رکاوٹ–سمے کا بندھن

رکاوٹ
ہاؤڈل اینڈ ڈریب۔
دن چڑھتا ہے تو سوچتی ہوں کہ کیسے ختم ہوگا، اتنا لمبا پہاڑ سا دن۔وقت کاٹنا مشکل ہو رہا ہے۔زندگی میں وہ چارم نہیں رہا۔مچ اے ڈو اباؤٹ نتھنگ۔دراصل کسی بات کا چاؤ نہیں رہا۔کیوراسٹی نہیں رہی۔اندر کا وہ بچہ نہیں رہا جو بات بات پر حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا تھا۔دی چائلڈ ہوسٹڈ ان ہز شوز اینڈ ونڈرڈ۔
پتا نہیں کیا ہو گیا ہے!کیوں! جیسے خوشبو اور رنگ اڑ گئے ہوں اور خالی پھول کی پتیاں رہ گئی ہوں۔جیسے ساس میں بائیٹ نہ رہی ہو۔
سوچتی ہوں ابھی تو ابتدا ہی تھی۔زندگی میں داخل ہوئے تیں چار سال ہی ہوئے تھے۔ابھی سے ایسا کیوں ہو گیا؟
ایک وہ دن تھے جب بڑے چاؤ سے زندگی میں قدم رکھا تھا۔مائی گاڈ!کیا دن تھے وہ!ارد گرد چاروں طرف مینا بازار لگا ہوا تھا۔رونقیں،دلچسپیاں،رنگینیاں،ایکسائٹمنٹ۔
بس ایک ہی خواہش تھی کہ اس رنگ رنگیلے میلے میں آزادی سے گھوموں۔ایکسائٹمنٹ سے چھن چھن کرتی پھروں۔کوئی روک نہ ہو ،ٹوک نہ ہو۔کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔جو چاہوں کروں۔رنگیلی بتیوں سے جھولی بھر لوں۔خود کی موم بتی کو دونوں سروں پر جلائے رکھوں۔
اک تماشا لگائے رکھوں۔
راہ چلتوں کو ٹٹولوں،آنکھوں میں جھانک جھانک کر دیکھوں۔کیا یہ وہی تو نہیں؟میرا ساتھی،میرا ہمراہی جو میرے بغیر آدھا ہے۔جسے میں پورا کرنے کے لیے آئی ہوں۔
ان دنوں بس ایک ہی خواہش تھی۔ایک آرزو۔۔۔۔آزادی۔یوں لگتا تھا جیسے زندگی کی تمام تر رنگینیاں میری منتظر تھیں۔بس رکاوٹ جتم ہونے کی دیر تھی۔اور میرا گھر رکاوٹ ہی رکاوٹ تھا۔
ممی اور ڈیڈی بھی عجیب ہی جوڑا تھے۔ممی پھسلن ہی پھسلن،ڈیڈی روک ہی روک۔ممی موومنٹ کی دیوانی،ڈیڈی سٹیبلٹی کے رسا۔دونوں ساتھ ساتھ رہتے تھے،پر دور دور جیتے تھے۔
بے چاری ممی۔۔۔اس نے ڈوئلٹی پال رکھی تھی۔میاں کے بورڈم سے بچنے کا کوئی راستہ بھی ہوتا۔یہ ڈوئلٹی تربوز جیسی تھی۔اوپر سے ہری ہری،اندر سے لال لال۔۔۔ڈیڈی بہت ہی سٹریٹ فاروڈ تھے۔باپر اندر کا کچھ پتا ہی نہ تھا۔انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کی کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ باہر ہرا ہوا اور اندر لال۔انہیں پتا ہی نہ تھا کہ ممی دھوپ چھاؤں بھی رہی ہے۔مجھے ڈیڈی سخت ناپسند تھے۔خوامخواہ کی رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے۔دوسروں کے لیے بھی۔اپنے لیے بھی۔
مجھے ممی بھی پسند نہ تھی۔اونہوں! یہ کیا ہوا کہ اندر سے کچھ،باہر سے کچھ۔جو جینا ہے تو کھل کر جیو۔علانیہ جیو۔اپنی کنوکشنز پر شرمانا کیوں؟وہ تو ہیپو کریسی ہوئی نا۔
اونہوں! مجھے پردے اچھے نہیں لگتے۔ملفوف کرداروں سے مجھے چڑ ہے۔میں کہتی ہوں یا تو بھڑک کر جیو اور اگر جراءت نہیں تو پھر بجھے رہو۔
پتا نہیں کیوں۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میرا بچپن پابندیوں اور رکاوٹوں میں گزرا۔دل میں پابندیوں کے خلاف لاوا ابلتا رہا۔ریوولٹ کا جذبہ پلتا رہا۔مجھے بڑی ہو لینے دو،پھر دیکھوں گی کون میرا رستہ روکتا ہے۔ان دنوں زندگی میں صرف ایک آرزو تھی،ایک خواہش ایک جنون۔۔۔آزادی۔
پھر۔۔۔دفعتا“ آزادی مل گئی۔

یوں جیسے کسی نے کھل جا سم سم کہ دیا ہو۔میرے سامنے ہیرے جواہرات سے جگ مگ کرتا غار کھلا پڑا تھا۔مین تو ہکی بکی رہ گئی!

ہوا یہ کہ بیٹھے بٹھائے ڈیڈی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ہم نے ہسپتال کی طرف رش کیا۔لیکن وہ ہسپتال تک نہ پہنچ سکے۔

اس کے بعد کئی دنوں تک کانڈولینسز کا سلسلہ جاری رہا۔لوگ آتے رہے،جاتے رہے۔دکھاوے کے لگاؤ۔جھوٹے آنسو۔رسمی ہنگامہ۔پھر خاموشی چھا گئی۔گھر میں ہم دو اکیلے رہ گئے۔ممی اور میں۔چند روز تو ہم ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے۔پھر ممی نے آنسو پونچھے۔نیا ہیئر سٹائل بنوایا،میک اپ کیا اور باہر نکل گئیں۔ان کے سوشل کالز کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے،اور کلچر ایکٹیویٹیز میں کلچر کم اور ایکٹیویٹیز کا عنصر بڑھ گیا۔

زندگی بھر دل میں سلگتی آرزو دفعتا” پوری ہو جائے تو انسان نان پلسڈ ہو کر رہ جاتا ہے۔میں بھی کئی دن نان پلسڈ بیٹھی رہی۔

پھر ہوش آیا تو میں نے زندگی کے سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ایکسائٹمنٹ کے طوفان نے مجھے اپنی گود میں اٹھا لیا۔تھپیڑے جھولنے بن گئے۔بند بند جھن جھن کرنے لگا۔میری گو راؤنڈ کچھ زیادہ ہی میری ہو گیا۔

حسین تو میں خیر تھی نہیں۔نہ ہی خواہش تھی۔میری دو ایک سہیلیاں تھیں جو بنی سجی گڑیوں کی طرح بے جان تھیں۔ہاں،مجھ میں ایک چارم تھا۔پتا نہیں کہاں تھا۔خدوخال میں،چال ڈھال میں یا بیرنگ میں۔بس مجھے تو یہی پتا تھا کہ تھا۔

سر راہ جو بھی دیکھتا چونکتا۔دو ایک قدم چلتا۔پھر مڑ کر دیکھتا۔محفل میں لوگ آنے بہانے گرد بھیڑ لگا لیتے۔گفتگو میں میں نے چونکا دینے کا طریق واردات اپنا رکھا تھا۔بات بات پر خود پر الزام دھرتی۔اپنیکمیاں کجیاں نمک مرچ لگا کر بیان کرتی۔وہ وہ باتیں جو نہیں کہی جاتیں،بڑی معصومیت سے کہہ دیتی۔

اک بات بتا دوں مجھے چیپ نس سے چڑ تھی۔چیپ باتیں،حرکتیں،چیپ لوگ برے لگتے۔چیپ ریلیشنز بالکل گوارہ نہ تھے۔پر مجھے معلوم نہ تھا کہ ایکسائیٹمنٹ تو خود چیپ نس ہے۔یہ تو ایک پر کیف لرزش ہے۔پلیزنٹ وائبریشن۔یہ وائبریشن باہر کے مضراب سے پیدا نہیں ہوتی۔اندر کے تاروں کے تناؤ سے پیدا ہوتی ہے۔اور اندر کا تناؤ حوالگی سے نہیں بلکہ رک جانے سے بڑھتا ہے،قائم رہتا ہے۔ایکسائیٹمنٹ کے پیچھے بھاگو تو اندر کا تناؤ ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔جھن جھنمیں وہ لذت نہیں رہتی۔دور بھاگو تو بڑھتا ہے۔جھن جھن میں ترنگ پیدا ہوتی ہے۔

ایکسائیٹمنٹ چاہے معصوم باتوں سے اخذ کرو،چاہے سرسری ملاپ سے۔وہ ہر پھر کر اسی نقطہء عروج پر لے جاتی ہے۔انگ انگ میں اک پھلجھڑی چل جاتی ہے۔پھر ایک ہوائی زوں سے چھوٹ جاتی ہے،اور پھر رنگین بادلوں سے دھڑام سے زمین پر آ گرتی ہے۔لاش کی طرح۔

ایکسائیٹمنٹ کی تلاش میں بار بار میرے اندر پھلجھڑیاں چلیں۔ہوائیاں چھوٹیں۔رنگین بادلوں میں جھولنے جھولی۔اور پھر زمیں پر آن گری۔گرتی رہی،گرتی رہی۔

ساتھی کی ڈھونڈ میں،میں نے کئی ایک آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔دو ایک ملاپ بھی ہوئے۔وہ تو ہوتے ہی ہیں۔کھرا کھوٹا جاننے کے لیے سکہ بجانا ہی پڑتا ہے۔اور بجاؤ تو ساتھ خود بھی بجنا پڑتا ہے۔

خیر۔۔۔پھر ایک ساتھی بھی مل گیا جیسا کہ میں چاہتی تھی۔امان کے راستے میں بھی کوئی نہ تھی۔باپ کویت میں ملازمت کرتا تھا۔ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے جی رہی تھی۔اسے امان کی ہر بات پسند تھی۔اسے مکمل آزادی دے رکھی تھی۔

بہرحال وہ امان تھا،میں آمن تھی۔نام بھی ایک سے،طبیعتیں بھی ایک سی۔ویسے میرا اصلی نام تو آمنہ تھا،پر مجھے یہ نام پسند نہ تھا۔اس میں سے مذہب کی بو آتی تھی۔مجھے مذہب پسند نہ تھا۔رکاوٹیں ہی رکاوٹیں،یہ کرو،وہ نہ کرو،یوں کرو،یوں نہ کرو۔

جسے آزادی کی دھن لگی ہو وہ بھلا مذہب کو کیسے اچھا جانے۔اچھا جاننا تو اور بات ہے،میں تو الٹا مذہب پر شرمندہ شرمندہ سی رہتی تھی۔میں سمجھتی تھی کہ مذہب تو ایک پرسنل میٹر ہے۔میں جانوں، میرا خدا جانے۔دوسروں کو بیچ مین دخل دینے کا مطلب؟

پھر یہ بھی تھا کہ آمنہ متبرک نام تھا۔بچپن میں ہی لوگ جب مجھے آمنہ کہہ کر بلاتے تو میں محسوس کرتی جیسے کہ میں متبرک ہوں۔اور تبرک تو خانقاہوں میں بٹتے ہیں۔

مجھے خود سے مشک کافور کی بو آنے لگی۔ جب بڑی ہوئی تو میں نے آمنہ کی جگہ اپنا نام آمن رکھ لیا۔اس چھوٹی سی تبدیلی سے کتنا فرق پڑ گیا۔نہ تبرک رہا،نہ خانقاہ رہی،نہ مشک کافور کی بو۔بالکل ہی سیکلر بن گئی۔

ہاں تو امان بھی میری طرح رکاوٹوں کا بیری تھا۔قد بت اچھا،رنگ کھلا کھلا اور آنکھیں۔۔۔۔آنکھیں جیسے جھولنے ہوں۔ایک نگاہ ڈالو تو جھولن لگو۔اور پھر آنکھوں سے ایک پھوار ہی اڑتی جو بھگو دیتی۔اتنی بھیگ اتنی بھیگ کہ ڈوب جاؤ۔

امان سے ملی تو ایسی بھیگی ایسی بھیگی کہ پروں میں اڑان ہی نہ رہی۔اس پر مجھے بہت غصہ آیا۔نہیں میں کسی کو اپنی آزادی سلب کرنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ٹھیک ہے وہ بڑا اٹریکٹو ہے،چارمنگ ہے،اچھا ساتھی ہے،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ میری اڑان کو سلب کرلے۔مجھے ڈی سلف کردے۔

میں نے اسے ایک چیلنج مان لیا۔

لیکن جکد ہی اس کی مسکان بھری نگاہوں نے مجھے انڈے کی طرح پھینٹ کر رکھ دیا۔

اور پھر اس پھینٹ سے حوالگی کی خواہش کی جھاگ ابھری،ابھرتی گئی،ابھرتی گئی۔اور ان جانے میں ہم ایک دوسرے سے پیوست ہونے لگے،ہوتے گئے۔یوں کہ ایک ہو گئے،جیسے ٹچ بٹن کے دونوں حصے ٹچ کر کے ایک ہو جاتے ہیں۔

کئی ہفتے بلکہ مہینے ایکسائیٹمنٹ کے کھنگھرو بجتے رہے۔لے بڑھتی رہی۔تاک بلمپت سے درت ہو گئی۔رقص تیز سے اور تیز،اور تیز۔

کوئی روک نہ تھی ٹوک نہ تھی۔ممی برا ماننے کی بجائے شہ دیتی تھی۔امان جب چاہتا گھر آ جاتا۔ممی نے پوری پرائیویسی دے رکھی تھی۔مجھے پتا نہ تھا کہ اتنی آزادی ویرانے میں لے جاتی ہے۔ملاپ کا تواتر بے زاری پیدا کر دیتا ہے۔

ہم اب بھی ملتے ہیں۔امان بلا ناغہ آتا ہے۔لیکن اس کی آنکھوں میں وہ بھیگ نہیں۔نظروں میں وہ جھولنے نہیں رہے۔اس کی ہیلو مین وہ والہانہ پن نہیں رہا۔وہ انبساط نہیں رہی۔جیسے کچھ پا لیا ہو۔کوئی انمول چیز۔

قریب ہوتا ہے،لیکن جیسے سرسری ہو۔

خوشی ہوتی ہے مگر بلبلے نہیں اٹھتے۔وہ سنہرا دھندلکا پیدا نہیں ہوتا۔

تار ہلتے ہیں لیکن ان میں وہ تناؤ نہیں رہا۔گھنگھرو جھن جھن نہیں کرتے۔تال درت سے پھر بلمپت ہو گئی ہے۔

ہم دونوں کے ملاپ سے جع بھیڑ پیدا ہوتی تھی،نہیں رہی۔میلہ نہیں لگتا۔ملاقات روٹین میں بدل گئی ہے۔

جب امان چلا جاتا ہے تو میں ڈل اینڈ ڈرب ہو کر رہ جاتی ہوں۔پھر وقت ہینگ کرتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زندگی میں چارم نہین رہا۔

ٹھہریے!اس کے پاؤں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔۔۔ہاں ،وہی ہے۔وہی۔۔۔چال کچھ بدلی بدلی دی لگتی ہے۔ریلیکسڈ نہیں۔

اب وہ ناک کر رہا ہے۔۔۔یس، کم ان۔ہاں کچھ بدلا بدلا سا ہے۔

وہ دھڑام سے کرسی پر بیٹھ گیا ہے۔اسے ایسے دیکھ کر میں گھبرا گئی ہوں۔

“آمن،بیڈ نیوز”وہ کہتا ہے۔

میرا دل دھک سے رہ جاتا ہے اور میں متوقع نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتی ہوں۔

“کل اچانک ابا کویت سے آ گئے ہیں۔”

“پھر؟”میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتی ہوں۔

“انھوں نے آتے ہی اعلان کر دیا ہے کہ میں امان کی شادی کرنے کے لیے آیا ہوں۔”

ایک ساعت کے لیے میں سن ہو کر رہ جاتی ہوں۔

اس کا سر لٹکا ہوا ہے،جیسے سوچ میں ڈوبا ہوا ہو۔

وقت تھم گیا ہے۔سارا کمرہ گھومنے لگا ہے۔

اندر ایک تناؤ بڑھتا جارہا ہے۔

دفعتا” وہ سر اٹھاتا ہے۔اپنی نگاہیں مجھ پر مرکوز کر دیتا ہے۔ایک ساعت کے لیے اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہکتی ہیں۔پھر وہ اٹھ بیٹھتا ہے۔اس کی نگاہوں سے پھوار کا ایک طوفان امڈ آتا ہے،وہی پھوار جو بھگو کر رکھ دیتی ہے۔اڑان کو سلب کر لیتی ہے۔

“نہیں نہیں”وہ کہتا ہے”ایسا نہیں ہو سکتا۔ایسا کبھی نہیں ہوگا،آمن کبھی نہیں۔”

میرے اندر ایک بھیڑ سی لگ جاتی ہے۔سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔

مجھے خاموش دیکھ کر وہ چلاتا ہے”آمن تم میرے ابا کو نہیں جانتیں۔تم نہیں سمجھو گی۔

ہماری راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ حائل ہو گئی ہے۔بہت بڑی رکاوٹ”وہ چیختا ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ دکھ کی نہیں بلکہ فرط انبساط کی چیخ ہو۔اس کی نگاہوں میں فکر اور غصے کی بجائے کیفیت کی پھلجھڑیاں چل رہی ہوں۔

مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے دل کی سوکھی ہوئی پتیاں پھر سے ہری ہو رہی ہوں۔

اردو ٹیکسٹ: سعدیہ احسان                                 ۔ ☆۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *