تحریری_مقابلہ

Alchemist.. تبصرہ: محمد یعقوب

اندازِ بیاں اگرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

کتب بینی کی عادت بچپن سے ہی تھی لیکن الکیمسٹ سے تعارف ایک دوست نے کروایا. اس کے مطابق اس کتاب کی 4 کروڑ کاپیاں بک چکی ہیں. مختصر یہ کہ ناول اس سے لیا لیکن تبصرہ(25 صفحات کا تبصرہ تھا شاید) لمبا اور مشکل الفاظ ہونے کی بنا پہ 10,11 صفحات پہ ہی چھوڑ دیا اس کے بعد سید علاؤ الدین صاحب کا لکھا ترجمہ خریدا لیکن آدھی کتاب پڑھنے کے بعد کتاب گم ہو گئی.
اس کے بعد عمر الغزالی صاحب کا ترجمہ پڑھا جو سینٹر آف ہیومن ایکیلینسی پبلشرز کی شائع کردہ ہے. یہ 145 صفحات پہ محیط ہے اندازِ بیاں نہایت آسان ہے لیکن مترجم نے اپنی رائے دی ہوئی ہے اچھی بات یہ کہ کتاب کہ آخر پہ سوالات درج ہیں جو سونے پہ سہاگہ کا کام کرتے ہیں. اب تک اس کی 7 کروڑ کاپیاں بک چکی ہیں (سافٹ کاپی کی تعداد الگ ہے) 100 کے قریب زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے

پلاٹ:
کہانی کا پلاٹ سادہ لیکن ملا جلا ہے. روایتی قصوں کی طرح اس میں حقیت سے پرے مافوق الفطرت عناصر بھی شامل ہیں خواب کی حقیقت بتانے والی اماں اس کے بعد ملنے والے بادشاہ کے گھریلو افراد کے نام بتانا, پھر کیمیا گر وغیرہ باقی اگر بیسٹ سیلر رہنے کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ قصہ غیر معمولی ہے تو میں ذاتی طور پہ اس سے متفق نہیں.ہیرو اور اس کے مسائل کا ذکر لگ بھگ سبھی قصوں میں ملتا ہے. اس قصہ میں سنتیاگو لٹتا بھی ہے, مایوس بھی ہوتا ہے, شیشے کی دکان پہ کام کے بعد واپسی کی بھی سوچتا ہے لیکن بعد ازاں چلتے رہنے کی بدولت خزانہ….
اصل میں پاولو کوہیلو نے علامتی طور پہ مسائلِ حیات کو بیان کرنے کی بہترین کوشش کی ہے اس نے عام آدمی کو آنے والے مسائل کا تذکرہ اس ننھے سے ناول میں بہترین طور پہ کیا ہے. فلسفہ اور تحریک سے بھرپور یہ کتاب واقعی ایک شاہکار ہے.

اسباق:
ایک عرصہ تک اس مخمصے میں رہا کہ اتنا سادہ اور روایتی ہونے کے باوجود اس کی اتنی شہرت کیوں؟ وجہ “میں ہوں سر بکف لڑا دے کسی بلا سے مجھے” والی بات, موٹیویشن اور اسباق سے بھرپور ہے یہ کتاب. دوسری وجہ ہمہ جہت ہے جس نے پڑھی اپنی مرضی کا سبق لیا. تیسری وجہ کائناتی سچائیوں سے قریب تر ہے.
1.کسی بھی کامیابی کے لیے luck ضروری ہے لیکن یہ luck بہادروں کا ساتھ دیتی ہے نہ کہ سست اور نکموں کا سنتیاگو جب سفر کے لیے نکلتا ہے تو بے پناہ مصیبتوں کے باوجود اس کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے بقولِ آتش
“سفر ہے شرط مسافر نواز بتہرے”,
2.منزل کا تعین ضروری ہے. منزل ہے تو آپ اس کے لئے مشکلات برداشت کرینگے ورنہ اِدہر اُدہر بھٹکتے رہیں گے.
3.ڈیل کارنگی کسی جگہ لکھتا ہے کامیاب لوگ سوچ بچار کے بعد قدم اٹھاتے ہیں اور پھر مڑ کر نہیں دیکھتے وہی قائد رح والی بات “میں فیصلہ لیتا ہوں اور کاوش سے اسے ٹھیک ثابت کرتا ہوں”, مطلب خواب ہی نہ دیکھتے رہیں انکی تعبیر کے لیے نکلیں بھی.

ذاتی ماخوات:
الکیمسٹ کے مطالعہ سے چند کائناتی حقائق بھی جھلکتے ہیں “خدا فطرت کی زبان میں انسان سے باتیں کرتا ہے” اس پہ بالکل صادر آتا ہے جیسے

اس کتاب سے لمحۂ حال میں جینے کا سبق بھی ملتا ہے سنتیاگو پہلے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے پھر کہانی کے درمیان میں اپنے ماضی کے لیے بھی پریشان رہتا ہے. جیسے بابا اشفاق زاویہ میں کسی جگہ “صاحب حال” کا ذکر کرتے ہیں.

جب تم کسی چیز کو پانے کی کوشش کرتے ہو تو پوری کائنات تم کو اس سے ملانے میں لگ جاتی ہے. یہ بھی بڑا اسرار ہے کیونکہ یہی بات اوشو نے ان الفاظ میں کہی ہے, “کل جز کی ہر کام میں مدد کرتا ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو”.

ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ جب تم نے مسمم ارادہ کر لیا تو آدھا سفر طے کر لیا یہ وہی صوفیاء والا نکتہ ہے کہ ایک قدم اپنے نفس پہ رکھو اگلا یار کی گلی میں ہو گا.

سب اے بڑھ کر اس قصہ کو پڑھنے کے بعد ایک توانائی ملتی ہے کسی بھی حال میں آگے بڑھنے کی, میرے جیسے فوجی کی زبان میں جب دشمن کا مورچہ قریب ہو تب چاہے جو ہو جائے مت رکو. یہی تحریک یہی جذبہ اس کتاب کی وجہ شہرت ہے اگر دو سطروں میں اس کا خلاصہ کرنے کا کہا جائے تو میں اس کا خلاصہ یوں کروں گا
عزمِ سفر کی بات ہے ورنہ تو منزلیں
قدموں کے آس پاس ہی دیکھا کرے کوئی.
ختم شد..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *