Veronica Decides To Die , عبداللہ عبد

پائلو کوہیلو کا ایک اور ناول یہ کہانی ہے ایک لڑکی Veronica کی جو تمام تر آسائشیں ہونے کے باوجود خودکشی کی کوشش کرتی ہے یہ جانتے ہوئے کہ اس کے والدین اسے خون میں لت پت دیکھ کے پریشان ہوں گے وہ کسی بلند عمارت سے کود جانے کا خیال ترک کر کے sleeping pills کے ذریعے خودکشی کو ترجیح دیتی ہے ۔۔ اسکی آنکھ ایک villete میں کھلتی ہے جو پاگل لوگوں کے علاج کے لیے جدید ترین ہسپتال ہے۔ جہاں اسے ڈاکٹر Igor بتاتا ہے کہ تمہارا دل خاصا کمزور ہے اور تمھارے پاس محض ایک ہفتہ کا وقت ہے ۔اسکے بعد موت تمھیں آن لے گی۔۔ یہ کہانی اسی ایک ہفتہ پر ہے ۔۔ اس ناول میں تین کردار اور بھی ہیں جیسے Mari , Zedka اور Eduard . سب کی الگ الگ کہانی ہے کہ وہ کیسے اور کیوں villete تک پہنچے ۔۔

اس میں ایک دلچسپ قصہ ہے وہ بیان کیے دیتا ہوں
ایک جادوگر سلطنت کو ختم کرنے کے لیے کنویں میں کچھ جادوئی دوائی پھینک دیتا ہے جو بھی اس کنویں سے پانی پیتا ہے پاگل ہو جاتا ہے آہستہ آہستہ تمام سلطنت پاگلوں سے بھر جاتی ہے۔۔ بادشاہ اور اسکے خاندان کا کنواں چونکہ الگ ہوتا ہے لہذا وہ اس بیماری سے محفوظ رہتے ہیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بادشاہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ صحت کو کئی حکم نامے جاری کرتا ہے جو کہ سودمند ثابت نہیں ہوتے کیونکہ اداروں میں موجود تمام افراد بھی اسی کنویں سے پانی پیتے ہیں۔ جب عوام کو ان حکم ناموں کی خبر پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں بادشاہ تو پاگل ہو گیا ہے اور وہ سب بادشاہ کے قلعے کی طرف مارچ کرتے ہیں اور بادشاہ سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بادشاہ تاج اتارنے اور مستعفی ہونے کا فیصلہ کر ہی لیتا ہے کہ ملکہ اسے ایسا کرنے سے روک دیتی ہے اور مشورہ دیتی ہے کہ ہم بھی اسی کنویں سے جا کر پانی پی لیتے ہیں اس طرح ہم انہی جیسے ہو جائیں گے اور ان پر حکمرانی کر سکیں گے چنانچہ بادشاہ ملکہ کا کہنا مان لیتا ہے اور اس کنویں کا پانی منگوا کر اپنے اہل خانہ سمیت پی لیتا ہے۔۔ کچھ ہی وقت میں بادشاہ پاگلوں جیسی باتیں کرنے لگتا ہے جب عوام بادشاہ اور ملکہ کی باتیں سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بادشاہ کیا خوب دانائی کی باتیں کر رہا ہے ہمیں ان سے بادشاہت لینے کا مطالبہ ترک کر دینا چاہیے۔ چنانچہ بادشاہ اپنے آخری وقت تک ان پر حکمرانی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

کہانی کا آخری حصہ نہایت خوبصورت ہے جسے پڑھ کر ایک مووی The Fault In Our Stars کی یاد آتی ہے۔۔

خیر پائلو کا یہ ناول کچھ زیادہ متاثر نہ کر سکا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *