دسمبر – سیدہ طوبی جلالی

 


اف۔۔۔ پھر دسمبر آگیا! جداٸیوں کا استعارہ دسمبر!
سال بھر کے کسی اور ماہ میں ایسی میٹھی چبھن نہیں ہوتی جیسی نادیدہ کسک اس کمبخت دسمبر میں دل کو چیرتی اور روح کو چھیدتی جاتی ہے۔ یہ گیارہ مہینے نجانے کیوں اتنی تکلیف نہیں دیتے جتنا اس دسمبر کا ایک ایک دن۔ ۔ دسمبر بھی رخت سفر باندھ کر اگلی مسافتوں کی جانب جا نکلے گا۔ ۔ بدلنے کو کیا بدلے گا؟ بس ایک ہندسہ ہی تو اور بس۔ ۔ کوٸی مقدروں کے لکھے تھوڑی بدل جاٸیں گے۔
دسمبر کی دھندلی صبحیں، اوس میں بھیگے دن، فسردہ خموش دوپہریں، گم صم شامیں، پرانے گیت، ویران نگر، بوڑھے برگد، تنہا چاند، کچھ ان کہی باتیں، ان چھوۓ جذبات، زرد چہرے، نمکین آنسو، دہکتی انگیٹھیاں، تمھارے ساتھ پی گٸی وہ آخری تلخ کافی جس کی تلخی میری ساری زندگی کو تلخ بناگٸی۔ ۔ اس کافر ادا رت سے میں نے خوب ہی تو مار کھاٸی۔ ۔
اس دسمبریں رت نے اپنے احساس اپنے انداز سے صرف مجھے ہی تو نہیں سبھی جداٸی کے ماروں کو ایسا گھاٸل کیا کہ بسمل کر کے رکھ دیا۔ ۔ کوٸی ایک بھی ہے؟ جسکا درد ”دسمبر“ نہیں!!
اور تم۔ ۔ ۔ تمھیں بھی تو یہ ظالم دسمبر جاتے جاتے اپنے ساتھ لے گیا۔ ۔ اور میری ہر سانس کو دسمبر کرگیا۔ ۔ ۔ ۔
اک پل میں چشم تر سے دسمبر گزرگیا
چپ چاپ میرے گھر سے دسمبر گزرگیا
بیتے دنوں کے ایک بھی پل کے عذاب کا
اترا نہ بوجھ سر سے دسمبر گزرگیا
دیرینہ چاہتوں کی طلب اب کرےگا کون
جب شہر چارہ گر سے دسمبر گزرگیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *