Spiritual Awareness by Uzma

روحانی بیداری

تحریر عظمیٰ فانی

انسان بہت پیچیدہ مخلوق ہے اس میں اتنے تغیرات ہیں کہ جتنا بھی سمجھنے کی کوشش کریں 1پر پیچیدگیوں کی گتھی سلجھتی ہی نہیں ہے اور یہ تغیرات وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حالت بدلتے رہتے ہیں ۔ بسا اوقات انسان بنا کسی وجہ کے بہت اداس ہو جاتا ہے عجیب سی بےچینی ہوتی ہے یہ وہ حالت ہوتی ہے جب روح کی پرواز ہو رہی ہوتی ہے انسانی روح کی بیداری کا وقت ہوتا ہے ۔ یہ حالت اسے رب کا متلاشی بناتی ہے وہ ذات جو روح کو انسان جان میں منتقل کرتی ہے روح اسی پاک ذات کا ورد کرنا چاہتی ہے اسکی خوراک ذکرِ الاھی ہے روح کی ضرورت محبوبِ مصطفیٰ حضرت محمد ﷺ کی حب ہے۔ اور یہ کمال ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے باطن میں جھانک کر دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی!! جو اپنے من میں ڈوب گئے انہیں ہمیشہ خود میں برائیاں نظر آتی ہے وہ کبھی بھی فرقہ واریت نہیں پھیلاتے اور نہ کسی قسم کے انتشار میں پڑتے ہے کیونکہ انکو اپنی ذات کے کیڑے مارنے سے ہی فرصت نہیں ملتی تو وہ دوسروں پر انگلی کیسے اٹھا سکتے ہیں ؟ خودشناس ہی خدا شناس ہوتے ہیں جس نے اپنی ذات کی نفی کر کے اپنی “میں” کو مارا اسکی روح سرشار ہوجاتی ہے اور نفس کی ناکامی ہوتی ہے تب انسان اللہ کے رازوں سے آشنا ہوتا ہے اور رب اس خاص انسان پر اپنا کرم کرتا ہے اور اسے عام لوگوں سے الگ مقام عطا کرتا ہے ۰ جو اللہ کیلئے اسکی رضا کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہیں نا تو پروردگار ایسے بندوں کیلئے اپنی خاص رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور انکی مدد غیبی طریقوں سے کرتا ہے کیونکہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں کہ اسکا متلاشی بندہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلائے جو اللہ کا دوست بن جاتا ہے نہ اللہ کے خزانے بھی اسی دوست کے خزانے ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کو کسی خزانے کی ضرورت نہیں مالک ہر ضرورت سے پاک ہے مالک کا تو کام ہی نوازنا ہے بس کوئی اس ذات پاک سے مانگے تو سہی جسے اللہ ملا اسے سب کچھ ملا جسے اللہ نہیں ملا اسے اپنا آپ بھی میسر نہیں ہوگا وہ دوسروں پر اپنی توجہ مرکز کرتا رہے گیا اسے دنیا کی چاہ ہوگی۔ اللہ ایسے نہیں ملتا بلکہ روح کی بیداری سے ملتا ہے ۰

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *