تحریری مقابلہ

اے محبت تیرے انجام پر رونا آیا

تحریر : محمد یاسر

ھمارے ایک دوست ہوتے تھے دیوان عاشق۔۔۔پتہ نہیں ان کے والدین نے کیا سوچ کر ان کا یہ نام رکھا لیکن انہوں نے بھی نام کی لاج رکھی اور ساری زندگی دیوانگی اور عاشقی میں گزار دی۔
محبت اندھی ہوتی ہے یہ مقولہ ان پر صادق آتا تھا کہ محرم عورتوں کو چھوڑ کے ہر عورت پر وہ سچے دل سے عاشق ہو جاتے تھے چاھے اس کے منہ میں دانت بھی نہ ہوں۔
یونیورسٹی کی ہر لڑکی کا شجرہ نسب ان کو ازبر تھا اور عورت کے خدوخال دیکھ کر اس کے ماضی، حال اور مستقبل کا حال کسی طوطے کی طرح بتاتے تھے۔
کہتے تھے!
اجی آج کل کے لونڈے محبت کو کیا سمجھیں گے ، محبت تو ھمارے دور میں ہوتی تھی جب دہلیز سے گوری کا پاوں تک دیکھنے کے لئے سو جتن کرنا پڑتے تھے۔۔۔۔۔
نفرت ان کو بس ایک عورت سے تھی اور وہ تھی ان کی بیوی۔۔۔۔۔۔
ان کے والدین نے بچپن میں ان کا رشتہ چچازاد سے کردیا تھا جس کا ان کو بہت غصہ تھا۔۔۔۔۔ اور شادی کے بعد انہوں نے یہ غصہ خوب نکالا جو آٹھ بچوں کی پیدائش پر منتج ہوا۔
عرفات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *