عشق کا عین.. تبصرہ: ذیشان

عشق کا عین

علیم الحق حقی

میری پسندیدہ کتابوں میں سے ایک ۔
ایک بہترین کتاب جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کو بڑا آدمی بنانے کے بجائے اسے اللہ و رسول ﷺ کا سچا و پکا عاشق بنانا چاہتا ہے ۔ جو چاہتا ہے کہ جو سبق اس کے دادا نے اس کے باپ اور اس کے باپ نے اسے سکھایا ۔ اس کا بیٹا بھی سیکھ لے ۔ جس کا انتظام وہ بیٹے کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع کر دیتا ہے ۔ جب بیٹے کے کانوں میں سنائی دینے والی دنیا کی پہلی آواز ایک سید صاحب کی ہوتی ہے اور پہلا لفظ اللہ اکبر ہوتا ہے ۔ بہترین آغاز ۔
جبکہ باپ کی طرف سے الہی بخش کو پڑھایا جانے والا پہلا سبق بھی ایک مکمل ، خوبصورت اور جامع سبق ہوتا ہے ۔
“ا سے اللہ
م سے محمد (ﷺ) “
نا اس سبق سے پہلے کچھ نا ہی اس سبق کے بعد کچھ ۔جسے یہ سبق یاد ہو گیا وہی رب کے دربار میں مومن و متقی کہلایا جس کیلئے ساری کائنات مسخر کر دی جاتی ہے جبکہ قرآن خود کہتا ہے ۔
کہ یہ کتاب متقین کو راہ دکھانے والی ہے ۔

جیسے حادثہ کبھی یک دم نہیں ہوتا ۔ ویسے ہی اس کتاب میں بہت خوبی و روانی سے مصنف عشق کی گتھیوں کی بیل کے بڑھنے اور اسے ہیرو کا پیرہن بننے تک کا احوال بہت خوبی سے ایسے بیان کرتا ہے کہ پڑھنے والا پڑھ نہیں بلکہ سب کچھ اپنے سامنے ہوتا محسوس کرتا ہے ۔وہ تسلسل سے چلتی ہوئی الہی بخش کی کہانی ہو ، سادی کی موت سے پہلے کے حالات کا ذکر ہو ، حج پر نا جانے کے باوجود ایک حاجی کا الہی بخش سے ملنے کا ذکر ہو ۔ کہانی کے سارے تانے بانے بہت خوبصورتی سے لکھے گئے ہیں ۔

کتاب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ مصنف نے کچھ چیزوں سے متاثر ہو کر یا کچھ باتوں کی تشریح اپنے الفاظ میں کی ہے ۔ صرف چند ایک کا مختصرا ذکر یہاں کر رہا ہوں ۔
جیسے
1۔”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے”
بیٹے کی پیدائش پر نیت کرنا کہ اس کا بیٹا عشق حقیقی پالے ۔ اور اس کی نیک نیت کا نیک پھل نکلتا ہے ۔
2۔ملنگ کا الہی بخش (ہیرو) کو عزت و احترام دینا ۔ جسے پڑھتے ہوئے میرے تصور میں آقا سرور کائنات ﷺ کے بچپن کا واقعہ یاد آگیا جس میں بحیرا راہب اور نسطوار راہب نے کچھ نشانیاں دیکھ کر آپ کی عزت ،منزلت، شرف اور آخری نبی ہونے کو پہچان لیا تھا ۔
3۔الہی بخش عشق سے بھاگتا رہا بھاگ کر پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے جا پہنچا ۔ جسے پڑھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام، موت کے فرشتے اور جس کی روح قبض کی جانی تھی وہ سارا واقعہ چشم تصور میں چلنے لگا ۔
4۔ پہلی نظر میں عشق ہونا،بھوک و پیاس کا نا لگنا ۔
بقول شاعر
یہ عشق ہے کیا اک روگ بڑا
نا بھوک لگے نا پیاس لگے
5۔مصنف نے خیال رسانی کی ایک مثال کے طور پر کتاب کے ہیرو اور ہیروئین الہی بخش اور سادی کے ایک دوسرے سے کافی مسافت پر ہونے کے باوجود ان کے آپس میں بات کرنے کا ذکر کیا جس کیلئے یکسوئی اور تنہائی ضروری ہوتی ہے ۔
بقول شاعر
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
6۔رب تعالی فرماتے ہیں کہ ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری ۔ ہو گا وہی جو میری چاہت ہے ۔
مصنف نے بھی اسی بات پر عمل کرتے ہوئے ہیرو کو دوڑا دوڑا کر وہی کیا جو مصنف کی چاہت تھی۔
اوائل عمری میں عشق کے نام سے بھاگتا پھرا۔ ایک عام سی لڑکی سے عشق نے اسے سارے رموز سے آشنا کر دیا۔
بقول شاعر
مکتب عشق کا دستور ہے نرالا
جس نے سبق یاد کیا اسے چھٹی نا ملی
میں نہیں چاہتا کہ ساری کتاب سے منسلک جو واقعات میرے چشم تصور پر چلتے رہے تمام یہاں لکھ دوں ،ایسا کرنے سے کتاب کا حال بھی ایسا ہی ہو گا جیسے سالم بکرے کے ساتھ قصائی کرتا ہے ۔سری، پائے، کھال، گوشت و چربی سب الگ الگ ۔ ان سب کے باوجود میرا یہی کہنا ہے کہ یہ ایک Must Read کتاب ہے ۔

الہی بخش کو بچپن میں جسے عشق کے کشتہ کو گھٹی کی طرح پلانے ، عشق کا بیج بونے ، ذہن کی آبیاری کرنے سے لیکر ذہن کی زمین پر ہل جوتنے ، اور پانی دینے اور قدرت کے اسباب و وسائل سے میٹھے پھل لگ جانے تک کی کہانی ۔جسے ایک بار پڑھنا شروع کیا جائے تو نا قاری کتاب کو نا کتاب قاری کو ختم ہونے سے پہلے چھوڑ سکتی ہے ۔
کتاب کی بنیاد عشق ہے اور عشق کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جیسے اکثر مٹھائی کھانے پر شیرہ کی چپچپاہٹ انگلیوں کو تر کر دیتی ہے ویسے ہی یہ کتاب دل والوں کیلئے عشق الہی کی مٹھاس کا تھوڑا بہت تعارف کروا ہی دیتی ہے ۔ کتاب پڑھنے کے بعد گر مٹھاس کی زیادتی سے رقت طاری ہو جائے تو سمجھیں کہ مصنف نے روحانیت پر لکھنے کا حق ادا کر دیا اور آپ کے آنسو لکھاری کیلئے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ۔

اختتام ناصر کاظمی کے خوبصورت اشعار سے جو اس کتاب میں شامل کئیے گئے۔

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا

میں وہ صبرِ صمیم ہوں جس نے
بارِ امانت سر پہ لیا تھا

میں وہ اسم اعظم ہوں جسکو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا

تو نے کیوں مرا ہاتھ نہ پکڑا
میں جب رستے سے بھٹکا تھا

پہلی بارش بھیجنے والے
میں ترے درشن کا پیاسا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *