ساری بات–سمے کا بندھن

ساری بات

نہیں یہ ڈاکٹر نہیں سمجھے گا..  بات کرتی ہوں تو بٹر بٹر میری طرف دیکھتا رہتا ہے….  میری بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی..  بار بار کہتی ہوں..  ڈاکٹر مجھ پر خوف طاری ہے..  کوئ ایسی دوا دیجیے کہ یہ دور ہو جائے یا اس کی ٹینشن میں کمی آ جائے..  وہ کچھ جواب نہیں دیتا..  ادھر میرے خوف کی طنابیں تو کستی ہی جا رہی ہیں…  روز بروز ایک ٹینشن ہے…  جکڑن جو بڑھتی ہی جا رہی ہے…  ڈاکٹر پوچھتا ہے کیا کوئی ارریشنل فیئر ہے کیا؟؟  لو!  وہ تو لازماً ارریشنل ہی ہو گا..  ریشنل ہو تو کوئی بات ہی نہ ہو..  سانپ کو دیکھ کر ڈر جاؤں تو ٹھیک ہے..  ڈرنا ہی چاہیے..  لکیر کو دیکھ کر ڈر جاؤں تو ظاہر ہے کوئی  گھنڈی ہے..  کہیں گرہ لگی ہے.. کوئی گن پھوڑا ہے تبھی تو مشورے کے لیے آئی ہوں…

مجھ سے پوچھتا ہے کس بات کا خوف ہے؟  کہتی ہوں اس بات کا کہ کہیں میں بھول نہ  جاؤں کہ میں کون ہوں..  گھر میں میری کیا حیثیت ہے..  کیا مقام ہے..  اس پر وہ بالکل ہی کنفیوزڈ ہو جاتا ہے… کچھ دیر چپ رہتا ہے،  پھر کہتا ہے ساری بات بتائیے،  بیگم صاحبہ..

اب میں اسے ساری بات کیسے بتاؤں..  چاہوں بھی تو نہیں بتا سکتی..  ساری بات بھلا کسی نے بتائی ہے کبھی..  مان باپ نہیں بتاتے..  باپ تو خیر بالکل نہیں بتاتا..  مان بھی آدھی بتاتی ہے..  سہیلیاں چاہے ساری بتا دیں.. پر وہ ساری نہیں ہوتی..  بتاتے ہوئے دو ایک گھنڈیاں بند کر لیتی ہیں..  دوسروں سے کہہ دینے کی بات چھوڑئیے..  ساری بات تو ہم خود سے بھی نہیں کرتے. پھر میں کیسے بتاؤں،  ڈاکٹر کو،  ساری بات؟؟؟؟

حیران ہوں کہ ڈاکٹر کے پاس خوف کی دوا بھی نہیں..  آج کل تو ساری بیماریاں ذہنی ہوتی ہیں..  خوف ہے ..  انگزائٹی ہے..  بے چینی ہے..  کم خوابی ہے..

میرا یہ خوف سوہان روح ہو رہا ہے.  حال ہی کی پیداوار ہے..  شادی ہوئے دو سال تو ہو رہے ہیں..  شادی سے پہلے کوئی خوف نہ تھا..  سمجھ میں نہیں آتا کہ شادی کے بعد خوف نے مجھے کیوں آ جکڑا!!!!

ڈاکٹر کہتا ہے یہ ماحول کی وجہ سے ہے…

شادی کے بعد تو میرا ماحول تو بالکل کشادہ ہو گیا ہے…  کوئ فکر نہیں.  کوئ پریشانی نہیں،  تنگی نہیں ترشی نہیں.  اتنا آرام تو کبھی مجھے نصیب نہ ہوا تھا.  بڑے ٹھاٹھ سے رہ رہی ہوں.  میاں  جان چھڑکتے ہیں.  دیکھے بغیر دم نکلتا ہے.. ہر وقت ہیرے پھیرے لیتے رہتے ہیں.. جو مانگوں حاضر.  جو چاہوں  موجود..  میں تو یوں زندگی گزار رہی ہوں جیسے شیشے کے مرتبان میں اگا ہوا کنول ہو.  کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں  جو چاہوں کروں،  جیسے چاہوں جیوں..  سر پر نہ ساس ہے نہ سسر نہ بڑا نہ بزرگ. گھر میں بس نوکر ہی نوکر  ہیں..  مالی ہے چوکیدار ہے خانساماں ہے  میڈ ہے..  یا ہمچاروں میں ملک فاروق ہیں.  میں ہوں،  امان ہے اور جہاں آرا ہے.  اب آپ ہی بتائیے اتنے کئیر فری ماحول میں ڈر خوف کی گنجائش ہے کیا؟ شادی سے پہلے البتہ کچھ کچھ انگزائٹی تھی. امی کو زیادہ مجھے کم کم.  میں جب سے جوان ہوئی ہوں بے فکری میں ہی گزری ہے..  امی ابا کے یہاں میری حیثیت ہھول مالا کی تھی.  ہر دم تازہ ہر وقت خوشبو..  امی ایک ایک پھول بڑی محنت سے پروتی تھیں.  بڑے خیال سے پانی کی چھینٹے لگاتی تا کہ زندگی میں فرق نہ آئے.

امی کو بس ایک ہی خواہش تھی ایک ہی فکر میں گھلی جا رہی تھیں کہ کب کوئی سر نوائے اور پھول مالا اس کی گردن میں ڈال دے.  نہیں،  کوئی سا سر نہیں..  ایسا سر جس پر پہلے سے ہی دولت یا اسٹیٹس  کا تاج دھرا ہو.  کسی ایک سر کی باف ہوتی تو اتنا لمبا چکر نہ پڑتا.  پتا نہیں ان حالات میں کیا ہوتا.  بہر حال،  یہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا..

ساری عمر مجھے بنی سجی پلیٹ بن کر جینا پڑا.  امی کا یہی مطالبہ تھا کہ ہر وقت بنی سجی پلیٹ بن کر رہوں اور موقع آنے پر اس کے اشرے کی منتظر رہوں..  جوں ہی وہ اشارہ کرے،  خود کو پیش کر دوں..  امی ہر وقت مجھے بناتی سجاتی رہتی.  پلیٹ ہر پستے بادام لگاتی رہتی…   چاندی کا ورق سجاتی رہتی.  میری ہر بات پر کڑی نظر رکھتی.  یہ پہنو وہ نہ پہنو.  یوں پہنو یوں نہیں یوں اٹھو یوں بیٹھو.  یوں مسکراو یوں بات کرو.  جوں ڈرنکس سرق کرو.  یوں چائے بناؤ،  یوں پان پیش کرو.  یوں دیکھو جوں مسکاؤ.

کم دو بہنیں تھیں میں اور رمنا..  میں بڑی تھی  لہذا ساری توجہ مجھ پر مرکوز تھی دقت یہ تھی کہ ہم دونوں بہنوں میں کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ نظر پر چڑھ جاتیں،  چونکاتیں یا توجہ طلب کرتیں.  عام سے خدوخال،  عام سا رنگ،  عام سا جسم.  جوانی آئی تو وہ بھی مدھم مدھم.  پتا ہی نہ چلا کہ آئ ہے.

جوانی کا بھی کسی نے بھید نہیں پایا.  کسی کو باہر آتی ہے کسی کو اندر.  وہ میری سہیلی آثمہ تھی سوکھی چرمکھ.  یوں جوانی ٹوٹ کر آئ کہ دیکھتے ہی دیکھتے میلا لگ گیا..  اتنی پھول پتیاں نکلیں کہ بوٹے سے چمن بن گئی.  ساری جوانی باہر ہی ڈھیر ہو گئی.  ایسی شہنائیان بجیں کہ دور سے پتا لگتا تھا کہ جوانی آئ ہے.

پھر وہ نادرا تھی..  باہر کچھ بھی نہ ہوا،  اندر ایسی چکریاں چلیں کہ ٹک کر بیٹھنا مشکل ہو گیا.  ایک بے چینی تھی کہ جینے نہیں دیتی تھی.  بے چاری کو قرار نہیں آتا تھا.  کچھ ایسی بھی ہیں جن کا اندراور باہر دونوں رنگے جاتے ہیں باہر پھول کھل جاتے ہیں اور اندر لڈو پھوٹتے ہیں..

مجھے تو کچھ بھی نہ ہوا نہ باہر پھول کھلے نہ اندر لڈو پھوٹے.  اندر پھوار سی ضرور پڑی تھی باہر سوکھی کی سوکھی ہی رہی.  اس پر بے چاری امی کو السر کیوں نہ ہوتا بھلا.  انگزائٹی کی چکری کیوں نہ چلتی بھلا..  میرے متعلق جو منصوبے امی ابا نے بنائے تھے ان میں ذرا بھی تو بڑھاوا نہ ملا..

میرے ابا امی بڑے با خبر تھے.  پتہ رکھتے تھے کہ اونچے حلقوں میں کون آیا،  کون گیا..  شرط یہ تھی کہ اونچے گریڈ کا ہو یا کاروباری ہو.  ہر نئے آنے والے کے کوائف کا انہیں علم ہوتا تھا.  خصوصاً جن کے  گھر نوجوان بیٹے ہوں..  وہ بڑے اہتمام سے ہر نو وارد کے گھر سوشل وزٹ کرتے.  پہلی مرتبہ اکیلے جاتے.  دوسری بار مجھے ساتھ لے جاتت.  حالات سازگار ہوتے تو کسی نہ کسی بہانے نوجوان  بیٹے کو اپنے ہاں بلاتے.  اس روز بھی امی کی خاص  توجہ مجھ پر مرکوز ہوتی.  پلیٹ پر نئے پستے بادام لگائے جاتے..

کچھ دیر تو ڈرائنگ روم میں ہنس ہنس کر باتیں ہوتیں،  پھر دفعتاً امی ابو کو کوئی ضروری کام یاد آ جاتا،  مجھ سے کہا جاتا “امنا،  ہم ابھی آئے.  تم ذرا آصف کے ساتھ کیرم بورڈ لگاؤ.  بھئی،  آصف کا دل لگائے رکھنا جب تک ہم لوٹیں…

مجھے یاد ہے،  سب سے پہلے پیر زادہ کے گھر کنڈی ڈالی گئی.  کنڈی ڈال کر مسلسل ایک سال بیٹھے انتظار کرتے رہے.  ان کا بیٹا امجد اس قدر کتابی تھا کہ کھیل کی طرف متوجہ ہی نہ ہو.  اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ جیتی جاگتی کتاب کاغذی کتاب سے زیادی جاذب ہوتی ہے لیکن امجد کی ماں کے رشتےداروں میں بہت سی  لڑکیاں تھیں.   چند بہت ہی منظور نظر..  اس لیے بات نہ بنی…

پھر خان صاحب سھ رسم و راہ بڑھائی..  ان کا بیٹا سعید چل نکلا.  بڑا ملنسار تھا.  امی کی امیدیں بندھ گئیں.  لیکن جلد ہی والدین چوکنے ہو گئے.  بیٹے کو لگام ڈال دی.  بات واضح ہو گئی کہ اس حد فک جانے کے لیے تیار نہیں.

پھر بٹ صاحب کو آزمایا لیکن جلد ہی پتہ چل گیا کہ ان کا بیٹا منسوب ہے اور شادی کی تیاریاں کو رہی ہیں.

کنڈی ڈالنے کی جگہ بار بار بدلی گئیں.  طرح طرح کے ہتھکنڈے آزمائے گئے.  بیڈ رومز میں ان ڈور گیمز کی بازیاں لگیں.  کتابوں پر تبصرے کیے گئے.  سنیکس چلے.  چائے کافی کے پیالے چلے.  پاپ میوزک چلی.  پکنک کے پروگرام بنائے گئے کیا کچھ نہ ہوا.  بات جہاں دھری تھی وہی دھری رہی  بس وقت ہاتھ سے نکلتا گیا.  ومر گزرتی گئی.  السر ابھرتا گیا.  یوں چھ سال گزر گئے.  گھر پر مایوسی کی فضا مسلط ہوتی گئ.  پھر دفعتاً اندھیرے میں ایک نئی کرن پھوٹی.  ملک فاروق سے تعارف ہو گیا.  وہ خود ہمارے ہاں آ گئے…

ملک فاروق بہت  ہی خوش مزاج آدمی تھے.  اونچے لمبے گورے چٹے ملنسار..  اگرچہ پچاس کے ہوں گے،  لیکن طبیعت ایسی رنگین جیسے تیس کے ہوں.  گھر کا ماحول بھی سازگار تھا.  بیوی فوت ہو چکی تھی.  بڑا بیٹا انجنیئرنگ کے آخری سال  میں تھا اس کی چھوٹی بہن جہاں آرا بی اے میں تھی..

دیکھتے ہی دیکھتے میل ملاپ اس قدر بڑھا کہ چھٹی کا دن یا تو ملک فیملی ہمارے ہاں گزارتی یا ہم ان کے ہاں چلے جاتے یا پکنک کے لیے کہیں باہر جا ڈیرا لگاتے.

ملک صاحب کا بیٹا امان بہت ہی پیارا ساتھی تھا.  اونچا لمبا خوش شکل.  اس کی بات میں مردانہ جھلک تھی.  ایک عجیب شانِ بے نیازی اسے دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے میرے آئیڈیل میں جان پڑ گئی ہو.  سچی بات یہ ہے کہ امان کو دیکھ کر میرے تو ہر بھیگ گئے تھے. امی کے اشاروں پر میں نے کئی ایک نوجوانوں سے رابطہ پیدا کیا تھا لیکن خود کبھی انوالو نہیں ہوئی تھی.  کنڈی ضرور ڈالی تھی لیکن خود کیچوا نہ بنی تھی.

امان میں بیک وقت بے تکلفی بھی تھی بے نیازی بھی.  وہ میرے پاس گھنٹوں بیٹھا رہتا،  بحثیں  کرتا گیم کھیلتا پاپ میوزک سنتا چائے پیتا لیکن اسے کبھی احساس نہ ہوا تھا کہ پاس ایک لڑکی بیٹھی ہے.  یہ بات مجھے بہت کھلتی تھی..

اس کے برعکس بڑے ملک صاحب بڑے ہی رنگیلے تھے. مجھ سے بہت مانوس تھے.  زبردستی پاس بٹھا لیتے تھے.  اپنے پرانے قصے سناتے،  ہنس ہنس کر باتیں کرتے،  آنکھ میں چمک لہراتی،  بڑی زور دار،  بڑی متکلم.  میں تو گھبرا جاتی..

ملک فیملی سگ میل جول کے بعد امی کی نگاہ میں امید کی کرن روشن ہو گئی ان کی نگاہیں مجھ پر مرکوز ہو گئیں.  ان میں منت تھی،  بے بسی بھری منت،  التجا “امنا اب اس کشتی کی تو ہی کھویا ہے پتوار تیرے ہاتھ میں ہے”

امی کج نگاہوں میں اتنی التجا تھی کہ میں نے وہ قدم اٹھا لیا جو شاید کبھی نہ اٹھاتی.  اس رات امان کے بیڈ روم میں بیٹھے منا پلی کھیل رہے تھے   امان جہاں آرا اور میں.  گھڑی نے نو بجا دیے.  میں  چونکی ” بہت دیر ہو گئی.  امی انتظار کر رہی ہوں گی..  جہاں آرا ذرا امی کو فون کر دے کہ ڈرائیور کو بھیج دیں.  جہاں آرا اٹھ کر چلی گئی.  میں اور امان اکیلے رہ گئے اور میں نے وہ قدم اٹھا لیا.  بھرپور انگڑائی لی.  ہے میں تو تھک گئی کہہ کر اپنا سر امان کی گود میں رکھ دیا..

اس نے میرا سر نیچے پٹخ دیا.  تڑپ کر اٹھا ” میں کیا سرہانہ ہوں”؟؟ اس کی آواز غصہ تھا،  پھر وہ میرے سامنے آ کر کھڑا ہوا.  مجھے مخاطب کر کے بولا” آئینہ دیکھا ہے کبھی”؟؟

اس کے اس فقرے نے مجھے کاٹ کر رکھ دیا.  جیسے میرے منہ پر تھوک دیا ہو.  اندر بھڑوں کا ایک چھتہ چھڑ گیا ہو.  دیوانہ وار میں کمرے سے باہر نکل آئی.  فون کی طرف بھاگی. میرا جی چاہتا تھا کہ توڑ پھوڑ کر رکھ دوں.  انتقام انتقام.  دفعتاً میں رک گئی. سامنے بڑے ملک صاحب کا کمرا تھا.  میں نے دروازہ کھولا ار اندر داخل ہو گئی.

نہیں ڈاکٹر میری بات نہیں سمجھے گا.

پوچھتا ہے کیسا خوف؟ کہتی ہوں اس بات کا کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں کہ میں کون ہوں.  گھر میں میری کیا حیثیت ہے،  کیا مقام ہے.  اس پر وہ کنفیوژ ہو جاتا ہے.  پھر کہتا ہے بیگم فاروق،  ساری بات بتائیے.  اب میں اسے ساری بات کیسے بتاؤں..

اردو ٹیکسٹ: آمنہ حق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *