اپمان۔ اپ مین اپ – سمے کا بندھن

اپمان۔ اپ مین اپ ۔
ممتاز مفتی
دُور اُفق کے پاس غربُ الہند کے حسین جزیروں کے جھرمٹ میں جھول جزیرہ اپنی آتش فشاں خصلت کی وجہ سے جھول رہا تھا۔
جزیرے کے واحد باسی سمرت اور سانورد اپنے محل منش کُنڈ میں بیٹھے تھے۔
سمرت کا دھیان سانورد پر مرکوز تھا۔ اس کے دل میں محبت کی لہریں اُٹھ رہی تھیں۔
سمرت جذبے کی وجہ سے بند بند جھنجھنا رہی تھی۔ سارنگی کے تار چھڑے ہوئے تھے۔ تاروں کی لرزش سرتیوں سمرتیوں تک جا پہنچی تھی۔
پھر اتھاہ گہرائیوں میں کسی پُراسرار دف پر ضرب پڑی۔ گمک اُبھر کر سمرت کے سینے میں گونجی۔ دونوں پڑے دھاگے ترکٹ ناگے بجنے لگے۔ وہ گری جا رہی تھی۔ سانورد کا ہاتھ تھام لیا۔ ملتجی پُرامید نگاہیں سانورد کا طواف کرنے لگیں۔
سانورد کو خبر ہی نہ تھی کہ سمرت جھولن میں ہے۔ بج رہی ہے۔
ویسے تو وہ سمرت کے پاس بیٹھا تھا لیکن پتا نہیں تھا کہاں۔ دور کہیں آکاش پر بھٹک رہا تھا۔ سانورد کی بے خبری دیکھ کر سارنگی اونچی سروں میں بَین کرنے لگی۔ جوڑی نے توڑا مار کر سینہ پیٹ لیا۔
پھر سمرت کے بھیتر شعلہ لپکا۔ کایا پلٹ ہوئی۔ استری ناری بن گئی۔
سمرت اور سانورد دو ساتھی تھے۔ ازلی ساتھی۔
سمرت سارنگی سمان تھی۔ تاریں ہی تاریں۔ لرزشیں ہی لرزشیں۔
سانورد مُرلی سمان تھا۔ ہوا ہی ہوا۔ چھید ہی چھید۔
سمرت بادِ نسیم تھی۔
سانورد بگولہ تھا۔
دونوں خوابوں کے متوالے تھے۔
سمرت سپنے دیکھتی تھی۔ حال کے سپنے۔
سانورد خواب دیکھتا تھا۔ فردا کے خواب۔
دونوں جھولن کے متوالے تھے۔
سمرت پریم جھولا تھی۔
سانورد زلزلہ۔
اس کے باوجود دونوں ساتھی تھے۔ جنم جنم کے ساتھی۔ ہاتھ میں ہاتھ دیے جزیرے میں گھومتے پھرتے۔ سمرت کے ہاتھ میں سانورد کا ہاتھ ہوتا۔ سمرت کی نگاہیں سانورد کا طواف کرتیں۔۔۔۔ سانورد کی نگاہیں آکاش کو گھورتیں۔
جزیرہ اس قدر حسین تھا کہ اگر وہ اس حسنِ فراواں کو دیکھ پاتے تو تحیّر بڑھ کر انھیں تھام لیتا۔ پھر نہ جھولن رہتا نہ جزیرہ۔ لیکن وہ جھول جزیرے کے حسن سے بیگانہ تھے۔
مانوسیت نے سانورد کی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا تھا۔اس لیے جزیرہ اس کی نگاہوں میں ایک عام سا منظر تھا۔ سمرت کی آنکھوں کو پریم جھلمل نے دُھندلا رکھا تھا۔ اس کے لیے جزیرہ حسین تو تھا لیکن صرف اس لیے کہ وہاں سانورد تھا۔
سانورد کا ہونا سمرت کے لیےسب کچھ تھا۔ پھر بھی اس کا دل چاہتا کہ سانورد بھی جانے کہ سمرت ہے، چاہے کہ سمرت ہو۔
اس وقت منش کُنڈ میں بیٹھے سمرت کے من میں یہ آرزو جاگی کہ سانورد جانے کہ سمرت ہے۔ چاہے کہ سمرت ہو۔ لیکن سانورد آکاش کے تاروں میں کھویا ہوا تھا۔
آکاش کے تارے بٹر بٹر جھول جزیرے کو دیکھ رہے تھے۔ ایک دوسرے کو آنکھیں مار رہے تھے۔
جھول جزیرہ ہمیشہ سے ستاروں کی نگاہوں کا مرکز رہا تھا۔ جزیرہ کم کم، جھول زیادہ۔ اس لیے وہ اس کے باسیوں کو تکتے رہتے۔
ویسے تو دھرتی پر سینکڑوں جزیرے تھے، لیکن جھول جزیرہ سب سے زیادہ دلفریب تھا۔ ستارے دیکھ کر مسحور ہو جاتے۔ ان کا جی چاہتا کہ وہ آکاش کی بجائے جھول کے باسی ہوتے اور ہمیش پریم جھولنے میں پڑے جھولتے رہتے۔۔۔ لیکن انھیں یہ بھی پتا تھا کہ وہاں جانا تو ممکن ہے لیکن قیام کرنا ممکن نہیں۔ چونکہ وہاں رُومانی فضاؤں کا تسلّط ہے۔ چاروں طرف سے ایک لَے اُبھرتی ہے۔ ایک رقص بیدار ہوتا ہے۔ اور پھر۔۔۔۔ ایک مستی، ایک دیوانگی، ایک زلزلہ۔
پتا نہیں اس جزیرے کی تخلیق میں کیا حکمت کار فرما تھی۔ دیکھنے میں عام سا ٹاپُو تھا۔
ایک بہت بڑا سبز پیالہ۔ پیالے کے وسط میں نیلی جھیل۔ جھیل کے عین بیچ میں سنہرے رنگ کی کھوکھلی چٹان آویزاں تھی جیسے کسی مندر کا کلس ہو۔ اس چٹان کی کھوہ میں منش کنڈ کا محل تھا جس میں سانورد اور سمرت رہتے تھے۔
سبز پیالے کے اوپر چاروں طرف ناریل کے درخت اِستادہ تھے۔ درختوں کے پیچھے زمردی چٹانیں اور ان کے پیچھے نیلا سمندر۔
رات کے وقت منقّش آسمان جھول کو یوں ڈھانپ لیتا جیسے دھانی طشت پر زرنگار سرپوش ڈال دیا گیا ہو۔ آکاش کے تارے جھول جزیرے کے باسیوں کے دیوانے تھے۔ وہ انھیں حیرت سے دیکھتے۔
“وہ دیکھو، وہ دیکھو” ننھا تارا تالی بجا کر کہتا “وہ اپنے ڈولتے نینوں سے رنگ پچکاری چلا رہی ہے۔”
“ہاں” دوسرا ہنستا “چلا رہی ہے، چلا رہی ہے۔ پردہ بھیگتا نہیں۔”
“پتا نہیں کیا بھید ہے۔” تیسرا گنگناتا۔
“وہ خود میں نہیں رہتی اور وہ خود میں قید پڑا ہے۔ پھر بھی وہ جنم جنم کے ساتھی ہیں۔” چوتھا ٹمٹماتا۔
“دیکھو، دیکھو” ننھا چِلّاتا “کایا پلٹ ہو گئی۔ استری ناری بن گئی۔ اب ارد اور رت باہر نکلیں گے اور پھر۔۔۔۔۔”
“مت دیکھو۔ مت دیکھو۔” بُڈّھا ستارہ ڈانٹتا “مت دیکھو۔ صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو جانتا ہو۔ جو نہیں جانتا وہ دیکھے تو راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ دھیان پوتر نہیں رہتا۔”
“ہونہہ! کیوں نہ دیکھیں۔” ننھا چِلّاتا “جھول کے منظر کو دیکھ کر تو دیوتا خود اپنا کام کاج بھول جاتے ہیں۔”
“وہ دیکھو، وہ” دوسرا چِلّا کر بولا “اندھی رَت کھوہ سے باہر نکل آئی۔”
“ہاں” تیسرے نے کہا۔ “اس کا بدن یوں بل کھا رہا ہے جیسے آبنوسی گھمن گھیری ہو۔”
“سنو سنو۔ ارد چنگھاڑ رہا ہے۔ لو، گونگا ارد میدان میں آ پہنچا۔ اب اس میں اُچھل جاگے گی، اور وہ سرو سمان اُبھرے گا۔ پھر رَت پر جھپٹے گا۔”
“اور پھر پریم ناچ” ننھے نے تالی بجائی۔
“اونہوں۔ پریم ناچ نہیں، پُتر” بوڑھا ستارہ بولا “یُدھ ناچ۔”
دیوتاؤں کو پتا چلتا کہ ستارے دیکھ رہے ہیں تو وہ جزیرے پر بادلوں کا پردہ ڈال دیتے۔
جھول جزیرے میں ارد اور رت کا رقص صدیوں سے جاری تھا۔ ارد اور رت سانورد اور سمرت کے زنگی غلام تھے۔
رت سمرن کی باندی تھی۔
ارد سانورد کا بردا تھا۔
سبز پیالے کے اکھاڑے میں گونگا ارد اور اندھی رت لڑ لڑ کر لہو لُہان ہو جاتے تھے۔ اور پھر پریم جھیل کے کنارے پڑے سسکیاں بھرتے۔ دونوں ہی مظلوم تھے۔ ان کی دنیا تیرہ و تار تھی۔ ان کی کائنات الم و ایذا سے بھری تھی۔
گونگا ارد جذبات کے کوڑوں سے استادہ ہونے پر مجبور کر دیا جاتا۔ اس کا پایہ ستون زنجیروں سے جکڑ کر بلویا جاتا۔ تناؤ سے بند بند ٹوٹتا۔ ایسے معلوم دیتا جیسے اہرام مصر کا کوئی حبشی معمار ہو جو کسی فرعون کے کوڑے تلے بِلبِلا رہا ہو۔ یا جیسے ہمالیہ کی کسی تاریک کھوہ میں ایذا پرست یوگی تن تن کر اپنی ہڈیاں توڑ رہا ہو۔
اندھی رت عمیق گہرائیوں میں محصور تھی۔ اس کے پاؤں میں پُر اسرار بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں، جس طرح کھلے سمندر میں سطح پر بڑے بڑے ڈھول نما پیپے بظاہر آزادانہ تیرتے ہیں، لیکن در پردہ زنجیروں سے بندھے ہوتے ہیں۔
کوئی تیرہ و تار دُھنکی رت کا بند بند دھنکتی تھی۔ کوئی پراسرار ضرب پڑتی جس کی لرزش اسے گود میں لے کر جُھلاتی۔ اتنا جُھلاتی کہ جھولن عذاب کی شکل اختیار کر لیتی۔
پھر کوئی خفیہ آتش فشاں زُوں سے پھٹتا۔ لاوے کا دریا بہنے لگتا، جس کے کنارے ارد اور رت لہو لہان پڑے سسکتے رہتے۔
اور ستارے بٹر بٹر انھیں دیکھتے۔
ہاں، ستارے انھیں دیکھ دیکھ کر کبھی نہ اکتاتے تھے۔ ایک کہتا “رت اور ارد کا پریم ناچ کتنا جاذب ہے۔” دوسرا بولتا “پریم تو بہانہ ہے۔ یہ تو یُدھ ناچ ہے۔” تیسرا کہتا “نہ پریم نہ یدھ، یہ تو مستی کا اظہار ہے۔” چوتھا غصے میں چِلّاتا “اندھے ہو؟ تمھیں مجبوری اور لاچاری مستی نظر آتی ہے؟ تم نہیں جانتے کہ اس سنسار کو ہرا بھرا رکھنے کے لیے پریم قدرت کی ایک چال ہے؟”
کچھ ستاروں کا خیال تھا کہ ارد اور رت سانورد اور سمرت کے ہاتھوں مظلوم ہیں۔ کچھ کہتے، نہیں۔ سمرت اور سانورد رت اور ارد کے ہاتھوں مظلوم ہیں۔
پھر بوڑھا ستارہ آہ بھر کر گنگناتا “مت دیکھو۔ مت دیکھو۔ دیوتاؤں کے بھید جانے بغیر تم نہیں دیکھ سکتے۔ پھر دیکھنے کا فائدہ؟”
کوئی اس تماشے کا بھید نہیں جانتا تھا۔ دیوتا خود حیران تھے۔ انھیں صرف ظاہر کا پتا تھا۔ بھیتر کی بات صرف پرمیشور جانتے تھے۔
دیوتاؤں کا کہنا تھا کہ جب پرمیشور نے سانورد اور سمرت کی تخلیق کی تھی تو ان کے پاؤں میں ارد اور رت کی بیڑیاں نہ تھیں۔ اس وقت وہ صرف منش اور استری تھے۔ منش میں ڈنک نہ تھا۔ استری میں نار نہ تھی۔ اس وقت وہ مرد اور عورت تھے۔ مرد میں ارد نہ تھا۔ عورت میں رت نہ تھی۔ پرمیشور نے سمرت کے جیو میں پریم جھولنا لگا دیا، اور سانورد کے جیو میں سوچ اُڑان بھر دی۔ سمرت کا دھیان سانورد سے جوڑ دیا اور سانورد کا آکاش کی طرف موڑ دیا۔ سمرت کی سوچ کے ماتھے پر آج کی بندیا لگا دی۔ سانورد کی سوچ میں آوارگی بھر دی۔ سانورد سے کہا “جا، تُو آکاش میں آوارہ رہ۔” سمرت سے کہا “جا، تیرا کام یہ ہے کہ سانورد کا گھسیٹ کر دھرتی پر لا۔۔۔” پھر انھیں جھول جزیرے پر اُتار دیا۔ صدیاں بیت گئیں۔ پھر ایک دن اتفاق سے دیوتاؤں کا اُدھر سے گزر ہوا۔ کیتو مہاراج نے حیرت سے جھول جزیرے کی طرف دیکھا۔ بولے۔”یہ کون سی جگہ ہے؟”
سندھو مہاراج نے جواب دیا “یہ جھول جزیرہ ہے۔”
“پرینتو یہاں آنند کا سماں کیوں نہیں؟” چندر مہاراج نے پوچھا۔
“ہاں” کیتو گنگنائے “یہاں سے دُکھ کی باس آ رہی ہے۔”
اج مہاراج ہنسے۔ کہنے لگے “پریم جھولن میں دُکھ کیوں؟”
دیوتاؤں کو دیکھ کر سمرت اور سانورد بھاگے بھاگے آئے “جے ہو مہاراج کی۔ دھن بھاگ ہمارے۔”
“تم یہاں آنند سے ہو نا؟”چندر مہاراج نے پوچھا۔
“پریم جھولن میں بیٹھے ہیں تو آنند ہی ہو گا” سندھو نے کہا۔
سمرت ہاتھ جوڑ کر بولی “پریم تو ہے، مہاراج، پرنتو جھولن نہیں۔”
“جھول جزیرے میں جھولن نہیں؟” اج مہاراج نے حیرانی سے پوچھا۔
“ہاں، مہاراج” سمرت بولی “پریم چکر سمان چلتا ہے، جھول سمان نہیں۔ جو چکر سمان چلے وہ کشٹ بن جاوے ہے۔”
“جھولن سمان کیوں نہیں چلے ہے؟” کیتو نے پوچھا۔
“مہاراج” سمرت نے کہا “جھولن سمان تو تبھی چل سکے ہے جب بڑھے، رُکے، مڑے اور پھر سے بڑھے، جیسے لہر چلے ہے مہاراج۔”
“سچ کہتی ہے” چندر بولے “جو چکر سمان چلتا ہی جاوے ہے، وہ کشٹ بن جاوے ہے۔ جو رُک رُک کر لہر سمان چلے، سو آنند۔۔”
“مہاراج” سمرت نے ہاتھ جوڑ کر کہا “اس پریم چکر نے میری سُدھ بُدھ مار دی ہے۔ اور مہاراج، جد سُدھ بُدھ ہی نہ ہو تو آنند کیسا؟”
“سچ ہے” اج مہاراج بولے “تُو تُو کہنے والے کو جب مَیں کی سُدھ نہ رہے تو پھر جان لو کہ نہ تُو رہا نہ مَیں رہی۔”
“تُو نہیں بولتا، سانورد؟” کیتو نے پوچھا۔
“یہ کیوں بولے گا، مہاراج” سمرت بولی “یہ تو میرا “تُو” ہے۔ اور اپنے کارن نِرا مَیں ہی مَیں ہے۔ اور مہاراج، جس میں مَیں ہی مَیں ہو اسے پریم سے واسطہ؟ مجھ پر دیا کرو مہاراج” سمرت گھٹنے ٹیک کر کھڑی ہو گئی۔
اج مہاراج بولے “جا، تیری اکشا پوری ہو گی۔ پریم چکر جھولن میں بدل جائے گا۔ جب پریم ہُلارے اتنے بڑھ جائیں گے کہ دم گھٹے گا تو بھونچال آ جائے گا، لاوا بہہ نکلے گا اور تُو شانت ہو جائے گی۔”
“دھن ہو، مہاراج، دھن ہو۔” سمرت پھول سمان کھل گئی۔
اج مہاراج نے تالی بجائی۔ ارد اور رت ہاتھ باندھے آ کھڑے ہوئے۔
“یہ تمھارے بردے ہیں۔
سمرت، رت تیری باندی ہے۔
سانورد، ارد تیرا بردا ہے۔
جب پریم کشٹ بن جائے تو ارد اور رت آ جایا کریں گے۔ یہ پریم یُدھ ناچیں گے۔ پھر کشٹ آنند میں بدل جائے گا۔”
“دھن ہو، مہاراج، دھن ہو” سمرت خوشی سے چلّائی۔
“پر ایک بات کا دھیان رکھنا” اج مہاراج بولے “ان بردوں کو نیچ نہ جاننا۔ ان کا اپمان نہ کرنا۔ یہ سچ کے پُجاری ہیں۔ ان کی شان بڑی اونچی ہے۔ ان میں پوترتا کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ انھیں دیوتا سمان جاننا۔ آرتی چڑھانا۔ جے بلانا۔ انھیں لوبھ کے لیے برتو گے، ان کا تماشا بناؤ گے تو ان کا اپمان ہو گا۔۔۔ ایسا ہوا تو ارد میں اُچھل نہ رہے گی۔ اس کا سر نیچا ہو گیا تو پریم جھولن ٹوٹ جائے گا اور لوبھ چکر چل پڑے گا۔ جب ایسا ہوا تو جان لینا وہ دھرتی کے آخری دن ہوں گے۔”
٭٭٭٭٭
نیویارک کی نیوڈ لیوڈ کلب میں ہال تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تماشائی آخری منظر دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہے تھے۔ آنکھیں ابل کر باہر نکل آئی تھیں۔ نسیں تن تن کر بجنے لگی تھیں۔
تماشائیوں کے جسم لُٹے پُٹے تھے۔ جنس کے عفریت کے روندے ہوئے لتاڑے ہوئے۔ جذبہ ء محبت، شہوت کے گاڑھے ملبے کی دلدل میں بدل چکا تھا۔ خواہش جسم سے چو چو کر ذہن میں آ جمع ہوئی تھی۔ ذہن بھڑوں کے چھتے کی طرح بِھن بِھن کر رہے تھے۔
آخری سین ارد اور رت کا ناچ تھا۔
دفعتہً پردہ اٹھا۔
سٹیج پر اندھی رت انگڑائیاں لے لے کر اپنی ہڈیاں توڑ رہی تھی۔ اس کے بدن کی تاریں جھن جھن کر رہی تھیں۔
سرتیاں بج رہی تھیں۔
پھر آرکسٹرا سے دف کی آواز ابھری، آدم خور حبشیوں جیسی۔ رت کے سینے کے دونوں پڑے دھاگے ترکٹ ناگے بجنے لگے۔ پھر اس کے جسم سے جنس کا خوف ناک بُلاوا گونجا۔۔ ہال میں اِک زلزلہ آ گیا۔ سٹیج کے ونگ سے گونگے ارد کی چنگھاڑ سنائی دی، زخمی چنگھاڑ جیسے رِنگ میں داخل ہونے سے ہچکچانے والا سرکس کا شیر دھاڑتا ہے۔ پھر کوڑوں کی آوازیں سُنائی دیں۔ دو، چار، سات اور آخر گونگا ارد چیختا چلّاتا سٹیج پر آ کھڑا ہوا۔ اس کے آبنوسی جسم پر کوڑوں کی شنگرفی دھاریں پڑی ہوئی تھیں، جن سے خون رِس رہا تھا۔ ارد نے رت کی طرف دیکھا اور جھجک کر پیچھے ہٹ گیا۔
تڑاخ! ونگ سے ایک ہنٹر لہرایا۔ اُچھل اُچھل ۔۔ رِنگ ماسٹر کی زیر لبی گونجی۔
ارد درد سے بِلبِلا کر اٹھا، ایک جست بھری۔ لیکن اس میں اُچھل پیدا نہ ہو سکی اور وہ منہ کے بل گر گیا۔
تماشائیوں کی غیظ و غضب بھری آوازیں بلند ہوئیں۔ وہ سب اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔
“مینجر، مینجر” رنگ ماسٹر مینجر کی طرف بھاگا “سر، آج پھر ارد میں اُچھل پیدا نہیں ہو سکی۔ وہ سٹیج پر منہ کے بل گرا پڑا ہے۔ شو رُک گیا ہے۔ تماشائی توڑ پھوڑ پر آمادہ ہیں۔”
مینجر اُٹھ کر کھڑا ہوا۔ چّلا کر بولا۔ “پردہ گرا دو۔ انتظار فرمائیے کا کیپشن لگا دو۔ تم نے شو سے پہلے پری کاشن لیے تھے؟” اس نے پوچھا۔
“ہم نے کوڑے لگائے تھے، سر، بجلی کے کوڑے۔” رِنگ ماسٹر نے جواب دیا۔
“اُونہوں” مینجر نے جواب دیا “اب کوڑے کام نہیں آئیں گے۔ ڈاکٹر کہاں ہے؟ اسے بلاؤ۔ بولو، ڈبل انجکشن دے دے۔”
سٹیج پر پہنچ کر مینجر نے زخمی ارد کو جھنجھوڑا “اَپ، مَین، اَپ” وہ بولا “دی شو مسٹ گو آن۔”
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *