لکھ یار

تخلیق کار از اعجاز انصب

 

کاغذ کی زمین کم پڑ گئی ہے۔ زندگی ، کہانی بن کر رہ گئی ہے۔ کس نے سوچا تھا ، ادب اتنا ہو جائے گا کہ انسانیت کے لیے قرطاس کی زمین تنگ ہو جائے گی۔ تخلیق کار ، اپنے جذبات واحساسات بغیر اپنی قرطاس کی حیثیت و وسائل دیکھے ، لکھے جا رہا ہے۔

ادب کے فن پارے ، معیار سے قطع نظر ، ہجوم کی شکل میں ، شکستہ تخیل کی چادر سے ، پیر لٹکائے ، اپنا حق اپنے تخلیق کار سے وصول کرنا چاہ رہے ہیں۔
قلم کار ، آنے والے وقت میں ، اپنے افسانوں ، کہانیوں ، شاعری اور تحریروں پر امید باندھے انہیں اپنی پہچان اور مستقبل کا سہارا خیال کر رہے ہیں۔

کون جانے ، ادب کا معاشرہ زیادہ تخلیق سے سنورے ، افسانوں کی بھر مار سے بدلے یا پھر کہانیوں کی کہانیاں ادب کو کہانی بنا کر صفحہ ہستی پر لا کھڑا کریں۔

لکھاری کو اب سوچنا ہو گا ، وہ پہلے ہی دن سے غریب ہے ، اسے اب اپنا اور قاری کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اپنے جذباتی تاثرات کو ، افسانوں اور کہانیوں کا مجموعہ نہ بنائے ،
بلکہ ، اپنی تحریروں اور شاعری کو تربیت اور اعلیٰ تعلیم دے کر ادب میں جگہ دے۔
کہتے ہیں ، آخری دور میں ، کہانیاں زیادہ ہو جائیں گی ، افسانے بہت کم رہ جائیں گے۔
تخلیق کار اچھا نہ ہوا تو ہر افسانے کے گھر میں ، سات سات کہانیاں ہونگی۔

شاعری اور محبت نا جانے کتنے اور کیسے یتیم تھے کہ ہزاروں کہانیوں اور سینکڑوں افسانوں کی موجودگی میں ، جانے کیسے کیسے اپنے حق سے محروم رہ گئے یا پھر ان کا حق دینا مجبوری بن گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button