آسیب… محمد لقمان امینی

 

محبت آور آسیب کہنے کو شاید دو مختلف چیزیں ہیں لیکن مجھے جانے کیوں ایک سی لگتی ہیں۔۔۔ محبتوں کا آسیب جب روح کو جکڑتا ہے تو آسانی سے رہائی نہیں ملتی یہ دلوں میں گھر بنا لیتا ہے فنا و بقا کے سبھی فاصلوں کو مٹا دیتا ہے
ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻟﻒ ﮐﺎ ﺁﺳﯿﺐ ﺟﺎﺩﻭ ﮨﮯ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﻓﺘﻨۂ ﻣﺤﺸﺮ ﺑﻼﺋﮯ ﻧﺎﮔﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
جس طرح آسیب بندے کو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہے ٹھیک اسی طرح محبت بھی انسان کو بے بس کر دیتی ہے وہ ایک ہی زبان بولنا شروع کر دیتا ہے محبوب کی زبان۔۔۔۔ آسیب کی صورت یہ بھی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے انسان رانجھا سوہنی یا بلھے شاہ کا یار بن جاتا ہے۔۔۔۔ ان تعویز دھاگوں اور چلوں سے جس طرح کچھ نہیں ہوتا جو آسیب کو ٹالنے کے لیے ہوتی ہیں محبت کا آسیب بھی دواؤں اور چلوں سے نہیں جاتا بندے کو جوگی بنا دیتا ہے۔۔۔۔ کوئ طبیب کام نہیں آتا جس طرح ململ کا دوپٹہ کانٹوں پر سے کھینچنے سے تار تار ہو جایا کرتا ہے اسی طرح یہ بھی روح کو زخم زخم۔کر دیتا ہے جسم کے گھاو تو بھر جاتے ہیں روح کے پھٹ سینے بہت مشکل ہوتے ہیں۔۔۔۔ اور اگر یہ آسیب ہجر اور انتظار کی۔صورت آنکھوں کو چمٹ جائے تو انسان بس یہی کہہ سکتا ہے
ﮐﺎﮔﺎ ﺳﺐ ﺗﻦ ﮐﮭﺎﺋﯿﻮ، ﻣﻮﺭﺍ ﭼﻦ ﭼﻦ ﮐﮭﺎﺋﯿﻮ ﻣﺎﺱ
.. ﺩﻭ ﻧﯿﻨﺎﮞ ﻣﺖ ﮐﮭﺎﺋﯿﻮ ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎ ﻣﻠﻦ ﮐﯽ ﺁس
محمد لقمان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *