Episode 8

اماں آج تک ابا کے غم میں گھلتی تھیں اب سوہنی پہ اٹھتی آوازوں۔۔نحوست کے طعنوں۔۔تقدیر کی بے رحمی پہ انکا دل ہولتا۔۔۔
اماں کی پہلی نماز ابھی ختم نہ ہوئی ہوتی کہ دوسری شروع ہو جاتی۔۔۔
سوہنی اماں کو سمجھاتی۔۔۔اماں آپنی صحت ول تیان کر لو۔۔۔نہ کرو اینے لمبے لمبے سجدے۔۔۔
کی ملیا توانوں ساری عمر اینیاں ٹکراں مار مار کے۔۔۔؟؟؟
اس نے کہڑا سن لئ تواڈی۔۔۔
ہن بس کر دو۔۔۔
اماں جانتی تھیں اب سوہنی پتھر ہو چکی ہے۔۔
ہر روز وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر سبق دہراتی۔۔۔
میں لڑکی نہیں ہوں۔۔
میں ایک بیٹے کی ماں ہوں۔۔
بیٹوں کی مائیں نڈر ہوتی ہیں۔۔۔
بیٹوں کی ماؤں کو کسی سے کوئ ڈر نہیں ہوتا۔۔۔
میں سوہنی کی ماں نہیں ہوں یہ میری خوش قسمتی ہے۔۔
میں آدم کی ماں ہوں۔۔
مجھے زندگی سے اور کچھ نہیں چاہئے۔۔
سوہنی نے اپنے اردگرد ایک قلعہ تعمیر کر لیا۔۔۔پڑھائ۔۔نوکری۔۔سلائ۔۔۔ایک بچے کی تربیت۔۔
اور دنیا سے ہر روز کی جنگ۔۔
بیس سالہ سوہنی ہر روز ایک چومکھیہ کا سامنا کرتی رہی۔۔سات برس گزر گئے۔۔اماں اپنے سب فرائض سے سبکدوش ہو گئ۔۔
اب اس گھر میں موجود ماں بیٹی میں سے پہچاننا مشکل ہو جاتا کہ ماں کون ہے۔۔
سوہنی کی سوہنی صورت ایک عذاب کی طرح اس پہ مسلط رہی۔۔۔
وہ پردہ کرتی ۔۔۔
احتیاط کرتی۔۔
مقابلہ کرتی۔۔۔
اور اکثر رات کو بے آواز آنسو روتی۔۔۔۔نظریں اسے ٹٹولتیں۔۔لہجے کبھی ہمدردی اور کبھی محبت لئے اسکی طرف بڑھتے وہ نفرت سے انھیں جھٹک دیتی۔۔
وہ اماں جیسی کمزور ماں نہیں تھی۔۔اس نے قسم کھا لی تھی کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا۔۔۔اسکے سسرال والے اسے اسی طرح بے یارو مددگار چھوڑ چکے تھے جیسے اسکی ماں کو چھوڑا گیا تھا۔۔۔
کئ ایک بار ایسا ہوا کوئ اسکی اماں کے پاس اسکے رشتے کی خواہش سے آتا۔۔
کئ ایک بار اسکے کولیگز اسکی طرف پیش قدمی کی کوشش کرتے کئ بار نوکری چھوڑنا پڑی۔۔بدلنا پڑی
اب وہ مستقل بنیادوں پہ ایک سلائ سینٹر چلا رہی تھی اور ساتھ میں کسی بہتر نوکری کی تلاش میں مسلسل سرگرداں رہتی۔۔۔
اس نے اپنے اندر کے تمام جذبوں تمام ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا تھا۔۔
اور وہ بے خبر تھی۔۔
بہت دور مدتوں سے ایک شخص چن لیا گیا تھا اسے محبتیں دینے کے لئے۔۔
اسے شہزادی بنا کے رکھنے کے لئے۔۔۔
اسکے بچپن کی کہانی کا شہزادہ ایک عرصے سے بے مقصد اپنے محل کی فصیلوں سے جھانکتا۔۔۔شہزادیوں سے آنکھیں ملاتا کنی کتراتا ایک نہ ختم ہونیوالی تلاش میں پڑا اسے ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
اسکے ابا کی طرح اسکے قد کے برابر کا آئینہ لئے وہ رستوں پہ بھٹک رہا تھا۔۔۔
کہ اسے سوہنی ملے۔۔سوہنی کا چہرہ ملے۔۔ اور اس آئینے میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھ کر جب تفاخر سے داد لینے کے لئے پلٹے۔۔۔
تو اسے اپنے سامنے پائے۔۔۔
پھر وہ انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا کر اسے داد دے۔۔
اسکے مہندی لگے ہاتھوں کو بھیگی آنکھوں سے چومے۔۔
اور اسے بتائے۔۔
مہندی کا کوئ کمال نہیں۔۔۔تمہارے ہاتھ ہی خوبصورت ہیں۔۔
میری شہزادی ہو تم۔۔۔راج کرو گی جب تک میں ہوں۔۔۔!!!!!
سوہنی کی بد نصیبی کی کہانی اور سانول کی تلاش ایک ساتھ ختم ہونے کو تھیں۔۔۔
اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔۔
وہ کسی جان پہ اتنا بوجھ نہیں ڈالتا جسے اٹھانے کی اسمیں سکت نہ ہو۔۔۔
وہ صبر کرنیوالوں کیساتھ ہے۔۔۔
وہ جسے چاہے ذلت اور جسے چاہے عزت دیتا ہے۔۔
وہ تمہیں آزماتا ہے تا کہ تم اسے پہچان سکو۔۔اور اسکا شکر ادا کرو۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *