ ہوگا  کہ وہ شاعر ہے،  نہ وہ  شعر و ادب کا تذکرہ چھیڑے گا  اور نہ ہی اپنا کلا م سنانے کی کوشش کرے گا۔ اس کی شکل و صورت پر بھی شعر و ادب کی چھاپ نہیں۔ نہ بالوں کا اسٹائل فنکارانہ ہے، نہ آنکھوں میں وہ خود ساختہ مستی ہے جو شاعر لوگ بڑی محنت سے پیدا کرتے ہیں۔ اس نے گفتار میں کبھی “اہلِ زبانیت” پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔  اورنہ  اپنی واضح پنجابیت پر فخر محسوس کیا۔

ابنِ انشاء شاعرانہ شخصیت کے لوازم سے واقف تو ہے مگر طبعاً اس سے بے نیاز ہے۔ عاشقانہ انداز سے وہ قطعی طور پر بیگانہ ہے۔ اس کے کھوئے کھوئے انداز کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ عشق کا  مارا  ہوا ہے۔ لیکن قریب سے دیکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے کھوئے پن میں تڑپ کا عنصر نہیں، تلاش و جستجو کا عنصر نہیں۔ الٹا  وہ  اس کھوئے پن میں یوں مطمئن دکھائی دیتا ہے جیسے بطخ جوہڑ میں تیر رہی ہو۔ اگر کھویا پن عشق کی وجہ سے ہے تو ابنِ انشاء  کا عشق فن برائے فن کی مصداق ہے۔

یہ کھویا پن ابنِ انشاء کی طبیعت کا جزو اعظم ہے۔ آپ اسے قتل کی لرزہ خیز داستانیں  سنائیں البتہ  وہ بظاہر بڑے شوق سے سنے گا لیکن جلد ہی آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنے خلا میں ڈوب چکا ہے اور اخلاقا ً ہاں ہاں کہہ کر آپ کو اپنی توجہ کا یقین دلا رہا ہے۔ اس لحاظ سے ابنِ انشاء ایک عظیم الجثہ کچھوا ہے۔اس کی جمود بھری بے حس ذات یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی ہے، صرف سر میں حرکت ہے جسے وہ دیر تک خول سے باہر نہیں رکھ سکتا۔  ہر چند ساعت کے بعد وہ اپنے خول میں دبک جانے پر مجبور ہے۔ خول میں دبک جانا اس کے لیے زندگی ہے۔

ابنِ انشاء ازلی طور پر تنہا ہے، تنہا اور بہت  اکیلا ۔ اس کا یہ خول ایک خلا ہے۔خوشی، یاس، غم، دکھ اور یادوں سے پاک خلا۔ ایک ایسا خلا جہاں ہر وقت دن رات ملتے ہیں اور شام کا دھندلکا چھایا رہتاہے۔ اس بے نام خلا میں رہنے کی وجہ سے ابنِ انشاء سے عجیب و غریب حرکتیں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ بظاہر ان حرکتوں پر بدحواسیوں کا گمان ہوتا ہے لیکن قریب سے دیکھیں تو آپ پر واضح ہو جائے گا کہ وہ بدحواسیاں نہیں بلکہ ابنِ انشاء کی مخصوص “خلائیاں” ہیں۔

کراچی میں کئی بار ایسا ہوا کہ سڑک کی دوسری پٹڑی سے ابنِ انشاء نے مجھے پکارا “ادھر آنا ضروری بات ہے” جب سٹرک پار کر کے  میں اس پٹڑی پر پہنچا تو ابنِ انشاء کا نام و نشان تک نہ تھا۔ دیر تک اس کی تلاش کی مگر وہ نہ ملا۔ جب پہلی مرتبہ یہ واقعہ ہوا تو اگلے روز میں نے دفتر میں پوچھا “مجھے آواز دے کر تم کہاں چلے گئے تھے”؟ اس کا جواب سن کر مجھے حیرت ہوئی۔ “اچھا” ۔۔۔ وہ بولا “میں چلا گیا تھا”؟  یہ جواب بے حد پریشان کن تھا۔ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ۔ کہنے لگا۔ “مجھے بھی خیال آیا تھا کہ مجھے رکنا چاہیے لیکن بس جو آ گئی تھی، میں چلا گیا”۔

ابتدا میں  ان “خلائیوں” سے میں بہت حیران ہوا۔  جب بھی میں نے ابنِ انشاء سے وضاحت چاہی تو اس نے مسکرا کر کہا۔ “اچھا  ایسا کیا تھا میں نے”؟   اس کے انداز میں اس قدر معصومیت اور خلوص ہوتا کہ  مجھے پھر  اس موضوع پر بات کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ اگر ابن انشاء آپ کو دعوت دے تو  بے شک اس کی دعوت کو قبول کر لیجیے چونکہ وہ ایک بے حد مخلص آدمی ہے۔ وقت مقررہ پر وہ یقینا ً  ہوٹل یا  ریستوران میں پہنچ کر میزبان کے فرائض ادا کرنے میں مسرت محسوس کرے گا۔ لیکن کھانے کے دوران  میں  وہ اگر باتھ روم میں جانا چاہے یا باہر جا کر تھوکنا چاہے تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ اس کے ہمراہ جائیں ورنہ تعجب  نہ ہو گا کہ وہ باتھ روم سے نکل کر سیدھا باہر چلا جائے اور انجانے میں بس یا ٹیکسی دیکھ کر اس میں سوار ہو کر گھر پہنچ جائے اور اگلے روز آپ اُس سے پوچھیں تو وہ اپنی مخصوص معصوم مسکراہٹ سے کہے “اچھا کیا واقعی میں نے ایسا کیا”؟

انھی دنوں وزارتِ صحت کے حکم کے مطابق ابن انشاء کو دورے پر جانا پڑا۔ دفتر کا نائب ڈائریکٹر احمد بشیر میرے پاس آیا کہنے لگا۔ ابن انشاء لاہور نہیں جائے گا”۔ کیوں؟    میں نے پوچھا۔ “کیوں نہیں جائے گا”۔ وہ بولا۔ “ابن انشاء لاہور نہیں جاسکتا”۔

دو روز کے بعد ابن انشاء لاہور روانہ ہو گیا۔ اس روز ہم دونوں احمد بشیر اور میں اسے اسٹیشن پر چھوڑنے گئے۔ ابن انشاء فکر مند نہ  تھا۔ “لاہور ہی ہے نا  ، تو ہو آؤں گا لاہور سے۔ یہ تو اور بھی اچھا ہے ٹی اے بنے گا”۔ گاڑی روانہ ہو گئی تو میں نے احمد بشیر سے کہا۔ “تم تو کہتے تھے یہ لاہور نہیں جائے گا، حیرت ہے۔  احمد بشیر بولا۔ “ویسے یہ بات تو مسلم ہے کہ ابن انشاء لاہور نہیں جا سکتا”۔

اگلے روز جب ہم دفتر میں بیٹھے تھے تو دفعتا ً ابن انشاء داخل ہوا ، اس کے ہونٹوں پر وہی معصوم اور پُر خلوص  مسکراہٹ تھی۔ کہنے لگا یار کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ گاڑی روانہ ہوئی تو میں کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔ پھر دفعتا ً گاڑی رک گئی۔  میرے سیگریٹ ختم ہو چکے تھے۔ ڈبے سے باہر نکلا۔ وہ ایک جنکشن اسٹیشن تھا ، گاڑی کافی دیر رکتی تھی۔ میں نے سیگریٹ خریدے ، چائے کا پیالہ پیا۔ پھر واپس ڈبے میں آ کر مطالعہ میں مصروف ہو گیا اور گاڑی چل پڑی۔ آخر گاڑی رک گئی اور سب مسافر باہر نکلنے لگے میں بھی باہر نکل آیا۔ اسٹیشن کے باہر رکشہ لیا۔۔۔۔ اب جو دیکھتا ہوں تو رکشہ میرے گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ “پتہ نہیں کیا ہوا کہ گاڑی لاہور جانے کی بجائے واپس کراچی آ گئی”۔

انشاء کا  یہ بیان سن کر میں سمجھا کہ یہ بھی اس کی ایک “خلائی” ہو گی۔ جنکشن پر دو گاڑیوں کا میل ہوا ہو گا ۔ سیگریٹ  خرید کر وہ غلطی سے کراچی آنے والی گاڑی میں سوار ہو گیا ہو گا۔

احمد بشیر میری بات سن کر مسکرایا۔  “کیا سیگریٹ خریدنے کے لیے یہ لازم ہے کہ سوٹ کیس اٹھا کر ساتھ لے جایا جائے”۔ مجھے احمد بشیر کی بات سمجھ میں نہ آئی۔ میں نے اس کی طرف تجسس آمیز نگاہوں سے دیکھا۔ “دیکھ مفتی” وہ بولا “اگر یہ غلطی سے کراچی والی گاڑی میں روانہ ہو  گیا تھا تو اس کا سوٹ کیس اس کے ساتھ کس طرح سے  آ گیا؟  اسے تو لاہور پہنچ جانا چاہیئے تھا۔

چار ایک دن کے بعد میں نے انشاء سے  یہ بات کی “تم  توسیگریٹ خرید کر غلطی سے کراچی آنے والی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ لیکن تمہارا سوٹ کیس  کیسے تمہارے ساتھ گھر آ گیا۔  بولا “سچ کیا سوٹ کیس میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں”؟ اس کے اس سوال  میں بناوٹ کا عنصر نہ تھا۔ پھر آپ ہی آپ مسکرایا اور  بولا۔  ہاں یار سوٹ کیس تو واقعی میرے گھر پڑا ہے۔ ساری بات ہی عجیب ہے”۔ اس کے چہرے پر حیرت  نہیں مسرت کھیل رہی تھی۔

احمد بشیر۔۔۔۔میں نے پوچھا۔ کیا  ابنِ انشاء جان بوجھ کر کراچی واپس آ گیا ہے”؟ احمد بشیر نے نفی میں سر ہلایا۔  انجانے میں سوچے سمجھے پلان کے مطابق اس نے لاہور جانے سے اپنے آپ کو بچا لیا ہے۔ لاہور ابن انشاء کا پھوڑا ہے۔

پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ آیا لاہور کا پھوڑا پھوٹ گیا یا وہ مدفون تا بوت کسی اور مقام پر منتقل ہو گیا، پتہ نہیں وہ کوائف کیا تھے جن کے تحت  ابن انشاء نے لاہور کا ساؤنڈ بیرئیر توڑ دیا۔ اور وہ لاہور پہنچ گیا۔۔۔۔ اس نے لاہور میں ایک مکان الاٹ کروا لیا۔ لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ لاہور پہنچ کر بھی لاہور نہ پہنچا ہو۔ لاہور میں رہنے کے باوجود لاہور سے کوسوں دور رہتا ہو۔

ابنِ انشاء کو غصہ نہیں آتا۔ آپ اسے جو بھی چاہے کہہ لیں غصے کی آمد کا خطرہ محسوس کر کے دفع کے لیے اس کی مسکراہٹ میں مزید چمک پیدا ہو جائے گی۔ اس کے مزاح کی حس میں مزید شدت پیدا ہو جائے گی۔ وہ ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے گا۔ اگر بات بہت ہی بڑھ جائے اور خطرے کی حدود کو چھونے لگے تو دھندلکے میں طوفان آ جائے گا اور وہ یوں آنسو پینے میں مصروف ہو جائے گا جیسے مفت کے ہوں۔

جسے غصہ نہ آئے آپ بھی اس پر غصہ نہیں کر سکتے۔ میں نے خود ایک دو  مرتبہ ابن انشاء پر غصہ اتارنے کی کوشش کی ہے۔ چند ساعت تو میں بولتا بکتا رہا، پھر دفعتا ً میں نے محسوس کیا کہ میں خواہ مخواہ اپنے آپ کو اذیت دے رہا ہوں اور بھرے مجمعے میں تماشا بنا ہوا ہوں ۔ میں خاموش ہو گیا۔ اس پر ابن انشاء میرے قریب  آ گیا۔ اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ میں تازہ روشنی تھی۔ بولا ۔ “مفتی جی آپ  کیوں چپ ہو گئے”؟ اس کی آنکھوں میں پھوار سی پڑ رہی تھی۔

ابنِ انشاء ضد اور جذبہ انتقام سے واقف نہیں۔ جسے غصہ نہ آتا ہو وہ انتقام سے کیسے واقف ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن کبھی کبھار مجھے شک پڑتا ہے جیسے وہ اپنے آپ کو اپنے تمام تر غصے اور انتقام کا نشانہ بنا چکا ہو۔ غصے کی آگ سے اس نے اپنی  میں کو جلا ڈالا ہو اور پھر جلی ہوئی لاش کو تابوت میں رکھ کر اپنی انا کی گہرائیوں میں ڈبو دیا ہو۔ اس گذشتہ آتش فشانی کا دھواں آج تک اٹھ رہا ہے۔

ابن انشاء کی باتیں دانشور کی باتوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ وہ ذہن سے نہیں بلکہ دل سے پھوٹتی ہیں۔ ان میں خشک عقل ، دلیل یا ذہانت  نہیں ہوتی۔ ۔۔۔ان میں دکھاوے کی رنگینی نہیں ہوتی۔ ۔۔۔ان میں مغربی خیال کا زاویہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ وہ چینی کی رکابی میں رکھ کر پیش نہیں کی جاتیں۔ بلکہ وہ چنگیر میں میلے سے رومال میں لپیٹ کر پیش کی جاتی ہیں۔ پہلی نظر میں وہ بھونڈی معلوم پڑتی ہیں لیکن جلد ہی وہ باتیں آپ کے اندر دھنس جاتی ہیں۔ گدگداتی ہیں اور جب آپ ہنسنے لگتے ہیں تو معا ً آپ کو خیال آتا ہے کہ کتنی پتے کی بات ہے۔ کتنی بڑی حقیقت کو ملفوف کئے ہوئے ہے۔ سیدھی  دل سے نکلی ہوئی گداز بھری ملفوف حقیقت اور ۔۔۔۔۔ آپ کی ہنسی کافور ہو جاتی ہے۔

1958 میں ایک روز وہ میرے پاس آیا۔ بولا “مفتی جی کوئی مصروفیت نہ ہو تو میرے ساتھ چلو شاپنگ کریں”۔

آج کل یہ رواج عام ہے شاپنگ کے لیے جاتے ہوئے لوگ کسی نہ کسی کو ساتھ لے جاتے ہیں تاکہ چیزیں خریدنے کا فیصلہ کرنے میں مدد دے۔ میں نے سمجھا  شاید انشاء اسی لیے مجھے ساتھ لے جا رہا ہے۔ مجھے شاپنگ سے دلچسپی نہیں ۔ لیکن پتہ نہیں کیوں میں انشاء کے ساتھ چل پڑا۔

دوکان میں داخل ہونے سے پہلے انشاء نے رازدرانہ مسکراہٹ چمکائی۔ بولا “مفتی جی خریدنے میں نہیں۔۔۔۔ نہ خریدنے میں مدد کرنا”۔

اُس روز چار ایک گھنٹے ہم دونوں شاپنگ کرتے رہے۔ آخری دوکان میں جب انشاء نے ایک نکٹائی کی قیمت پوچھی تو میں نے حسبِ معاہدہنکٹائی کے نقائص گنوانے شروع کر دئیے۔ جب دوکاندار کاؤنٹر کی طرف گیا تو انشاء نے منت بھری نگاہ سے میری طرف دیکھا۔ بولا “مفتی جی ایک نکٹائی تو خرید لینے دو”۔ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔

ایک روز ابنِ انشاء بہت پریشان  تھا۔ میں  نے پوچھا “کیا بات  ہے”؟ اس پر وہ اور بھی گھبرا گیا۔ میرے مسلسل اصرار پر بولا۔ مفتی جی بڑی مشکل میں پڑا ہوں۔ بڑی مشکل کے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک دوست  کے ہاں  ملنے کےلیے اس کے گھر گیا تھا ، جو مالی مشکلات کے دور سے گزر رہا تھا۔دروازے پر مالک مکان کھڑا تھا۔ جو دو ماہ کے کرائے کے تقاضے کے لیے آیا تھا۔ ابن انشاء نے مالک مکان کو کرایہ ادا کر دیا۔ دوست سے ملاقات کے دوران اس نے بارہا کوشش کی کہ  وہ اسے بتا دے کہ کرایہ ادا کر دیا گیا ہے، لیکن ہمت ہی  نہ پڑی اور اب  یہ فکراسے  کھائے جا رہا تھا کہ کہیں مالک مکان دوبارہ  اس سے کرایہ وصول نہ کر لے۔ اسے یہ بھی گوارہ نہ تھا کہ دوست کو یہ علم ہو کہ کرایہ انشاء نے ادا کر دیا ہے۔

انشاء کو سمجھانا، دلیل دینا، جذباتی اپیل کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ اسے بدلنا ممکن نہیں۔ اس پر اثر انداز ہونا ناممکن ہے۔ اس کے برتاؤ کے خلاف احتجاج کرنا یا اس سے روٹھنا بے معنی ہے۔ اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش لا حاصل ہے۔

آپ ایک حد تک اس کے قریب جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد دھندلکے کی دیوار درمیان میں حائل ہو جاتیہے۔  اور اس  دیوار کا  کوئی دروازہ نہیں جس سے آپ اندر داخل ہو سکیں۔

آج سے تین سال پہلے میں نے ابنِ انشاء کو لکھا تھا کہ وہ میرے ایک پبلشر دوست کے لیے اپنا خاکہ  لکھ بھیجے۔ ابنِ انشاء نے اپنی  شخصیت کے متعلق جو کچھ لکھا وہ حرف بہ حرف ذیل میں درج ہے۔ اپنی شخصیت کے متعلق اس کی کیا رائے ہے ملاحضہ ہو:

تم نے جو اسکیچ مانگا ہے اس کی نوعیت معلوم نہیں ہوئی اگر تھرڈ پرسن میں چاہیے تو میں کیوں لکھوں تم خود کیوں نہ لکھو۔ لیکن نہیں میاں۔ تمہارا کچھ اعتبار نہیں کیا لکھ دو۔ لہذا اپنی عزت اپنے ہاتھ ہے۔ چند سطریں لکھتا ہوں  انہی کو گھٹا بڑھا لو۔

ابنِ انشاء کو بار بار اللہ کا شکر ادا کرتے دیکھا گیا ہے ۔  اس کے خاندان میں کوئی صاحبِ دیوان یا بے دیوان شاعر نہیں ہوا۔ ورنہ اسے یا تو اس کے نام کا سہارا لینا پڑتا یا اس کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑتا۔

سید انشاء اللہ خان انشاء سے بھی اس کی نسبی نسبت نہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہے  اور خطوں میں اسے سید ابن انشاء تک لکھتے ہیں۔ یہ چاہتا تو اس نسبت سے سید بن سکتا تھا۔ لیکن یہ عزت سادات بھی اسے مرغوب نہیں ہوئی۔ اپنی دہقانیت میں خوش ہے اور اللہ اسے اسی میں خوش رکھے۔

پڑھائی کو دیکھیے تو اس نے اعلی تعلیم پائی ہے۔ تجربے کو دیکھیے تو بہت پاپڑ بیلے ہیں ۔۔۔۔ ایران، توران بلکہ فرنگستان گھوما ہے۔ مطالعے میں اردو، پنجابی اور انگریزی سے باہر فارسی  اور ہندی سے بھی شغف  حاصل ہے۔ نظم نثر سبھی میں قلم آزمائی کی ہے۔ لیکن اپنے لیے باعثِ عزت فقط شاعری کو سمجھتا ہے۔ شاعری جس میں جوگی کا فقر، طنطنہ، وارفتگی اور آزاردگی ہے۔ بات چیت کیجئے تو بعض اوقات بقراطیت بھی چھانٹے گا۔ لیکن اصل میں بقراطیوں سے نفور ہے۔ فقط انشاء جی ہے بقول خود:

شاعر ہے تو ادنی ہے، عاشق ہے تو رسوا ہے

کس بات میں اچھا ہے، کس وصف میں عالیٰ ہے

بچوں کے لیے بھی شاعری کی ہے۔ لیکن ایسی نظمیں تو بچے بھی لکھ سکتےہیں۔ ۔۔۔۔ یا شاید بچے ہی لکھ سکتے ہیں۔ نثر لکھنے کا انداز شگفتہ ہے جسے مزاح لطیف بھی کہتے ہیں۔ لیکن اس ذیل میں کم لکھتا ہے۔ حالانکہ اس کا میدان یہی ہوتا تو خوب ہوتا۔

خاموش ہے۔۔۔۔عزلت گزیں ہے۔۔۔۔ بھلکڑ ہے۔۔۔۔ ذمہ داریاں قبول نہیں کرتا تاکہ نبھانی نہ پڑیں۔ فخر صرف اپنے دوستوں پر کرتا ہے جو اس پر ، یا اس کی سادگی پر، بھولپن یا احمق پن پر جان چھڑکتے ہیں اور ناز اٹھاتے ہیں۔

عشق بھی کرتا ہے۔۔۔۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میاں قیس کے انتقال کے ساتھ یہ قوم ناپید ہو گئی تھی وہ اس سے ملیں یہ ہماری نہیں ابنِ انشاء کی اپنی فرمائش ہے۔

انشاء سے ملو اس سے وہ نہ روکیں گے لیکن

اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی

مشہور ہے ہر بزم میں اس شخص کا سودا

باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *