Episode 5

اماں ابکی بار پھپھی،ماموں،تایا سب سے مشورے کا سوچنے لگیں۔۔
دوسرے دن بیٹے کے مکلاوے سے فارغ ہو کر سمدھن آ بیٹھی باتوں باتوں بیچ وہ رونے لگیں۔۔
سوہنی کان لگائے سب سن رہی تھی۔۔
اسے پتہ چلا آپا کی ساس اپنے بھانجے کے لئے اماں کی منت کر رہی ہے۔۔
اماں پریشان ہے اور انہیں سمجھا رہی ہے کہ یہ ممکن نہیں۔۔ہم ایک گھر میں دو بیٹیاں کبھی نہیں بیاہتے۔۔دوسرے سوہنی کے لئے خاندان میں بہت جگہ ہے اسے باہر بیاہنے کا کوئ ارادہ نہیں۔۔
سوہنی اٹھ کے آپا کے پاس کچن میں بھاگی انہیں ساری سن گن دی۔۔
آپا غصے میں برتن پٹخنے لگی۔۔
ایک تو تو نے اماں کو عذاب ڈال دیا ہے۔۔ابھی کل ایک گھر سے جان چھڑا کے آئے ہیں اور اب انکو بھی تیری پڑ گئ ہے۔۔
سوہنی نے مونگ پھلیاں پھانکتے ہوئے آپا کی بات پہ غور کیا تو غور کے جواب میں اسے وہ چھپکلی نما ڈرا سہما نوجوان یاد آیا جو لڑکیوں کو دیکھ کر گرتا پڑتا باہر کو بھاگا تھا۔۔
ہیں ہیں۔۔کونسا گھر۔۔وہ جدھر ہم کل گئے تھے؟
ہاں۔۔اپا نے رسانیت سے جواب دیا۔۔
اماں کو سمجھا لئیں آپا۔۔
شکل دیکھی ہے اس لسوڑے کی؟؟؟
سرخ ہوتے چہرے سے سوہنی نے پاؤں پٹخے۔۔
نہ تو کیا شکل دکھاتی پھرتی ہے سب کو۔۔کسی نے بھی اتنی شکل نئیں دیکھی اپنی جتنی تو نے دیکھ لی ہے۔۔اتنی تو حسینہ عالم کوئ نئیں ہے۔۔
اسکا گھر دیکھا ہے؟
ماں باپ دیکھے ہیں؟
انکی حیثیت دیکھی ہے؟
تیرے جیسی انہیں پچاس مل جائیں گی۔۔آپا نے اپنی طرف سے دھماکہ کیا۔۔
تو کر لیں جا کے ان پچاس کو۔۔ایتھے کیا لینے آئے ہیں وہ کل اسلئیے کڑیوں کا فینسی شو کروا رہے تھے اس لئے دادا ہمیں ادھر لے کے گئے تھے۔۔ائیں اب ذرا دادا جی میں آپ بات کرونگی انسے۔۔
گھر میں سواہ ڈالنا ہے۔۔
تم لوگ بھول گئے ہو۔۔سوہنی نے وڈا افسر لگنا ہے
میں نے پڑھنا ہے۔۔اور جسکے تم مجھے گھر بتا رہی ہو ناں ایسے پچاس اور آنے ہیں منتیں کرنے ترلے ڈالنے ادھر بتا دو اماں کو۔۔۔
آپا حیرت سے سوہنی کی باتیں سنتی انہیں بکواس قرار دیتی چائے اندر لے گئ۔۔
رات اماں پھر سخت پریشان تھی۔۔
آپا کو بولا کاغذ قلم لیاہ۔۔
مامے نوں خط لکھ۔۔
مینوں کج سمجھ نئیں آ رہی۔۔
میں پہلے ای بڑی ڈردی سی ایدے کرماں توں۔۔
تیری سس نوں ہاں نئیں کر سکدی۔۔سیدھی ناں تے کدرے او ناراضگی کر گئے تے کی بنسی بڑا نازک رشتہ ہے۔۔
اجے تے اے پندرہویں سال اچ پی اے اللہ جانے کی بنسی۔۔اماں
سوہنی کیندی سی اونہوں گجرات والے بالکل نئیں پسند۔۔تسی دونواں نوں ناں کر دیو۔۔کہہ دیو جس لے ایہہ ویانے دی عمر دی ہوسی اسوقت ویکھی جاسی۔۔
آپا اماں کی پریشانی پہ پریشان تھی۔۔
اماں نے بھائ کو خط لکھویا۔۔ساری تفصیلات بتائیں۔۔کہ مظہر بھائ کے ماموں بھی اپنے خاندان کے امیر ترین شخص ہیں انکی بہن نے انہیں ہاں کی پوری امید دلائی ہوئ ہے کیونکہ بڑی بیٹی انکی بہو ہے۔۔
اور دوسری طرف گجرات والے ماما جی ہمیں ملوا لائے ہیں سب کچھ اتنا اچھا ہے کہ دل ہولنے لگتا ہے۔۔پریشانی ہوتی ہے کہ ہم ہی کیوں۔۔۔
ہماری حیثیت دونوں طرف برابر کی نہیں۔۔اپ مشورہ دیں اور میں اسکی پھپھی کے جواب کے بغیر کوئ فیصلہ نہیں کرونگی۔۔
سوہنی کا میٹرک کا رزلٹ آ گیا اب اسے سکول سے چھٹیاں تھیں۔۔اس لئے اسکا زیادہ تر وقت آئینے کے سامنے خود کو دیکھ دیکھ کر گزرتا تھا۔۔
باہر کہیں آنا جانا نہیں تھا۔۔
سہیلیاں سکول کی حد تک محدود تھیں۔۔
ایک دوپہر مظہر بھائ آفس سے واپسی پہ امی کو سلام کہنے ائے۔۔
امی کے پاس بیٹھے انہوں نے سوہنی کے اپنے ماموں زاد آفتاب سے متعلق رشتے کی بات چھیڑی اور بتایا سوہنی کو شادی پہ نانا نانی نے دیکھا اور پسند کر لیا ہے۔۔
آپ ہاں کر دیں یہ بہت بہتر فیصلہ ہو گا۔۔
میری بہن ہے میں اسکا آگے بھی خیال رکھونگا۔۔
انہی دنوں ماما جی پر مخالف پارٹی کی طرف سے کوئ حملہ ہوا وہ زخمی ہو گئے اماں انکی عیادت کے لئے گئیں تو بچیوں کو ساتھ لے گئیں۔۔
کچن میں سوہنی اور آپا انکی بہو اور بیٹیوں کیساتھ کام کروا رہی تھیں۔۔
سوہنی نے دیکھا چاچی بار بار اسے کن اکھیوں سے دیکھتی ہے۔۔
پاس آ کر چاچی بولی
تیری اماں ہاں کیوں نئیں کرتی سوہنی؟؟
سوہنی چپ رہی کیا جواب دیتی۔۔
میرا بھائ دیکھا ہے کیسا خوبصورت جوان ہے۔۔اکلوتا بھائ ہے۔۔پوری برادری اسے رشتہ دینے کو تیار ہے پر ہم نے تجھے مانگا ہے۔۔
ابکی بار سوہنی کو ناگواری کا احساس ہوا۔۔
آپا آنکھوں ہی آنکھوں میں حسب عادت بکواس سے منع کر رہی تھی۔۔
تو چاچی آپ کے خاندان میں میرے جیسی اک وی نئ کیا؟؟؟
سوہنی نے ٹماٹر کاٹتے ہوئے چاچی سے پوچھا۔۔
چاچی کی آنکھوں میں شعلہ سا لپکا۔۔وہ سوہنی کے بیحد قریب آ کر بولی ۔۔تو کیا سمجھتی ہے۔۔تو میری سوت بنکر میرے سینے پہ مونگ دلے گی؟؟؟
مجھے جانتی نہیں ہے تو۔۔۔ایسی تھاں مارونگی کہ پانی بھی نہیں مانگے گی۔۔
آپا اور سوہنی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئ۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو چاچی۔۔؟؟
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے متعلق ایسی بکواس بات کرنے کی آپا سوہنی کو جکڑتی رہ گئ پر شیرنی اب تاؤ کھا چکی تھی۔۔
سارا گھرانہ جمع ہو گیا
سوہنی چیختی جاتی روتی جاتی۔۔
دوسری طرف اچانک دادی ( ماما جی کی بیگم) نے زارو قطار رونا شروع کر دیا۔۔
ایس کمینی میری نوں نے گھر اچ اگ لائ ہوئ اے۔۔
اے کیندی تواڈے پتر دا سوہنی تے دل آ گیا اے۔۔
تسی کوئ بندوبست نہ کیتا تے میرا گھر اجڑ جانا۔۔
ایس کمینی نے سوہرے(سسر) نوں اگے لایا کہ جا کے میرے پراہ دا رشتہ منگو۔۔یہ سب باتیں ناقابل فہم ناقابل یقین تھیں۔۔
دو میاں بیوی کی آپسی ٹسل بات چیت اور ضد یہاں تک آن پہنچی تھی اور سب بے خبر تھے۔۔
اماں ماما جی کے قدموں میں بیٹھ گئیں۔۔
اے تسی کی کر رے او میرے نال..؟
میریاں دھئیاں دی ساری عمر اگے پئ اے تسی کی بنیاد بنھ رئے او؟؟
تسی اے گل سوچیں وی کسطرح؟
تواڈے پتر دے دل وچ کوئ گل آئ سی تے تسی مینوں دسدے۔۔میں اودیاں لتاں پن دیندی پر تسی آپنی نوں ،پتر دے شک دی بنیاد تے میری دھی دی زندگی داؤ تے لا رئے او؟؟؟
چاچی عجیب پاگل پنے کی حالت میں تھی۔۔جو میں کہہ دتا اوئے ہوئے گا ایس توں سوا کوئ رستہ نئیں۔۔یا اسی سوہنی نوں ایتھے ای مار کے دب دیاں گے
یا اودھا نکاح ہوئے گا میں ابو جی نوں کال کر دتی اے ۔۔
اماں جو ابھی تک ایک آفت سے نہ سنبھلی تھیں
حقیقی طور پہ ڈر گئ اب انہیں یہاں بیٹیوں کو ساتھ لانے کے فیصلے پہ افسوس ہوا۔۔
اماں ماما جی کی طرف دیکھتیں۔۔
ماما جی خود بے بسی کی تصویر بنے بہو کی طرف دیکھتے۔۔
سوہنی ساری باتیں سن چکی تھی اب وہ چاچے کا نام لے لے کر چاچی کو للکارتی۔۔
شکل دیکھی ہے اپنی۔۔
کس نے تجھے وہم ڈال دیا چاچی کی میں تیری سوت بنونگی۔۔وہ میرے باپ کے برابر کا ہے۔۔تجھ سے نہیں سنبھالا گیا تو اسے گولی مار۔۔میرا نکاح پڑھوانے والی تو کون ہوتی ہے۔۔
اماں بگڑتے حالات کی نزاکت جان کر بن مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں۔۔
انہیں معلوم تھا ماما جی کی حیثیت اپنے سمدھیوں کے سامنے بولنے کی نہیں وہ بہت اثر و رسوخ والے ٹیڑھے لوگ ہیں۔۔اماں بیقرار ہو کر بار بار باہر نکلنے کی کوشش کرتیں
عورتیں مل ملا کر انہیں گھیر لیتیں۔۔سوہنی اماں کے پاس آئ۔۔اماں میں کج نئیں کیتا۔۔توانوں میرا یقین ہے ناں؟؟
اماں نے اسے سینے سے لگا لیا۔۔
آپا رو رو کے ابا کو پکارتی۔۔۔کبھی ماں کو سنبھالتی اماں کسی کو بلاؤ یہاں سے چلو۔۔
سوہنی چپ چاپ دادا کے سامنے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھی تھی۔۔
دادا جی میں گھر جانا جے۔۔۔زندہ یا مردہ پر میں آپنے گھر جانا جے۔۔۔
میں ایسا کوئ کم نئیں کیتا جس دے بدلے تسی سب میرے نال اے سب کرن دی کوشش کرو۔۔مینوں یتیم نہ سمجھو۔۔
توانوں سب نوں میرا مشورہ جے مینوں مار دیو پر میرے نکاح دا نہ سوچنا۔۔۔
چاچی کے گھر والے تھوڑی دیر میں پہنچ آئے۔۔
پورے گھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔۔انکی بیٹی ایک ہی بات پہ بضد تھی کہ سوہنی کے گھر والے اب نہیں مانیں گے اسلئے موقعے کا فایدہ اٹھا کر فورن نکاح کیا جائے۔۔ورنہ اسکا گھر اجڑ جائے گا۔۔
اچانک سب نے دیکھا سوہنی وہاں نہیں ہے۔۔
ڈھونڈ مچی اور پھر سب مرد باتھ روم کے دروازے کے باہر اکٹھے ہو گئے۔۔
اماں اور آپا اسے واسطے دیتے سوہنی دروازہ کھول۔۔چاچی کے بھائ اور ابا نے آگے بڑھ کے دروازہ توڑ دیا۔۔
سوہنی فرش پہ گری تڑپ رہی تھی اس نے باتھ روم میں رکھا تیزاب پی لیا تھا۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *