Talash by Mumtaz Mufti

کتاب : تلاش

باب 10 : گلاب کا پھول

ٹرانسکرپشن : مریم جگنو

شدت

میں بھی عقيدت میں جذباتی ہونے کو ایک وصف سمجھا کرتا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ جذباتیت میں محبت ہے۔ لگن ہے۔ خلوص ہے۔ میرے بابا مجھے منع کرتے تھے وہ کہتے تھے۔ دیکھ مفتی ، عقیدت نا پال عقیدہ پال۔ جواب میں میں کہتا میرے اندر تو عقیدت ہی ہے۔ تو کہتے پھر حضور اعلی ﷺ سے عقیدت لگا۔ عقیدہ خود سنور جاٸے گا۔ ان دنوں میرے بابا کے ایک دوست تھے بڑے بزرگ تھے۔ وہ مجھے بے حد پسند تھے ان میں بڑا جذبہ تھا۔ رنگ تھا۔ حضور ﷺ سے والہانہ عشق تھا۔ کھل کر بات کر دیتے تھے۔ بزرگو ں کی طرح پہیلیاں نہیں بجھواتے تھے۔ ایک روز میں نے اپنے بابا سے بات کی ۔ میں نے کہا مجھے آپ کے بزرگ دوست بہت پسند ہیں ۔ اس لئے کہ ان میں بڑا جذبہ ہے بڑا خلوص ہے۔
بابا نے کہا جذباتیت تو کوٸی اچھی چیز نہیں۔
it is a disqualification
ارے، میں گھبرا گیا۔ چونکا۔۔۔ وہ کیسے؟
کہنے لگے حضور ﷺ کو پسند نہیں تھی۔ فرماتے تھے حد میں رہو۔حدیں پار نہ کرو۔ اسلام اعتدال پسندی کا نام ہے۔ توازن کا نام ہے شدت مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام ٹھنڈے میٹھے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کے برعکس آج اہل مغرب سمجھتے ہیں کہ مسلمان تشدد پسند قوم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے اجارہ داروں کا رویہ شدت بھرا ہے اور وہ شدت جنریٹ کرتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button