شیطان کا تعارف ، منفرد اندز میں

تحریر : سہیل تاج
اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو فرمایا، کن فیکون ،ہو جا، اور سب کچھ تخلیق ہو گیا۔اس کائنات کی تمام اشیاءوجود میں آگئیں، پہاڑ بن گئے،lucifer دریاﺅں میں روانی آگئی، ہواﺅں کا بہاﺅ شروع ہو گیا۔ آگ کا گرم گولا جو بگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا اس طرح جنت نظیر بن گیااور اس پر زندگی کے امکانات نظر آنے لگے ۔
اسٹیفن ہاکنگ جو کہ دور حاضرکے سب سے بڑے سائنس دان اور آئن سٹائن کے بعد دنیا کے ذہین ترین انسان سمجھے جاتے ہیں، ایک ماہر طبعیات بھی ہیں اورماہرفلکیات بھی۔ ’مختصرتاریخِ وقت‘ (A Brief History of Time) اور ’عظیم منصوبہ‘ (The Grand Design) کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایسی تصانیف ہیں جن کی وجہ سے اسٹیفن کو عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ اسٹیفن کائنات کی تخلیق کے بارے میں ایک دلچسپ نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر big bang یا کن فیکون سے کائنات نے تخلیق ہو جانا تھا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر ایک مظہر کے پیچھے ایک قانون کی بنیا د کیوں ہے؟ اگر ایک طاقت نے سب کچھ اپنی من مرضی سے تخلیق کر دینا تھا تو کائنات کوتخلیق ہونے کے لئے ایک مخصوص وقت کیوں درکار تھا؟ارتقاءکے مراحل ترتیب وار کیوں تھے ؟کائنات کی لامحدود وسعتوں میں چاند، سورج اور زمین سے کئی کئی گنا بڑے ستاروں اورسیاروں سے لے کر چھوٹے چھوٹے ذرات (ایٹم) کے درمیان ایک ربط، یا قانون کیوں ہے؟ اس کی وجہ اسٹیفن یہ بیان کرتے ہیں کائنات بنانے والی یہ طاقت ہر کام ایک قانون کے مطابق کرنا چاہتی تھی کیوں کہ یہی وہ قوانین ہیں جو مستقبل میں جا کر اللہ تعالیٰ کی پہچان کا سبب بنیں گے۔
کائنات کے بنیادی قوانین پر نظر ڈالنے کے بعدیہ موضوع زیر بحث آتا ہے کہ جب کائنات تخلیق ہوئی تو اس کی ہر شئے منفی اور مثبت، نراور مادہ، سیاہ اور سفید وغیرہ کے جوڑوں میں کیوں بنائی گئی ۔ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں بھی ایسے نام موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو رحمان و رحیم ہے وہ ہ جبار وقہار کے اوصاف کا بھی مالک ہے۔ چائنہ کی میتھالوجی نے اسی فلسفے کو دیکھتے ہوئے دو طاقتوں کو دریافت کیاجنہیں ین اور یانگ کا نام دیا گیا ہے ۔ چائنیز فلسفے کے مطابق یہ ہی دو متضاد قوتیں ہیں جو دنیا کے ہر عمل میں کار فرما ہیں۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے اور یہ فلسفے اس کی تائید کرتے ہیں کہ :ہم نے آپ کو جوڑے جوڑے پیدا کیا۔یعنی ہر نوع کا ایک ساتھی بنایا۔ اللہ نے جب آدم کو تخلیق کیا تو ایک ایسی قوت کی ضرورت بھی تھی جو نیکی کے ساتھ شر میں بھی توازن قائم رکھ سکے۔ چناچہ اس کا م کے لیے شیطان کا انتخاب کیا گیا۔ حافظ اابن کثیر جو اسلامی فقہ، قانون اور علمِ تفسیرکے ماہر اور مستند عالم تھے، لکھتے ہیں کہ لفظ شیطان شطنہ سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے دور دراز کی شے! کیوں کہ شیطان کی فطرت انسان سے بہت مختلف بلکہ شاید متضاد ہوتی ہے۔شطنہ عربی لفط شطہ سے نکلا ہے، جس کا لغوی مطلب ہے جلا ہوا۔یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور اس کے پیروکاروں کا انجام بھی آگ ہی ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیطان ایک جن تھا جسے اپنی عبادت و ریاضت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقام عطا کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نیکی اور شر کی قوتوں کے مابین توازن قائم رکھنے کے لئے حکمت کے تحت ابلیس کو یہ توفیق نہ دی کہ وہ آدم کے سامنے سربہ سجود ہو۔
اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو انتباہ کیا اور بتایا کہ تم میں سے کوئی ایک گمراہ ہونے والا ہے۔ شیطان فرشتوں کی نظر میںایک مقام رکھتا تھا اس لیے تمام فرشتوں نے شیطان سے گزراش کی کہ وہ ان کے حق میں دعا کرے۔ شیطان نے ان کی درخواست کو سنا اور دعا کے یہ لفظ ادا کیے،’ ©اللہ تم میں سے کسی کو گمراہ نہ کرے‘۔ شیطان نے یہ نہیں کہا کہ اللہ ہم میں سے کسی کو بھی گمراہ نہ کرے۔
تذکرہ غوثیہ سے مروی ہے کہ شیطان کے ایک دوست نے شیطان سے کہا: تو تو بڑا سیانا ہے، بڑی سمجھ والا ہے، تو نے یہ حماقت کیوں کی؟ کونسی حماقت؟ شیطان نے پوچھا۔ بولے، انسان کو سجدہ نہ کیا۔ بڑے سرکار کی حکم عدولی کی۔شیطان ہنس کر کہنے لگا؛سبھی اس بھید کو جانتے ہیں، پھر بھی سبھی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔‘
دوست نے پوچھا کس بھید کی بات کر رہے ہو؟شیطان نے کہا، سبھی جانتے ہیں کہ اس کائنات پر صرف بڑے سرکار کا حکم چلتا ہے۔ کسی میں دم مارنے کی سکت نہیں۔ کوئی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔ جو کرتا ہے، وہ بھی اللہ کی ایما پر کرتا ہے۔ میری کیا مجال تھی کہ میں حکم عدولی کرتا۔صرف انسان واحد مخلوق ہے جسے حکم عدولی کی توفیق عطا کی گئی ہے۔
شیطان نے اپنے دوست سے کہا آو،میں تمھیں ایک تماشا دکھاو¾ں۔ یہ سامنے چھوٹی سی بستی ہے، اسے دیکھو۔ حکم ہے کہ آج یہ بستی ختم ہو جائے گی۔دوست نے دیکھا کہ بستی کے بازار میں حلوائی نے ایک بڑے چولہے پر کڑاہی رکھی تھی۔ جس میں چاشنی پک رہی تھی۔
شیطان بولا، لو تماشا دیکھو۔ یہ کہہ کر اس نے چاشنی سے ایک انگلی بھر کر اسے دیوار پر لگا دیا۔ چاشنی کی بو سونگھ کر مکھیاںآ گئیں۔ مکھیوں کو دیکھ کر ایک چھپکلی نے تاک لگائی۔ کڑاہی کے قریب بلی بیٹھی تھی۔ بلی چھپکلی پر جھپٹی۔ اتفاق سے ایک فوجی ادھر آ نکلا۔ اس کے ساتھ شکاری کتا تھا۔ کتے نے بلی کو جھپٹتے دیکھ کر اسے جا دبوچا۔بلی اپنا توازن قائم نہ رکھ سکی اور حلوائی کے کڑاہے میں جا گری۔حلوائی کو غصہ آیا اس نے کتے کو ایسا کفچہ مارا کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ سپاہی نے حلوائی کو پکڑ کر مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا۔ اس پر محلے والے باہر نکل آئے اور انہوں نے سپاہی پر حملہ کر دیا۔سپاہی کی پٹائی کی خبر لشکر میں پہنچی تو وہ گولہ بارود لے کر آگئے اور بستی کو تباہ کر دیا۔
یہ دیکھ کرشیطان نے کہا، دیکھا تم نے، میرا قصور تو صرف اتنا تھا کہ دیوار پرتھوڑی سی چاشنی لگائی۔ باقی بکھیڑا کس نے کیا؟ لیکن کرنے والے کا نام کوئی نہیں لیتا۔ لوگوں نے بس مجھے ہی نشانہ بنا رکھا ہے۔
سید سرفراز شاہ کی کتاب ’کہے فقیر‘ میں سوال ہے کہ ابلیس نا فرمان کیسے ہو گیا؟ اس کا جواب سید سرفراز شاہ صاحب نے یوں دیا کہ؛ ابلیس سے کسی نے پوچھا کہ تم نے حکم عدولی کیسے کی۔ ابلیس نے جواب دیا کہ اس کائنات میں ایک پتا بھی اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا پھر میری کیا مجال ہے کہ میں حکم عدولی کروں۔ اسی کی منشا کے مطابق میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
خیر اور شر کے مابین توازن بہت ضروری ہے۔ ظاہر ہے، اگراندھیرا نہ ہو تو روشنی کی اہمیت نہیں رہتی۔ غم اور تکلیف کے بعد ہی خوشی، مسرت جیسے احساسات سمجھ میں آتے ہیں۔
اشفاق احمد کی کتاب زاویہ سے نقل ہے کہ ہمارے گاﺅں میں ایک بڑھیا رہتی تھی۔ ماسی نے کبھی بھی کسی کی برائی ےا غیبت نہیں کی تھی۔ بچوں نے مل کر ایک ترکیب سوچی کہ آج ماسی سے کچھ ایسا پوچھیں جس کے جواب میں ماسی برا بولنے پر مجبور ہو جائے۔ تمام بچے جمع ہوئے اور ماسی سے کہنے لگے۔ ماسی تیراشیطان کے بارے میں کیا خیال ہے۔شیطان تو اللہ کا نافرمان ہے۔ اس نے اللہ کا حکم ماننے سے انکار کیا اور اب لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے۔ماسی سے جواب دیاکہ ابلیس تو بڑا ہی باوفا اورعہد کا پکا ہے۔ ایک روز اللہ سے عہد کر کے نکلا کہ میں تیرے بندوں کو ورغلاوں گا اور آج تک اپنا یہ کام مستعدی سے کر رہا ہے۔
دنیا اور زندگی کو اگر ایک فلم سے تشبیہ دی جائے، جہاں تمام اداکار اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام اداکار ہیرو،ولین، معاونت کرنے والے لوگ سب ایک ہی قلم سے فلم کے کردار مقرر ہوئے۔ فلم ایک ہی لکھاری لکھتا ہے۔ کسی کو اچھا، کسی کو برا کردار دیتا ہے تا کہ فلم کی کہانی مقصد، متن، پیغام اور نتیجے کے ساتھ اختتام پذیر ہو سکے۔ اسی طرح دنیا بھی اللہ کے کن فیکون سے وجود میں آئی اور اس میں تمام لوگ اپنا اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ کوئی بھی انسان کُل نہیں بلکہ کل کا ایک جز ہے اور اپنی ذات میں مکمل بھی ہے۔
جو لا کہا،وہ لا ہوا
وہ لا بھی اس میں لا ہوا
جز لا ہوا، کُل لا ہوا
پھر کیا ہوا، اللہ ہوا
یہی پیغام صوفیاءاور اولیاءاپنی شاعری میں دیتے رہے ہیں۔ جیسے بابا بھلے شاہ نے فرمایا:
پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں، کدھی اپنے آپ نوں پڑھیا نہیں
جا جا وڑدے مندر مسیتاں، کدھے من اپنے وچ وڑھیا نہیں
ایویں لڑدا ویں شیطان دے نال بندیا، کدھی نفس اپنے نل لڑیا نہیں!!
سورة ابراہیم میں ارشاد ہوتا ہے :۔
شیطان کہے گا کہ اللہ نے تمہیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے ان کے خلاف کیا میرا تو تم پر کوئی دباؤ تو تھا نہیں ، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاو¿ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو ، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے ، یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

اس پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر شیطان اپنے کیے سے منحرف ہو گیا یا پھر پختہ عہد اور مستعدی کی بدولت بخشا گیا تو ہم اپنے گناہوں کا الزام کس کے سر دھریں گے؟

3 Responses

  1. waqas says:

    aagrchy guuna b tery akhtyar main nahi ay Hafiz.
    Tu Tareka-e-Adab Seekh aur kah
    Malik Main e gunagar hun Main e gunagar hun

  2. Arman says:

    MEra shetan se phli bar taruf tab hwa jb mene kisi bat py apny mohaly k molvi sb ki bat na mani to unho me mery walid ko shikayat ki k apka bacha to bra shetan hogya hae
    mjy logo se dar lgta hae
    me shetan se ni darta q k shetan bura farishta hae bura insan nhi

  3. Asif Mansha says:

    Boht khoob sohail bhai…..
    Apne gunahon ka ilzam khud pe hi dharna hoga hamein….. kiun k hum hi shetan hein

Leave a Reply

Your email address will not be published.