Talash by Mumtaz Mufti

کتاب : تلاش

باب 2 : عالمِ دین

ٹرانسکرپشن : رضوانہ راۓ

مساوات

بات صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو مساوات کا قائل ہے۔صاحبو! ہمارے معاشرے میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کو مساوات کا درجہ دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔باپ بیٹے کو حوصلہ نہیں دیتا ،نہیں دے سکتا۔ جب بیٹا جوان ہو جاتا ہے، عنفوان شباب میں قدم دھرتا ہے تو باپ کا اس کے متعلق رویہ دوغلا ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے سامنے وہ بیٹے پر مان کرتا ہے، اکیلے میں وہ سمجھتا ہے کہ “چھوٹا ” ہے ” ، ناسمجھ” ہے”، ” احمق” ہے، میرے جسم سے نکلی ہوئی ایک ناپاک “چھینٹ “سے بنا ہے۔ باپ کی بات کو چھوڑئیے! کوئی بڑا چھوٹے کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
بڑے بوڑھے صدیوں سے چھوٹوں پر راج کرتے آئے ہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button