راجہ گدھ پر تبصرہ…… عثمان یو ای ٹی

# ادبی – تحریر راجہ گدھ
کرداروں پر گفتگو کرنے سے پہلے اس ناول میں رزق حرام ،گدھ اور سرشت کو سمجھنا ضروری ہے
مسلہ در اصل سرشت کا ہے اگر سرشت میں حرام کھانا لکھا ہے تو پھر حرام کھانا گناہ نہیں ثواب ہے ۔۔۔۔۔۔اب سوال یہ ہے کیا گدھ نے اپنی سرشت بدلی ہرگز نہیں یہ تو فطرت کے خاکروب ہیں جو تعفن کو پھیلنے نہیں دیتے ۔۔۔۔اس لیے گدھ کے بارے میں جو لوگوں کی راۓ ہے وہ غلط ہے جب ان کو جنگل بدر کیا جاتا ہے تو یہ لائن بہت قابل غور ہے ۔۔۔۔۔۔۔
“کاش ملکہ چیل کو میرے دیوانے پن پر اس قدر اعتراض نا ہوتا تو ہم پرندوں کے لیے نئی سمتیں نئے دروازے نئی جہتیں کھول دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا دیوانہ پن بھی عرفان کی ایک شکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیوم رزق حرام کا مرتکب ہوا لیکن اپنی سرشت کے خلاف نہیں عشق لاحاصل میں جو اسے عرفان کی پہلی سیڑھی پر لے گیا اور اگر وہ سرشت بدل لیتا تو منہ کے بل گرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ گدھ چار حصوں پر مشتمل ہے
1_ عشق لاحاصل
سیمی قیوم آفتاب اور پروفیسر سہیل کے گرد یہ ناول گھومتا ہے ۔۔۔۔۔سیمی اور قیوم عشق لاحاصل کا شکار ہوتے ہیں ایک چیز بہت اہم ہے کہ دونوں محرومیوں کا شکار تھے اس لیے ان پر عشق کا حملہ بہت شدید تھا جس کی وجہ سے سیمی خود کشی کر لیتی یہ عشق لا حاصل کا ایک رخ ہے جو موت کی طرف لے کر جاتا ہے اور قیوم کی راہ اسے تجسس میں لے کر جاتی اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا وہ عرفان تک پہنچتا ہے یہ عشق لاحاصل کا دوسرا رخ ہے ۔ ۔ ۔ اور ایک چیز بہت صاف ہے جسم کا راستہ دل کی طرف نہیں جاتا ۔ ۔ ۔ ۔آفتاب بھی اسی معاشرے کا ایک حصہ ہے جو معاشرے میں فساد کا موجب بنتا ہے پروفیسر سہیل کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2_لا متناہی تجسس
سیمی کی موت کے بعد یعنی عشق میں ناکامی کے بعد اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں انسان کس طرح عشق لاحاصل کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے اور اس دلدل میں اور دھنس جاتا ہے اس حصے میں عابدہ کا سہارا لے کر وہ دوبارہ زندگی کو دیکھنا چاہتا ہے پر ناکام و نامراد ہوتا ہے جسم کا سہارا اسے نجات نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔
3۔۔۔۔رزق حرام
یہاں قیوم کا تعلق ایک طوائف سے ہوتا ہے جو رزق حرام کھانے کی مرتکب ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روح کا حرام کھانے والے کا رزق حرام کھانے والی سے ایک لاحاصل تعلق ۔۔۔۔۔۔۔
واحد انسان ایسی مخلوق ہے جو اپنی سرشت بدل سکتا ہے جس کو بیان کرنے کے لیے گدھ کے مردار کھانے کو کمال طریقے سے بیان کیا ہے اور انسان سے موازنہ کیا ہے اگر سرشت کے خلاف جا کر حرام کھایا تو گناہ اور اگر سرشت کے مطابق ہے تو یہ آزار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
4۔۔۔۔ موت سے آگاہی
آخری حصہ
جب انسان عشق لاحاصل میں کافی منزلیں طے کر چکا ہو تو پھر وہ زندگی کا نہیں صرف موت کا مرہون منت ہوتا ہے زندگی کا کوئی رنگ حرام یا حلال اس پر اثر نہیں کرتا آخر میں وہ موت کے آزار سے نکل کر عرفان کی منزل کی طرف گامزن ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے اہم اس ناول میں بیانیہ ہے ہر چیز کو مکمل بیان کیا ہے کوئی تشنگی باقی نہیں رہتی ۔۔۔۔۔
ہمارے معاشرے میں آپ کو کتنی سیمیاں کتنے قیوم کتنے آفتاب کتنے پروفیسر سہیل کتنی عابدہ کتنی امتل جیسی نظر آ یں گی بھرا پڑا ہے ہمارا معاشرہ ان لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
uet

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *