آنندی… تبصرہ: فیصل رضا

از غلام عباس
تجزیہ

   ایک ادیب اپنے معاشرے کا نبض شناس،معاشرے کے دل کی دھڑکن کو محسوس کرنے والا اور معاشرے کا نقاش ہوتا ہے۔اپنے شہرہ آفاق افسانہ "آنندی" میں غلام عباس نے اپنے معاشرے کی تصویر بناتے وقت ہاتھ مسلسل معاشرے کی نبض پر رکھا ہے اور ہر دھڑکن کو با طریقِ احسن محسوس کیا ہے۔
"آنندی" فکری اعتبار سے بہت بلند پایا افسانہ ہے۔اگر اسے اردو ادب کے چند گنے چنے افسانوں میں شمار کیا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا۔اگر غلام عباس نے صرف "آنندی" ہی تخلیق کیا ہوتا،پھر بھی اردو افسانہ کی دنیا میں اسی قدوقامت کے ساتھ کھڑے ہوتے۔طوائف جوکہ اس معاشرے کا حصہ ہے اور جن لوگوں نے طوائف کو اس موجودہ درجہ عطا کیا ہے وہی جب شرفا کا ماسک پہن کر معاشرے کے سامنے جاتے ہیں تو وہ طوائف جیسی برائی اور بد نمائی سے بیزار نظر آتے ہیں۔اور ان کو اخلاقی پستی اور معاشرتی تباہی کا غم ستاتا ہے۔جبکہ افسانہ میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ لوگ طوائف کے پاس جاتے ہیں اور اس کلچر کو بڑھاوا دیتے ہیں نہ کہ وہ لوگوں کے گھروں میں زبردستی گھستی ہیں۔اور وہ شہر کے درمیان اور اہم جگہوں پر آکر آباد نہیں ہوتیں بلکہ لوگ مکھیوں کی طرح ان کے گرد جمع ہو کر ان کی اہمیت کو بڑھا دیتے ہیں۔
فنی اعتبار سے بھی یہ افسانہ ایک مکمل افسانہ کہلانے کا حقدار ہے۔یہ ایک بیانیہ افسانہ ہے۔کہانی کی بُنت باکمال ہے۔مصنف نے کہانی کو قدرتی انداز میں آگے بڑھایا۔کہانی فطرت کے قریب ہے۔مصنف نے حیرت انگیز طریقے سے کہانی کا ایک دائرہ بنا دیا،جہاں سے کہانی شروع ہوتی ہے اسی نقطے پہ آکر ختم ہوتی ہے۔بلا شبہ "آنندی" غلام عباس کا شاہکار ہے۔

فیصل رضا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *