تھرڈ مین۔۔۔سمے کا بندھن

تھرڈ مین

ہوسٹل چھوڑ کر میں اپنے کزن کے گھر اونچے محلے میں مقیم ہوا تو پہلے دن ھی محلے کا رنگ دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ وہاں تو بڑا بڑا مال پڑا تھا ۔میرا خیال تھا کہ اس پرانے آثار قدیمہ میں میلی کچیلی ‘ نمازیں پڑھنے والی ‘ آلو چھیلنے والی لڑکیاں ہوں گی ۔ پر وہاں تو گویا انڈر گراؤنڈ انٹر کان کھلا تھا ۔ وہاں تو ایک سے ایک پٹاخہ تھی ۔۔ سب بنی سجی ہوئی ۔تیز ۔بے باک ۔ اس پر میرا کزن بولا ” ابھی تو تو نے زردی کو نہیں دیکھا ۔ دیکھے گا تو مزاج ٹھکانے آ جایئں گے ” “وہ کیا چیز ہے زردی ” ؟ ” بس ایک چیز ہے ” کھانے کی ‘ پینے کی یا سونگھنے کی ” ؟ کھانے کی ” وہ ہنسا !! محلے کے لڑکے اسے زردہ بھی کہتے ہیں ۔ پر وہ میٹھی نہیں ۔ مرچیلی ہے ۔۔ سوں سوں کرو گے ۔” جب میں نے زردی کو دیکھا تو چیخ کر بولا ” ارے یہ تو آسیہ ہے ۔ میری ہم جماعت !! “سچ !!! تم اسے جانتے ہو ؟ ” “جانتا ہوں ۔ ارے بھائی ! ہمارا تو پرانا یارانہ ہے ” ۔ کالج میں پہلے دن جب میں نے آسیہ کو دیکھا تھا تو میرا جی چاہا تھا کہ اس کا منہ چڑا کے آگے کو نکل جاؤں ۔ چھوٹا قد ‘ چوہییا سا منہ ‘ تکونی ناک اور ہلدی سا رنگ ۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پر پرزے نکالے ۔کتر کتر باتوں کی قینچی چلائی ۔ فقرے بازی کی تلوار لہرائی اور بلآخر کالج کے نعرہ بازوں کو میدان میں کھڑے ہو کر للکارا ۔ اس پر وہ چلائے ” ارے ! یہ تو اندر سے بھا ماجھا نکلی ۔” ” اور تم ” وہ بولی ” تم پھوپھی نتھو نکلے ” اسی روز سے آسیہ کی دھاک بندھ گئی اور لڑکے اس کی عزت کرنے لگے ۔ اونچے محلے میں رنگ رنگ کی لڑکی تھی ۔ پر تھیں ساری ہی دو رخی ۔بڑوں کے سامنے ” جی ہاں ، جی ہاں ” لڑکوں کے سامنے ” دیکھ ! ذرا ہٹ کے گریو ” ۔ چند ایک خالی ہاں بھی ، ہاں جی بھی تھیں ۔ نمازی نگاہیں ‘ رسمی اسلام سے بھیگے ہوۓ پر ۔ ” ہائیں ! ایسا ہوتا ہے ! سا انداز ۔ سیدھی لکیریں ۔سپاٹ ۔ چلتی پھرتی ڈیڈ باڈیز ۔ بیشتر دو رخی تھیں ۔گھر کچھ ۔باہر کچھ ۔باہر کھلے بال ۔”سو وہاٹ ! نگاہیں ۔ابھرا سینہ ۔چلتی آنکھیں ۔محلے میں داخل ہوتے ہی بکل ۔ نیچی نگاہیں ۔ “ہمیں کیا خبر ” سا انداز ۔ باہر بھی تو دو رخ تھے ۔دو رنگ ۔ اکیلے میں” ہم نہیں جانتے ” کا بہروپ ۔ بناوٹی وقار ۔ دکھاوے کا ۔ “ہٹاؤ جی ‘ ہمیں کیا لینا دینا ” چار ایک اکٹھی ہوتیں تو قہقہے ۔اشارے ۔ راہ چلتے کو چھیڑتیں ۔ ” کتنا بنتا ہے یہ ” ۔ “اپنے کو شکیل سمجھتا ہے کہ وحید مراد ۔” رس گلا ہے پر شیرا کچھ زیادہ ہی گاڑھا ہے ۔ ہٹاؤ ! بیچارے کے لئے چلنا بھی مشکل ہے ۔ محلے میں زردی کا رنگ ہی اور تھا ۔ کالج میں تو عارف تیز ہی تھی ۔ یہاں دور مار بھی تھی ۔ وہ سامنے بیٹھ کر بات کرنا بھی جانتی تھی اور محلے میں کھڑکی بازی اور منڈیر بازی کا فن بھی جانتی تھی ۔محلے کے لڑکوں کو انگلیوں پہ نچاتی تھی ۔ جو بھی اس کی کھڑکی کی زد میں آتا ۔ اسے ایک جھونٹا ضرور دیتی ۔ تبھی تو لڑکوں نے کہا ” ارے ! یہ زردی نہیں ۔ یہ تو زردہ ہے زردہ ۔ ” زردی کی شوخی کی وجہ اس کی امی تھیں ۔ ایسی خود سر تھیں کہ اس نے زردی کے ابا کو ہاں جی ہاں جی بنا رکھا تھا ۔ خوش مزاج تھی ۔بانکی تھی ۔کھلاڑی تھی ۔

بس چلتا تو اب بھی قینچی جیسی چلتی جاتی۔اس لیے بیٹی کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی اس نے۔کالج میں زردی سے میری فقرےبازی چلتی تھی۔محلے میں آنکھ مٹکا۔میرا کیا سب کا چلتا تھا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اس سے محبت تھی محبت کا دور ختم ہوگیا اب ہم کسی کے لئے کے لئے آھیں بھرنے کے لیے تیار نہیں۔ نہ ہی ہم سے تارےگنے جاتے ہیں ہمارا کام تو چھیڑ چھاڑ ہے اس سے دل لگی کی اس کا مذاق اڑایا اس کو چھیڑا اسے فقرے بازی کی۔محبت وحبت نہیں ہوتی ہاں کوئی پسند آجاتی ہے کوئی نہیں آتی جو پسند آجائے اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے کو جی چاہتا ہے آج کل لڑکی کو اکیلے میں لے جانے کا شوق کم کم ہوتا جا رہا ہے یہی ایک بات سوجھتی تھی سوجھتی کیا سر کو چڑھ جاتی تھی جس طرح وھسکی چڑھ جاتی ہے ویسے ایسی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں جو اکیلے میں لے جانے کی آرزو پیدا کرتی ہیں لیکن ایسی لڑکیاں بہت کم ہوتی ہیں ایسی لڑکیاں محلے میں بھی تھیں جو خالی اکیلے میں لے جانے والی تھیں لڑکے انہیں لے بھی جاتے تھے وہ چلی بھی جاتی تھی اور دل میں ان کی عزت پیدا نہیں ہوتی تھی نہ ہی تعصب پیداہوتاتھا بات وھیں اکیلے میں شروع ہوتی تھی اور وہیں ختم ہو جاتی۔ کیری ہوم قسم کا تاثر پیدا نہیں ہوتا ۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ ایسی لڑکیاں باقی باتوں میں نون غنہ ہوتی ہیں پھر وہ ڈیڈی لونگ لگز بھی تو تھا جس کی وجہ سے یہ سارا بکھیڑا پڑا جسے تم کہانی سمجھ کر پڑھ رہے ہوں وہ میرا کزن قمر تھا جسے میں مذاق سے ڈیڈی لونگ لگز کہا کرتا تھا وہ عمر میں مجھ سے بس 15 سال بڑا تھا اور صرف عمر میں ہی بڑا نہیں تھا اندر سے سکہ بند بڑا تھا آجکل یہ فیشن چل رہا ہے نہ کہ بڑے مور کے پر لگا لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو نوجوان ہیں قمر نے بھی مور کے پر لگا رکھے تھے اور برتاؤ میں نوجوان دیکھتا تھا قمر تھا بڑے مزے کا آدمی نہ عقل چھانٹتا تھانہ فلسفہ بھگاڑتا تھا اور نصیحت تو اس نے کبھی کی ہی نہ تھی کرتا بھی تو ایسے کہ وہ فضیحت معلوم ہوتی میں چلا کر بولتا تو کان پر ہاتھ رکھ کر کہتا یار ذرا اونچا بولوں میں سن تو سکوں ہنسنے والی بات پر قہقہہ نہ لگاتا تو وہ کہتا یار

ہنسنا نہیں جانتے تو رو ہی دو روز شام کو جب میں کالج سے لوٹتا تو کہتا بھائی رپٹ لکھواوں کس کس لڑکی کا منہ چڑایا کس کس سے بےعزتی کروائی کس کس کے گلے میں بانہیں ڈالیں کس کس پر فقرے کسے کس کس سے وسپرنگ کی اور کیا کیا کیا سب تفصیلات سنسر کے بغیر۔ چھٹی کے دن وہ مجھے زبردستی کوٹھے پر لے جاتا بھائی بڑے بد اخلاق ہو تمہاری خاطر وہ سب اپنے اپنے کوٹھے پر آئی ہوئی ہیں۔اور تم نیچے بیٹھے ہو واہ ۔وہ مجھے کوٹھے پر نمایاں مقام پر بٹھا دیتا۔اور خود اوٹ میں بیٹھ رہتا پھر دفعتا گنگناتا۔ با ادب با ملاحظہ ہوشیار ملکہ معظمہ تشریف لے آئیں۔ کورنش بجا لاؤ وہ وہاں اوٹ میں بیٹھا محلے کے کوٹھوں پر رننگ کمنٹری کرتا رہتا اور ساتھ ہی مجھے داؤ بتاتا رہتا آگئ آگئ سالی جانے نہ پائے شاباش شاباش لگاؤ چھکا۔ مجھے کوٹھے بازی نہیں آتی میں تو سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا قائل ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ میں لڑکی کے آگے پیچھے نہیں پھر سکتا مجھے تو وہ لڑکی اچھی لگتی ہے جو میرے آگے پیچھے پھرے۔ مجھے منائے جیسے دیوتا کو مناتے ہیں میرے بغیر اس کا دم نکلے۔ میں کسی کے پیچھے پھرنا پسند نہیں کرتا پھروں بھی تو خود کو دھوکا دیتا رہتا ہوں کہ پیچھے پیچھے میں نہیں پھر رہا وہ پھر رہی ہے۔ لڑکی کو بھرمانے پھنسانے کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے کوئی پیچھے پیچھے پھر کر بھرماتا ہے۔ کوئی گلیڈٰ آئی جما کر پھنساتا ہے کوئی مجنون سی آنکھیں بنا کر تکے جاتا ہے کوئی محبت کے ڈائیلاگ بولتا ہے۔ کوئ میری طرح بے نیازی کا پوز بنا کر توجہ طلب کرتا ہے۔ جبھی تو میں نے زردی کو کبھی زردہ کہہ کر نہیں بلایا تھا۔ الٹا جب بھی کینٹین میں ہم اکٹھے بیٹھتے تو میں موقع کی تاک میں رہتا۔ جب بھی وہ میری طرف دیکھتی تو میں کہتا اونہوں ندیدی ! یوں نہ دیکھ میری طرف جیسے میں حلوے کی پلیٹ ہوں جس پر قہقہہ مار کر کہتی سچی مجھے تو اگلے سالوں کا تھال نظر آتے ہو زردی کو کپڑے پہننے کا بڑا شوق تھا۔رنگ کا بڑا سینس تھا۔ یوں رنگ سے رنگ جوڑتی تھی۔

کہ مزہ آجاتا اور پھر اس کے لباس میں ایک نہ ایک چیز فیشن سے ہٹ کر ہوتی ہو وہ چیز یوں توجہ پکڑتی جیسے چیونٹی ہو وہ چیونٹی جو کاغذوں پر لگاتے ہیں۔ اس کے ڈریس کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی ضرور بول اٹھتا واہ بھائی واہ ۔ اس پر زردی بڑی بے نیازی سے کہتی مفت میں واہ واہ نہ کر یہ لباس تو لنڈے کا مال ہے۔ یا کہتی اونہوں ! اسے چھونا نہیں یہ میںکسی تو کسی مری ہوئی میم کی ہے۔ وہ بڑے فخر سے کہا کرتی تھی بھئی ہم تو لنڈا مارکہ کا ہیں۔ یہ سچ تھا کہ اس کے بیشتر لباس لنڈے کے ہوتے تھے خریدتی لنڈے سے ہی تھی لیکن انہیں اتنا بنا سجا کر پہنتی کہ لباس منفرد ہو جاتا ایک بار میں نے اس پر فقرہ کسا۔ ٰ میں نے کہا ہیلو لنڈا مارکہ۔ جواب میں بولی ہائے لنڈا مین کیسا جوڑا رہے گا میرا لباس لنڈے کا تیرا ذہن لنڈے کا بڑی تیز تھی وہ۔ اور پھر مزے کی بات یہ تھی کہ وہ کسی کو خصوصی توجہ نہیں دیتی تھی یا شاید ہر کسی کو خصوصی توجہ دیتی تھی ابھی تم فیڈ ان ہوئے ابھی فیڈ آؤٹ۔ اور کوئی اور فیڈ ان۔ یہ فیڈ ان فیڈ آؤٹ کا سلسلہ چلتا رہتا۔ ایک جگہ پر توجہ نہیں ٹک سکتی تھی اس کی ۔ سالی ہرجائی تھی عوامی تھی حرامی تھی۔ کچھ بھی تھی مجھے پسند تھی اس کے ساتھ بیٹھ کر نوک جھونک کرنے میں بڑا مزہ آتا تھا۔ میں اکثر تاک میں کھڑا رہتا کہ آئے تو اس کے ساتھ گپ لگاؤں۔ آتی تو اوپر اوپر سے یوں ظاہر کرتا جیسے اسنے مجھے تلاش کرکے پا لیا ہوں نہ آتی تو میرے اندر چرخی چلتی رھتی۔ کہ کب آئے گی کب آئے گی۔ آجاتی تو چھوٹتے ہی کتر کتر باتیں کرنے لگتی پھر میں چلاتا لو چل پڑی چکی ۔ آسیہ کا لفظی مطلب چکی ہے نا ۔ اور وہ ہنس کر کہتی کیوں نہ چلے تمہیں جو پسنے کا شوق ھے۔ ابلایج کرنا ہی پڑتا ہے صرف لڑکوں کے ساتھ ہی نہیں۔ وہ پروفیسروں کو بھی نہیں بخشی تھی کلاس میں بات کرنے سے باز نہ آتی تھی۔ اکنامکس پر اکثر فقرے کستی۔ پروفیسر پوچھتا سمجھ گئی۔ تو وہ کہتی ہاں اب سمجھی کہ اکنامکس وہ سائنس ہے جس کے اصول روز بدلتے ہیں۔ سوال وہی

رہتے ہیں ۔ جواب بدل جاتے ہیں ۔ میں ٹو ہوسٹل چھوڑ کر کبھی نہ جاتا پر قمر نے مجھے زچ کر دیا ۔ پہلے ٹو منہ زبانی کہتا رہا ۔۔ پھر ایک دن وین لے کر آ گیا ۔ اور مجھ سے کہے بغیر میرا سامان اٹھا اٹھا کر وین میں رکھنے لگا۔ میں نے پروٹیسٹ کیا ٹو بولا ” یہ رسی دیکھتے ہو ؟ اگر تم بولے ٹو مشکیں کس کر لے جاؤں گا ” ۔ پھر منتوں پر آ گیا ۔ کہنے لگا ” یار ! میں اتنے بڑے گھر میں اکیلا رہتا ہوں ۔ بات کرنے کو زبان ترس جاتی ہے ۔ چند مہینوں کے لئے میرے پاس آ رہو گے ٹو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہو گا ۔ میری بات بن جائے گی ۔ قمر کی شادی تو دس سال پہلے ہو چکی تھی لیکن کوئی بچہ نہ ہوا تھا ۔ بیوی مسلسل بیمار رہتی تھی ۔ اور اسی بیماری کی وجہ سے ایک سال پہلے فوت ہو چکی تھی ۔ ۔ اب گھر میں ایک وہ خود رہتا تھا اور ایک اس کا نوکر ” ننھا ” ۔ اس کا گھر بھی ٹو ہوسٹل کی طرح چھڑیوں کا ڈیرہ تھا ۔ قمر ویسے تو بزنس مین تھا ۔ لیکن طبیعت میں ذرا بھی بزنس کا رنگ نہ تھا ۔ نہ گنتی ‘ نہ حساب کتاب ‘ نہ پیسہ ویسا ۔۔ اس کے باوجود سالا پیسے والا تھا ۔۔ سو پچاس کا خرچہ تو بے دریغ کر دیتا تھا ۔ رنگین طبیعت تھا ۔ ھر لڑکی میں دل چسپی لیتا تھا ۔زردی میں تو خاص دل چسپی لیا کرتا ۔ لیکن اس کی دل چسپی عجیب رنگ کی تھی ۔ خود سامنے نہیں ہوتا تھا ۔ کسی لڑکی کے سامنے نہیں آتا تھا ۔ خود چھپ چھپ کر دیکھتا ۔ مجھے سامنے کھڑا کر دیتا ۔ اور پھر اکساتا ” دیکھ ۔ دیکھ اندھے ! ” وہ چلاتا ۔ وہ ۔سامنے !! آج تو بلیک اور یلو کا کامبی نیشن مارا ہے ۔ بل بل بل بل ۔ ارے احمق کر اشارہ ! گرمادے ۔۔ اوہو ! کھو دیا ۔ سٹوپڈ !!! ارے یار ! تو تو بلکل اناڑی ہے ۔ وہ مجھ سے کہتا ۔ یہ لڑکیاں خالی اشاروں سے قابو میں نہیں آتیں ۔ کبھی انٹر کان لے جا ۔ کبھی فلم دکھا ۔ کبھی پک نک ۔ خرچے کا فکر نہ کر ۔ بس مجھے وقت اور دن بتا دیا کر ۔ ۔ ریزرویشن میں کروا دیا کروں گا ۔ میں نے کئی بار کہا تھا ” چل تینوں اکٹھے چلتے ہیں ” ۔ نہ نہ ۔ وہ چلاتا ۔۔۔ بھئی اپنا اپنا کام ہے ۔ تو اپنا کام کر ۔ میں اپنا ۔ تم فلم دیکھو میں انتظام کروں گا ۔ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔ ایک دن میں نے بہت ضد کی تو وہ بولا ” اچھا چلو ! میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔ مگر تمھارے ساتھ نہیں بیٹھوں گا ۔ تم اگلی سیٹوں پر

بیٹھنا میں پچھلی سیٹوں پر لیکن اسے پتہ نہ چلے کہ میں ساتھ ہو ایک روز کہنے لگا یار ! اسے یہاں لے آؤ ۔ یہاں کہاں؟ گھر میں اور کہاں ؟ تم بھی ہو گے۔؟ میں نے پوچھا ارے! نہیں سٹوپڈ تیسرے آدمی کا کیا کام ؟ کیا تمہیں پتہ بھی ہے میری تو اسکے ساتھ خالی گپ شپ چلتی ہے۔ تو وہیں چلالینا۔ نان سنس!! اکیلے میں گپ شپ نہیں چلتی۔ تو اکیلے میں کیا چلتا ہے؟ بالکل ہی بودم ہو یار۔۔ واقعی میں خود کو بودم محسوس کر رہا تھا۔ بات جو پلے نہیں پڑ رہی تھی یہ کیسی دلچسپی تھی کہ خود اوٹ میں رہنا اور دوسرے کو شہ دینا ۔ آگے کرنا ۔ گرمانا۔ انہی مشاغل میں کئ ایک مہینے گزر گئے۔ پھر ہمارے امتحان آگئے۔ امتحانوں کے دوران میں نے ایک حیران کن بات سنی ۔ مجھے تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ اس روز ہمارا محلے دار علی اور میں کنٹین میں زردی کے ساتھ چائے پی رہے تھے ۔ فائنل امتحان کے دن بھی عجیب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کا احساس طاری ہوتا ہے۔ سبھی جذباتی ہو جاتے ہیں ۔ پر اوپر سے ظاہر کرتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہ ہو ۔ میں نے برسبیل تذکرہ پوچھا سن آسیہ! یہ امتحان کے بعد کیا پروگرام ہے تیرا؟ کلیم جھٹ بولا “وہی جو ان بیبیوں کا ہوتا ہے ” کیا ؟ میں نے پوچھا۔ ہانڈی روٹی کرے گی۔ بیڈ ڈیوٹی دے گی اور بچے پالے گی۔ “

زردی کے منہ پر سرخی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اٹھ بیٹھی۔ بولی وہ تو ہے پیڑھی پر بیٹھوں گی ۔ چوڑے والی بانہیں چھڑکاؤں گی اور حکم چلاؤں گی یہ کیوں جلتا ہے ۔ اس نے علیم کی طرف اشارہ کیا اور ہنس کر چلی گئ ۔ اس کے جانے کے بعد علیم بولا اس کا بیاہ ہو رہا ہے سچ تجھے نہیں خبر نہیں تو سالے بنتا ہے تیرے کزن قمر سے بیاہ ہو رہا ہے۔ اور مجھے پتا نہیں میرا فلوس اڑ گیا اس رات میں نے ڈیڈی لانگ لگز کو گلے سے پکڑلیا۔ میں نے کہا اب ہم سے چار سو بیسیاں کرتا ہے کیا ؟اس نے پوچھا زردی سے بیاہ کر رہا ہے تو ؟ پتا نہیں وہ بولا پتا نہیں کے بچے! سارے محلے میں خبر اڑی ہوئی ہے۔ شاید ہو جائے۔ تجھے کیوں درد اٹھنے لگا؟ اس عمر میں کالج کی لونڈیا سے بیاہ کرے گا؟ میں نہیں کروں گا کالج کی لونڈیا سے ! تو پھر ؟ وہ کرے گی مجھ سے اس نے قہقہہ لگایا۔ پھر وہ دفعتا سنجیدہ ہوگیا بولا یار! اگر تم خود انٹرسٹڈ ہو تو میں ابڈیکیٹ کر دوں گا نہیں نہیں میرا کوئی ارادہ نہیں۔۔ تو پھر تو چیختا کیوں ہے ؟

کوئی جوڑ بھی ہو میں چلایا ۔ ارے تجھے بات کا تو پتا نہیں پیغام میں نے نہیں بھیجا ادھر سے آیا ہے ۔جھولی میں گرا انگور کون چھوڑتا ہے۔ جھوٹ بکتا ہے۔۔ آنسٹ ٹروتھ وہ سنجیدگی سے بولا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہونا چاہئے تو نہیں تھا ۔ پر ہوگیا ہے میں نہیں مانتا۔ پتا نہیں مجھے غصہ کیوں چڑھا ہوا تھا میں محسوس کر رہا تھا جیسے اس نے میرے ساتھ دھوکا کیا زردی کو فریب دیا ہو۔ اسی رات جب میرا غصہ ٹھنڈا ہوا تو قمر نے اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کی کوشش کی۔ کہنے لگا ماسی مہراں کو جانتے ہو؟ کون ماسی مہراں؟ محلے کی ہے ۔ دلالہ ہے رشتے کرواتی ہے۔ میں نے ماسی مہراں کو کہہ رکھا تھا کہ کوئی رشتہ تلاش کردے میں نے لڑکی کے لیے نہیں کہا تھا۔ میں نے تو کہا تھا کسی عمر کی ہو کسی گھرانے کی ہو۔ چاہے بیوہ ہو جہیز نہیں لوں گا لیکن ایک شرط ہے۔ خالی آلو چھیلنے والی نہ ہو جاندار ہو تیکھی ہو۔ بات کرنا جانتی ہو شکل کی اچھی ہو ۔ مجھے کیا پتا تھا کہ جواب میں زردی کا رشتہ آجائے گا۔ تمہیں تو زردی کی ماں سے بیاہ کرنا چاہیے زردی سے نہیں!! منظور بالکل منظور۔ وہ چلایا وہ تو زردی سے بھی بہتر ہے پر اس کے خاوند کو کون اغوا کرے گا۔ ؟ لیکن زردی کیسے راضی ہو گئی؟ یہ تو اس سے پوچھو ۔ وہ بولا بلکہ مجھے بھی بتانا کہ وہ کیا کہتی ہے۔؟

کچھ سمجھ میں نہیں آتا ” میں نے کہا ۔ سیدھی سی بات ہے ” وہ بولا ۔ اس کی ماں بڑی سیانی ہے۔ اس نے دیکھا کہ بیٹی کو کھاتا پیتا گھر ملے گا اور وہ بھی مفت میں ۔ جہیز کا ٹنٹنا نہیں ۔ حق مہر جتنا مرضی لکھوآئے ۔۔۔ گھر میں نہ ساس نہ سسر ۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے ۔ خبیث سرمایہ دار ” میں نے کہا ۔ پیسے کے زور پر لڑکیوں کو پھنساتا ہے تو ؟ میں کہاں پھنساتا ہون ۔ آج کل کی لڑکی خود سنہری کنڈی پر لگتی ہے ۔ یہ کالج والیاں جو ہیں ۔ سب بنگلہ اور کار کے خواب دیکھتی ہیں ۔ تمہاری نسبت مجھ ایسے رشتے کی امید رچآئے بیٹھی ہیں ۔ مسٹر سوشلسٹ ۔ زیور ہو ۔کپڑا ہو ۔ سوشل لائف ہو ۔جس میں وہ بیر بہوٹیاں بن کے بیٹھ رہیں ۔ امتحان ختم ہوا تو میں گھر جانے کی تیاری کرنے لگا ۔ اس پر وہ غصے سے بھوت بن گیا ۔ بولا ” گھر جا کے کیا کرے گا ؟ مکھیاں مارے گا نا ؟ وہ تو یہاں بھی مار سکتا ہے ۔ نوکری ووکری ملے گی نہیں ۔ وہاں جہلم جا کر کیا کرے گا ۔وانٹڈ کالم پڑھے گا ۔ عرضیاں لکھے گا ۔ یہاں بیٹھ کر بھی یہ کام ہو سکتا ہے ۔ نہیں ۔ میں نے کہا ۔ میں جا رہا ہوں ۔ وہاں تیرے منہ کو پھپھوندی لگ جائے گی ۔ کوئی بات کرنے کے لئے بھی نہیں ملے گی ۔ یہاں ملے گی کیا ؟ بلکل ملے گی ۔ایک مہینے کے اندر اندر وہ جو آ رہی ہے اس گھر میں ۔ ۔ اس سے سارا دن باتیں کیا کرنا ۔ بک نہیں ۔ میں نے غصے سے کہا ۔ ۔ غصے کیوں ہوتا ہے ۔؟ وہ بولا ۔ چل ہم دونوں اسے شیئر کر لیں گے ۔۔ حرامی !!! میں نے کتاب اٹھا کے اس کے منہ پہ دے ماری ۔ رخصت ہونے سے پہلے میں نے ایک آخری کوشش کی ۔۔

میں نے بڑی سنجیدگی سے کہا دیکھ قمر وہ اس قابل نہیں کہ تو اسے بیوی بنا کر گھر لائے۔ اس کا تو بیسیوں سے آنکھ مٹکا رہا ہے۔ پتا نہیں کس کس کے ساتھ اکیلے میں گئی ہو۔ میں جانتا تھا کہ یہ جھوٹ ہے لیکن اس وقت میرا جی چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے اس رشتے کو توڑ دوں پتہ نہیں ایسا کیوں تھا۔ اس وقت جیسے یہ میری زندگی کا واحد مقصد تھا میں نے زرردی کے متعلق سکینڈل بڑھا چڑھا کر اسے سنائے دو ایک چشم دید واقعات جو میں نے خود گھڑے تھے اسے سنا ہے وہ بڑے غور سے میری باتیں سنتا رہا۔ یو جیسے لذت لے رہا ہوں جب میں سب کچھ نہ چکا تو بولا وہ بات بھی بتاؤ نا کونسی بات میں نے پوچھا وہ بات جب تم خود اسے اکیلے میں لے گئے تھے۔ غصے میں میں نے گالیوں کی بوچھاڑ کردی اور سوٹ کیس اٹھا کر چل دیا۔ خداحافظ جلد واپس آنا وہ بولا نہیں آؤں گا کبھی نہیں میں چلایا تیرا باپ بھی آئے گا وہ ہنسنے لگا جہلم پہنچنے کے 8 دن بعد قمر کی شادی کا دعوت نامہ ملا امی نے اصرار کیا کہ میں ان کے ساتھ شادی پر چلوں۔ لیکن میں نے صاف انکار کردیا 6 مہینے بعد مجھے لاھور جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ قمر کے گھر نہیں جاؤں گا۔ جب میں مال روڈ پر رکشے کا انتظار کر رہا تھا تو ایک باوردی ڈرائیور میرے پاس آیا سلام کیا بولا بیگم صاحبہ آپ کو بلا رہی ہیں۔ جب ہم دونوں موٹر کے قریب گئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ زردی بیٹھی ہے۔ وہ مجھے ایک قریبی ہوٹل میں لے گئی چائے کا آرڈر دے کر بولی۔ یہاں آرام سے بیٹھ کر باتیں کریں گے۔ سنا شادی کیسی رہی وہ سالا ڈیڈی لانگ لگز تجھے تنگ تو نہیں کرتا؟

ہئے!! وہ بولی وہ تو خالص سونا ہے اتنا افکشینیٹ ہے۔ اتنا ٹینڈر ہے اتنا جینرس ہے میں کیا بتاؤں تجھے ؟ تجھ سے محبت بھی کرتا ہے یا نہیں؟ اتنی محبت اتنی محبت توبہ ہے محبت سے پاگل کر دیا ہے مجھے اور پھر اتنی آزادی دے رکھی ہے مجھے نہ روک نہ ٹوک۔ نام پوچھ نہ گچھ۔ الٹا ہر وقت مجھے سپائیل کرتا رہتا ہے یہ کھاؤ یہ پہہنو۔ یوں بنو یوں سنورو۔ دوستوں سے ملو انہیں گھر بلاؤ فلم دکھاؤ۔ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرو توبہ ہے وہ ہنسی اس نے تو مجھے بٹرفلائی بنا رکھا ہے۔ زندگی کے متعلق میں نے جتنے پروگرام بنا رکھے تھے نہ سب ختم ہوگئے۔ وہ قہقہہ مارکر ہنسی ۔ کبھی جھگڑا بھی ہوتا ہے ؟میں نے پوچھا اکثر۔۔۔ وہ ہنسی کس بات پر ؟ کہتا ہے بدر کو بلاؤ۔ مجھے؟ ہاں کہتا ہے جہلم جاکر اسے لے آؤ زبردستی۔ وہ پھر ہنسنے لگی بس کہتا ہے گھر نہ بیٹھو گھومو پھرو۔ملو ملاؤ اب میں کہاں تک تیتری بنی پھروں؟ تقریبا ایک سال بعد ایک روز قمر خود ہمارے گھر آگیا۔ اس کی صورت دیکھ کر میں گھبرا گیا لمبا چہرہ بھویں چڑھی ہوئی۔ آنکھیں یوں کھلی ہوئی جیسے دنوں سے سویا نہ ہو۔ خیریت تو ہے؟ میں نے پوچھا۔ نہیں بالکل نہیں!!! یہ کیا صورت بنائی ہے ؟ دیکھ لو !!! وہ بولا۔ یہ زردی کی وجہ سے ہے کیا؟ ھاں ! وہ بولا۔

اس نے کوئی حرامزدگی کی ہے؟ قمر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ پھر جیب سے دو کاغذ نکال کر میرے سامنے رکھ دیے میں نے انہیں کھولا۔ ارے ! وہ تو دونوں ہی محبت نامے تھے جو کسی نے آسیہ کے نام لکھے تھے۔ میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہا تھا نا؟ ہاں! وہ بولا تم سچ کہتے تھے. بات اتنی دور تک پہنچ گئی ہے کیا؟ اگر تم نے مدد نہ کی تو پہنچ جائے گی۔ تم نے زردی سے بات کی ہے؟ قمر نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میں نہیں کروں گا۔ وہ بولا۔ تم آ کر اس سے بات کرو تم نہ آئے تو۔۔۔۔۔ نہیں نہیں میں ضرور آؤں گا ضرور۔ اگلے روز ہی میں لاہور پہنچا سیدھا قمر کے گھر گیا۔ اس وقت گھر میں زردی اکیلی تھی۔ ہاتھوں کے پیالے میں ٹھوڑی رکھے اداس بیٹھی سوچ میں کھوئی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ تڑپ کر اٹھی بیٹھی ۔شکر ہے تم آ گئے!! وہ بولی روز سوچتی تھی کہ تار دے کر بلا لوں! میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے۔ میری طرف دیکھ !میں نے حکم چلایا . اس نے میری طرف دیکھا اور مسکرانے کی کوشش کی۔ جھوٹی مسکراہٹ نہ مسکرا . تو اداس ہے نا؟ ہاں !اس نے سر جھکا دیا. اداس ہوں۔۔ مجھے بتا وہ کون ہے؟ کون وہ؟ وہ حیرانی سے بولی. جس سے تیرا افئیر چل رہا ہے۔ زردی نے ایک غصیلی نگاہ مجھ پر ڈالی۔

تمہیں محبت نامے موصول ہورہے ہیں نا؟ جھوٹ بولنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں! وہ بولی. کون لکھتا ہے ؟؟ وہ خاموش رہی۔ میں کسی کو نہیں بتاوں گا ۔یقین رکھو! مجھے یقین ہے۔۔ وہ بولی مجھ سے کچھ نہ چھپا ! نہیں چھپاؤں گی ۔۔۔وہ بولی۔ تو بتا کون خط لکھ رہا ہے تجھے؟ وہ سوچ میں پڑ گئی۔ پھر اٹھ بیٹھی۔ چابیاں پرس سے نکالیں۔ ایک دروازہ کھولا۔ اس میں سے ایک لفافہ نکالا اور میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ وہ بند لفافہ تھا لفافے پر آسیہ کا پتہ لکھا ہوا تھا۔ اوپر ڈاک کا ٹکٹ لگا ہوا تھا لیکن ابھی وہ پوسٹ نہیں کیا گیا تھا۔ میں نے حیرت سے زردی کی طرف دیکھا ۔ کھول لو۔۔۔ وہ بولی میں نے لفافہ کھولا جان سے پیاری آسیہ!! ارے وہ تو محبت نامہ تھا۔ حیرت سے میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا یہ تم خود پوسٹ کروں گی؟اپنے نام خود محبت نامے بھیجتی ہو؟ ہاں !!! اس نے سر ہلا دیا پھر اس نے تکیے سے ٹیک لگائی۔ کہنے لگی تمہیں پتا ہے بدر!! میں نے خود تمہیں بتایا تھا نا کہ قمر میرے ساتھ بہت ہی اچھا ہے۔ بہت ہی اچھا۔۔۔ وہ رک گئ۔ قمر نے چندماہ مجھ سے اتنی محبت کی۔اتنی محبت کی کہ میں پاگل ہو گئی میں اسکی محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ نہیں رہ سکتی اس کی محبت کے بغیر مجھے یوں لگتا ہے جیسے مچھلی پانی سے باہر پھینک دی گئی ہو۔ وہ رک گئی۔ پھر چند ماہ بعد قمر پر ڈپریشن کے دورے پڑنے لگے۔دورہ پڑتا ہے تو وہ چپ ہو

جاتا ہے۔ کاٹھ بن جاتا ہے ۔جب پہلا دورہ پڑا تو میں حیران رہ گئی پھر اتفاق سے بل ڈاگ آگیا ۔ بل ڈاگ ؟ وہی ہمارا کلاس فیلو گوہر !!! اچھا وہ ۔۔۔!!!میں نے نفرت سے منہ بنایا۔ کالج میں وہ میرے آگے پیچھے پھرا کرتا تھا نا۔ یاد ہے؟ مجھے اکیلے میں لے جانے کے لیے اس نے کیا کیا جتن کئے تھے!!! بڑا چیپ آدمی ہے وہ !! ہاں بڑا ۔۔۔ لیکن وہ یہاں پہنچا کس طرح؟ مجھے بازار میں مل گیا تھا یہاں انٹرویو کے لئے آیا تھا۔میں اسے گھر لے آئی۔ سلی گرل!!! تو اسے کتاب دینے کے لیے لائی تھی۔ اس کی ایک کتاب میرے پاس رہ گئی تھی نا۔ لیکن قمر نے اسے روک لیا یہاں گھر میں ٹھہرا لیا۔ ایڈیٹ !میں نے غصے سے کہا . گوھر کے یہاں آتے ہی قمر واپس آگیا۔ڈیپریشن دور ہو گیا اس شدت سے واپس آیا قمر۔ اس پر میں نے گوہر کو یہاں سے چلتا کیا ۔اسکے جاتے ہی قمر پھر پتھر کا بن گیا۔ 7 آٹھ دن کے بعد قمر نے مجھے ایک خط دیا ۔کہنے لگا معاف کرنا۔ میں نے غلطی سے کھول لیا تھا میں نے خط پڑھا تو شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ وہ خط گوہر کی طرف سے تھا ڈرٹی لو لیٹر۔ تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشان ہوگئیں قسم کا محبت نامہ۔۔ پھر جھگڑا ہوا ؟ میرا خیال تھا قیامت آ جائے گی۔۔۔ لیکن کچھ بھی نہ ہوا الٹا قمر کے اظہار محبت میں

ایک طوفان آگیا۔ وہ خاموش ہوگئی جیسے سوچ میں کھو گئی ہوں ۔۔ پھر کیا ہوا ؟؟ میں نے پوچھا پھر جیسے بات میری سمجھ میں آ گئی!! وہ بولی۔ کیا ؟؟میں نے پوچھا کہ ۔۔۔کہ۔۔۔۔ وہ اداس لہجے میں بولی کہ قمر کی محبت جیتنے کے لیے تھرڈ مین از اے مسٹ!!! ارے!!! میں چونکا ہاں۔۔ وہ بولی ۔۔تھرڈمین کے بغیر چارہ نہیں۔!! عجیب بات ہے ۔۔۔میں گنگنایا پھر میں نے خود اپنے نام لو لیٹر لکھنے شروع کر دیئے۔ وہ خاموش ہو گئی۔۔ بڑی دیر تک سامنے خلا میں گھورتی رہی۔ اس کی آنکھیں پرنم تھیں جیسے وہ آنسو پینے کی شدید کوشش کر رہی ہوں۔ پھر دفعتا وہ چونکی اس نے ملتجی نگاہوں سے میری طرف دیکھا ۔۔بدر !!! وہ بولی تم آجاؤ ہمارے پاس۔!!! پلیز بدر !!! اس نے نمناک پکار سے منت کی۔۔ فار مائی ایک ۔فار ہزار سیک۔ فار اور سیک ۔ آؤ گے ؟؟ دو موٹے موٹے آنسو اس کے گالوں پر ڈھلک آئے ۔۔ اس نے ایک لمبی آہ بھری پھر ایک دم مشتعل ہو کر بولی۔ تو تو میں گوہر کو بلا لوں گی۔۔ مجھے غصہ آ گیا اس حد تک گر جاؤں گی تم آسیہ ؟؟ کیوں نہیں وہ چلائی۔۔ قمر کی محبت پانے کے لیے میں کیا نہیں کروں گی۔ آئی ول ڈو اینی تھنگ ۔۔ اینی تھنگ۔۔۔ !!!

اردو ٹیکسٹ : عالیہ یونس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *