خط……………..آسی غازی

مارٌو تھل کے نام“ چودہ برس بعد آج تمہاری یاد آئ یہ یاد بھی کتنی عجیب ہوتی ہے ناں بنا پوچھے اچانک آ دھمکتی ہے جیسے بارش کے بعد یکایک دھوپ نکل آۓ یا تپتی دوپہر میں صحرا کی ریت پر واوگولا پھرنے لگ جاۓ۔۔ چودہ برس پہلے ایک سکول بواۓ کو بڈھا اپنے کچے کمرے میں بلاتا ہے اور لکھوانے لگ جاتا ہے لڑکا بوڑھے کی کاشنی آنکھوں سے پھوٹتی شعاعوں کو تکتا ہے اور بے حس پڑے وجود پہ نگاہ ڈالتا ہے خط نا آشنا انگلیاں صفحہ بھرتی چلی جاتی ہیں موت کی یخ بستگیوں سے زندگی کی حرارت کے لمس سے آشنا ہوتی جاتی ہیں اور الھڑ لڑکا کر بھی کیا سکتا تھا خط رحیم یار خان جا رہا ہے خط رحیم یار خان سے واپس آتا ہے بڈھا آنکھیں نہیں جھپکاتا پورا وجود کان بناۓ سنتا ہے خط میں صحرا کی ہوا بھری ہے جھونکے باہر تک آ رہے ہیں جنڈ کھنڈ کے چوڑا سے کہنی چھوڑ کر بازو بھرے بیٹھی مارئ اپنی اوڑھنی اوپر اٹھا کر دیکھتی ہے اور زرا سا مسکرا دیتی ہے گلے میں جھولتی کٹمالا کھن کھن کر اٹھتی ہے سجے تلے سے جگمگاتی دریائ کی ریشمی کرتی نے خط کو مہکا دیا ہے مٹا مٹا سا کاجل کا نشان بھی کاغذ پر کہیں رہ گیا ہے جس سے کڑوے تیل کے دیے کی بو آ رہی ہے جانے کیا کچھ جلا ہے اس کالک میں۔۔ تھلاں وچ گھاہ کوئ ناں جیہڑے پاسے ماہی ٹریا اوں پاسے دا راہ کوئ ناں کہتے ہیں سسی نے سردار پنوں خان کے دیدار کی خاطر کیچ کے سوداگروں پر اپنا باغ اجاڑنے کا الزام لگا کر روک لیا تھا کیچ کا والی بھنبھور پہنچا تو دھوبی بن بیٹھا ہوت قبیلے کی پوشاک گندی ہوگئ بیہوش پنوں کو اونٹوں پر لادتے وقت سسی اونگھ رہی تھی بلوچوں نے اب کے تو واقعی باغ اجاڑ دیا تھا۔۔۔سسی نے کہا: بلوچا ظالما سڑ ہوئ کوئلے او ، ماہی پر نہ تھی اکھیاں توں اوہلے او !! عشق نے کہا : تھل مارٌو دا سارا پینڈا تھیسم ہک پلھانگ! چاندنی راتوں میں کھلے ریگستان کے اونچے ٹیلے پر آمنے سامنے کھڑی لڑکیاں دائیں ہاتھ کا پنجہ بائیں میں پکڑے پاٶں مرکز پر جماۓ گھومتے ہوں گی چیکل کے بول بھی دہراتی ہونگی ، جال کے پکے پیلو چننے میں انکے بوچھنڑ کانٹوں سے الجھتے ہوں گے تو وہ پیلو کے گیت گاتی ہوں گی اداس چرواہے ٹھیکریوں کو انگلیوں میں کس کر بجاتے ہوں گے لڑھاٶ راگ الاپتے ہوں گے شتر بان چرخہ کاتنے والی کو یاد کرتے ہوں گے۔۔کنڈیالی تھوہر رنگ برنگے پیلو سنسناتی ہواٶں کو میرا سلام پہنچے تابندہ چہروں چمکتی نتھوں اور دھنستے گڑھوں کو پیار اتنے برس بعد پھر خط لکھ رہا ہوں نہ اب وہ الہڑ لڑکا رہا ہوں نہ اب وہ کچا کمرہ رہا ہے وہ کاشنی آنکھیں بھی کنویں کی تہہ میں ڈوب گئیں سورج کی کرنیں پانی اوپر پڑتی ہیں تو ویسی ہی چمک اٹھتی ہے۔ میں اب پکے مکان میں رہتا ہوں اچھی پوشاک پہن کر طمانیت بھرا چہرہ لیے صوفے پر بیٹھا ڈرائ فروٹ چباتے ہوۓ شیشے سی شفاف سکرین پر انگلیاں گھماتا رہتا ہوں کنویں کی طرف بھی نہیں دیکھتا۔ بس کبھی کبھی رات کو سوتے میں کنکریٹ سے بھرے جنگل میں گھرا خود کو دیکھتا ہوں بوکھلایا ہوا گھبرایا ہوا کچھ ڈھونڈ رہا ہوتا ہوں اوپر نیچے دائیں بائیں ہر طرف دیکھتا ہوں شیشے کا فرش ہوتا ہے اور سیمنٹ کے درخت۔۔ کہیں پر بھی ریت نہیں ملتی ایک مٹھی بھی نہیں ملتی آنکھوں کے اندر پھنسے کچھ ریزے مجھے تنگ کرتے ہیں باہر نکلنے لگتے ہیں تو یونہی آنکھیں ملتے اٹھ بیٹھتا ہوں۔۔ اتنے برس بعد خط لکھ رہا ہوں اب تو بالوں میں بھی ریزے چمکنے لگے ہیں تمہارا بیٹا ہوں بابا مجھے گلے لگا لو تھوڑی سی ریت دے دو !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *