تلاش… تبصرہ:قیصر چوہدری

ایک بات تو طے ہےکہ یہ کتاب پڑھنے سے پہلے میں ایک بہت پکا ٹھکا پیدائشی مسلمان تھا۔ موت کا منظر تو جیسے مجھے حفظ تھی اور اس کے مطابق “اللہ جل جلالہ” تھے۔ اور میں اپنے آپ میں افضل ترین مسلمان اور احترام ہی احترام جہاں پیار اور خلوص کا گزر بالکل بھی نہیں تھا۔

کتاب پڑھتے پڑھتے پتا نہیں کب “اللہ جل جلالہ” سے “اللہ سبحان و تعالی” ۔ اللہ رحمن و رحیم، کریم، شفیق” ہو گئے پتا ہی نہ چلا۔
میں افضل ترین مسلمان سے نیچے اتر کے چہوڑ چمہار جیسا نیچ بن گیا مگر اس میں بھی اک فخر سا تھا۔ کوئی شرمندگی نہ تھی۔
پہلی دفعہ پتا چلا کہ اللہ سائیں کی کتاب کو ثواب سے ہٹ کر اس کا کلام سمجھ کر پڑھنا بھی جائز ہی ہے۔
تبھی یہ احساس بھی ہوا کہ نیکی کا ماحصل جنت کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ اور برائی صرف اس لئے برائی نہیں کہ دوزخ میں لے جائے گی۔ بلکے اسی برائی کی وجہ سے آنے والی زندگی جہنم میں جانے سے پہلے ہی جہنم بن جاتی ہے اور ایسے نہ ہو کہ، یہاں بھی دوزخ کاٹی ہو اور وہاں بھی دوبارہ صرف اسی ہی مطابقت ہو سکے۔
عالم اور علم دین کا فرق پتا چلا، عبادات اور رسومات میں فرق سمجھ آیا۔
نئی نسل کے مسائل کیا ہیں ۔ عالم دین اور صوفیائے کرام کے زندگی گزارنے کے ڈھنگ سے آشنائی ہوئی۔
اہل مغرب کی چکا چوند اور ترقی کا راز ایسا کھلا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا۔
مفتی صاحب نےآشنائی دی کہ سوال اٹھانا زندگی کی نشانی ہے اور ان کے جواب ڈھونڈنا بحثیت انسان ہماری ذمہ داری ہے جو سانس رکنے سے پہلے ہی ادا ہو تو اچھی۔
بچپن میں میاں محمد بخش صاحب کی شاعری کانوں میں گونجتی ہوئی گزری اس کا لب لباب اور اصل مطلب کی راہ دکھانے والے بھی مفتی صاحب ہی ٹھہرتے ہیں۔
مفتی صاحب کو پڑھنے سے پہلے “محمد صلی اللہ علیہ وسلم ” پر صرف ہم مسلمانوں کا ہی اجارہ تھا۔ مگر عجیب بات یہ ہوئی کی “محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم” کی کالی کملی ایسی پھیلی کہ دونوں جہاں اس کے سامنے چھوٹے پڑنے لگے اور ایک دم “رحمت العالمین” کی عالمیت چار دانگ پھیل گئی۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی شبیہ ایسی واضح اور روشن ہوئی کہ زندگی کے سارے تاریک پہلو روشن ہونا شروع ہوگئے۔
تلاش تو مفتی صاحب کی تھی مگر اس تلاش میں میں بھی کہیں شامل ہو گیا تھا اور احساس تک نہ ہوا۔ قرآن پاک جو کہ سراسر مذہبی کتاب تھی ایک دم سے اس میں عمرانیات، معاشرات، سائنس، زندگی غرض کہ اس میں روزمرہ زندگی کا ہر پہلو نظر آنا شروع ہوگیا۔
اصل میں اگر یہ کہوں کہ آنکھیں تو تھیں مگر ان سے دیکھنا کیسے ہے یہ مفتی صاحب کا ہی کمال ہے۔
مفتی صاحب نے میرے چھوٹے سے گاوں کو کائنات سے بدل دیا۔
اپنے اپنے شعبے کے ماہر لوگوں کے خیالات کا موازنہ اور ان کے پوائنٹ آف ویو ایسے بیان کیے کہ اس کے بعد آج تک کسی سے بات کرتے ہوئے جھجھک تک محسوس نہ ہوئی۔

قصہ مختصر یہ کہ مفتی صاحب کی تلاش نے زندگی سے حقیقی معنوں میں شناسائی عطا کی۔
اللہ سائیں سے دعا ہے کہ ان کی مرقد مبارک کو روشن کریں۔ ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائیں اور ہمیں سچی معنوں میں آسانیاں بانٹنے اور لکھنے والوں شامل کریں۔

یہ صرف میرے چند تجریدی خیالات تھے۔ مفتی صاحب کی “تلاش” کے بارے میں۔ انھیں ایک صفحے پہ لانے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے پڑھنے والوں کے لئے کچھ نہ کچھ رہنمائی ضرور ہوگی۔

بے شک تری ذات نے دکھائی اک نئی بہار
میرا اللہ سایہ فگن ہو آپ پر کئی ہزار بار۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *