قدرت اللہ شہاب

قدرت اللہ شہاب سے ممتاز مفتی کی پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی۔اس وقت مفتی صاحب ولیج ایڈ کے دفتر میں احمد بشیر اور ابن انشاء کی معیت میں حفیظ جالندهری کے پی ۔اے کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہے تهے۔ قدرت اللہ شہاب صدر کے سیکریٹری کی حیثیت سےصدر گهر میں تعینات تهے۔ ممتاز مفتی قدرت اللہ شہاب کو اشفاق احمد کے دوست کی حیثیت سے جانتے تهے۔ شہاب صاحب نے اشفاق احمد کے کہنے پر ان کی گزشتہ ملازمت میں انکوائری کے دوران ان کی مدد کرنے کی کوشش بهی کی تھی مگر مفتی صاحب کی غیر 192105حاضردماغی کے باعث یہ مدد فریقین کے لیے ندامت کا باعث بن گئ۔
الکهه نگری میں اس واقعے کی تفصیل درج ہے۔
ممتاز مفتی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑهانے میں شہاب صاحب نے خود پہل کی تهی ۔شہاب نے اپنے ایک مضمون میں لکها ہے:

“سچ تو یہ هے کہ جب میں پہلے پہل ممتاز مفتی سے ملا تو میں نے فورا”فیصلہ کرلیا کہ بس یہ آدمی ضرور میرے ڈهب کا هے۔ گرمجوشی وه جیسے گندهک کا ابلتا چشمہ ،سرد مہری ایسی گویا جما هوا گلیشیر ،نرمی میں روئ کی بتی جو مدت سےمٹی کے دیئے میں سرسوں کے تیل میں گری پڑی هو۔ سختی میں نائی کا استرا، مٹهاس کا موڈ هو تو رس کا گهڑا ،ورنہ نرا پرا روکها پهیکا کهدر سا لا تعلق انسان جو اپنے دل کی کڑوی سے کڑوی لیکن سچی بات یوں کر گزرتاهے جیسے موسم کا حال بیان کر رہا ہو “یوں معلوم هوتا ہے قدرت اللہ شہاب نے ممتاز مفتی سے ملنے سے پہلے ہی انہیں اپنے لیے ڈهب کا آدمی پا کر انہیں منتخب کرلیا تها ۔وه نفسیات کی کتابیں خریدنے میں مدد لینے کے بہانے انہیں اپنے ساتھ ادهر ادهر گُهماتے رہتے۔آہستہ آہستہ ممتاز مفتی نے محسوس کیا کہ شہاب صاحب کی شخصیت میں ایک ایسی پوشیده سمت هے جو ان کےعام ملنے والوں کو دکهائی نہیں دیتی ۔اور جسےوه التزاماً چهپاے رکهتے ہیں۔ کراچی جانے سے پہلے ہی ممتاز مفتی بهی بهائی جان اور سایئں اللہ بخش کی وساطت سے اس پراسرار باطنی دنیا کے دروازے پر آن کهڑے ہوے تهے جسے انہوں نے بعد میں الکھ نگری کا نام دیا۔

راولپنڈی میں ان کے حلقہ احباب میں خاصی تعداد ایسے اصحاب کی تهی جو تصوف سے دلچسپی رکهتے تهے اور ان سے تبا دلہء خیالات ممکن تها لیکن کراچی میں ان کے ساتهی احمد بشیر اور ان کا بهانجها اور دوست قیصر نہ صرف اس میدان سے کوسوں دور تهے بلکہ اس کے سرے سے منکر تهے وه عقلیہ دانشور تهے اور وجدان والہام اور کشف و کرامات کے نا تو قائل تهے اور نہ اس بارے میں کچھ جاننے کے مشتاق ۔ ان حالات میں یقیناً ممتاز مفتی کو شہاب کی صورت میں ایک ایسا سہارا میسر آگیا ہوگا جو نہ صرف ان کے خیالات کا احترام کرتا تها بلکہ انہیں اہمیت بهی دیتا تها۔ شہاب صاحب میں ممتاز مفتی کی دلچسپی اس وقت اور بهی بڑھ گئ جب ان کے روحانی رہنما بهائی جان، جان محمد بٹ نے شہاب کو ستاره کا لقب عطا کرکے انہیں شدید اہمیت دینا شروع کردی۔ ممتاز مفتی کے نام بهای جان کے خطوط کا سلسلہ جاری تها ان خطوط سے معلوم هوتا تها کہ پاکستان کی بقا اور ترقی کے متعلق مرد قلندر سایئں اللہ بخش کا ایک خصوصی منصوبہ تها ۔ جسے پایۃ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ستارہ یعنی قدرت اللہ شہاب کی خدمات بہت اہمیت رکھتیں تھیں۔

اس عظیم مقصد کے لیے انہیں بہت سی روحانی شخصیات کی استعانت بھی حاصل تھی۔ سائیں اللہ بخش بھی انہی میں سے ایک تھے جو بھائی جان کی وساطت سے اور شاید براہ راست بھی شہاب کے لیے روحانی استعانت بہم پہنچاتے۔ خطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھائی جان اور سرکار قبلہ سائیں اللہ بخش کا خیال تھا کہ شہاب کی صدر گھر میں تعیناتی کا اصل مقصد، حکومتِ پاکستان کے اہم فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور انہیں اسلامی رنگ میں ڈھالنا تھا۔ اس لیۓ صدر گھر میں ان کا موجود رہنا ازحد ضروی تھا۔ واضح ہو کہ اس وقت تک شہاب بھائی جان یا سائیں اللہ بخش سے واقف نہ تھے اور نہ ان کی آپس میں کوئی ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن جب ممتاز مفتی کو یہ معلوم ہوا کہ انہیں کراچی صرف اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ شہاب سے راہ و رسم پیدا 192047کریں اور انہیں سائیں اللہ بخش تک پہنچانے کا وسیلہ بنیں تو ان کی حیرت دو چند ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں کراچی میں چند ایسے واقعات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا جنہوں نے شہاب کی شخصیت کے گرد عظمت اور اسرار کا ہالہ سا قائم کر دیا۔ مثال کے طور پر جنوبی ہند ائم سے ایک شخص کا خط موصول ہوا جو پچیس سال سے فالج کا مریض ہونے کے باعث چلنے پھرنے سے معذور تھا اور اس کا واحد شغل اللہ کا نام لینا تھا۔ وہ مالی طور پر محتاج نہ تھا اور اپنی بیماری کو بھی درپردہ اللہ کی رحمت قرار دیتا تھا جس نے اسے اللہ سے رابطہ عطا کر رکھا تھا اس نے لکھا:

“میں آپ کو قطعی طور پر نہیں جانتا لیکن دو ایک سال سے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ آپ کو خط لکھوں ۔۔۔۔۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ آپ ایک عظیم خدمت پر معمور ہیں۔ اس لیۓ میں روز بلا ناغہ آپ کے لیۓ دعا کرتا ہوں۔ اللہ کرے آپ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوں اور وہ دور جس کا ہم سب کو انتظار ہے جلدی آئے۔”

اس خط کے مندرجات کسی بھی شخص کے لیے جو روحانی دنیا کے قواعد و طریق کار سے واقف نہ ہو، حیرت کا باعث بن سکتے ہیں۔ لیکن ممتاز مفتی تو ان دنوں اس دنیا کی دہلیز پر کھڑے تھے لہذا ان کی حیرت جلد ہی یقینِ کامل اور عقیدت میں بدل گئی۔ پھر ایک اور واقعہ رونما ہوا۔ حیدرآباد دکن سے ایک دبلے پتلے آبنوسی رنگت کے مالک صاحب تشریف لائے اور انہوں نے قدرت اللہ شہاب کو انگریزی زبان اور تیکھی آواز میں سخت جھاڑ پلائی:

“—Flay you alive, put bran on you and put you in the sun.

We don’t give warnings, we just cut the rame out the list

You are a lucky chap”

شہاب صاحب نے اپنی خوش بختی کی تصدیق کے لیے انکا نام پتہ جاننا چاہا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں محض ایک پیامبر ہوں۔ تہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

ایک روز شہاب صدر ایوب کے ہمراہ جیل کے معائنے کے لیے گئے تو جیل کے وارڈر نے انہیں بتایا کہ پھانسی کی کوٹھری میں قید ایک شخص انہیں ملنا چاہتا ہے۔ شہاب اس قیدی سے ملنے پہنچے تو ایک ہیجڑے سے ملاقات ہوئی جس نے شہاب کو کھری کھری سنائیں اور کہا کہ ہم تجھے یہ بتانے آئے ہیں کہ تو ٹھیک کام نہیں کر رہا۔ تو سمجھتا ہے تجھے یہاں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ تو اس کے حکم بجا لائے۔ یہ غلط ہے تجھے اس کے فیصلوں کی تعمیل کے لیے نہیں بھیجا گیا بلکہ اس لیۓ بھیجا گیا ہے کہ تو خود فیصلے کرے۔ اس کی فکر نہ کر، وہ رکاوٹ نہیں بنے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ تجھ سے بات کرنے کے لیے ہمیں قید ہونا پڑا ہمیں پتہ تھا تو آج یہاں معائنے کے لیے آئے گا۔ شہاب نے مفتی کو اس واقعے کے بارے میں بتایا تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ پھانسی کی سزا پانے والے مجرم ذہنی توازن قائم نہیں رکھ سکتے۔ لیکن ان کی بیوی عفت شہاب نے کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ وہ پھانسی کی سزا پانے والا مجرم نہیں تھا بلکہ قریب کے بازار میں دنگا فساد کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور ڈراوے کے لیے اس خالی کوٹھری میں قید کر دیا گیا تھا لیکن اگلے روز کوٹھری خالی ملی۔

غالبًا اسے کسی نے رہا کر دیا تھا۔

ممتاز مفتی ابھی کراچی کی فضا سے مانوس ہوئے ہی تھے کہ پاکستان کا صدر مقام کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گیا اور انہیں ایوانِ صدر میں شہاب صاحب کے ماتحت او۔ایس۔ڈی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ یہاں انہیں شہاب کی روحانی حیثیت کے متعلق مزید جاننے کا موقع ملا۔ سائیں اللہ بخش کے مزار پر ان کی باقاعدہ دستار بندی ہوئی مگر شہاب کی باتوں اور انداز سے ممتاز مفتی نے یہ اندازہ قائم کیا کہ اس دستار بندی کو شہاب اپنےلیے باعثِ فخر نہیں سمجھتے بلکہ بھائی جان اور ان کے معتقدین اس بات پر بہت مسرت اور فخر محسوس کر رہے ہیں۔ ممتاز مفتی کہ یہ بھی معلوم ہوا کہ شہاب کو مسلسل عالمِ غیب سے ہدایات موصول ہوتی ہیں اور ان کی نوعیت ذاتی یا شخصی ہی نہیں بلکہ امورِ مملکت اور فرائضِ منصبی سے 232220متعلق رہنمائی بھی اس میں شامل ہے۔ مثلاً ایک بار ایک دہقان ایوانِ صدر میں ان سے ملنے آیا۔ شہاب نے مصروفیت کے باعث ممتاز مفتی کو اس سے ملاقات کے لیۓ بھیجا۔ اس نے بتایا کہ اسے قریب ہی سڑک پر ایک سانڈنی سوار ملا تھا جس نے قدرت اللہ شہاب کو ایک پیغام بھیجا ہے۔ پیغام یہ تھا کہ جو کاغذ وہ لکھ رہے ہیں وہ غلط ہے اور جو وہ لکھ کر پھاڑ چکے ہیں وہ صحیح تھا۔ ممتاز مفتی نے اسے ایک مجہول آدمی خیال کیا لیکن شہاب یہ پیغام سنتے ہی بے چینی سے اٹھے اور ویسٹ پیپر باسکٹ سے پھاڑے ہوئے کاغذ کے پرزے چن کر ممتاز مفتی سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جوڑ دیجیۓ۔ جب وہ جوڑے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ پاکستان کے مجوزہ آئین کی ایک اہم شق تھی جس کا اسلام سے تعلق تھا۔

ان دنوں ممتاز مفتی کی ڈائریوں کے اندراجات کے زیادہ تر موضوعات روحانی واقعات، بزرگوں سے ملاقاتوں اور بشارت بھرے خوابوں سے متعلق ہیں۔ ان میں سے بہت سے واقعات انہوں نے اپنی مختلف کتابوں میں بیان کیے۔

ممتاز مفتی نے اپنی تحریروں میں خوشاب کے ایک ایڈوکیٹ عبدالغفور کا بہت ذکر کیا ہے۔ عبد الغفور صاحب صدر ایوب اور شہاب صاحب کو باقائدگی سے خط لکھا کرتے تھے اور انہیں مختلف امور پر مشورے بھی دیتے رہتے تھے۔ وہ ایک عبادت گزار شخص تھے۔ انہوں نے شہاب کے ہاں اولاد کے لیے نماز تہجد میں دعا مانگنے کا معمول اپنا رکھا تھا۔ آخر انہی نے شہاب کو بیٹے کی ولادت کی خوشخبری سنائی تھی۔ ممتاز مفتی کے روزنامچوں میں غفور صاحب کے خطوط اور ان کی طرف سے ملنے والی ہدایات کا باقائدگی سے تذکرہ ملتا ہے۔

وہ کیا مقصد تھا جس کے لیے شہاب صاحب ہالینڈ، مصر اور بلآخر جدہ روانہ کیے جانے والے تھے اور جو ملک کے مفاد سے بالا تر اور عظیم تر مقصد تھا؟ قدرت اللہ شہاب کو اس سلسلہ میں کیا تیاریاں کرنا تھیں؟ یہ سوالات لامحالہ ممتاز مفتی کے ذہن میں بھی اٹھے ہوں گے اور انہوں نے ان کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی کی ہو گی لیکن اس معاملے میں وہ خاموش رہے۔ الکھ نگری میں انہوں نے صرف اتنا لکھا ہے کہ شہاب نے ہالینڈ کی سفارت کا انتخاب اس لیے کیا تھا کیونکہ وہ مجاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ اور اس لیے بھی کہ وہاں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی لائبریری ہے جس میں قلمی نسخے بہتات سے ہیں۔

آہستہ آہستہ انہوں نے محسوس کیا کہ شہاب کی شخصیت میں جو وسعت ، عظمت اور بلندی کردار ہے وہ اور کسی کی شخصیت میں نظر نہیں آتی۔ شہاب کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف ان کا عجز و انکسار تھا۔ وہ اپنی روحانی طاقتوں کے اخفا کی بھرپور کوشش کرتے اور ان کا اظہار صرف اس وقت ممکن ہوتا جب ان پر چھلکن کا عالم طاری ہوتا۔ یعنی وہ بے خودی کے اس مقام پر ہوتے جہاں انہیں اپنے راز کے طشت ازبام ہونے کا احساس تک باقی نہ رہتا۔ وہ دوسروں کو ان کی خطاؤں، غلطیوں یا کوتاہیوں کا احساس دلا کر ندامت میں مبتلا کرنے سے گریز کرتے۔ انہیں مخلوق خدا کی خدمت کا شوق تھا مگر وہ اس پر اصرار نہ کرتے۔ اگر وہ خواہش کے باوجود کسی کے کام نہ آسکتے تو اس پر آزردہ نہ ہوتے بلکہ اسے اللہ کی رضا سمجھ کر راضی ہو جاتے۔ ذاتی معاملات میں بھی ان کا دستور یہ تھا کہ تین بار سے زیادہ کسی کام کے لیے کوشش نہ کرتے۔ اگر تنیوں بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا تو دوبارہ کوشش نہ کرتے۔ وہ اپنی نیکی، راست روی ایمانداری اور حق پرستی کا ڈھنڈورا پیٹ کردوسروں کو کمتر یا گناہگار سمجھنے کے شغل میں مبتلا نہ ہوتے۔ اس کے برعکس انہیں لہو و لعب میں مبتلا، راہ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں میں خصوصی دلچسپی تھی۔ وہ ان کے قریب جاتے، ان کا اعتماد حاصل کرتے اوران کے طرز عمل پر تنقید کرنے کی بجائے ان کی فکر کی سمت تبدیل کرنے کی غیر محسوس کوشش کرتے۔ان کے کردار کی بنیاد حضور اکرمﷺ کی کامل تقلیداور پیروی پر قائم تھی۔وہ ہر قسم کی صورت حال میں فیصلہ کرنے192009 سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ایسی صور تحال میں حضور اکرم ﷺ کا طرز عمل کیسا ہوتا۔عبادت گزار اور کثرت سے مجاہدہ و ریاضت کر نے والے انسان تھے مگر اسے پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کرتے۔
ممتاز مفتی نے شہاب کی جن خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے وہ واقعی انہیں ایک قابل تقلید انسان ثابت کرتی ہیں۔قدرت اللہ شہاب کی وفات کے بعد ان کے بارے میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں اردو سائنس بورڈ لاہور سے شائع ہونے والی ”ذکر شہاب“ اور بانو قدسیہ کی ”مراد بریشم“خاص طور پر مقبول ہوئیں۔ان کے علاوہ ان کے خطوط کے مجموعے بھی چھاپے گئے۔مراد بریشم نجی تاثرات پر مبنی تحریر ہے جس میں بانو نے اپنے اور اپنے خاندان کے حوالے سے شہاب کی ذات کے مختلف گوشوں کی ایک جھلک دکھائی ہے۔”ذکر شہاب“مختلف الفکراور مختلف الخیال لوگوں کے مضامین اور آرا کا مجموعہ ہے۔ان میں شہاب کے قریبی دوستوں ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے علاوہ”ایوان صدرمیں سولہ سال“ کے مصنف اور شہاب کے دفتری عملے میں شامل م۔ب۔خالد،مختار زمن،اے ۔حمید،ذوالفقاراحمد تابش،محمد اجمل نیازی ،مرزا ادیب ،مسعود قریشی ،نذیر احمد ،احسان اکبر ،منشا یاد،رشید امجد ،جلیل عالی اور ڈاکٹر نوازش علی کے تاثرات مضامین یا گفتگو کی صورت میں شامل ہیں۔ان تمام مضامین کے مطالعے سے قدرت اللہ شہاب کی شخصیت کا جو خاکہ تیار ہوتا ہے وہ ممتاز مفتی کی پیش کردہ تصویر سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔
گویا ممتاز مفتی اپنی تمام تر عقیدت اور محبت کے باوجود، قدرت اللہ شہاب کو مافوق الفطرت شخصیت نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا اور گوشت پوست سے بنا ہوا انسان خیال کرتے تھے جس سے غلطیاں اور کوتاہیاں بھی سرزد ہو سکتی ہیں، اور جو زندگی کے مسائل سے اپنے طریقے سے نبرد آزما ہونا چاہتا ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ممتاز مفتی نے شہاب کی شخصیت کو ایک مختلف انداز سے اسی مقصد کے لئے جدو جہد کرتے ہوئے پایا جو خود اُن کے لئے بے حد اہمیت رکھتا تھا، اس کے ساتھ ساتھ انہو ں نے شہاب کے ذاتی زندگی میں نہ صرف اُن کے غیر معمولی اوصاف کا مطالعہ کیا بلکہ اُن کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے کئی خلافِ معمول واقعات کا مشاہدہ بھی کیا۔

1 Response

  1. قیصرانی says:

    جمیل الدین عالی کو جلیل عالی لکھا گیا ہے۔ مردِ ابریشم کو شاید مراد بریشم درج کیا گیا ہے۔ اس طرح کی اغلاط کو درست کر لیجیے اور اگر ممکن ہو تو قبلہ اوّل میں جو واقعات پیش آئے، ان کا اجمالی حوالہ یہاں مناسب رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *