Talash by Mumtaz Mufti

کتاب : تلاش

باب 3 : نئی نسل

ٹرانسکرپشن : شبانہ حنیف

لا حول ولا


ہمارے دینی رہنما اس آندھی کو دیکھ کر لاحول ولا پڑھ پڑھ کر تھک گئے ہیں۔ ہمارے دینی رہنماؤں کی عادت ہے کہ وہ دور جدید کی ناگوار باتوں پر غور نہیں فرماتے۔۔ وہ انھیں مسائل نہیں سمجھتے۔۔ وہ انھیں “لاحول ولا ” سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دور جدید اہل مغرب کی ایک شرارت ہے ، اسلام کے خلاف ایک سازش ہے۔۔ ان کے ذہن میں مسئلے کا صرف ایک حل ہے ، وہ یہ کہ اس شیطانی عمل کو روکو۔۔ انھیں یہ شعور نہیں کہ دور جدید ایک دھارا ہے اور دھارے کو کبھی روکا نہیں جاسکتا۔۔ البتہ اس کا رُخ بدلا جا سکتا ہے۔۔ لیکن انھوں نے کبھی اس دھارے کا رخ بدلنے کی کوشش نہیں کی۔۔
ہمارے علمائے دین نے مغرب کو ہمیشہ شر سمجھا ہے حالانکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اہل مغرب میں ہماری نسبت خیر کا جذبہ زیادہ ہے۔۔ صاحبو ! میں حکومتوں کی بات نہیں کر رہا ، لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔۔ اہل مغرب نے بڑی نیک نیتی سے آزادی اور مساوات کی ایک پالیسی بنائی تھی۔۔ عورتوں کی آزادی ، بچوں کی آزادی ، خیالات کی آزادی ، اظہار کی آزادی ، جنس کی آزادی ! لیکن بد قسمتی سے ان کے اس تجربے کو کامیابی حاصل نہ ہوئی ، الٹا اس نے اک آگ لگا دی۔۔ ایسی آگ جس کی جھلسن دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آگ صرف ہمیں جھلسا رہی ہے۔۔ یہ ہماری بھول ہے۔۔ یہ آگ سب سے زیادہ خود اہل مغرب کو جلا رہی ہے۔۔ اہل مغرب اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ ان کا گھر اس آگ کی وجہ سے جل رہا ہے۔ وہ اس پرابلم سے نپٹنے کے لئے آپس میں صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ سوچ رہے ہیں ، مائل بہ عمل ہیں۔۔
ہمارے علمائے دین سمجھتے ہیں کہ لاحول پڑھنے سے یہ مصیبت ٹل جائے گی۔۔ اس لئے وہ تقریریں کر رہےہیں۔ کہتے ہیں لوگو ! مغرب پر لاحول پڑھو ۔۔ نئی نسل پر لاحول پڑھو۔ دور حاضر پر لاحول پڑھو۔۔ وہ سمجھتے ہیں کہ :
” ہر درد کی دوا ہے لا حول ولا قوۃ “
کاش انھیں علم ہوتا کہ لا حول کا مطلب کیا ہے۔ گمان غالب ہے کہ بڑے بوڑھے بھی لاحول کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اک زمانے تک میں بھی اس غلط فہمی کا شکار رہا ہوں۔۔ جب بھی میرے دل میں کوئی شر بھرا خیال آتا ، خصوصاً جنس کے متعلق! تو میں فٹ سے لاحول پڑھ دیتا۔۔ اے شیطان تو کیوں مجھے تنگ کرتا ہے۔ مجھے چھوڑ یار۔۔
اس احتجاج میں غصے کی نسبت اپنائیت کا اظہار زیادہ ہوتا تھا جیسے ہمارے ٹرک ڈرائیور اپنے ٹرک کے پیچھے ایک بورڈ لگا دیتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے : ” پپو یار تنگ نہ کر “۔۔ پھر ایک دن اچانک بیٹھے بٹھائے مجھ پر لاحول کے معنی کا انکشاف ہو گیا کہ :
اللہ کی ذات کے سوا کوئی قوت وجود نہیں رکھتی۔۔لہٰذا کسی سے ڈرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔
میں تو حیرت زدہ رہ گیا۔ اس رات جب وہ خانہ کعبہ کی تصویر سے اتر کر صوفے پر آ کر بیٹھا تو میں غصے سے بھرا ہوا تھا۔۔ میں نے کہا ، اگر تو ہی سب کچھ ہے ، اگر تیرے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا تو یہ کیا ناٹک رچا رکھا ہے تو نے۔ کیوں اپنی مخلوق کو” حریان ” کر رکھا ہے۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرا دیا….. ایک دلنواز بے نیاز مسکراہٹ۔۔
اس روز سے جب بھی میرے دل میں شر بھرا خیال ابھرتا ہے میں لا حول نہیں پڑھتا بلکہ سچے دل سے جان لیتا ہوں ، مان لیتا ہوں کہ مجھ میں شر کا عنصر موجود ہے۔۔ خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔ یہ ایک نیچرل بات ہے ۔ اسے زیادہ اہمیت نہ دو۔۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button